اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 12

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

 بنام مفتی عبدالعزیزعزیزی دامت برکاتھم

 فہرست

 اسلام میں مقام نبوت

شیعہ مذہب میں نبوت

 درجہ ولایت مطلقہ فوق درجہ نبوت

 خطبةالبیان

 خلاصہ روایات

 تبصرہ

 آیت سے غلط استدلال۔

 آیت کا صحیح مفہوم

 ایک اور توہین 

 رسول اللہ کو امام سے کم سمجھنا

 خلاصہ روایات 

 نوٹ 

امامت کا سب سے پہلا موجد

 نتیجہ

 اسلام میں مقام نبوت

Surat No 4 : Ayat No 69 

 وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾

 اور جو بھی اللہ تعالٰی کی اور رسول  (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیاہے  ، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں ۔  

 Surat No 4 : Ayat No 70 

ذٰلِکَ الۡفَضۡلُ مِنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیۡمًا 

 یہ فضل اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور کافی ہے اللہ تعالٰی جاننے والا  ۔  

 اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے منعم علیہم جماعت کا ذکر فرمایا اور ان میں سے انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کو مقدم کیا اورفرمایا کہ یہ اللہ تعالی کا  فضل و کرم ہے یعنی اللہ تعالی کے فضل وکرم میں سے سب سے بڑا فضل مقام نبوت ہے 

 Surat No 2 : Ayat No 213 

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً  وَّاحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ  ۪ وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ مَا اخۡتَلَفَ فِیۡہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ۚ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ  یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۱۳﴾

 ترجمہ۔ ۔پہلے سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے پھر آپس میں جھگڑنے لگے تب خدا نے نجات کی خوشخبری دینے والے اور عذاب سے ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا اور پیغمبروں کے ساتھ برحق کتابیں بھی نازل کی تاکہ جن باتوں میں لوگ جھگڑتے تھے فیصلہ کریں 

 ترجمہ فرمان علی شیعہ 

 اس آیت کریمہ میں بتایا گیا کہ دین میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالی نے اس اختلاف کے فیصلے کے لئے انبیاء علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور ساتھ ہی ان کو کتاب بھی دیں تاکہ وہ اس کے ذریعہ سے دینی عقائد اور اعمال کے اختلاف کو اس کتاب کے ذریعہ سے ختم کریں اور اس فیصلے کے ماننے والوں کو خوشخبری دیں اور انکار کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ نبی کا انتخاب خود اللہ تعالی کرتا ہے یعنی نبوت کسی نہیں بلکہ وحی ہے اور ہر نبی کو اللہ تعالی وحی کے ذریعے سے رہنمائی کر کے اس انداز سے چلاتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اوامرو منہیات میں جان بوجھ کر کوئی نافرمانی نہ کریں اللہ کےدیےہوے پیغام کو کماحقہ و پہنچائیں اور اس پیغام پہنچانے میں بھی ذرا برابر غلطی نہ کریں(ہاں اگر نسیان سے یا اجتہادی رائے سے اپنی ذاتی معاملات میں اس قسم کی بات ہو تو جدا بات ہے )

لہذا اللہ تعالی جب انبیاء علیہ السلام کو وحی کے ذریعہ سے دینی معاملات میں اور پیغام پہنچانے میں ہر قسم کی سہو سے حفاظت کرکے چلاتا ہے تو اس حفاظت کی وجہ سے تمام مسلمان کو معصوم عن الخطاء مانتی ہے اور انبیاء علیہ السلام کی معصومیت کی بنیاد یہی وحی الہی ہے اور اس معصومیت کی بنا پر ہی ہرنبی مفترض الطاعات ہوتا ہے اور وحی تین طریقوں سے ہوتی ہے 

 ١۔ ۔۔الہام  یعنی دل میں ڈالنا   

 ٢۔ ۔صرف آواز سننا  جیسا کہ موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو طور سینا پر سنایا گیا 

 ٣۔ ۔۔فرشتہ بھیج کر تعلیم دینا 

جیساکہ۔ ۔Surat No 42 : Ayat No 51 

وَ مَا کَانَ  لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ  اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ  حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾

ناممکن ہے کہ کسی بندہ  سے اللہ تعالٰی کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی  کرے ، بیشک وہ برتر حکمت والا ہے ۔  

 اس قسم کی وحی میں بعض کو وحی جلی اور بعض کو وحی خفی کہتے ہیں اور ہماری شریعت میں قرآن مجید وحی جلی ہے اور رسول اللہ صلی وسلم کی تبلیغ کرنا وحی خفی ہے یا  یہ وحی غیر متلو ہے اور  قرآن وحی متلو ہے 

اس سے معلوم ہوا کہ مقام نبوت وہ مقام ہے جو ان تمام فضائل میں سب سے اعلی ہے اور اسی طرح مقام رسالت اعلی ترین مقام ہے کما قال اللہ تعالی ۔۔

 اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (75)

 ترجمہ۔ ۔اللہ تعالی فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کی طرح رسالت کا انتخاب بھی کسی نہیں بلکہ وحی ہے 

اور نبوت و رسالت کا منصب سب سے اعلی منصب ہے اور اللہ کی طرف سے سب سے بڑی عطاءہے اس منصب اور عطاء میں درجات بھی ہیں 

 تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ (253) 

 یعنی منصب رسالت میں بعض کی بعض پر فضیلت ہے باقی کوئی غیر نبی یا غیر رسول کسی نبی یا رسول کے برابر ہی نہیں ہوسکتا کہ کسی نبی اوررسول سے افضل ہو سکے

صفحہ 1 از 12