مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور صحیح احادیث - سنی…

مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور صحیح احادیث

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

قَالَ:‌‌‌‏ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ صَدَقَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏تَقُولُ:‌‌‌‏ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ لَهُنَّ:‌‌‌‏ أَلَا تَتَّقِينَ اللهَ،‌‌‌‏ أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، ‌‌‌‌‌‏يَقُولُ:‌‌‌‏ "لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"،‌‌‌‏ يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ،‌‌‌‏ فَانْتَهَى أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا أَخْبَرَتْهُنَّ،‌‌‌‏ قَالَ:‌‌‌‏ فَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيٍّ مَنَعَهَا عَلِيٌّ عَبَّاسًا،‌‌‌‏ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ كَانَ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَحَسَنِ بْنِ حَسَنٍ كِلَاهُمَا كَانَا يَتَدَاوَلَانِهَا، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا"".

ترجمہ: مالک بن اوس نے یہ روایت تم سے صحیح بیان کی ہے۔ میں نے نبی کریمﷺ کی پاک بیوی سیدہ عائشہؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ کی ازواج نے عثمانؓ کو ابوبکرؓ کے پاس بھیجا اور ان سے درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ نے جو فئے اپنے رسولﷺ کو دی تھی اس میں سے ان کے حصے دیئے جائیں، لیکن میں نے انہیں روکا اور ان سے کہا تم اللہ سے نہیں ڈرتی کہ آپﷺ نے خود نہیں فرمایا تھا کہ ہمارا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا؟ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ آپﷺ کا اشارہ اس ارشاد میں خود اپنی ذات کی طرف تھا۔ البتہ آل محمد (ﷺ) کو اس جائیداد میں سے تا زندگی (ان کی ضروریات کے لیے) ملتا رہے گا۔ جب میں نے ازواج مطہراتؓ کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے بھی اپنا خیال بدل دیا۔ عروہ نے کہا کہ یہی وہ صدقہ ہے جس کا انتظام پہلے علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔ علیؓ نے عباسؓ کو اس کے انتظام میں شریک نہیں کیا تھا بلکہ خود اس کا انتظام کرتے تھے (اور جس طرح نبی کریمﷺ ابوبکرؓ اور عمرؓ نے اسے خرچ کیا تھا، اسی طرح انہیں مصارف میں وہ بھی خرچ کرتے تھے) اس کے بعد وہ صدقہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے انتظام میں آ گیا تھا۔ پھر حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے انتظام میں رہا۔ پھر جناب علی بن حسین اور حسن بن حسن کے انتظام میں آ گیا تھا اور یہ حق ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کا صدقہ تھا۔

Sunnan e Abu Dawood - 2976
کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب: باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہﷺ اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان:

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ مَالِكٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عُرْوَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَائِشَةَ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّهَا قَالَتْ:‌‌‌‏ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَيَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ:‌‌‌‏ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ .

ترجمہ: جب رسول اللہﷺ نے وفات پائی تو امہات المؤمنین نے ارادہ کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ابوبکرؓ کے پاس بھیج کر رسول اللہﷺ کی میراث سے اپنا آٹھواں حصہ طلب کریں، تو ام المؤمنین عائشہؓ نے ان سب سے کہا (کیا تمہیں یاد نہیں) رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔

Musnad Ahmed - 6350
کتاب: فرائض کے ابواب
باب: اس چیز کا بیان انبیاء کرام کا وارث نہیں بنایا جاتا۔

 (6350)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَدْنَ أَنْ یُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ یَسْأَلْنَہُ مِیْرَاثَہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَتْ لَھُنَّ عَائِشَۃُ: أَوَ لَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: 26790)

ترجمہ: سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہﷺ وفات پاگئے تو آپﷺ  کی ازواج مطہراتؓ نے چاہا کہ سیدنا عثمانؓ کو سیدنا ابوبکرؓ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہﷺ سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہؓ نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔

Musnad Ahmed - 11072
کتاب: سنہ (1) ہجری کے اہم واقعات
باب: رسول اللہﷺ ‌کے ترکہ اور میراث کا بیان

 (11072)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تُوُفِیِّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَدْنَ أَنْ یُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ یَسْأَلْنَہُ مِیْرَاثَہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَتْ لَھُنَّ عَائِشَۃُ: أَوَ لَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: 26790)

صفحہ 2 از 4