ایمان بچائیے! - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ایمان بچائیے!

  نقیہ کاظمی

صفحہ 5 از 7

یہودی سازش اور عیسائی مشنریاں  سب سے آگے ہیں ،یہ سب مسلمانوں  کواصل دین سے پھیرنا چاہتی ہیں ، چرچ کے تحت چلنے والے ’’این جی اوز‘‘ کی سرگرمیاں  بھی مسلمانوں  کو مرتد بنانے کی کوششوں  میں  پیش پیش ہیں ، وہ ایک طرف مسلمانوں  کو کھلے طور پر عیسائی بنانے کی مہم چلارہے ہیں ، دوسری طرف وہ عام مسلمانوں  کو فکری ارتداد کی طرف لے جارہے ہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ اگر مکمل نہ بدل سکے تو کم از کم قرآن وسنت میں  شک وشبہ پیدا ہوجائے، جس سے اسلام بیزاری کی راہ ہموار ہوجائے، اس کے لیے وہ قرآن کو بدلنے کی مہم بھی چلارہے ہیں ، قرآن کے مقابلے میں  شام کے بشارالاسد کی تیار کردہ ’’البرہان الحق‘‘ اسی کی کڑی ہے۔ بہت سے ممالک میں  ارتداد کی لہرچل رہی ہے، مثلاً الجزائر، افریقہ، لبنان، انڈونیشیا، بنگلہ دیش ان سب میں  سرفہرست  ہندوستان ہے۔ جہاں  مختلف طریقوں  سے لوگوں  کو مذہب سے دور کیا جارہا ہے۔ تمل ناڈو، تلنگانہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹرا، کشمیر اور یوپی سب ارتداد کی زد میں  ہیں ۔ یہاں  ’’قادیانی‘‘ بھی اسلامی لباس پہن کر اسلام سے پھیرنے کا کام کررہے ہیں ، ’’شکیل بن حنیف‘‘ کا فتنہ بھی قادیانی فتنہ کا نیا ایڈیشن ہے، اس کا مقصد بھی مرتد بنانا ہے، اس کے ماننے والے مسجد میں  لمبی لمبی نمازیں  پڑھتے ہیں ، سفید کرتا پاجامہ پہن کر ہاتھوں  میں  تسبیح رکھ کر یہ باور کرانا چاہتے ہیں  کہ وہ بھی مسلمان ہیں ؛ حالاں کہ وہ اسلام سے خارج ہیں ، حدیث شریف میں  نماز روزہ کرنے والے مرتد کا ذکر موجود ہے، یہ سب اسی کے مصداق ہیں ۔

 شدت پسند ہندو یہ چاہتے ہیں  کہ ہندوستان سے جمہوریت مٹ جائے، اصول وقوانین ختم ہو جائیں ، ’’آئینِ ہند‘‘ کو بالائے طاق رکھ دیا جائے اور پورا ملک فرقہ پرست کے ہاتھوں  کا کھلونا بن جائے، اس کے لیے وہ کوششیں  کررہے ہیں ، اسلام کے مختلف احکامات پر اعتراض کرتے ہیں ، قرآن کی آیتوں  پر اعتراض کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر اعتراض کرتے ہیں ،ازواجِ مطہرات کو نشانہ بناتے ہیں ، محمد بن قاسم اور اورنگ زیب عالم گیر کے کارناموں  میں عیوب نکالتے ہیں ، جمہوریت پسند لیڈران پر تنقید کرتے ہیں ؛ تاکہ وہ اپنے مقصد میں  کامیاب ہوجائیں  اور مسلمان اسلام کے تئیں  شکوک وشبہات میں  پڑکر پہلے فکری ارتداد میں  مبتلا ہوں ، اسلام سے نفرت کریں  پھر اسلام کو چھوڑ دیں۔

مسلمان لڑکیوں  کو مرتد بنانے کی سازش بھی یہی لوگ کررہے ہیں ، آر، ایس، ایس سے وابستہ ’’ہندوجاگرن منچ‘‘ نے سیکڑوں  مسلمان لڑکیوں  کو ہندو گھرانوں  کی بہو بنانے کا ہدف بنا رکھا ہے اور مسلم لڑکیوں  سے شادی کرنے پر انعامات رکھ رکھے ہیں ۔ (قومی آواز بیورو ۲۹؍نومبر ۲۰۱۷ء)

مسلمانوں  کو اسلام سے ہٹانے کی سازش کے لیے جو تدبیریں  کی جارہی ہیں  ان میں  سے ’’وندے ماترم‘‘ کو اسکولوں  میں  لازم کرنا ہے، ’’شری رام‘‘ کے نعرے لگوانا اور اس کے لیے مجبور کرنا ہے، ’’این، آر، سی اور سی، اے، اے‘‘ بھی اسی کی ایک کڑی ہے اور ’’گھر واپسی‘‘ نام کی تحریک تو کھلے طور پر اسلام سے پھیرنے کی تحریک ہے؛ حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو کلمہ پڑھنے والوں  کے لیے بنایا ہے اور جب تک کلمہ پڑھنے والے رہیں گے تبھی تک یہ دنیا رہے گی اور ہم سب کے باوا آدمؑ مسلمان تھے۔ اس دنیا میں  رہنے والا جب تک آدم علیہ السلام کے مذہب پر ہے تب تک وہ اپنے ہی گھر میں  ہے واپسی کی ضرورت اس کو ہے، جس نے آدم کے گھر کو چھوڑ دیا ہے۔

آدم علیہ السلام سے نوح علیہ السلام تک سارے لوگ مسلمان رہے اور انسان کا اصل مذہب اسلام ہی ہے اس لیے گھر۔ واپسی کا صحیح مطلب یہ ہونا چاہیے کہ سارے انسان دوسرے مذاہب کو چھوڑ کر اسلام کے سائے میں  آجائیں  اور اپنے پیدا کرنے والے اللہ کی عبادت کرکے اور اس کے قانون پر عمل کرکے زندگی کو پرسکون بنائیں  اور مرنے کے بعد جنت کے مستحق ہوجائیں ؛ تاکہ مرنے کے بعد افسوس نہ ہوکہ کاش اسلام کو مانا ہوتا تو جہنم کی سزا نہ ہوتی!

اسکولوں ، کالجوں  میں  ارتداد

علم سیکھنے سکھانے کا کوئی انکار نہیں  کرتا؛ مگر کوئی مسلمان یہ نہیں  چاہتا کہ علم حاصل کرنے میں  ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو علم ایمان کے لیے خطرہ ہو وہ لعنت ہے، ہندوستان میں  بہت سے اسکول ہیں ، جہاں  اسباق کے بعد پانچ منٹ ’’اشلوک‘‘ پڑھایا جاتا ہے اور اسکول انتظامیہ اس پر اصرار کرتی ہے، مسلمان بچوں  کو الگ کرنے کے مطالبے کو قبول نہیں  کرتی، بعض اسکولوں  میں  ’’وندے ماترم‘‘ ضروری ہے، وہاں  بھی مسلمان بچوں  کو الگ رکھنے کی بات مانی نہیں  جاتی، بعض اسکولوں  میں  ’’سرسوتی‘‘ کی مورتی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بچوں  کو کچھ پڑھایا جاتا ہے۔ اس مورتی کو تعلیم کی دیوی کہا جاتا ہے۔ اس پر پھول چڑھائے جاتے ہیں  اور پانی بھی ۔ بعض اسکولوں  میں  ’’سوریہ نمسکار‘‘ کرایا جاتا ہے، یہ سب اعمال شرک ہیں ، ان سے بندہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، یہ صریح ارتداد ہے، ایسے اسکولوں  میں  تعلیم دلانا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟

اور بعض اسکولوں  میں  اسلام کے خلاف مواد داخل نصاب ہے، شرکیہ باتیں  کتابوں  میں  جبراً پڑھائی جاتی ہیں ؛ جب کہ جمہوری ملک ہے یہاں  ہر مذہب کے ماننے والوں  کو اپنے مذہب پر رہنے کی اجازت ہے؛ اس لیے کوئی زور زبردستی نہیں  ہونی چاہیے!

بعض اسکولوں  میں  قرآن کی آیات کے خلاف بچوں  کا ذہن بنایا جاتا ہے، خصوصاً جہاد کی آیتوں  کو نکالنے کی بات کی جاتی ہے؛ جب کہ کوئی مسلمان کسی مذہب کی کتاب کے خلاف کچھ نہیں  کہتا، اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ تم کسی کے معبود کو بُرا نہ کہو کہ وہ بدلے میں  اللہ کو بُرا کہنے لگیں :

لَا تَسُبُّوا الّذِیْنَ یَدْعُونَ مِنْ دونِ اللّٰہ فَیَسُبُّوْا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ۔ (سورۃ انعام: آیت، 108)

ترجمہ: تم ان لوگوں  کو گالی نہ دو جو اللہ کے علاوہ کی پوجا کرتے ہیں  کہ وہ نہ جاننے کی وجہ سے دشمنی میں  اللہ کو گالی دے بیٹھیں ۔

مفلسی کی وجہ سے ارتداد

صفحہ 5 از 7