Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

  توقیر احمد

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

 بنام مفتی عبدالعزیزعزیزی دامت برکاتھم

 فہرست

 اسلام میں مقام نبوت

شیعہ مذہب میں نبوت

 درجہ ولایت مطلقہ فوق درجہ نبوت

 خطبةالبیان

 خلاصہ روایات

 تبصرہ

 آیت سے غلط استدلال۔

 آیت کا صحیح مفہوم

 ایک اور توہین 

 رسول اللہ کو امام سے کم سمجھنا

 خلاصہ روایات 

 نوٹ 

امامت کا سب سے پہلا موجد

 نتیجہ

 اسلام میں مقام نبوت

Surat No 4 : Ayat No 69 

 وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾

 اور جو بھی اللہ تعالٰی کی اور رسول  (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیاہے  ، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں ۔  

 Surat No 4 : Ayat No 70 

ذٰلِکَ الۡفَضۡلُ مِنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیۡمًا 

 یہ فضل اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور کافی ہے اللہ تعالٰی جاننے والا  ۔  

 اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے منعم علیہم جماعت کا ذکر فرمایا اور ان میں سے انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کو مقدم کیا اورفرمایا کہ یہ اللہ تعالی کا  فضل و کرم ہے یعنی اللہ تعالی کے فضل وکرم میں سے سب سے بڑا فضل مقام نبوت ہے 

 Surat No 2 : Ayat No 213 

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً  وَّاحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ  ۪ وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ مَا اخۡتَلَفَ فِیۡہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ۚ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ  یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۱۳﴾

 ترجمہ۔ ۔پہلے سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے پھر آپس میں جھگڑنے لگے تب خدا نے نجات کی خوشخبری دینے والے اور عذاب سے ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا اور پیغمبروں کے ساتھ برحق کتابیں بھی نازل کی تاکہ جن باتوں میں لوگ جھگڑتے تھے فیصلہ کریں 

 ترجمہ فرمان علی شیعہ 

 اس آیت کریمہ میں بتایا گیا کہ دین میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالی نے اس اختلاف کے فیصلے کے لئے انبیاء علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور ساتھ ہی ان کو کتاب بھی دیں تاکہ وہ اس کے ذریعہ سے دینی عقائد اور اعمال کے اختلاف کو اس کتاب کے ذریعہ سے ختم کریں اور اس فیصلے کے ماننے والوں کو خوشخبری دیں اور انکار کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ نبی کا انتخاب خود اللہ تعالی کرتا ہے یعنی نبوت کسی نہیں بلکہ وحی ہے اور ہر نبی کو اللہ تعالی وحی کے ذریعے سے رہنمائی کر کے اس انداز سے چلاتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اوامرو منہیات میں جان بوجھ کر کوئی نافرمانی نہ کریں اللہ کےدیےہوے پیغام کو کماحقہ و پہنچائیں اور اس پیغام پہنچانے میں بھی ذرا برابر غلطی نہ کریں(ہاں اگر نسیان سے یا اجتہادی رائے سے اپنی ذاتی معاملات میں اس قسم کی بات ہو تو جدا بات ہے )

لہذا اللہ تعالی جب انبیاء علیہ السلام کو وحی کے ذریعہ سے دینی معاملات میں اور پیغام پہنچانے میں ہر قسم کی سہو سے حفاظت کرکے چلاتا ہے تو اس حفاظت کی وجہ سے تمام مسلمان کو معصوم عن الخطاء مانتی ہے اور انبیاء علیہ السلام کی معصومیت کی بنیاد یہی وحی الہی ہے اور اس معصومیت کی بنا پر ہی ہرنبی مفترض الطاعات ہوتا ہے اور وحی تین طریقوں سے ہوتی ہے 

 ١۔ ۔۔الہام  یعنی دل میں ڈالنا   

 ٢۔ ۔صرف آواز سننا  جیسا کہ موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو طور سینا پر سنایا گیا 

 ٣۔ ۔۔فرشتہ بھیج کر تعلیم دینا 

جیساکہ۔ ۔Surat No 42 : Ayat No 51 

وَ مَا کَانَ  لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ  اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ  حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾

ناممکن ہے کہ کسی بندہ  سے اللہ تعالٰی کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی  کرے ، بیشک وہ برتر حکمت والا ہے ۔  

 اس قسم کی وحی میں بعض کو وحی جلی اور بعض کو وحی خفی کہتے ہیں اور ہماری شریعت میں قرآن مجید وحی جلی ہے اور رسول اللہ صلی وسلم کی تبلیغ کرنا وحی خفی ہے یا  یہ وحی غیر متلو ہے اور  قرآن وحی متلو ہے 

اس سے معلوم ہوا کہ مقام نبوت وہ مقام ہے جو ان تمام فضائل میں سب سے اعلی ہے اور اسی طرح مقام رسالت اعلی ترین مقام ہے کما قال اللہ تعالی ۔۔

 اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (75)

 ترجمہ۔ ۔اللہ تعالی فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کی طرح رسالت کا انتخاب بھی کسی نہیں بلکہ وحی ہے 

اور نبوت و رسالت کا منصب سب سے اعلی منصب ہے اور اللہ کی طرف سے سب سے بڑی عطاءہے اس منصب اور عطاء میں درجات بھی ہیں 

 تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ (253) 

 یعنی منصب رسالت میں بعض کی بعض پر فضیلت ہے باقی کوئی غیر نبی یا غیر رسول کسی نبی یا رسول کے برابر ہی نہیں ہوسکتا کہ کسی نبی اوررسول سے افضل ہو سکے

انبیاء و مرسلین کی بعض کی بعض پر فضیلت کو سمجھنے کے بعد پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے بلکہ شیعہ مذہب کو ماننے والے بھی اس حقیقت کو مانتے ہیں کہ تمام انبیاء و مرسلین میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء خاتم النبیین المعصومین سید الاولین والاخرین عزت وعظمت فضیلت اور عزیمت میں سب سے اعلی و ارفع ہیں ۔آپ کی شان میں 

 قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (158)

 وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (107) 

 وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ.

 قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٣١﴾

قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّ‌سُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿٣٢﴾

 سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (1)

اس سے معلوم ہوا کہ قیامت تک آپ ہی مفترض الطاعات ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی الہی بند ہونے کی وجہ سے کوئی بھی معصوم عن الخطاء نہیں ہوسکتا اور تمام انسانوں میں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے میں زیادہ پابندی کرے گا وہی سب سے زیادہ اللہ تعالی کا مقبول اور محبوب ترین بندہ بن جائے گا لیکن باوجود اس کے وہ انبیاء ومرسلین علیہ السلام کے درجات تک نہیں پہنچ سکے گا

جیسا کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نبوت و رسالت کے اعلی درجات کی وجہ سے سب سے اعلی و ارفع ہیں تو ایسا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت عصمت اخلاق علوشان میں سب سے بلند و بالا ہیں ۔ان تمام صفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے مثال و بے نظیر ہیں کوئی نبی یا غیر نبی کوئی رسول یا غیر رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمسر نہیں آپ کی اطاعت اللہ کی اطاعت اور آپ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے اس حقیقت یعنی مقام نبوت کو سمجھنے کے بعد اب ہم شیعہ مذہب کی اصولی اور فروعی کتابوں میں دیکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک مقام نبوت کیا ہے آیا ان کے نزدیک کتاب اللہ کے بتائے ہوئے اصول کی طرح نبوت و رسالت کے منصب کو بالاتر سمجھتے ہیں 

 نبوت کے متعلق مذہب شیعہ کا عقیدہ 

 از بعض اخبار معتبرہ منقول است 

کہ مرتبه امامت بالاتر از مرتبه پیغمبر است 

 ترجمہ۔ یعنی معتبر حدیثوں سے ثابت ہے کہ نبوت کے مرتبہ سے امامت کا مرتبہ بالاتر ہے 

 حیات القلوب فارسی جلد 3 صفحه 2 از ملا باقر مجلسی ۔اردو صفحہ 10 

 درجہ ولایت مطلقہ فوق درجہ نبوت 

 فوق درجہ نبوت و رسالت و امامت درجہ ولایت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔عام انسانوں سے افضل مسلمان اور مسلمانوں سے افضل اہل ایمان اور مومنین سے افضل نبی اور نبیوں سے افضل رسول اور رسولوں سے افضل امام اورامامت سے افضل ہیں ولایت جو ولی ہوگا اس میں صفات نبوت رسالت امامت بھی پائی جائیں گی 

 جلاء العیون مترجم اردو صفحہ 19 جلد ثانی مقدمہ اول 

 اس لئے شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس قسم کا ولی مان کر اپنے کلمہ میں علی ولی اللہ پڑھتے ہیں 

 حضرت علی علیہ السلام کی منقبت عطا تقریر و تحریر سے باہر ہے اور آپ کا مثل سواےآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات کے اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء اور ملائکہ آپ کے آستانہ عالیہ کے ادنیٰ غلام ہیں

 کلید مناظرہ صفحہ-30 مناقب و فضائل جناب امیر علیہ السلام   

 شیعہ مصنفین کی وہی باتیں جو انہوں نے آئمہ حضرات کے متعلق ان کی طرف منسوب کرکے لکھی ہیں ان پر غور کیا جائے جن عبارتوں میں انہوں نے اپنے عقیدے کو ثابت کرنا چاہا ہے کہ واقعاتا ان کے بارہ امام نبی علیہ الصلاۃ والسلام سے بالاتر ہے اور وہ شرکیہ عبارتیں ہم مختصر عرض کرتے ہیں  

 خطبة البیان

وقال (علیه السلام): اناالذی عندی مفاتیح‏الغیب لا یعلمها بعد محمد (صلی الله علیه و آله و سلم) غیری‏

وقال (علیه السلام): انا بکل شی‏ء علیم.

وقال (علیه السلام): انا الذی قال خیر رسول الله: انا مدینة العلم وعلی بابها.

وقال (علیه السلام): انا ذوالقرنین المذکور فی الصحف الاولی.

وقال (علیه السلام): انا الحجرالمکرم التی(152) یتفجر منه اثنتا عشرة عیناً.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی خاتم سلیمان.

وقال (علیه السلام): انا الذی اتولی حساب الخلایق.

وقال (علیه السلام): انا اللوح المحفوظ.

وقال (علیه السلام): انا مقلب القلوب والابصار (ان الینا ایابهم ثم ان علینا حسابهم).(181)

وقال (علیه السلام): انا الذی قال رسول الله(189) (صلی الله علیه و آله و سلم): یا علی، الصراط صراطک والموقف موقفک.

وقال (علیه السلام): انا الذی عنده علم الکتاب علی ما کان وما یکون.

وقال (علیه السلام): انا آدم الاول، انا نوح الاول. انا ابراهیم الخلیل حین القی(198) فی النار. انا موسی مونس المومنین.

وقال (علیه السلام): انا مفجر العیون، انا مطرد الانهار.

وقال (علیه السلام): انا داحی الارضین، انا سماک السموات.

وقال (علیه السلام): اناالذی عندی فصل الخطاب، انا قسیم الجنة والنار.

وقال (علیه السلام): انا ترجمان وحی الله، انا معصوم من(231) عندالله.

وقال (علیه السلام): انا حجة الله علی من فی السموات وعلی من فی الارضین.

وقال (علیه السلام): انا خازن علم الله، انا قائم بالقسط.

وقال (علیه السلام): انا دابة الارض.(246)

وقال (علیه السلام): انا الراجفة وانا الرادفة.(249)

وقال (علیه السلام): انا الصحیحة بالحق یوم الخروج الذی لا یکتم عنه(254) خلق السموات والارض.

وقال (علیه السلام): انا اول(261) ما خلق الله حجة وکتب علی حواشیه لااله الا الله، محمد رسول الله، (صلی الله علیه و آله و سلم) علی ولی الله ووصیه (علیه السلام).

وقال علیه السلام:(277) ثم خلق الارضین فکتب اطرافها لا اله الا الله محمد رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) وعلی وصیه (ع).

وقال علیه السلام: ثم خلق اللوح فکتب علی حدوده لا اله الا الله، محمد رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) علی وصیه (ع).

وقال (علیه السلام): انا الساعة التی(279) اعتد لمن کذب بها سعیراً.

وقال (علیه السلام): انا (ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین).(294)

وقال (علیه السلام): انا اسماء الله الحسنی التی امر الله ان یدعی بها.

وقال (علیه السلام): انا النور الذی اقتبس منه موسی فهدی.

وقال (علیه السلام): انا هادم القصور.

وقال (علیه السلام): انا مخرج المومنین من القبور.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی الف کتاب من کتب الانبیاء.

وقال (علیه السلام): انا المتکلم بکل لغة فی الدنیا.

وقال (علیه السلام): انا صاحب نوح ومنجیه، انا صاحب ایوب المبتلی ومنجیه وشافیه،(311) انا صاحب یونس و منجیه.

وقال (علیه السلام): انا اقمت السموات السبع بنور ربی وقدرته الکاملة.

وقال (علیه السلام): انا الغفور الرحیم وان عذابی هو العذاب الالیم.(318)

وقال (علیه السلام): اناالذی(327) بی اسلم ابراهیم الخلیل لرب العالمین أقر بفضله.

وقال (علیه السلام): انا عصاء الکلیم وبه آخذ بناصیة الخلق اجمیعن.

وقال (علیه السلام): انا الذی نظرت فی عالم الملکوت(334) فلم نجد غیری شی‏ء وقد غاب.

وقال (علیه السلام): انا الذی أحصی هذا الخلق وان کثروا حتی أردهم الی الله‏

وقال (علیه السلام): انا الذی (ما یبدل القول لدی وما أنا بضلام للعبید)(346)

وقال (علیه السلام): انا ولی الله فی الارض والمفوض الیه امره و(353)[ حاکم ]فی عباده.

وقال (علیه السلام): انا الذی بعثت النبیین والمرسلین.

وقال (علیه السلام): انا الذی دعوت الشمس والقمر فأجابونی.

وقال (علیه السلام): انا فطرت العالمین.

وقال (علیه السلام): انا داحی الارضین وعالم بالاقالیم.

وقال (علیه السلام): انا امر الله والروح.

وقال (علیه السلام): انا الذی قال الله لنبیه: (ألقیا فی جهنم کل کفار عنید)(413)

وقال (علیه السلام): انا الذی ارسیت الجبال وبسطت الارضین، انا مخرج العیون ومنبت الزروع(421) ومغرس الشجار ومخرج الثمار.

وقال (علیه السلام): انا الذی اقدر اقواتها ومنزل المطر ومسمع الرعد ومسرق البرق.

وقال (علیه السلام): انا الذی اقوم الساعة، انا الذی ان امت فلم امت وان قتلب فلم اقتل.

وقال (علیه السلام) : انا الذی أعلم ما یحدث آناً بعد آن وساعة بعد ساعة، انا الذی أعلم خطرات القلوب ولمح العیون وما تخفی الصدور(445)

وقال (علیه السلام) : انا صلوة المومنین وزکوتهم وحجهم وجهادهم.

وقال (علیه السلام): انا الناقور الذی قال الله تعالی: (فاذا نقر فی الناقور)(456) وانا صاحب النشر الاول والاخر، انا اول ما خلق الله نوری وانا وعلی من نور واحد.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الکواکب ومزیل الدول، انا الذی هو صاحب الزلازل والرجفة، انا صاحب المنایا وصاحب البلایا ویا فصل الخطاب.

وقال (علیه السلام): انا صاحب ارم ذات العماد، التی لم یخلق مثلها فی البلاد ونازلها بما فیها وانا المنفق الباذل بما فیها.

وقال (علیه السلام): انا الذی اهلکت الجبارین والفراعنة المتقدمین بسیفی ذی‏الفقار.

وقال (علیه السلام): انا الذی حملت النوح فی السفینة التی عملها، انا الذی انجیت ابراهیم من ناز نمرود ومونسه، وانا مونس یوسف الصدیق فی الجب ومخرجه، انا صاحب موسی والخضر ومعلمها.

وقال (علیه السلام): انا منشأ الملکوت فی الکون‏

وقال (علیه السلام): انا الباری‏ء، انا المصور فی الأرحام.

وقال (علیه السلام): انا الذی ابرء الأکمه وادفع الأبرص واعلم الضمایر، انا انبئکم بما تأکلون وماتدخرون فی بیوتکم.

وقال (علیه السلام): انا البعوضه التی ضرب الله بها مثلا.

وقال (علیه السلام): انا الذی قرر الله اطاعنی فی الظلمة.

وقال (علیه السلام): انا الذی کسوت العظام لحماً، ثم أنشأته بقدره الله.

وقال (علیه السلام): انا الذی هو حامل عرش الله مع الابرار من ولدی وحامل العلم، انا الذی اعلم بتأویل القرآن والکتب السالفة، انا المرسوخ فی العلم.

وقال (علیه السلام): انا وجه الله فی السموات والارضین، کمال قال الله: (کل شی‏ء هالک الا وجهه)(487) انا صاحب الجبت والطاغوت ومحرقهما.

وقال (علیه السلام): انا باب الله الذی قال الله تعالی: (ان الذین کذبوا بایاتنا واستکبروا عنها لا تفتح لهم ابواب السماء ولا یدخلون الجنة حتی یلج الجمل فی سم الخیاط وکذلک نجزی المجرمین)(490)

وقال (علیه السلام): انا الذی خدمنی جبرئیل ومیکائیل، انا الذی ردت علی الشمس مرتین، اناالذی خص الله جبرئیل ومیکائیل بالطاعة لی.

وقال (علیه السلام): انا اسم من اسماء الله الحسنی وهو الاعظم الاعلی.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الطور وانا صاحب الکتاب المسطور وانا بیت الله المعمور وانا الحرث والنسل وانا الذی فرض الله طاعتی علی کل قلب ذی روح متنفس من خلق الله.

وقال (علیه السلام): انا الذی انشر الاولین والاخرین، انا قاتل الاشقیاء بسیفی ذی‏الفقار ومحرقهم(500) بناری‏

وقال (علیه السلام): انا الذی اظهرنی الله علی الدین، انا منتقم من الظالمین، انا الذی أری دعوة الامم کلها، انا الذی ارد المنافقین عن حوض رسول الله.

وقال (علیه السلام): انا باب فتح الله لعباده من دخله کان آمنا ومن خرج منه کان کافراً، انا الذی بیده مفاتیح الجنان ومقالید النیران‏

وقال (علیه السلام): انا الذین جهد(505) الجبابره باطفاء نور الله وادحاض حجة فیابی الله الا ان یتم نوره وولایته اعطی الله نبیه نهر الکوثر واعطانی نهر الحیوة، انا مع رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) فی الارض فعرفنی الله من یشاء

وقال (علیه السلام): انا قائم فی ظلمة خضر(508) حیث لا روح یتحرک ولا نفس یتنفس غیری‏

وقال (علیه السلام): انا علم صامت ومحمد علم ناطق‏

وقال (علیه السلام): انا صاحب القرون الاولی، انا جاوزت موسی الکلیم واغرقت فرعون، انا عذاب یوم الظلة

وقال (علیه السلام): انا آیات الله وامین الله، انا احیی وامیت، انا الخلق وارزق، انا السمیع، انا العلیم، انا البصیر، انا الذی اجود السموات السبع والارضین السبع فی طرفة عین، انا الاول وانا الثانی.

وقال (علیه السلام): انا ذوالقرنین هذة الامة.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الناقة التی اخرجها الله لنبیه صالح.

وقال (علیه السلام): انا الذی انفخ (فی الناقور فذلک یومئذ یوم عسیر علی الکافرین غیر یسیر.(519)

وقال (علیه السلام): انا الاسم الاعظم و هو (کهیعص).(520)

وقال (علیه السلام): انا المتکلم علی لسان عیسی (فی المهد صبیاً)(526) انا یوسف الصدیق، انا المتقلب فی الصور.

وقال (علیه السلام): انااالاخرة والاولی، انا أبدی وأعید، انا فرع من فروع الزیتون وقندیل من قنادیل النبوة.

وقال (علیه السلام): انا مظهر کیف الاشیاء.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال العباد لایعزب عنی شی‏ء فی الارض ولافی السماء.

وقال (علیه السلام): انا مصباح الهدی، انا مشکوة الذی فیها نور المصطفی، انا الذی لیس عمل عامل الا به معرفتی.

وقال (علیه السلام): اناخازن(532) السموات وخازن الارض، اناقائم بالقسط، انا عالم بتغیر الزمان وحدثانه، انا الذی

اعلم عدد النمل ووزنها وخفتها ومقدار الجبال ووزنها وعدد قطرات الامطار.

وقال (علیه السلام): انا آیة الکبری التی اراها الله فرعون وعصی.

وقال (علیه السلام): انا اقتل القتلتین احیی مرتین واظهر الاشیاء کیف شئت‏

وقال (علیه السلام): انا الذی رمیت وجه الکفار وبکف تراب فرجعوا هلکی، انا الذی جحدوا ولایتی الف امة فمسخوهم.

وقال (علیه السلام): انا المذکور فی سالف الزمان وخارج وظاهر فی آخرالزمان.

وقال (علیه السلام): انا قاصم فراعنة الاولین ومخرجهم ومعذبهم فی الاخرین، انا معذب الجبت والطاغوت ومحرقهم ومعذبهم یغوث ویعوق ونسراً.

وقال (علیه السلام): انا متکلم بسبعین لساناً ومفتی کل شی‏ء علی سبعین وجهاً، انا الذی اعلم ما یحدث فی اللیل والنهار أمراً بعد امر وشیئاً بعد شی‏ء الی یوم القیمة.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی اثنان وسبعون اسماً من اسماء العظام.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال الخلایق فی مشارق الارض ومغاربها لایخفی علی منهم شی‏ء.

وقال (علیه السلام): انا الکعبة والبیت الحرام والبیت العتیق، انا الذی یملکنی الله شرق الارض وغربها فی طرفة عین ولمح البصر.

وقال (علیه السلام): انا محمد المصطفی، انا علی المرتض کما قال النبی (صلی الله علیه و آله و سلم): علی ظهر منی، انا الممدوح بروح القدس، انا المعنی الذی لایقع علیه اسم ولا شبه.

وقال (علیه السلام): انا اظهر الاشیاء الوجودیة کیف اشاء، انا باب حطتهم(537) التی یدخلون فیها. 

 مختصر ترجمہ۔ ۔۔۔

جناب علی علیہ السلام نے اپنے بعض خطبات میں ارشاد فرمایا ہے میں وہ ہوں جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں بعد رسول میرے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔

میں وہ ذوالقرنین ہوں جس کا ذکر صحف اولی میں ہے ۔

۔میں خاتم سلیمان کا مالک ہوں۔

 میں یوم حساب کا مالک ہوں۔

میں صراط اور میدان حشر کا مالک ہوں۔ 

میں قاسم جنت و نار ہوں۔ 

میں اول آدم ہوں میں اول نوح ہوں۔

میں جبار کی آیت ہوں ۔

میں اسرار کی حقیقت ہوں۔

میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں۔

میں پھلوں کا پکانے والا ہوں۔

میں چشموں کا جاری کرنے والا ہوں۔

 نہروں کو بہانے والا ہوں ۔

میں علم کا خزانہ ہوں ۔

میں حلم کا پہاڑ ہوں۔

میں امیرالمومنین ہوں چشمہ یقین ۔

ہوں میں زمین وآسمان میں حجت خدا ہوں۔

میں متزلزل کرنے والا ہوں میں بجلی کی کڑک ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ نور ہو جس سے موسی علیہ السلام نے ہدایت کا اقتباس کیا ۔۔

صور کا مالک ہوں۔

میں قبروں سے مردوں کو نکال کر زندہ کرنے والا ہوں ۔

میں یوم النشور کا مالک ہوں ۔

میں ایوب بلا رسیدہ کا صاحب اور اس کو شفا دینے والا ہوں۔

آسمانوں کو قائم کرنے والا ہوں ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ حی ہوں جسے موت نہیں۔

میں تمام مخلوقات پر ولی حق ہوں ۔

میں وہ ہوں جس کے سامنے بات نہیں بدل سکتی ۔

مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے ۔

میں وہ ہوں جسے امر مخلوق تفویض کیا گیا    

میں خلیفة اللہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 آگے شیعہ مصنف لکھتا ہے کہ مولیٰ کائنات کا یہ فرمان خلاف قرآن اور اسلام نہیں بلکہ عین اسلام ہے۔

 شیعہ مصنف سید ظہور الحسن خطیب شیعہ ملتان جلاءالعیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 61 ۔60

 خلاصہ روایات 

  میں یوم حساب کا مالک ہوں 

 میرے پاس غیب کی کنجیاں ہیں 

 میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں 

 میں جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والا ہوں 

 میں چشموں کو جاری کرنے والا ہوں 

 میں پھلوں کو پکانے والا ہوں 

 میں نہروں کو بہانے والا ہوں 

 صور کا مالک ہوں 

 میں قبروں سے مردوں کو نکالنے والا ہوں 

 میں نوح کو نجات دینے والا ہوں  

 میں ایوب کو شفا دینے والا ہو 

 ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی آگ کو ٹھنڈا کرنے والا اور نجات دینے والا میں تھا 

 موسی علیہ السلام کو فرعون سے بچاکر تورات پڑھانے والا میں تھا 

 عیسی علیہ السلام کو جھولے میں بات کر آنے والا اور انجیل کی تعلیم دینے والا میں تھا 

 یوسف علیہ والسلام کی مدد کرنے والا میں تھا 

 سلیمان علیہ السلام کے لئے ہواؤں کو مسخر کرنے والا میں تھا 

 میں وہ ہوں جس کے سامنے بات بدل نہیں سکتی 

 میں وہ حی ہوں جس پر موت نہیں

 مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے 

 میں وہ ہوں جس کو امر مخلوق تفویض کیا گیا ہے

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 61 تا 65 

 دوسرے آئمہ کے بارے۔ ۔۔

 ہمارے اللہ کے ساتھ مختلف حالات ہوتے ہیں کبھی ہم اللہ بن جاتے ہیں اور کبھی وہ اللہ اور ہم مخلوق بن جاتے ہیں 

 جلاءالعیون اور مقدمہ ثانی جلد2 صفحہ 67 

 محمد وآل محمد اسباب کے محتاج نہیں بلکہ  اسباب ان کے محتاج ہیں

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 68

 محمد وآل محمد پر نیند طاری ہو سکتی ہے نہ اونگھ 

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 69

 محمد وآل محمد ہر لمحہ ہر گھڑی تمام مخلوق کی آواز کو سنتے ہیں اور ہر ایک کی آواز پہچان کر اس کی مشکل کشائی کرتے ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ جلد 2 صفحہ 69

 محمد و آل محمد عالم الغیب حاجت روا مشکل کشا حاضر ناظر اور اللہ کی حکومت کے وزیراعظم ہے اب جووہ چاہتے ہیں اللہ بھی وہی چاہتا ہے اور ان کا قول اللہ کا قول ہے

 جلاء العیون مقدمہ ثانی جلد 2صفحہ 81 80

 تمام انبیاء نے مصائب و مشکلات میں جس رب کو پکارا وہ علی علیہ السلام ہے   

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 66 مقدمہ ثانی 

 ان حضرات پر ارضی و سماوی حالات اس طرح ظاہر ہیں جس طرح ہاتھ کی ہتھیلی

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 دنیا کو نعمتوں کو تقسیم کرنے والے اور آخرت میں بہشت و دوزخ بانٹنے والے یہی حضرات ہیں 

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 یہ حضرات ماں کے پیٹ میں ہی اتنے ہی عالم و عارف تھے جتنے بلوغت کے بعد 

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 یہ حضرات خالق کائنات کے طرح بے مثل و بے نظیر ہیں 

 چودہ ستارے صفحہ 2 

 یہ حضرات اللہ تعالی کے سوا ہر چیز پر متصرف غالب حاکم ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ اول جلد 2 صفحہ 29 

 جناب عالی کے نورانی قطرات سے انبیاء و ملائکہ پیدا کیے گئے ہیں اس لئے علی ان کا رب ہے  

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 26 27 

 آئمہ حضرات جمیع انبیاء و ملائکہ سے افضل ہیں اور انبیاء و ملائکہ کے رب ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ اول جلد 2 صفحہ 24 

 محمد و آل محمد کو موت نہیں فنا نہیں اب ایمان والوں کے یہی مددگار ہیں اب اللہ بھی نگہبان نہیں ہے 

 جلاءالعیون مقدمہ آسان جلد 2 صفحہ 87 86

  عقیدہ :اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتاہے ۔(معاذ اللہ 

 اصولِ کافی جلد 1 صفحه نمبر 328 یعقوب کلینی 

 تمام روئے زمین کے مالک امام ہیں 

 اصول کافی جلد 1 صفحه 503 باب 104 

 ائمہ وہ تمام علوم جانتے ہیں جو ملائکہ انبیاء و مرسلین کو ملے ہیں 

 اصول کافی جلد 1 صفحه 292 باب42 کتاب الحجۃ 

 یہ چودہ انوار نورانیت کے لحاظ سے آپس میں ذرہ برابر کمی و بیشی نہیں رکھتے ہیں جو جو معجزات تمام انبیاء میں بحالت انفرادی موجود تھے ان میں سے ہر ایک میں مجموعی حالت میں موجود ہیں۔ 

 ان سے بحالت بیداری یا حالت خواب بھول چوک کا سرزد ہونا ناممکن ہے 

 کلید مناظرہ صفحہ 13 14

 أولنا محمد وآخرنا محمد وأوسطنا محمد کلنا محمد 

 ہم سب کے سب محمد ہیں 

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 69

 یہ ہمارے مذہب کے ضروریات میں سے ہے دنیا کا کوئی بھی فرد ائمہ کے مقامات روحانی و معنوی تک نہیں پہنچ سکتا ہے یہاں تک کہ ملک مقرب و نبی مرسل بھی نہیں پہنچ سکتے 

 حکومت اسلامی از امام خمینی اردو صفحہ 55 

 تبصرہ۔ ۔

ان تمام عبارات کو ہم نے شیعوں کی معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ مذہب میں نبوت اور رسالت کا درجہ کم تر اور امامت ولایت کا درجہ اس سے بالاتر ہے۔

ایک طرف تو شیعہ مصنفین نے نبوت اور رسالت سے امامت و ولایت کا درجہ بالاتر کہہ کر اپنے بارہ اماموں میں ایسی صفات کا عقیدہ رکھا جو خالص اللہ کی صفات تھی اور صاف لفظوں میں کہہ بھی دیا کہ ائمہ حضرات کبھی کبھی اللہ بن جاتے ہیں اور نبوت کا کمتر ہونا اور امامت کا بالاتر ہونا اس طرح بھی ثابت کیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مصائب و مشکلات میں تمام انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کے مددگار تھے کیونکہ وہ حضرت علی اللہ تعالی عنہ  اور دوسرے گیارہ اماموں کو امام مانتے ہیں اور اپنے کلمے میں اور اذان میں علی ولی اللہ ملا کر بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے نزدیک حضرت علی ہی ولی اللہ ہیں یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ امامت اور ولایت کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے تمام انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام سے اعلی تر اور بالاتر ہیں اس لئے انبیاء علیہ السلام نے بھی مشکلات میں رب کہہ کر علی کو ہی پکارا اور علی رضی اللہ عنہ نے ہی ان کو مصائب و مشکلات سے نجات عطا کی ایک طرف شیعہ مصنفین نے اپنے اماموں کو تمام انبیاء سے افضل اور اعلی تر ہونے کا عقیدہ رکھا لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ اگر اس طرح آئمہ حضرات کو تمام انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام ومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اپنے اماموں کو کھلم کھلا بالاتر کہیں گے تو لوگ بھی انہیں کھلم کھلا کافر کہنے میں کوئی تاخیر نہیں کریں گےتو انہوں نے بمجبوری ہی صحیح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اماموں کے ساتھ ملا کر جوجو الوہیت کی صفتیں اپنے اماموں میں ذکر کی تھی اب ان کے ساتھ محمد کا لفظ ملاکر محمد و آل محمد کا جملہ بنا کر عوام کے سامنے عام کر دیا ورنہ انہوں نے بہت سارے مقامات پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اپنے اماموں کو یا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بالاتر ذکر کیا ہے 

 مثلا شیعوں کا مشہور مفسر مقبول احمد دہلوی اصول کافی اور تفسیرعیاشی کے حوالے سے امام محمد باقر سے نقل کر کے لکھتا ہے کہ جس وقت 

 یوم ندعوا کل اناس بامامهم۔ ۔۔۔

 بنی اسرائیل آیت نمبر 71   

آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کل آدمیوں کے امام نہیں ہیں فرمایا میں تمام آدمیوں کی طرف خدا کا رسول ہوں لیکن عنقریب میرے بعد خدا کی طرف سے میرے اہل بیت میں سے کل آدمیوں کے لیے امام مقرر کیے جائیں گے 

 ترجمہ مقبول آیت مذکورہ کی تفسیر میں 

اس روایت میں شیعہ مصنفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امام ہونے کا انکار نقل کیا ہے اور ان کے نزدیک رسول اللہ سے امام افضل ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے حیاۃالقلوب اور جلاءالعیون سے نقل کیا ہے لہذا شیعوں کے نزدیک امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے بارہ اماموں سے کمتر ہوں گے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نزدیک رسول ہیں امام نہیں 

 ایک اور توہین 

شیعوں کے مشہور مفسر مقبول احمد دہلوی نے تفسیر عیاشی سے ایک روایت نقل کی ہے کہ زید ابن ارقم سے روایت ہے کہ عرفہ کی شام روح الامین جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ولایت علی کا حکم لے کر نازل ہوئے اور جناب رسول خدا نے منافقوں کے خوف سے اس حکم کے پہنچانے میں مظاہرہ کیا گھبراہٹ محسوس کی اور کچھ لوگوں کو بلاکر مشورہ کیا کہ آیا حج میں یہ احکام سنائے جائیں یا نہیں راوی کہتا ہے کہ ہماری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ جواب دیں تو جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے گریہ فرمایا جبرائیل امین نے عرض کیا یارسول اللہ آپ امر خدا کے پہنچانے سے دل تنگ ہوتے ہیں حضرت نے فرمایا یہ بات نہیں ہے بلکہ میرا پروردگار جانتا ہے کہ قریش کے ہاتھوں سے کتنی اذیتیں پہنچیں ہیں۔۔۔۔۔پھر وہ میرے علی کی ولایت کا اقرار کیوں کر لیں گے یہ سن کر جبریل امین چلے گئے اس کے بعد پروردگارعالم نے  فلعلک تارک۔۔۔۔۔۔نازل فرمائی یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس کے کسی حصے کو چھوڑ دو اور تمہارا دل اس سے تنگ ہو

 ترجمہ مقبول سوره هود کی آیت نمبر 12 کی تفسیر 

اس روایت میں شیعہ مصنفین نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہوئے کہانی بنائی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم توحید باری تعالی اور اپنی رسالت کا پیغام پہنچانے میں نہ کبھی گھبرائے نہ کسی کا خوف کیا اور نہ ہی کبھی دل تنگ ہو کرکبھی رونے کی نوبت آئی بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ کرکے تمام مخالفتوں کے باوجود استقامت سے حق کا پیغام پہنچاتے رہے حتیٰ کے جہاد بھی کیا اور ہزارہا تکلیف برداشت کرکے اللہ تعالی کا ہر قسم کا پیغام صرف پہنچایا نہیں بلکہ پیغام پہنچانے کا حق ادا کر دیا آپ کی استقامت کی وجہ سےایساانقلاب آیا کہ آج تک اس کو کوئی روک نہیں سکا بلکہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے لیکن باوجود اس حقیقت کے شیعہ مصنفین کہہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب حضرت علی کی ولایت کا حکم نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل تنگ ہوکر گھبراتے ہوئے رو رو کر کہہ رہے ہیں کہ جبریل میرا پروردگار جانتا ہے کہ قریش کے ہاتھوں مجھے کتنی اذیتیں پہنچی ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ میں نے کتنی تکلیف برداشت کی ہیں پھر بھی اللہ مجھے تکلیفوں میں ڈال رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر رو رہے تھے درحقیقت ایسا نظریہ کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا شیعہ مصنفین کو مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرتبت اور منزلت کو کم کرنا مقصود تھا اس لئے انہوں نے من گھڑت روایات سے آپ کی توہین کی ہے جو کھلا کفر ہے 

 آیت کی تفسیرو ترجمہ 

جو چیز تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی جاتی ہے ان میں سے بعض کو شاید آپ اس خیال سے چھوڑ دیں یا آپ کے دل پر کوئی تنگی ہو کہ مخالف یہ کہیں گے کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل کیا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہو اور اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے 

 سوره هود آیه 12 

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قسم کی تسلی دے کر پیغام پہنچانے کا شوق دلایا اور فرمایا کہ مخالفین کی ایسی باتوں سے کہ اس کے پاس خزانے نہیں یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ نہیں شاید آپ کا دل تنگ ہو ایسی باتوں سے اور اس وجہ سے آپ کوئی حکم پہنچانے سے ترک کردیں لہذا آپ ان کی پرواہ تک نہ کریں آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں دوسری آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے 

آیت میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی حکم کے پہنچانے میں دلتنگ ہوئے یارو رہے تھے یا گھبراگئے یہ ساری باتیں شیعہ مصنفین نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں ۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں شک ہوا شیعہ مصنف نے تفسیر قمی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج آسمان پر تشریف لے گئے تو خدا تعالی نے علی بن ابی طالب کی فضیلت میں وحی فرمائی اور شرف اور بزرگی آنحضرات کی ظاہر کی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپسی میں بیت المعمور پہنچے تو وہاں اللہ تعالی نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر تمام انبیاء علیہ السلام کو جمع کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جماعت پڑھنے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اس وحی کی بابت جو علی کے بارے میں نازل ہوئی کچھ خیال گزرا اس پر خدا تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی 

 فان کنت فی شک مما انزل الیک۔ ۔۔۔۔۔

 ترجمہ۔ ۔پس جو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اگر اس کے بارے میں تم کو کچھ کہوں تو جو لوگ تم سے پہلے کتاب پڑھا کرتے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھو تحقیق تمہارے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے حق آیا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں اور اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں میں سے نہ ہوجاؤ ورنہ تم بھی نقصان والوں میں سے ہو جاؤ گے 

 ترجمہ مقبول  سوره یونس آیت 94 95 

اس من گھڑت روایت میں شیعہ مصنف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر حسد کے طور پر شک کرنے کی تہمت لگائی ہے مثلا پہلے لکھا ہے کہ آسمانوں پر جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی فرمائی گئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی شک و شبہ پیدانہیں ہوا لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی اور آپ کو امام الانبیاء ہونے کا شرف حاصل ہوا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں شک کرنے لگے تو ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی کی فضیلت پر شک کرنا حسد کی وجہ سے تھا کہ امام الانبیاء ہونے میں تو میں منفرد ہوں اس لیے میری فضیلت سب پر ہونی چاہیےشیعہ مفسر نے آگے لکھا ہے کہ ابن شہر آشوب نے اس آیت کی تفسیر میں جناب امام محمد باقر سے روایت کی ہے  ۔۔۔۔۔۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان انبیاء سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی خدا نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور علی امیرالمومنین ہیں اور کتاب اربعین خطیب میں ہے کہ آپ کے پوچھنے پر انبیاء نے جواب دیا کہ ہم سب آپ کی رسالت اور علی کی ولایت پر مبعوث ہوئے 

 ضمیمہ مقبول سورہ یونس کی آیت نمبر 95 کی تفسیر 

اس روایت میں شیعہ مصنف نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کو وحی الہی میں شک کرنے والا بتا کر انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام سے پوچھنا ذکر کیا ہے اور ان کا جواب دینا کہ ہم آپ کے رسالت اور علی کی ولایت کے اقرار پر مبعوث ہوئے ہیں لہذا آپ شک نہ کریں اور اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ شیعہ مذہب میں ولایت کا درجہ رسالت سے فوق یعنی اوپر ہے 

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ-17 

ان عبارتوں میں شیعہ مصنفین امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلم کھلا توہین کر کے صریح کفر کیا ہےکوئی مسلمان آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی الہی میں شک کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا 

 آیت کا صحیح مطلب 

اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ سے پہلے بنی اسرائیل کے علماء کے اختلاف کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اور ان میں سے جوعلماء غلط طریقہ پر ہوں گے اللہ ان کو سزا دے گا اور اس کے بعد فرمایا کہ میرے محبوب اگر بالفرض والمحال آپ بھی وحی الہی کے بارے میں کچھ شک کریں تو پھر جو لوگ آپ سے پہلے کتاب یعنی تورات انجیل اور زبور پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو کیوں کے آپ کی نبوت کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے 

 مثلهم فی التورات وفی الانجیل۔۔۔۔۔۔  ۔

یقینا آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے ہٹایا ہے تو تم جس طرح پہلے شک نہیں کرتے تھے آئندہ بھی ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا اور ان لوگوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے اللہ تعالی کی آیت کو جھٹلایا ورنہ تم بھی نقصان والوں میں سے ہو جاؤ گے        

اس آیت کریمہ میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ رسول اللہ نے وحی الہی میں شک کیا تھا اور اس شک کی بناپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اہل کتاب سے پوچھا تھا یہ ہرگز نہیں ہے درحقیقت ان آیات میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن سنانا دوسروں کو مقصود ہے جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے کہ اے میرے محبوب تیرے رب کا فیصلہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر میں آپ کے پاس موجود ہوں  فلاتقل لھمااف۔ ۔۔۔تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا  وقل لھماقولاکریما۔ ۔اور ان کے ساتھ ادب سے بات کرنا بنی اسرائیل آیت 23 

اس طرح اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے خطاب ہے کہ آپ والدین میں سے کسی کو اف تک نہ کہنا وغیرہ لیکن نصیحت کرنا دوسروں کو مقصود ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین نزول آیت کے وقت دنیا میں موجود ہی نہیں تھے تو اسی طرح سورہ یونس کی آیت نمبر 94 95 میں بھی اگرچہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن نصیحت کرنا اہل کتاب کو مقصود تھی کے اگر وہ آپ کی نبوت میں شک کرتے ہیں تو اہل کتاب کے علماء سے پوچھ لیں اور وہ اللہ کی آیات کو جھٹلائیں گے تو خود ہی خسارہ والوں میں ہو جائیں گے ۔لہذا اس آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب نہیں ہے اس لیے مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے شک ہے اور نہ ہی کسی سے پوچھوں گا لہذا رسول اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی منزل من اللہ چیز پر ذرہ برابر بھی شک نہیں تھا اور اس کی تصدیق خود اللہ نے فرمائی 

  آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (285)

 یعنی جو چیز رب تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس پر رسول اللہ نے ایمان رکھا اور مومنین نے بھی اس کو مان لیا 

 مقام نبوت کی ایک اور توہین 

 فرائد السمطین میں بسند امام جعفر صادق اور امام صادق نے مسند علی بن حسین روایت کی ہے کہ ہم ہیں مسلمانوں کے امام اور اہل جہاں پر حجت ہائے خدا اور مومنوں کے سردار اور نورانی پیشانیوں اور نورانی ہاتھوں اور نورانی پاؤں انبیاء اوصیاء کے سردار 

 ۔کلید مناظرہ صفحہ 74 

 حضرت علی  علیہ السلام کی منقبت احاطہ تقریروتحریر سے باہر ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء اور ملائکہ کا آپ کے آستانہ عالیہ کے ادنیٰ غلام ہیں ۔نعوذباللہ۔ 

 کلید مناظرہ صفحہ 35 

 خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے امام سے کمتر سمجھنا 

 چوں قائم ماظاہر شواد اول کسے کہ۔ ۔۔۔بیعت کندمحمدباشدوبعدازاں آں علی۔ 

 ترجمہ۔ جب قائم آل محمد غار سے باہر آئے گا تو اللہ تعالی فرشتوں سے اس کی مدد کرے گا اور سب سے اول اس کی بیعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی 

 حق الیقین فارسی صفحه 347 در اثبات رجعت 

 چون قائم آل محمد بیرون آید ۔۔۔۔۔خدا اورا یاوری  کند ملائکه واول کسے کہ باوبیعت کند محمدباشدوبعدازاں علی 

 توہین نبوت میں ایک اور غلاظت

 شیعہ مصنفین ایک من گھڑت روایت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے متعہ کے درجات ذکر کئے ہیں 

 من تمتع مرِة فدرجةکدرجة الحسین و۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ترجمہ۔۔جس نے ایک بار متعہ کیا اس کا درجہ حسین کے درجے کی مثال ہے اور جس نے دو مرتبہ متعہ کیا اس کا درجہ حسن کے درجے کی مثل ہے جس نے تین مرتبہ متعہ کیا اس کا درجہ علی رضی اللہ عنہ کے درجے کی مثال ہے اور جس نے چار مرتبہ متعہ کیا اس کا درجہ میرے (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )درجے کی مثل ہے

 تفسیر منہج الصادقین جلد 2 صفہ نمبر 493 سورۃ النساء کی آیت 24 

 برہان المتعہ صفحہ نمبر 52 

 تجلیات صداقت 

 نوٹ۔ 

شیعہ مصنفین نے مقام نبوت کی توہین کرتے ہوئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سید الاولین والآخرین خاتم الانبیا المعصومین امام الانبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کو ایک روایت میں اپنے بارے میں امام مہدی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا لکھ کر مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے جبکہ دوسری روایت میں انہوں نے خلیفہ راشد صحابی رسول سیدنا علی المرتضی کی توہین اور نوجوان جنتیوں کے سردار حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کی توہین کر کے پھر مقام نبوت پر حملہ کرتے ہوئے چار بار متعہ کرنے والے کو مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجے تک پہنچا دیا

ایسے مذہب کو کون مسلمان اسلام سمجھ سکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ سراسر کفر ہے 

شیعہ مصنفین اپنے آپ کو کفر سے بچانے کے لیے کبھی کہتے ہیں کہ ہمارے بارہ امام تمام انبیاء علیہ السلام سے افضل ہیں سواء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارےمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل نہیں بلکہ شان مان مرتبہ عزت عظمت علم المعجزات وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہیں اس لیے انہوں نے  اولنا محمد آخرنا محمد واسطنا محمد کلنا محمد ایک من گھڑت روایت بھی بنا کر اپنے آپ کو مطمئن کر دیا لیکن جب اس پر بھی گرفت ہوئی کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایک شخص بھی نبوت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا توشیعہ کے بارہ امام امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ اور عظمت تک کیسے پہنچ سکتے لہذا شیعوں کا عقیدہ بھی کفر ہے اور مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال مرتبت کو کم کرنے کی ایک سازش ہے توشیعہ مصنفین نے کفر سے بچنے کے لیے یہ کہا کہ ہم اپنے بارہ اماموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شریک نہیں کرتے باقی تمام کمالات اور فضائل میں وہ محمد مصطفی کے برابر ہیں کیونکہ محمد مصطفی کریم پر نبوت ختم ہے اس لیے ہم اپنے اماموں کو مقام نبوت کے علاوہ باقی کمالات میں برابر سمجھتے ہیں درحقیقت یہ ان کا مذکورہ جواب بالکل بالکل فضول ہے کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور فضائل کو نبوت سے جدا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مقام نبوت کی وجہ سے ہی تمام فضائل میں کمال آ جاتا ہے اگر آپ صلی اللہ وسلم کی نبوت کا کوئی انکار کرے اور باقی فضائل کو ماننے کا دعوی کرے تو وہ شخص آپ کے فضائل کو کامل اور مکمل طور پر ہرگز نہیں مان سکتا کیوں کہ تمام فضائل میں کمال مقام نبوت کی وجہ سے ہے لہذا شیعوں کا یہ کہنا کہ ہم مقام نبوت کے علاوہ باقی فضائل و کمالات میں اپنے اماموں پر رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے برابر سمجھتے ہیں یہ سراسر اپنے آپ کو دھوکا ہے اور دوسری بات یہ کہ بعض شیعہ مصنفین نے خود تسلیم کیا ہے واقعاتا مقام نبوت سے فضائل و کمالات جدہ نہیں ہوسکتے اس لیے اپنے بارہ اماموں میں جب تک مقام نبوت کا عقیدہ نہیں رکھیں گے تب تک وہ فضائل اور کمالات میں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر نہیں ہو سکتے اور کلنا محمد کا عقیدہ برقرار نہیں رہ سکتا 

لہذا انہوں نے دبے لفظوں میں ہی سہی لیکن اس بات کو ظاہر کیا کہ ہمارے اماموں کی امامت بھی دراصل نبوت ہے 

 رویت۔ ۔۔

ملا باقر مجلسی لکھتا ہے ۔۔

 ۔۔بیان استناط الفرق بین النبی والامام من تلک الاخبارلایخلومن اشکال وکذاالجمیع بینھامشکل جدا۔ ۔۔۔۔۔۔۔

 بحارالانوار کتاب الامامۃ جلد 26 صفحہ نمبر 86 روایت نمبر 45 

 ۔ترجمہ۔ ان احادیث سے نبی اور امام کے درمیان فرق کا استنباط کرنا مشکل ہے اور اسی طرح دو روایتوں کے درمیان جمع کرنا بھی نہایت مشکل ہے ۔۔۔۔مختصر یہ کہ یہ یقین تو لازم ہے کہ امام نبی نہیں ہوتے اور یہ بھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر تمام انبیاء و اولیاء سے اشرف افضل ہیں ۔۔۔۔۔اور ہمیں ان کے موصوف بھ نبوہ نہ ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ خاتم الانبیاء علیہ السلاۃ وسلام کی جلالت کی رعایت ہو اور ہماری عقلوں کو نبوت اور امامت کے درمیان واضح فرق تک رسائی نہیں ہوسکتی اخبار سےجو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ تم جانتے ہی ہو 

 روایت۔ ۔اور حق یہ ہے کہ تمام کمالات صفات اور شرائط میں نبی اور امام میں کوئی فرق نہیں ہے سوا اس فرق کے جو حدیثوں میں فرق آیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ خاتم النبین ہیں اس لئے آپ کی تعظیم کی وجہ سے امام کو نبی کہنے سے منع ہے 

 حیات القلوب فارسی جلد 3 صفحہ نمبر 3 

 طبقات انبیاء و رسل و آئمہ

فرمایا امام جعفر صادق نے کہ انبیاء و مرسلین کے چارطبقے ہیں

 ۔  محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن أبي يحيى الواسطي، عن هشام بن سالم،

ودرست بن أبي منصور، عنه قال: قال أبو عبد الله عليه السلام: الأنبياء والمرسلون على أربع

طبقات: فنبي منبأ في نفسه لا يعدو غيرها، ونبي يرى في النوم ويسمع الصوت

ولا يعاينه في اليقظة، ولم يبعث إلى أحد وعليه إمام مثل ما كان إبراهيم على لوط عليهما السلام، ونبي

يرى في منامه ويسمع الصوت ويعاين الملك، وقد ارسل إلى طائفة قلوا أو كثروا، كيونس

قال الله ليونس: " وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون (١) " قال: يزيدون: ثلاثين ألفا

وعليه إمام، والذي يرى في نومه ويسمع الصوت ويعاين في اليقظة وهو إمام مثل

اولي العزم وقد كان إبراهيم عليه السلام نبيا وليس بإمام حتى قال الله: " إني جاعلك للناس

إماما قال: ومن ذريتي فقال الله: لا ينال عهدي الظالمين " من عبد صنما أو وثنا لا يكون إماما.

ترجمہ۔ ایک نبی وہ ہے جو خواب میں فرشتوں کو دیکھتا ہے اس کی آواز سنتا ہے اور جاگتے میں کسی کو نہیں دیکھتا اور وہ کسی کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا ہوتا بلکہ اس کا ایک امام ہوتا ہے 

 الکافی کتاب الحج باب نمبر 2 جلد 1 صفحہ 175

 شیعہ مصنفین اپنی اماموں کو اس طرح کا نبی سمجھتے ہیں ان کے نزدیک نبی اور امام میں یہی فرق ہے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا 

ونبي يرى في منامه ويسمع الصوت ويعاين الملك قلت:الامام ما منزلته؟ قال: يسمع الصوت ولا يرى ولا يعاين الملك

 ترجمہ۔نبی وہ ہے جو فرشتے کو خواب میں دیکھتا ہے اس کی آواز سنتا ہے لیکن ظاہر بظاہر حالت بیداری میں نہیں دیکھتا اور رسول وہ ہے جو آواز بھی سنتا ہے خواب میں بھی دیکھتا ہے اور ظاہر میں بھی  راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا امام کی منزل کیا ہے فرمایا وہ فرشتے کی آواز سنتا ہے مگر دیکھتا نہیں 

 الکافی کتاب الحجۃ باب 3جلد۔ 1ص ،176

 دوسری روایت میں ہے 

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن إسماعيل بن مرار قال: كتب الحسن بنالعباس المعروفي إلى الرضا عليه السلام: جعلت فداك أخبرني ما الفرق بين الرسول والنبي والامام؟ قال: فكتب أو قال: الفرق بين الرسول والنبي والامام أن الرسول الذي ينزل عليه جبرئيل فيراه ويسمع كلامه وينزل عليه الوحي وربما رأى في منامه نحو رؤيا إبراهيم عليه السلام، والنبي ربما سمع الكلام وربما رأى الشخص ولم يسمع والامام هو الذي يسمع الكلام ولا يرى الشخص.

 ترجمہ۔ حسن بن عباس معروفی نے امام رضا کو لکھا کہ آپ پر فدا ہوں کیا فرق ہے رسول و نبی و امام میں ؟آپ نے جواب میں فرمایا رسول وہ ہے جس پر جبرائیل نازل ہو اور ان کا کلام سنیے اور اس پر وحی نازل ہو اور کبھی خواب میں بھی دیکھے جیسے ابراہیم کا خواب اور نبی وہ ہے کہ کبھی کبھار کلام سنتا ہے اور کبھی فرشتے کے وجود کو دیکھتا ہے اور امام وہ ہے جو کلام سنتا ہے اور فرشتے کے وجود کو نہیں دیکھتا 

 الکافی کتاب الحجۃ باب نمبر 3 جلد 1 صفحہ 177 

 تبصرہ

شیعہ مصنفین اپنے بارہ ائمہ حضرات کو اس طرح کا نبی سمجھتے ہیں اور ملاباقرمجلسی نے جو حیاۃالقلوب میں لکھا ہے کہ نبی اور امام میں کوئی فرق نہیں ۔اور حق یہ ہے کہ تمام کمالات صفات اور شرائط میں نبی اور امام میں کوئی فرق نہیں ہے سوا اس فرق کے جو حدیثوں میں فرق آیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ خاتم النبین ہیں اس لئے آپ کی تعظیم کی وجہ سے امام کو نبی کہنے سے منع ہے 

 حیات القلوب فارسی جلد 3 صفحہ نمبر 3 

 نوٹ 

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ مصنفین کے نزدیک امام اور نبی میں چولی دامن کا تعلق ہے ان کے نزدیک امام بھی نبی ہیں ہے وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی وجہ سے اپنے اماموں کو نبی نہیں کہتے  ہیں باقی ان کو نبی سمجھتے ضرور ہیں اور نبی نہ کہنے کی وجہ بھی خود بتائیں کہ اگر اماموں کو نبی کہیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا لحاظ نہیں رہے گا ورنہ امام کو نبی ہی سمجھتے ہیں۔

 شیعوں کے خاتم المحدثین ملاباقرمجلسی نے ڈرتے ڈرتے بالآخر کہہ بھی دیا کہ امامت حقیقت میں نبوت ہے 

 ترک لفظ اطیوا یا رسول اولی الامرمستعر است بایں کہ مرتبہ امامت نزیر مرتبہ نبوت است۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

 ترجمہ لفظ اطیعوا کو رسول اور الامر کے درمیان سے ترک کرنا اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولوالامر منکم یہ اس بات  کی خبر دیتا ہے کہ مرتبہ امامت مرتبہ نبوت کے برابر اس کے مثل ہے چناچہ نبوت اللہ تعالی کی طرف سے فرشتے کی وساطت سے مقرر کی جاتی ہے امامت بھی نبوت کی ہی  حقیقت ہے جو خدا کی طرف سے نبی کی وساطت سے مقرر کی جاتی ہے 

 حیات القلوب فارسی جلد 3 فصل نہم صفحہ 81 

یہی سبب ہے یعنی شیعہ مذہب میں نبوت اور امامت ایک ہی چیز ہے اس لئے جس نے کسی امام کی امامت کا انکار کیا وہ شیعوں کے نزدیک کسی نبی کی نبوت کے انکار کرنے کی طرح کافر ہے جیسا کہ شیعوں کے ثقةالاسلام علامہ محمد بن یعقوب کلینی نے لکھا ہے ۔

 علي بن إبراهيم، عن صالح بن السندي، عن جعفر بن بشير، عن أبي سلمةعن أبي عبد الله عليه السلام قال: سمعته يقول: نحن الذين فرض الله طاعتنا، لا يسع الناسإلا معرفتنا ولا يعذر الناس بجهالتنا، من عرفنا كان مؤمنا، ومن أنكرنا كان كافرا،ومن لم يعرفنا ولم ينكرنا كان ضالا حتى يرجع إلى الهدى الذي افترض الله عليهمن طاعتنا الواجبة فإن يمت على ضلالته يفعل الله به ما يشاء.

 ترجمہ۔ ہم وہ ہیں جو اللہ نے ہماری اطاعت فرض کی ہے لوگوں کو ہماری معرفت کے سوا کوئی چارہ نہیں اور ہم سے جاھل رہے گا کوئی تو عذر قابل قبول نہیں ہو گا جس نے ہم کو پہچانا وہ مومن ہے اور جس نے انکار کیا وہ کافر ہے اور جس نے نہ پہچانا نہ انکار کیا وہ گمراہ ہے جب تک وہ اس ہدایت کی طرف نہ لوٹے جسے اللہ نے ہماری اطاعتکی صورت میں فرض کیا ہےپس اگر وہ اسی گمراہی کی حالت میں مرگیا تو اللہ جو چاہے گا وہ دے گا 

 روایت۔  راوی کہتا ہے میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے کہا کہ میں اپنا عقیدہ آپ کے سامنے پیش کرو فرمایا بیان کرو میں نے کہا 

اشہد الا الہ اللہ الا شریک لہ واشہد ان محمد عبدہ ورسولہ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وحدہٗ لاشریک ہے وہ اور محمد اس کے عبد اور رسول ہیں اور میں اقرار کرتا ہوں ان تمام باتوں کا جو وہ خدا کی طرف سے لے کر آئے اور یہ کہ علی امام ہیں اللہ نے ان کی اطاعت فرض کی ہے ان کے بعد حضرت حسین اور ان کے بعد علی بن حسین اور ان کے بعد آپ امام ہیں اور ان سب کی اطاعت اللہ نے فرض کی ہے حضرت نے فرمایا یہی اللہ اور اس کے ملائکہ کا دین ہے 

 الکافی کتاب الحجۃ باب 8 صفحہ جلد 1 صفحہ 200

 ایمانیات میں بتایا گیا ہے کہ شیعہ مذہب میں جن کو بارہ ائمہ معصومین کہا جاتا ہے ان پر بھی نبوت کی طرح ایمان لانا لازمی ہے اور ان کی امامت کو نبوت کے نظیر اور مصر نہ ماننے والا شیعوں کے نزدیک کافر ہے 

 خلاصہ روایات 

  میں یوم حساب کا مالک ہوں 

 میرے پاس غیب کی کنجیاں ہیں 

 میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں 

 میں جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والا ہوں 

 میں چشموں کو جاری کرنے والا ہوں 

 میں پھلوں کو پکانے والا ہوں 

 میں نہروں کو بہانے والا ہوں 

 صور کا مالک ہوں 

 میں قبروں سے مردوں کو نکالنے والا ہوں 

 میں نوح کو نجات دینے والا ہوں  

 میں ایوب کو شفا دینے والا ہو 

 ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی آگ کو ٹھنڈا کرنے والا اور نجات دینے والا میں تھا 

 موسی علیہ السلام کو فرعون سے بچاکر تورات پڑھانے والا میں تھا 

 عیسی علیہ السلام کو جھولے میں بات کروانے والا اور انجیل کی تعلیم دینے والا میں تھا 

 یوسف علیہ والسلام کی مدد کرنے والا میں تھا 

 سلیمان علیہ السلام کے لئے ہواؤں کو مسخر کرنے والا میں تھا 

 میں وہ ہوں جس کے سامنے بات بدل نہیں سکتی 

 میں وہ حی ہوں جس پر موت نہیں

 مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے 

 میں وہ ہوں جس کو امر مخلوق تفویض کیا گیا ہے

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 61 تا 65 

 دوسرے آئمہ کے بارے۔ ۔۔

 ہمارے اللہ کے ساتھ مختلف حالات ہوتے ہیں کبھی ہم اللہ بن جاتے ہیں اور کبھی وہ اللہ اور ہم مخلوق بن جاتے ہیں 

 جلال اور مقدمہ ثانی جلد2 صفحہ 67 

 محمد وآل محمد اسباب کے محتاج نہیں بلکہ  اسباب ان کے محتاج ہیں

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 68

 محمد وآل محمد پر نیند طاری ہو سکتی ہے نہ اونگھ 

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 69

 محمد وآل محمد ہر لمحہ ہر گھڑی تمام مخلوق کی آواز کو سنتے ہیں اور ہر ایک کی آواز پہچان کر اس کی مشکل کشائی کرتے ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ جلد 2 صفحہ 69

 محمد و آل محمد عالم الغیب حاجت روا مشکل کشا حاضر ناظر اور اللہ کی حکومت کے وزیراعظم ہے اب جووہ چاہتے ہیں اللہ بھی وہی چاہتا ہے اور ان کا قول اللہ کا قول ہے

 جلاء العیون مقدمہ ثانی جلد 2صفحہ 81 80

 تمام انبیاء نے مصائب و مشکلات میں جس رب کو پکارا وہ علی علیہ السلام ہے   

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 66 مقدمہ ثانی 

 ان حضرات پر ارضی و سماوی حالات اس طرح ظاہر ہیں جس طرح ہاتھ کی ہتھیلی

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 دنیا کو نعمتوں کو تقسیم کرنے والے اور آخرت میں بہشت و دوزخ بانٹنے والے یہی حضرات ہیں 

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 یہ حضرات ماں کے پیٹ میں ہی اتنے ہی عالم و عارف تھے جتنے بلوغت کے بعد 

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 یہ حضرات خالق کائنات کے طرح بے مثل و بے نظیر ہیں 

 چودہ ستارے صفحہ 2 

 یہ حضرات اللہ تعالی کے سوا ہر چیز پر متصرف غالب وحاکم ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ اول جلد 2 صفحہ 29 

 جناب علی کے نورانی قطرات سے انبیاؤں ملائکہ پیدا کیے گئے ہیں اس لئے علی ان کا رب ہے  

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 26 27 

 آئمہ حضرات جمیع انبیاءوملائکہ سے افضل ہیں اور انبیاء و ملائکہ کے رب ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ اول جلد 2 صفحہ 24 

 محمد و آل محمد کو موت نہیں فنا نہیں اب ایمان والوں کے یہی مددگار ہیں اب اللہ بھی نگہبان نہیں ہے 

 جلاءالعیون مقدمہ آسان جلد 2 صفحہ 87 86

  عقیدہ :اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتاہے ۔(معاذ اللہ 

 اصولِ کافی جلد 1صفحہ نمبر 328یعقوب کلینی 

 تمام روئے زمین کے مالک امام ہیں 

 اصول کافی جلد 1 صفحہ 503 باب 104 

 ائمہ وہ تمام علوم جانتے ہیں جو ملائکہ انبیاء و مرسلین کو ملے ہیں 

 اصول کافی جلد 1 صفحہ 292 باب42 کتاب الحجۃ 

 یہ چودہ انوار نورانیت کے لحاظ سے آپس میں ذرہ برابر کمی و بیشی نہیں رکھتے ہیں جو جو معجزات تمام انبیاء میں بحالت انفرادی موجود تھے ان میں سے ہر ایک میں مجموعی حالت میں موجود ہیں۔ 

 ان سے بحالت بیداری اب حالت خواب بھول چوک کا سرزد ہونا ناممکن ہے 

 کلید مناظرہ صفحہ 13 14

 اولنا محمد وآخرنا محمد واسطنا محمد کلنا محمد 

 ہم سب کے سب محمد ہیں 

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 69

 یہ ہمارے مذہب کے ضروریات میں سے ہے دنیا کا کوئی بھی فرد ائمہ کے مقامات روحانی و معنوی تک نہیں پہنچ سکتا ہے یہاں تک کہ ملک مقرب و نبی مرسل بھی نہیں پہنچ سکتے 

 حکومت اسلامی از امام خمینی اردو صفحہ 55 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں امام نہیں 

 ترجمہ مقبول سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 کی تفسیر میں 

 علی کی ولایت کا حکم نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراگئے تنگدل ہوئے اور روروکر جبرائیل سے کہنے لگے کہ میں نے بہت ساری تکلیف برداشت کی ہیں قریش علی کی ولایت کو قبول نہیں کریں گے 

 ترجمہ مقبول سورہ ہود کی آیت 12 کی تفسیر میں بحوالہ تفسیر عیاشی 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر علی کی فضیلت میں شک ہوا 

 ترجمہ مقبول سورہ یونس کی آیت نمبر 95 94 کی تفسیر میں 

 امام انبیاء اور اوصیاء کے سردار ہیں 

کلید مناظرہ 77 

 رسول اللہ صلی اللہ وسلم شیعوں کے بارہویں امام کی بیعت کریں گے 

 حق الیقین صفحہ 347 دراثبات رجعت

 جو چار بار متعہ کرےاس کا درجہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے درجے کی طرح ہے 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 2 صفحہ 493 سورہ نساء کی آیت نمبر 24 کی تفسیر میں ۔برہان متعہ ۔تجلیات صداقت 

 امام بھی نبی ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ فرشتے کو ظاہر نہیں دیکھتا 

 الکافی کتاب الحجہ باب نمبر 2 

 امام کو رسول اللہ کی ختم نبوت کی تعظیم کی وجہ سے نبی کہنے سے منع کیا گیا ہے 

 حیات القلوب فارسی جلد 3 صفحہ 3 

 اس قسم کی امامت کا انکار کرنے والا کافر ہے 

 الکافی کتاب الحج باب 8 

 نوٹ۔ 

حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی فرضیت کا عقیدہ اور اس کے انکاری کو کفر کا فتویٰ دینا ان دونوں باتوں کا سب سے اول مشہور کرنے والا عبداللہ ابن سبا یہودی تھا اور اسی طرح غلو کرکے حضرت علی اللہ عنہ  کو وصی رسول اللہ کہنے کی بنیاد بھی اسی نے رکھی 

شیعہ مذہب کا نامور عالم اور فقیہ سعد بن عبداللہ القمی  ابن سبا کے وجود کا اعتراف اور اس کے چند ساتھیوں کا نام تک ذکر کرتا ہے جو اس کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے تھے پھر اسکے فرقہ کو سبائیہ نام سے ملقب کرتا اور کہتا ہے کہ دین اسلام میں سب سے پہلے غلو کا اظہار کرنے والا یہی فرق تھا اور بعدازاں ابن سبا کو وہ پہلا شخص قرار دیتا ہے جس نے ابو بکر عمر عثمان اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر اعلانیہ طعن وتشنیع کا اظہار کیا اور ان سے برات ظاہر کی اور دعوی کیا کہ علی رضی اللہ عنہ  نے اسے اس کام کاحکم دیا ہے پھر سعد قمی ذکر کرتا ہے کہ جب علی رضی اللہ عنہ کو اس کے عقائد کی خبر ہوئی تو انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا لیکن پھر چھوڑ دیا اور صرف اسے مدائن کی طرف جلاوطن کرنے پر اکتفا کیا جس طرح اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے 

 المقالات والفرق ص20

عبداللہ ابن سبا یہودی تھا پھر اس نے اسلام قبول کیا اور علی سے محبت کا اظہار کیا جب وہ یہودی تھا یوشع بن نون سے متعلق یہی کہتا تھا کہ وہ موسی علیہ السلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد اسلام قبول کرکے یہی بات علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اس شخص نے سب سے پہلے علی بن ابی طالب کی امامت کے لزوم کا قول ذکر کیا اور ان کے دشمنوں سے براة ظاہر کی اور انہیں کافر قرار دیا اسی بنیاد پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رافضی مذہب دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے 

 المقالات والفرق صفحہ-20 

پھر قمی ذکر کرتا ہے کہ جب ابن سبا کو علی رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ملی تو اس نے دعوی کیا کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ دوبارہ دنیا میں واپس آکر اپنے دشمنوں سے لڑیں گےپھر وہ اس عقیدہ و نظریہ میں غلو کرنے لگا 

 المقالات والفرق صفحہ-21 

یہ ہےوہ حقیقت جووہ ابن سبا سے متعلق بیان کرتا ہے یہ قمی شیعہ کے نزدیک ثقہ اور معرفت روایات میں وسیع النظر ہے 

 الفہرست صفحہ 105 

جامع روایات جلد 1 صفحہ 352 

ان کے نزدیک اس کی معلومات نہایت اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ ایک تو وہ زمانے کے اعتبار سے متقدم ہے اور دوسرا  جیسا کہ شیعہ المصدوق بیان کرتا ہے کہ یہ شیعہ کے امام معصوم حسن عسکری سے ملا اور اس نے اس سے سماع کیا ہے 

 اکمال الدین صفحہ 425 435 

اسی طرح ایک اور شیعہ عالم نوبختی ابن سبا سے متعلق گفتگو کرتا ہے اور اس کے بارے میں قمی کے الفاظ سے حرف بحرف اتفاق کرتا ہے

 فرق الشیعۃ صفحہ 22 23 

نوبختی بھی شیعہ کے نزدیک ثقہ اور معتبر عالم ہے  

 الفہرست صفحہ 75 

 جامع روایات جلد 1 صفحہ 228 

 الکنی والالقاب جلد1 صفحہ 141 

 مقتبس الاثر جلد 16 صفحہ 125 

ایک تیسرا علم شیعہ الکشی اپنی معروف کتاب رجال الکشی میں جوشیعہ کی قدیم ترین اور علم رجال میں مواقع المدد کتاب ہے ابن سباءکے ذکر میں چھ روایات نقل کرتا ہے 

 رجال الکشی صفحہ 106 ۔108 ۔305

الروایات۔ 170۔ 171۔ 172۔ 173 174۔ 

یہ شیعہ کے نزدیک ثقہ اور اخبار و رجال شیعہ پر بہترین نظر رکھنے والا عالم ہے 

 الفرق صفحہ 171 

یہ روایات بیان کرتے ہیں کہ ابن سبا نے نبوت کا دعوی کیا اور یہ نظریہ اپنایا کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ہی خدا ہیں نیز ان روایات میں منقول ہے کہ علی رضی اللہ  نے ابن سبا کو ان عقائد سے توبہ کرنے کا حکم دیا لیکن وہ تائب نہ ہوا تو انہوں نے اس کو آگ میں جلا دیا اسی طرح الکشی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وہ ائمہ و خلفاء پر لعنت کرتا اور علی رضی اللہ عنہ  پر جھوٹ بولا کرتا تھا 

جیسے علی بن حسین فرماتے ہیں ہم پر جھوٹ گھڑنے والے پر اللہ کی لعنت ہو جب مجھے عبداللہ ابن سبا کا خیال آیا تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ اس نے بہت خطرناک دعویٰ کیا ہے نہ جانے کیوں اس نے ایسا کہا ہے اس پر اللہ کی لعنت اللہ کی قسم علی رضی اللہ عنہٗ تو محض ایک اللہ کے نیک بندے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے انہیں اللہ تعالی کی طرف سے جتنی بھی عزت و کرامت ملی ہے وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری کی  بدولت نصیب ہوئی ہے 

 رجال کشی صفحہ 108 

پھر الکشی ان روایات کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے 

اہل علم نے ذکر کیاہے کہ عبداللہ بن سبا یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اور علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار کرنے لگا جب وہ یہودی تھا تو یوشع بن نون کے حق میں غلو کرتے ہوئے کہتا تھا کہ موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد مسلمان ہوکر علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی بات کہنے لگا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اسی نے سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے لزوم کی بات کی ان کے دشمنوں سے براة کااظہار کیا ان کے مخالفین سے دشمنی کا اظہار کیااور انہیں کافر کہا اسی بنا پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رفض و تشیع دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے

 رجال کشی صفحہ 108

  رجال الکشی کی تصحیح وتشریح طوسی نےےکی ہے جو شیعہ کے نزدیک صحاح اربع میں سے دو کتابوں کا مصنف ہے اور ایسے ہی شیعہ کی کتب رجال میں ںسے بھی دو کتابوں کا مولف ہے  

 مقدمہ رجال الکشی صفحہ 18 صفحہ 17 

 لوءلوء البحرین صفحہ 403 

اس کے علاوہ اور شیعہ کتب رجال کی کتابوں میں عبداللہ بن سبا کا ذکر موجود ہے 

 مسائل الامامة صفحہ22 ۔23

 وفیات الاعیان ص 91۔92

 انباءالرواة 2/128/129

 منتھی المقال 

 منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال 

 جامع الرواة 1/476

 الحلی ۔الرجال ص 2/71

 قاموس الرجال ص 5/461

 رجال الطوسی ص 51

 من لایحضرالفقیہ 1/213

 الخصال ص628

 تہزیب الاحکام 2/322

 بحار الانوار 25/286

 تنقیح المقال 2/183

 مقتبس الاثر 21/230

 الشیعة فی التاریخ ص 213

ماقبل ہم نے شیعہ مذہب کے آغاز کے متعلق اہم آراء ذکر کی ہیں اور ان پر حسب ضرورت نقد و تبصرہ بھی کیا ہے شیعہ مذہب ایک نظریہ اور عقیدہ بن کر اچانک ہی نمودار نہیں ہوا بلکہ یہ کئی وقتی تبدیلیوں سے دوچار ہوا اور مختلف مراحل سے گزرا ہے البتہ شیعہ مذہب کے ابتدائی افعال اور اس کے بنیادی اصول فرقہ سبائیہ کے ہاتھ پر ظہور پذیر ہوئے تھےجیسا کہ کتب شیعہ بھی اس حقیقت کا اعتراف و اقرار کرتی ہیں کہ عبداللہ ابن سباءنے سب سے پہلے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت ضروری ہےاور یہ کہ علی رضی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں جیساکہ گزرچکا ہے بعینہ یہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منصوص امامت کا عقیدہ ہے جو شیعہ مذہب کی اساس ہے جیسا کہ شیعہ مذہب کی تعریف کے زمن میں ہم شیعہ عالم کا نظریہ ذکر کر چکے ہیں پھرسب کو یہ بھی معلوم ہوچکا کہ ابن سبا اور اس کی جماعت نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور سسر نسبی رشتے دار خلفاء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی ساتھیوں ابوبکر و عمر عثمان اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبان طعن دراز کی تھی اور شیعہ بھی صحابہ کرام کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں جیسا کہ ان کی کتب میں مرقوم ہے نیز ابن سباء ہی سب سے پہلے رجعت علی رضی اللہ عنہ کا قائل تھا اور اب یہی رجعت شیعہ مذہب کا بنیادی اصول ہے مزید برآں ابن سبا ہی نے یہ بات کہی تھی کہ علی اور اہل بیت کے پاس چند مخصوص مخفی علوم ہے جیسا کہ حسن بن محمد بن حنفیہ نے رسالہ الارجاء میں کہاں ہے اب یہ مسئلہ شیعہ کے بنیادی عقیدے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے 

 مقالات والفرق صفحہ 21 

 فرق الشیعۃ  صفحہ 23 

 مسائل امامة صفحہ 22 23 

 مقالہ الاسلامیین جلد 1 صفحہ 86 

 التمبیہ والرد صفحہ 18 

 الفرق بین الفرق صفحہ 234 

 التبصیر فی الدین  صفحہ 76 

 محصل افکار المتقدمین والمتاخرین صفحہ 242 

 المواقف صفحہ 419 

 تہذیب التہذیب جلد 2 صفحہ 32 

 رسالة الارجاء ص 249۔250

 صحیح بخاری میں بھی ایک اثر مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظریہ بہت پہلے ظاہر ہوگیا تھا اور علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس کے متعلق سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں یا لوگوں کے پاس نہیں ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مکمل طور پر اس کی حتمی تردید کی تھی 

  بخاری کتاب العلم جلد 1 صفحہ 204 

باب حرم المدینہ۔باب فکاک الاسیر۔باب ذمة المسلمین و جوار ہم  ۔باب اثم من عاھد ثم عذر ۔باب اثم من تبرا من موالیہ ۔باب العاقلہ۔ باب لایقتل مسلم بکافر ۔باب من یکرہ من التعمیق والتنازع والغلو

مسلم مع النووی 9/143/144/13/141

 نسائی المجتبی ،8/19

 ترمذی 4/668

 امام احمد 1/100

یہی شیعہ مذہب کا اہم دینی اصول ہیں جو یقینا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں معرض وجود میں آئے تھے لیکن لوگوں میں ایک مخصوص فرقے کی صورت میں متعارف نہیں ہوئے تھے بلکہ فرقہ سبائیہ نے جیسے ہی اپنا سر نکالا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسےنابود کردیالیکن اس کے متصل بعد رونما ہونے والے واقعات معرکہ صفین واقعہ تحکیم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت وغیرہ نے ان عقائد کے ظہور اور انہیں جماعتی قالب میں ڈھالنے کے لئے مناسب فضا مہیا کر دیں  

 مجموع الفتاوی لابن تیمیہ جلد 20 صفحہ 466 

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 219 

 فتح الباری جلد 2 صفحہ 270 

 التنبیہ والرد صفحہ 18 

 التبصیر فی الدین صفحہ 70 

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 219 220 

قدرت کا کمال یہ ہے کہ جس طرح کسی جھوٹے آدمی سے نہ چاہتے ہوئے بھی حق کے بعد منہ سے نکل جاتی ہے اسی طرح قلم سے بھی حق کا کلمہ لکھ دیا جاتا ہے لہٰذا شیو کے ایک بڑے مفسر فاضل جلیل حجتالاسلام سید فرمان کے قلم سے بھی حق کا کلمہ لکھ دیا گیا اور صاف لفظوں میں کہا کہ جو لوگ آپ یعنی علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے خوامخواہ تاویلیں کرتے ہیں یا کسی امام کو نبوت یا خدائی درجے تک پہنچا دیتے ہیں خارجہ ایمان ہیں 

 سورہ آل عمران کی آیت نمبر 79 ماکان بشر۔ ۔۔۔۔۔آیت کی تفسیر میں 

 نتیجہ۔ ۔۔

 شیعہ مذہب کے ایسے عقائد کے ظاہر ہونے کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مذکورہ آیت قرآن مجید سے ماخوذ ہیں اور شیعہ مذہب اسلام ہے نہیں ہرگز نہیں ظاہر ہے کہ جس مذہب کی ایمانیات میں کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کو ہی شامل نہیں کیا گیا ہو اس مذہب کو کیسے اسلام کہا جاسکتا ہے اور اس مذہب میں مقام نبوت کی عظمت کیسے برقرار رہ سکتی ہے اور اس مذہب میں نبوت پر یہ مان کتاب اللہ کے حکم کے مطابق کیسے ہو سکتا ہے اور اس مذہب میں ختم نبوت پر کماحقہٗ ایمان کیسے رکھا جا سکتا ہے نہیں ہرگز نہیں 

اللہ تعالی تمام انسانوں کو ایسے من گھڑت اور شرکیہ عقائد سے محفوظ فرمائے آمین 

واللہ اعلم ۔۔۔