ایمان بچائیے! - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ایمان بچائیے!

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 7

’’برصغیر کے مسلمانوں  کا اس وقت میرے نزدیک سب سے اہم ترین مسئلہ جس کو وہ خود مسئلہ نہیں  سمجھ رہے ہیں  اور اس کی سنگینی و ہولناکی کا خود ان کو اندازہ نہیں  ہے، وہ نئی نسل میں  بڑھتے فکری ارتداد کاہے، میری گناہ گار آنکھیں  دیکھ رہی ہیں  کہ اگر اس کی نزاکت کا امت کو احساس نہیں  ہوا تو یہ تہذیبی وفکری ارتداد امت کو اندر سے کھوکھلا کرکے رکھ دے گا اور اس ملک میں  مسلمانوں  کی ایک بڑی تعداد کچھ دنوں  کے بعد نام کی مسلمان رہ جائے گی اور غیر شعوری طور پر وہ بتدریج ایمان وتوحید کی نعمت سے محروم ہوجائے گی۔‘‘ (فکر وخبر بھٹکل)

ارتداد کی صورتیں

عام لوگ یہ سمجھتے ہیں  کہ مرتد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان یہودی ہوجائے، عیسائی ہوجائے، یا مندر میں  جائے، بھجن گائے، پوجا پاٹ کرے، گھنٹی بجائے اور بتوں  کو سجدہ کرے؛ حالاں کہ ایسی بات نہیں ، آدمی روزہ نماز کے ساتھ بھی مرتد ہوسکتا ہے، قرآن کی تلاوت کے ساتھ بھی مرتد ہوسکتا ہے، حدیث شریف کے پڑھنے پڑھانے کے ساتھ بھی مرتد ہوسکتا ہے؛ جب کہ وہ اللہ کو ایک نہ مان رہا ہو، اللہ کے حکم کو نہ مان رہا ہو، قرآن کا مذاق اڑا رہا ہو، سنت نبوی کو حقارت سے دیکھ رہا ہو، متواتر احکام کا انکار کررہا ہو، مثلاً زکوٰۃ کا انکار کرتا ہو جناب محمد رسول اللہ … کو آخری نبی نہ مان رہا ہو، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کا انکار کررہا ہو، آج قادیانی اس کی مثال ہیں ، شکیل بن حنیف اور ان کے ماننے والے بھی اسی زمرے میں  آتے ہیں ، یہ لوگ قرآن وسنت کو پڑھتے پڑھاتے ہیں ، روزہ نماز کرتے ہیں ، زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں  پھر بھی وہ اسلام میں  داخل نہیں ۔

آج کے جدید تعلیم یافتہ لوگ بھی خوب گمراہ ہورہے ہیں ، ان کی گمراہی کو ’’فکری ارتداد‘‘ کا نام دیا جانا بہتر ہے:

  1. کوئی عورتوں  کو دیے ہوئے اسلامی حقوق کو کم سمجھ رہا ہے۔
  2. یا عورتوں  کی حق تلفی تصور کررہا ہے۔
  3. کوئی میراث میں  بعض صورتوں  میں  عورتوں  کو مردوں  کے مقابلے میں  آدھا دینے پر اعتراض کررہا ہے۔
  4. کوئی عورتوں  کو میراث دینے ہی کو غلط تصور کررہا ہے کہ جب اسلام میں  ان کے ذمے خرچے نہیں  ہیں  تو ان کو میراث کیوں  دی جارہی ہے؟
  5. کوئی مردوں  کو طلاق کا حق دیے جانے پر اعتراض کررہا ہے۔
  6. کوئی ازواجِ مطہرات پر اعتراض کی تائید کررہا ہے۔
  7. کوئی صحابۂ کرامؓ پر کیچڑاچھال رہا ہے۔
  8. کوئی اسلامی سزائوں  کو وحشیانہ سمجھ رہاہے۔
  9. کوئی مرد کو چار شادیوں  کے حق دینے پر اعتراض کررہا ہے۔
  10. کوئی روزہ کو بے فائدہ سمجھتا ہے اور کوئی نماز کو بے کار تھکنے سے تعبیر کرتا ہے۔

یہ سب لوگ گمراہی اور ارتداد کا شکار ہیں ، ہمیں  ان سب کے ایمان کی فکر کرنی ہے، ان سب کو خالص اسلام کی طرف بلانا ہے، بہ ظاہر مسلمان کی صورت میں  مرتد کی مثال حدیث شریف میں  آئی ہے کہ اخیرزمانے میں  لوگ نماز روزہ کریں گے، حج کریں گے؛ مگر مرتد ہوں گے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

سَیَأتي عَلٰی أُمَّتِيْ زمانٌ یُصَلِّيْ فِيْ الْمَسْجِدِ، مِنْہُمْ ألفُ رَجُلٍ وزیادۃٌ لا یکونُ فِیْہِمْ مؤمنٌ۔ (دیلمی: 3265)

ترجمہ: ’’آگے میری امت پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجد میں  نماز پڑھیں گے، ان میں  سے ہزار آدمی اور اس سے زیادہ آدمی ہوں گے (مگر) ان میں کوئی ایمان والا نہ ہو گا۔‘‘

ایک روایت میں  حضرت عبداللہ بن عمر بن العاصؓ فرماتے ہیں  کہ لوگوں  پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ حج کررہے ہوں گے، نماز روزہ کررہے ہوں گے؛ لیکن ان میں  کوئی ایمان والا نہ ہوگا۔ (اتحاف الجماعۃ: جلد، 2 صفحہ، 68)

غیروں  کی خواہش ہے کہ تم بھی غیر مسلم ہو جاؤ!

آج عالمی پیمانے پر غیر مسلمین مسلمانوں  کو اسلام سے پھیرنا چاہ رہے ہیں  وہ اپنے کفر پر جمے ہوے ہیں ، وہ کیا اسلام قبول کریں گے؛ البتہ وہ اپنے جیسا سارے مسلمانوں  کو بنانا چاہ رہے ہیں ، وہ برابر اسی کوشش میں  لگے ہیں ۔ قرآن مجید نے اس کی صراحت فرمائی ہے:

وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُونُون سوائً (سورۃ النساء: آیت، 89)

ترجمہ: وہ تو یہی چاہتے ہیں  کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں  (اسی طرح) تم بھی کافر ہوکر برابر ہوجائو۔

 وَلَا یَزَالُونَ یُقَاتِلُونَکُمْ حَتّی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ إنِ اسْتَطَاعُوْا۔ (سورۃ البقرہ: آیت، 217)

ترجمہ: وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں  تک کہ تمہیں  تمہارے دین سے پھیر دیں  اگر ان کا بس چلے۔

 وَدَّ کثیرٌ مِنْ أہلِ الکتابِ لَوْ یَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إیمانِکُمْ کفّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أنْفُسِہِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الحقُّ۔ (سورۃ البقرہ: آیت، 109)

ترجمہ: بہت سے اہل کتاب تو اپنے حسد سے حق ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ چاہتے ہیں  کہ کسی طرح سے تمہیں  ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹاکر لے جائیں ۔

وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الیَہُوْدُ وَلاَ النَّصَاریٰ حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ۔ (سورۃ البقرہ: آیت، 120)

ترجمہ: اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی؛ یہاں  تک کہ تم ان کے مذہب پر چلنے لگو!

مسلمانوں  کا جواب

سارے غیر مسلمین مسلمانوں  کو اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں ، یہود ونصاریٰ اپنے مذہب کی پیروی کرانا چاہتے ہیں  اور دوسرے مشرکین اپنے مذہب کی تو اس کا کیا جواب ہونا چاہیے؟

اللہ تعالیٰ نے خود اس کا جواب مذکورہ بالا آیت کے بعد دیا ہے:

قل: إنَّ ہُدی اللّٰہِ ہُو الہدیٰ (سورۃ البقرہ: آیت، 120)

ترجمہ: (ان سب سے) کہہ دیجیے کہ جو راستہ اللہ دکھائے وہی راستہ ہے۔

یعنی سارے مذاہب غلط اور منسوخ ہیں  اُن کے یہاں  اللہ تعالیٰ کی ہدایت موجود نہیں ، صرف قرآن میں  اللہ کی ہدایت ہے؛ اس لیے اسی کی پیروی کی جاسکے گی، کسی اور کی پیروی گمراہی ہوگی۔

غیرمسلم کی بات ماننے والا جہنم میں

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی شرما حضوری میں  سامنے والے کی بات مان لیتا ہے؛ اس لیے اس کی وضاحت قرآن نے کردی ہے کہ اگر کوئی مسلمان دوسرے مذہب کو مانے گا اور دوسرے مذہب کے ماننے والوں  کی ہاں  میں  ہاں  ملائے گا تو اس کی خیر نہیں ؛ اس لیے کہ اسلام کی قطعیت کھل کر سامنے آچکی ہے، اگر کوئی اسلام کو چھوڑے گا تو آخرت میں  اس کا کوئی یارومددگار نہ ہوگا:

صفحہ 3 از 7