مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور صحیح احادیث - سنی…

مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور صحیح احادیث

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

جعفری: السلام وعلیکم بھائی، کیا حال ہیں؟

صدیقی: وعلیکم السلام اللہ کا بڑا کرم ہے۔ تم سناؤ آج کا دن کیسا گزرا؟

جعفری: بہت مصروف۔۔ آج کل شہادتِ زہرہ کے ایام ہیں، اسی سلسلے میں ایک مجلس میں خطاب کیا، اور پھر امام بارگاہ میں نذر نیاز کا انتظام بھی سنبھالنا تھا۔ شکر ہے مولا کا۔ سب کام خیر خوبی سے انجام پذیر ہوئے۔

صدیقی: اچھا ٹھیک ہے بھائی۔
آج کی گفتگو سے پہلے کل جن نکات کو ہم نے کلیئر کیا تھا، ان کا مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔

تم نے جو دو اہم اعتراض کئے تھے:

1: حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم نے سیدہ فاطمہؓ کا حق فدک انہیں نہیں دیا۔

2: سیدہ فاطمہؓ کو دربار میں کھڑے رکھا اور خالی واپس بھیجا۔

اس میں سے پہلے اعتراض پر ہم نے تفصیلی نکتہ بہ نکتہ گفتگو کی تھی، اور آج بھی اسی پہلے اعتراض کے بقیہ نکتے کلیئر کریں گے۔

کل میں نے دو اہم دلائل سے ثابت کیا کہ فدک مال فئے تھا اور نبی کریمﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔

1: شیعہ علماء کرام نے باغ فدک کو مال فئے تسلیم کیا ہے اور مال فئے کے متعلق قرآن کریم کی سورت الحشر آیات 6 اور 7 میں واضح الفاظ میں اس کے حصہ دار بھی متعین کردیے گئے ہیں۔

2: مال فئے ذاتی ملکیت نہیں بلکہ حکومتِ وقت کی ملکیت ہے۔ اس کی تائید میں تفسیرِ نمونہ سے شیعہ مفسر کا واضح مؤقف اور حضرت امام باقر کی ایک روایت بھی پیش کی تھی۔

جب ایک ملکیت کے کئی حصہ دار ہوں اور یہ بات قرآن پاک سے ثابت ہو جائے تو پھر اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ صرف ایک کی ذاتی ملکیت ہے، بالکل بھی درست نہیں ہوگا، بلکہ صریح قرآن کریم کی خلاف ورزی ہوگی۔

الحمدللہ قرآن پاک اور امام باقرؒ کی روایت کا ردّ کرنے سے تم عاجز ہوگئے تھے، اس کے بعد تم نے دو اور اشکال پیش کئے۔

1: سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ فدک نبی کریمﷺ کی ذاتی ملکیت تھا اور ان کے بعد بطورِ وراثت سیدہ فاطمہؓ کی ملکیت تھا۔

2: انبیائے کرام کی وراثت نہیں ہوتی اس کے متعلق نبی کریمﷺ نے صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کیوں سنائی، دوسرے جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے یہ فرمان نبوی کیوں نہیں سنا۔

کل میں نے تفصیل سے سیدہ فاطمہؓ کے مطالبہ فدک کی وجہ بیان کی تھی۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ مطالبہ فدک کی وجہ فدک کی آمدنی سے ملنے والا وہ خرچہ حاصل کرنا تھا جو نبی کریمﷺ خود اہلِ بیت کو تقسیم فرماتے تھے، جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نبی کریمﷺ کے طریقہ پر من وعن عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تو سیدہ فاطمہؓ راضی ہوگئیں۔ اس بات کی تائید میں حوالے بھی شیعہ و سنی کتب سے دکھائے تھے۔آج میں تمہارے دوسرے مؤقف کا ردّ کر رہا ہوں کہ حدیث لانورث صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مروی ہے یا دوسرے صحابہ نے بھی اسے بیان کیا ہے۔

جعفری: جی بھائی ٹھیک ہے۔
ویسے تمہارا یہ طریقہ بھی پسند آیا کہ نکتہ بہ نکتہ بات کرتے ہو، اور کل کی گفتگو کا خلاصہ بھی بیان کر دیا۔

اس وقت مجھے صرف یہ بتاؤ کہ انبیائے کرام کی مالی میراث نہیں ہوتی، یہ حدیث دوسرے صحابہ نے روایت کی ہے یا نہیں؟ اور براہ کرام صحیح احادیث پیش کرنا کیونکہ ضعیف احادیث سے اس اہم مسئلہ کا حل نہیں نکالا جاسکتا، سیدہ ع کا مطالبہ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق پر غضبناک ہونا اہل سنت کی صحیح روایات سے ثابت ہے۔ لہٰذا صحیح روایات کے سامنے ضعیف روایات قبول نہیں کی جاسکتیں۔

صدیقی: تم بے فکر رہو، میں صحیح احادیث ہی پیش کروں گا۔

1: سب سے پہلے ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی چند صحیح احادیث سے ثابت کرتا ہوں کہ انبیاء کرام کی میراث نہیں ہوتی۔

Sahih Bukhari - 6730
کتاب: کتاب فرائض یعنی ترکہ کے حصوں کے بیان میں

باب: نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ مَالِكٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عُرْوَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا""أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَتْ عَائِشَةُ:‌‌‌‏ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ "لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ" 

ترجمہ: جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی بیویوں نے چاہا کہ سیدنا عثمانؓ کو سیدنا ابوبکرؓ کے پاس بھیجیں، اپنی میراث طلب کرنے کے لیے۔ پھر حضرت عائشہؓ نے یاد دلایا۔ کیا نبی کریمﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے؟

Sahih Bukhari - 4034
کتاب: کتاب غزوات کے بیان میں
باب: بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان

صفحہ 1 از 4