مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور صحیح احادیث - سنی…

مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور صحیح احادیث

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

ترجمہ: سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہﷺ ‌وفات پاگئے تو آپﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ نے چاہا کہ سیدنا عثمانؓ کو سیدنا ابوبکرؓ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہﷺ سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہؓ نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ ‌نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔

Musnad Ahmed - 11076
کتاب: سنہ (1) ہجری کے اہم واقعات
باب: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان

11076۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ فَاطِمَۃَ وَالْعَبَّاسَ أَتَیَا أَبَا بَکْرٍ یَلْتَمِسَانِ مِیرَاثَہُمَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُمَا حِینَئِذٍیَطْلُبَانِ أَرْضَہُ مِنْ فَدَکَ وَسَہْمَہُ مِنْ خَیْبَرَ، فَقَالَ لَہُمَا أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا نُورَثُ، مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔)) وَإِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ہٰذَا الْمَالِ، وَإِنِّی وَاللّٰہِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُہُ فِیہِ إِلَّا صَنَعْتُہُ۔ (مسند احمد: 9)

ترجمہ: سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہؓ ‌نے سیدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں آ کر رسول اللہﷺ کی فدک والی زمین اور خیبر والے حصہ میں سے اپنا میراث والا حق طلب کیا، سیدنا ابوبکرؓ نے ان سے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ البتہ آل محمدﷺ ‌اس مال میں سے کھاتے رہیں گے، اللہ کی قسم! میں نے اللہ کے رسولﷺ  کو جو کام جس طرح کرتے دیکھا، میں بھی ویسے ہی کروں گا۔

2: حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی چند احادیث نبوی، جن کے مطابق انبیاء کرام کی میراث نہیں ہوتی۔

Sahih Bukhari - 6729
کتاب: کتاب فرائض یعنی ترکہ کے حصوں کے بیان میں
باب: نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‌‌‌‌‌‏أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ ""لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، ‌‌‌‌‌‏مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، ‌‌‌‌‌‏وَمَئُونَةِ عَامِلِي، ‌‌‌‌‌‏فَهُوَ صَدَقَةٌ"".

ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا ”میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہیں ہو گا۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچہ اور اپنے عاملوں کی اُجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔“

صحيح مسلم كِتَابٌ: الْجِهَادُ وَالسِّيَرُ بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ: "لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ" 1761 ( 56 ) (المجلد: 5 الصفحہ: 156)

وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ".

مسند أحمد مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ.
7303 (المجلد : 12 الصفحہ: 252)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ، وَقَالَ مَرَّةً: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِی فَهُوَ صَدَقَةٌ

حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط الشيخين

3: حضرت عمر فاروقؓ سے مروی چند احادیث، جن کے مطابق انبیاء کرام کی میراث نہیں ہوتی۔

مسند أحمد مُسْنَدُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

333 (المجلد : 1 الصفحہ: 416)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ: فَقُلْتُ لَكُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ".

حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط الشيخين

مسند أحمد مُسْنَدُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

336 (المجلد : 1 الصفحة : 417)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّا لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"

حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط الشيخين

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے علاوہ میں نے تین اور شخصیات سے بھی یہی حدیث نبوی دکھائی ہے۔
ان صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث لانورث نبی کریم سے مختلف صحابہ کرامؓ نے روایت کی ہے۔

جعفری: مجھے حیرت ہے کہ ہمیں یہ پڑھایا گیا ہے کہ حدیث لانورث فرد واحد یعنی خلیفہ اوّل کی گھڑی ہوئی حدیث ہے، لیکن تم نے اتنی احادیث دکھا کر اس مؤقف کی بنیادیں ہلا دی ہیں!!
اس کے باوجود تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اہل سنت کتب پر ایمان نہیں رکھتے۔ جس طرح خلیفہ اول نے یہ حدیث گھڑی، اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے صحابہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی ہو۔

صدیقی: اچھا! اگر میں تمہیں یہی قول نبی الفاظ کے فرق کے ساتھ اہل تشیع معتبر کتب سے کئی اماموں سے دکھادوں تو۔۔؟

جعفری: کیا مطلب؟ ائمہ معصومین کس طرح فرما سکتے ہیں کہ انبیاء کی مالی میراث نہیں ہوتی!! ہمارا اہل سنت سے اس نکتہ پر بھی سخت اختلاف موجود ہے۔ بلکہ ہمارے کئی علماء تو انبیاء کی مالی وراثت پر قرآن کریم سے آیات بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔
اگر نبی کی مالی میراث کا تصور ختم ہو جائے تو پھر مسئلہ فدک پر ہمیں آپس میں دست و گریباں ہونے کی ضرورت ہی کیوں ہو؟

صفحہ 3 از 4