ایمان بچائیے! - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ایمان بچائیے!

  نقیہ کاظمی

صفحہ 7 از 7

اب سوال یہ ہے کہ آج ہندوستان کے موجودہ ماحول میں   ہمیں  فتنۂ ارتداد کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اپنے بھائیوں  کو جہنم سے بچانے کی تدبیریں  سوچنی چاہیے اور اس کے لیے مناسب اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے؛ اگرچہ ہم تعداد میں  کم ہیں ؛ مگر مایوس نہیں ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : بہت سی چھوٹی جماعتیں  بڑی جماعتوں  پر اللہ کے حکم سے غالب آجاتی ہیں  اور اللہ جمے رہنے والوں  کے ساتھ ہیں ۔ (سورۃ البقرہ: آیت، 249)

مسلمانوں  کو ارتداد سے کیسے بچایا جائے؟ ان کے ایمان کی حفاظت کس طرح کی جائے؟ تو اس سلسلے میں  چند صورتیں  ذہن میں  آرہی ہیں  اللہ کرے کہ وہ مفید ثابت ہو جائیں :

  1. ارتداد کی عالمی اورملکی سازش کا جائزہ لیا جائے اور ممکن حد تک ہر طرح کی کوشش کی جائے؛ تاکہ مسلمان بھائیوں  کا ایمان محفوظ رہے۔
  2. اہلِ وطن سے بحث ومباحثہ نہ کیا جائے، اس سے بات الجھتی ہے؛ نتیجہ ہاتھ نہیں  آتا۔
  3. غریب مسلمانوں  کے تعاون کا نظام بنایا جائے۔
  4. ایسے اسکول اور کالج سے بچا جائے جہاں  نونہالانِ امت ارتداد سے محفوظ نہیں  رہ سکتے۔
  5. مسلمان اپنے اسکول کھولیں  اور پاکیزہ ماحول میں  نونہالان کو تعلیم دیں ۔ مخلوط تعلیم سے بچا جائے، اسی طرح ’’مکاتب‘‘ کے قیام پر توجہ دی جائے، اگر مستقل مکاتب نہ قائم کرسکیں  تو مساجد میں  مکاتب کا نظام بنائیں !
  6. دینی تعلیم کے فروغ کی کوشش کی جائے، عقیدے سمجھائے جائیں ، عموماً عقیدہ نہ جاننے کی وجہ سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں ۔
  7. مسلمانوں  کے اندر دینی غیرت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، دین اسلام کی اہمیت کو سمجھایا جائے۔
  8. نماز کا اہتمام کیا جائے اور ایک دوسرے کو مسجد سے قریب کرنے کی ہرممکن کوشش ہو، ’’تبلیغی جماعت‘‘ کے احباب اس پر زیادہ توجہ رکھیں !
  9. اگر محسوس ہوکہ کوئی ایمان پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو اس سے دور رہا جائے، ایسوں  کی صحبت ہرگز اختیار نہ کی جائے۔
  10. اپنی اولاد اور خاندان پر گہری نظر رکھی جائے! غلط صحبتوں  سے بچایا جائے۔
  11. معاشرے میں  پردے کا التزام کیا جائے؛ تاکہ گندے تعلقات نہ ہونے پائیں ، جو اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا سبب بنتے ہیں ۔
  12. اسلام پر ہونے والے اعتراضات نہ سنے جائیں ، عموماً موبائل پر بہت سے لوگ اسلام کے خلاف باتیں  کرتے رہتے ہیں ، اُن کو نہ سنا جائے، صرف قابلِ اعتماد اور صحیح عقیدہ لوگوں کی باتیں  سنی جائیں !
  13. علماء اعتراضات کا جواب تیار کریں  اور ان کو شائع کریں ، اس کا ایک نظام بنایا جائے، اسلام کے خلاف اعتراضات جمع کیے جائیں  پھر جواب تیار کرکے کئی زبانوں  میں  انھیں  پھیلایا جائے؛ تاکہ شکوک وشبہات والوں  کے لیے شفا کا ذریعہ ہو!
  14. مدارسِ اسلامیہ میں  باقاعدہ دفاعِ اسلام کا نظام بنایا جائے!
  15. تعارفِ اسلام کے کتابچے تیار کیے جائیں  اور وہ مسلمانوں  تک پہنچائے جائیں  اور غیروں  کو بھی دیے جائیں !
  16. جمعہ کی تقریروں  میں  ایمان کی اہمیت اور اس کے عقیدے بیان کیے جائیں ۔
  17. جہاں  ارتداد کا خطرہ ہو وہاں  مبلغین بھیجے جائیں ، مساجد میں  اس کا نظام مضبوط انداز میں  بنایا جائے! اس کے لیے مساجد میں  باصلاحیت فکرمند اماموں  کا تقرر کیا جائے جو وقت پر کام آسکیں ، جن کے اندر تقریر کی صلاحیت ہو۔
  18. کفریہ الفاظ کے استعمال سے پرہیز کیا جائے! اس لیے کہ ان الفاظ سے آدمی ایمان سے نکل جاتا ہے، یا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوجاتاہے اور ا ُسے پتہ بھی نہیں  چلتا۔
  19.  مختصرکورس تیار کیا جائے جس میں  ایمانیات کی باتیں  ہوں  اسلام کا تعارف، اہمیت ، عقیدے، ارکانِ اسلام، دعائیں  اور دیگر ضروری معلومات ہوں  کہ اس کا پڑھنے والا، عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرت سب کو سمجھ لے۔
  20. عوام اور علماء کے تعلقات کو مضبوط کیا جائے؛ ان کا قرب جتنا رہے اتنا ہی ارتداد سے بچ سکیں گے۔ صحبتِ صالحین کی ترغیب دی جائے، اس کے بڑے فائدے ہیں ۔
  21. کالجوں  میں  تعارفِ اسلام اور اسلام پر اعتراضات سے متعلق محاضرات کا نظام بنایا جائے۔
  22. اسکول اور کالج کی چھٹیوں  کے موقع کو غنیمت جان کر طلبہ وطالبات کو دین سمجھانے کا نظام بنایا جائے! سنڈے کلاس کا نظام بنایا جائے۔
  23. چھوٹی ہجرت کی جائے، مثلاً جہاں  غیرمسلمین زیادہ ہیں ، مسجدیں  نہیں  ہیں  یا دور ہیں ، ان علاقوں  کو چھوڑ کر کثیر مسلم علاقے میں  رہائش اختیار کی جائے، اس کے بڑے فائدے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أنا بَریئٌ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیْمُ بَیْنَ أظْہُرِ المُشْرِکِینَ (ابوداؤد)

ترجمہ: میں  ہراُس مسلمان سے بے تعلق ہوں  جو مشرکین کے درمیان رہتے ہیں ۔

لَا تُسَاکنوا المشرکینَ وَلَا تُجَامِعُوْہُمْ! فَمَنْ سَاکَنَہُمْ أو جَامَعَہُمْ فلیس مِنَّا۔ (ترمذی)

ترجمہ: مشرکین کے درمیان رہائش اختیار نہ کرو اور ان کے ساتھ جمع نہ رہو؛ اس لیے کہ جو ان کے ساتھ رہائش اختیار کرے گا یا اُن کے ساتھ جمع رہے گا تو وہ ہم (مسلمانوں ) میں  سے نہیں ہے۔

حفاظتِ اسلام کے لیے دعائوں  کا اہتمام کیا جائے!

اَللّٰہُمَّ أرنا الحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتباعَہٗ وأرِنَا الباطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجتِنَابَہٗ!


صفحہ 7 از 7