ایمان بچائیے! - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ایمان بچائیے!

  نقیہ کاظمی

صفحہ 6 از 7

آج بہت سے علاقوں  میں  مسلمان غریب ونادار ہیں ، ان کی مفلسی نے انھیں  پریشان کررکھا ہے؛ اس لیے بعض عیسائی مشنریاں  ان کو مال کا لالچ دے کر عیسائی بنالیتی ہیں ، مشرکین انھیں  مشرک بنالیتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح کفر سے پناہ مانگی ہے اسی طرح فقروفاقے سے بھی پناہ مانگی ہے؛ اس لیے کہ بہت سی مرتبہ غریبی انسان کو کفر سے قریب کردیتی ہے۔

حدیث شریف میں  آیا ہے: 

’’کاد الفقرُ أن یکونَ کُفْرًا‘‘ (بیہقی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں  دعاء بھی منقول ہے:

اَللّٰہُمَّ اِنّيْ أعُوْذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ۔ (حصن حصین)

ترجمہ: اے اللہ! میں  (اسلام کا) انکار کرنے اور محتاج ہونے سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں ۔

عشق میں  ارتداد

مخلوط تعلیم کی وجہ سے لڑکے لڑکیاں  ایک ساتھ رہتے ہیں ، اس پر سیکس کی تعلیم کا لزوم پٹرول میں  آگ لگانے کا کام کرتی ہے، آن لائن تعلیم نے بھی تعلقات کی پاکیزگی ختم کردی ہے۔

بے پردگی کی وجہ سے بھی گندے تعلقات ہو جاتے ہیں  معاشقے میں  ذات پات کی کوئی قید نہیں  ہوتی، جس کی وجہ سے مسلم اور غیر مسلم لڑکے لڑکیاں  ایک دوسرے کے مذہب کو محض شادی کے لیے قبول کرلیتے ہیں ، ان میں  نہ تو مسلمان ہونے والوں  کو اسلام سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ غیرمسلم ہونے والوں  کو؛ دونوں  مذہب بے زار ہوتے ہیں ، مسلمانوں  کو اپنی اولاد پر کڑی نظر رکھنی ضروری ہے؛ تاکہ ارتداد سے بچ سکیں۔

خیرالقرون میں  مرتدین کا مقابلہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرام ؓکے زمانے میں  بھی ارتداد کی ہوا چلی تھی، وہ بھی اللہ کی مصلحت تھی، اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے ایسے موقع سے رسول اللہ … اور صحابہ کرامؓ کا نمونہ دکھانا چاہا؛ تاکہ اگر بعد میں  بھی ارتداد کی لہر چلے تواس کا مقابلہ اسی انداز سے کیا جاسکے۔

(الف) کچھ لوگوں  نے اسلام سے پھر کردوبارہ بتوں  کی پوجا شروع کردی تھی، اہل کتاب منافقین کی پلاننگ بھی تھی کہ ایمان میں  جھوٹ موٹ صبح کو داخل ہوجائو اور شام کو پھر جائو اور پوچھنے پر کہہ دو کہ ہم نے غور کیا؛ مگر ہمیں  اسلام سمجھ میں  نہیں  آیا، اس طرح جو لوگ پکے مسلمان ہیں  ان کا ایمان کمزور ہو جائے گا؛ لیکن ان کی یہ سازش چلی نہیں  اللہ تعالیٰ نے پردہ فاش کردیا:

وَقَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ أَہْلِ الْکِتَٰبِ ئَامِنُواْ بِالَّذِیٓ أُنزِلَ عَلَی الَّذِینَ ئَامَنُواْ وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوٓاْ ئَاخِرَہٗ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ۔

(سورۃ آل عمران: آیت، 72)

ترجمہ: اور اہل کتاب میں  سے ایک جماعت نے کہا: جو کچھ مسلمانوں  پر اترا ہے اس پر صبح کو ایمان لائو اور شام کو اس کا انکار کردو، شاید کہ وہ پھر جائیں !

ایک عیسائی منافقت سے ایمان لایا اور سول اللہ … سے قریب ہوگیا؛ لیکن چنددنوں  بعد وہ مرتد ہوگیا، عیسائیت میں  داخل ہوگیا، پھر بتوں  کی پوجا کرنے لگا، جب وہ مرا تو لوگوں  نے قبر میں  دفن کیا؛ مگر زمین نے قبول نہیں  کیا، باہر کردیا، لوگوں  نے دوبارہ دفن کیا، پھر باہر کر دیا گیا، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں !

(ب) یمامہ کے کچھ لوگوں  نے مسیلمہ کذاب کی پیروی شروع کردی، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں  نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی نبوت میں  شریک کرلینے کا مطالبہ کیا، جسے آپ نے مسترد کردیا؛ لیکن اس نے یمامہ میں  چالیس ہزار لوگوں  کو ہم نوا بنالیا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت میں  بغاوت پر اتر آیا اورنہ ماننے والوں  کو قتل کرنا شروع کردیا، خلیفۂ اول کو چیلنج دیا توآپ نے پہلے حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو یمامہ بھیجا؛ لیکن کامیابی نہ ملی؛ بالآخر حضرت خالد بن ولیدؓ نے تیرہ ہزار کے لشکر کے ساتھ یمامہ کا رخ کیا اور گھمسان کی جنگ ہوئی، حضرت وحشی بن حربؓ نے مسیلمہ کو ایسا نیزہ مارا کہ وہ ڈھیر ہوگیا اور اس فتنے کا خاتمہ ہوا۔

(ج) صنعا (یمن) کے اسود عنسی نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں  نبوت کا دعویٰ کیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی کوشش فرمائی کہ وہ ایمان لے آئے؛ مگر وہ شعبدہ بازی کے ساتھ مسلمانوں  کو گمراہ کرتا رہا تو آپ … نے یمن کے مسلمانوں  کے نام فتنہ کی سرکوبی کے لیے خط بھیجا؛ بالآخر فیروز نامی ایک بہادر شخصیت نے اس کا کام تمام کردیا اور اس کے مرنے کی اطلاع اس وقت ہوئی جب حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنائے جاچکے تھے۔

(د) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرما جانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں  کچھ لوگوں  نے زکوٰۃ کا انکار کیا، روزہ نماز کا انکار نہیں  کیا، کلمہ کا انکار نہیں  کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے ان لوگوں  سے جہاد کا ارادہ فرمایا تو حضرت عمرؓ نے اعتراض کیا کہ کیا آپ ان لوگوں  سے جہاد کریں  گے جو کلمہ پڑھتے ہیں ؟ تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ ہاں ! جو نماز اور زکوٰۃ میں  فرق کرے گا اس سے میں  جہاد کروں گا؛ اس لیے کہ وہ بھی مرتد ہے۔

مذکورہ بالا واقعات سے معلوم ہوا کہ ارتداد کا مقابلہ کرنا مسلمانوں  کے لیے بہت ضروری ہے، مرتد ہونے والا اگر کوئی اعتراض کرے تو اس کے اعتراض کو سناجائے گا اس کا جواب دیا جائے گا؛ اس لیے کہ اسلام مدلل مذہب ہے، اس میں  داخل ہونے کے لیے کوئی زبردستی نہیں ، اسلام تلوار سے نہیں  پھیلا ہے، اسلام کے کسی حکم میں  کسی کو شبہ ہوتو اس شبہ کو دور کرنا مسلمانوں  کی ذمہ داری ہے، ہندوستان جمہوری ملک ہے، یہاں  مذہب کی آزادی ہے، یہاں  مرتد کو قتل کرنے اور ان سے جہاد کرنے کی بات تو نہیں  کہی جاسکتی؛ اس لیے کہ سزائوں  کے نفاذ کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے؛ البتہ دلائل سے سمجھا جائے گا اور مسلمان بھائیوں  کے فکری ارتداد کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور یہ مسلمانوں  کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ اس میں  جمہوریت رکاوٹ نہیں  ہے۔

ارتداد سے بچنے کی تدبیریں

صفحہ 6 از 7