ایمان بچائیے! - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ایمان بچائیے!

  نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 7

وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أہْوائَہُمْ بَعْدَ الذي جَائَکَ مِنَ العِلْمِ، مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَليٍ وَّلا نصیر

(سورۃ البقرہ: آیت، 120)

ترجمہ: اور (اے مخاطب!) اگر تونے ان کی خواہشوں  کی پیروی کی اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے (تو) اللہ سے (بچانے والا) تیرا نہ کوئی یار ہوگا اور نہ مددگار!

مکمل اسلام کو مانو!

ہمارے لیے یہ جائز نہیں  کہ ہم اپنے کو مسلمان بھی کہیں  اور اسلام کے خلاف ہونے والے شبہات کو بھی ٹھنڈے پیٹوں  قبول کریں ، قرآن پر شبہات کو اپنے دلوں  میں  رکھیں ، انبیاء اور صحابہ پر اعتراض کرنے والوں  کا ساتھ دیں  اور ’’رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی‘‘ والا تصور رکھیں ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے پورے اسلام میں  داخل ہونے کا حکم فرمایا ہے، یکسو ہوکر اللہ والے ہو جائیں ، یہی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

یَـٰٓأَیُّہَا لَّذِینَ ئَامَنُواْ دْخُلُواْ فِی لسِّلْمِ کَآفَّۃ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ الشَّیْطَانِ۔ (سورۃ البقرہ: آیت، 208)

ترجمہ: اے وہ لوگو جو (اسلام کو) مان چکے ہو! اسلام میں  پورے پورے داخل ہوجائو! اور شیطانوں  کے قدموں  پر نہ چلو!

اسلام سے پھرجانے والا اصل کافر سے بدتر

ایک ہے اسلام قبول نہ کرنا، یہ بہت بڑی محرومی کی بات ہے؛ اس لیے کہ کلمہ کے بغیر انسان کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہیں  ہوتا، چاہے وہ خیرات میں  اپنی پوری دولت دے دے تب بھی اس کو آخرت میں  کچھ نہیں  ملے گا، جو ملنا ہے اسی دنیا میں  مل جائے گا، آخرت کی کامیابی کے لیے ایمان شرط ہے، کافر محروم ہوتا ہے؛ مگر ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنا، اس سے زیادہ بُرا ہے۔

الردۃُ: ہِيَ أَفْحَشُ أنْوَاعِ الکفرِ ویُحْبَطُ بِہَا العَمَلُ۔(إعانۃُ الطالبین: جلد، 4 صفحہ، 149)

اسلام سے پھرجانا، کفر کی قسموں  میں  سب سے بُری قسم ہے اور اس کی وجہ سے نیکیاں  برباد ہوجاتی ہیں ۔

اسلام سے پھر جانے والوں  کے چہرے قیامت کے دن کالے کلوٹے ہوں گے، انھیں  ہمیشہ کے لیے جہنم کی سزا ہوگی، قرآنِ پاک میں  اس کی وضاحت ہے:

فأمَّا الذین اسْوَدَّتْ وُجوہُہُمْ، أکَفَرْتُم بَعْدَ إیمانِکم فَذُوْقُوا العَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُون (سورۃ آل عمران: آیت، 106)

ترجمہ: تو رہے وہ لوگ جن کے چہرے کالے ہوں گے، (ان سے پوچھا جائے گا:) کیا تم نے ایمان کے بعد کفر کیا تھا؟ تو عذاب چکھو! اس وجہ سے کہ تم (اسلام کا) انکار کرتے تھے۔

اسلام سے پھرنے والا جہنم میں

اسلام سے پھرنے والا بدبخت ہوجاتا ہے، اس کی ساری نیکیاں  برباد ہو جاتی ہیں ، دنیا میں  کیا ہوا کوئی اچھا عمل اُسے کام نہیں  آئے گا، نہ تومرتد ہونے سے پہلے کی نیکی کام آئے گی اورنہ ہی مرتد ہونے کے بعد کی نیکی کام آئے گی؛ بلکہ وہ دیکھنے میں  ہی نیکی ہوگی حقیقت میں  نیکی نہیں  ہوسکتی؛ اس لیے کہ نیکی وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نیک کہہ دیں  اور قبول فرمالیں !

مرتد جہنم میں  جائے گا، اس کی صراحت بھی آیت کریمہ میں  ہے:

وَمَنْ یَرْتَدِدْ مِنکُمْ عَن دِینِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَأُوْلَـٰٓئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَأُوْلَـٰٓئِکَ أَصْحَٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیہَا خَٰلِدُونَ(سورۃ البقرہ: آیت، 217)

ترجمہ: اور تم میں  سے جو اپنے دین سے پھر جائے پھر کافر ہی مرجائے تو یہی وہ لوگ ہیں  کہ ان کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں  میں  برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں  جانے) والے ہیں  وہ اُسی میں  ہمیشہ رہیں گے۔

اسلام سے پھرنے والے کی توبہ

اگر کوئی مسلمان اپنی کوتاہی اور نادانی سے اسلام سے پھر جائے، یا اسلام کے کسی حکم کا انکار کربیٹھے، جس سے ایمان چلاجاتا ہے، پھر وہ توبہ کرکے اسلام میں  دوبارہ آنا چاہے تو اللہ کا دروازہ اس کے لیے کھلا ہے وہ توبہ کرکے پھر اسلام میں  داخل ہو جائے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

توبہ قبول کرنا بس اللہ کے ذمے ہے ان لوگوں  کی جو نادانی میں  گناہ کر بیٹھتے ہیں  پھر جلدہی توبہ کرتے ہیں  تو وہی لوگ ہیں  جن کی توبہ اللہ قبول فرماتے ہیں۔ (نسائی: 18)

اسبابِ ارتداد

اسلام کبھی معلوب نہیں  ہوسکتا، اس کی حقانیت آفتاب کی طرح روشن ہے؛ البتہ عالمی منظرنامے پر مسلمان مغلوب نظر آرہے ہیں ، یہ ہمارے شامتِ اعمال کی وجہ سے ہے، اس کے اسباب اور عوامل پراگر غور کیا جائے اور تفصیل لکھی جائے تو بڑی طویل ہوجائے گی، ذیل میں  چند اسباب اور وجوہ ذکر کیے جارہے ہیں ، جس سے آج کی حالتِ زار کو سمجھنے میں  مدد ملے گی:

 سب سے پہلی وجہ اسلامی اقتدار کا زوال ہے، ’’عثمانیہ حکومت‘‘ کے زوال کے بعد سے اب تک مسلمان مظلوم ومقہور ہیں  اور ان کو دبانے کی عالمی کوششیں  ہوتی رہی ہیں ، آج کی عالمی طاقتیں  مسلمانوں  کے برسرِ اقتدار آنے سے خوف زدہ ہیں ؛ اس لیے وہ مختلف مسائل اور مصائب میں  مسلمانوں  کو مبتلاکرکے اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔

صفحہ 4 از 7