ایمان بچائیے! - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ایمان بچائیے!

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 7

اوپر کی تینوں  آیتوں  کو بار بار پڑھیے کہ انبیائے کرام کو ایمان کی کتنی فکر تھی کہ وہ اپنے ایمان اور اپنی اولاد کے ایمان کے لیے بڑے فکرمند تھے، ایمان کی حالت میں  جینا اور ایمان کی حالت میں  مرنا چاہتے تھے اور ایمان کی دولت کو اپنی نسل اور آنے والی اولاد میں  باقی رکھنا چاہتے تھے؛ اس لیے ہم مسلمانوں  کو سب سے زیادہ ایمان کی فکر ہونی چاہیے، ایمان کے ساتھ ہی دنیا اچھی ہے اگر ایمان نہ ہوتو دنیا کی کوئی چیز اچھی نہیں ، ہمیں  ہمیشہ چوکنّا رہنا چاہیے اور ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں  ایمان ضائع نہ ہو جائے، خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ ایمان چلا جائے اور ہمیں  پتہ بھی نہ چلے، حدیث شریف میں  ہے کہ ایمان کے لیے مؤمن فکر مند رہتا ہے اور منافق بے فکر رہتا ہے (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 219)

ایمان بچانے کی فکر انبیائے کرامؑ کواسی لیے تھی کہ

ایمان کا باقی رہنا ہی جہنم سے بچنے کا ذریعہ ہے، دنیا تو بس دھوکے کا سامان ہے:

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلّا مَتَاعُ الْغُرُورِ۔ (سورۃ آل عمران: آیت، 185)

ترجمہ: چنانچہ جو دوزخ سے دور رکھاگیا اور جنت میں  داخل کیاگیا تو وہ کامیاب ہوچکا اور دنیوی زندگی بس دھوکے کا سامان ہے۔

ایمان کے لیے دعائے نبوی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان ویقین کی دعا مانگتے اور کفر وارتداد سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے، ذیل میں   دعائیں  ذکر کی جاتی ہیں :

 اللّٰہُمَّ أعْطِني إیمانًا صَادِقًا ویَقینًا لیس بعدَہٗ کُفرٌ۔

(صحیح ابن خزیمہ، حدیث، 1119)

اے اللہ! مجھے ایسا سچا ایمان اوریقین عطا فرمائیے جس کے بعد کفر(وارتداد) نہ ہو!

 اَللّٰہُمَّ إني أَعُوْذُبِکَ مِنَ الکُفْرِ(نسائی: 1347)

اے اللہ! میں  کفر (وارتداد) سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں ۔

ہمیں  بھی اپنے لیے اپنی اولاد اور امت مسلمہ کے لیے سچے ایمان کی دعا کرنی چاہیے اور کفر وارتداد سے اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے!

یا مُقَلِّبَ القلوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلٰی دِیْنِکَ۔ (مشکوٰۃ)

اے دلوں  کو الٹنے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دیجیے!

ہندوستانیوں  کی قوتِ ایمانی

اس میں  کوئی شک نہیں  کہ ہندوستان کی آزادی میں  مسلمانوں  نے اپنے خون بہائے ہیں ، جانیں  دی ہیں ، تختۂ دار کو چوما ہے؛ تب جاکر یہ ہندوستان آزاد ہوا ہے؛ لیکن آج یہ فرقہ پرست مسلمانوں  کی قربانیوں  کی کوئی قدر نہیں  کررہے ہیں  اور انھیں  تاریخ کے صفحات سے کھرچ کر ختم کردینا چاہتے ہیں ؛ غرض یہ کہ اگرایمان کی مضبوطی نہ ہوتی تو یہ ملک آزاد نہ ہوتا، اس وقت لوگوں  کو عیسائیت کی دعوت دی جاتی تھی کہ اگر عیسائی بن جائو تو جان بچ جائے گی؛ مگر کسی نے اسلام کو نہیں  چھوڑا۔

سرخیل مجاہد آزادی شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن دیوبندیؒ اپنے شاگرد حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھیؒ سے فرمارہے تھے کہ ہم ہندوستانیوں  کا ایمان اتنا مضبوط تھا کہ پھانسی کے وقت بھی کوئی خوف زدہ نہیں  ہورہا تھا، ان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

’’پھانسی گڑی ہوئی تھی اور ان ناکردہ مظلوموں  کا پَرّا بندھا ہوا تھا (یعنی لائن لگی تھی) جن کو پھانسی کا حکم دیا جاچکا تھا، وہ لوگ آنکھوں  سے دیکھ رہے تھے کہ ایک نعش کو اتارا جارہا ہے اور دوسرے زندہ کو چڑھایا جارہا ہے، اس طرح موت ان کی نظر کے سامنے تھی اور ان کو عین الیقین تھا کہ چند منٹ بعد میرا شمار مُردوں  میں  ہوا چاہتا ہے؛ بایں  ہمہ کوئی جھوٹوں  بھی ان کے متعلق ضعفِ ایمان کا یہ الزام نہیں  لگا سکتا کہ کسی بچہ نے بھی موت سے ڈرکر اسلام سے انحراف یا تبدیل مذہب کا خیال کیا ہو، باوجود قلتِ علم اور غلبۂ جہالت کے ان کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ مرنا قبول تھا؛ مگر مذہب پر حرف آنا قبول نہ تھا۔‘‘ (تذکرہ الخلیل صفحہ، 168 بحوالہ کفروارتداد کا زمانہ اور امت مسلمہ کی بے حسی، صفحہ، 181)

قیامت کے قریب مسلمانوں  کی آزمائش

ہم لوگ آج جو صورتِ حال دیکھ رہے ہیں ، اس کی پیش گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کردی تھی کہ اخیر زمانے میں  مسلمانوں  کو ایمان پر رہنا بڑا مشکل ہوگا، ایمان پر باقی رہنا ایسا ہوگا جیسے ہاتھ میں  انگارہ لینا، بہت سے لوگ صبح کو مسلمان رہیں گے اور شام کو کافر ہو جائیں گے جس طرح لوگ جُٹ کے جٹ ایمان میں  داخل ہوے اسی طرح جٹ کے جٹ ایمان سے نکل بھی جائیں گے؛ یہاں  تک کہ قیامت سے پہلے مسلمانوں  کی بہت ساری جماعتیں  مورتی پوجا کرنے لگیں  گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں !ذیل میں  چند حدیثیں  ملاحظہ فرمائیں :

حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

یأتي عَلی النَّاسِ زَمانٌ، اَلصَّابِرُ فِیْہِمْ علی دینہٖ کالقابِضِ عَلَی الجَمَرْ۔(ترمذی، 2260)

ترجمہ: مسلمانوں  پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں  اپنے دین پر جمے رہنے والا انگارے کو پکڑنے والے کی طرح (پریشان) ہو گا۔

حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بَادِرُوْا بالأعمال فِتَنًا، کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمْ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤمِنًا وَیُمْسِيْ کَافِرًا أوْ یُمْسِيْ مُؤمنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیْعُ دِیْنَہٗ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیا۔

ترجمہ: فتنوں  کی وجہ سے نیکیاں  جلدی جلدی کرو، (فتنے) تاریک رات کے ٹکڑوں  کی طرح ہیں ؛ آدمی صبح کو مسلمان رہے گا اور شام کو کافر ہوجائے گا یا شام کو مسلمان رہے گا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، وہ اپنے دین کو دنیا کے سامان کے بدلے بیچے گا۔

 ایک موقع سے حضرت جابرؓ روتے ہوے فرمانے لگے کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگ اللہ کے دین میں  جُٹ کے جٹ داخل ہوے ہیں ؛ لیکن آگے (ایسازمانہ آئے گا کہ لوگ) جٹ کے جٹ اسلام سے نکلیں گے۔ (مسند احمد: جلد، 3 صفحہ، 344)

برصغیر کے مسلمانوں  کا سنگین مسئلہ

حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں  ندویؒ ہندوستان میں  ارتداد کے مسئلے کو سنگین مسئلہ سمجھتے تھے اور بار بار اس کی طرف مسلمانوں  کو متوجہ کرتے تھے، ایک موقع سے انھوں  نے فرمایا:

صفحہ 2 از 7