اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 12

وقال (علیه السلام): انا آیات الله وامین الله، انا احیی وامیت، انا الخلق وارزق، انا السمیع، انا العلیم، انا البصیر، انا الذی اجود السموات السبع والارضین السبع فی طرفة عین، انا الاول وانا الثانی.

وقال (علیه السلام): انا ذوالقرنین هذة الامة.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الناقة التی اخرجها الله لنبیه صالح.

وقال (علیه السلام): انا الذی انفخ (فی الناقور فذلک یومئذ یوم عسیر علی الکافرین غیر یسیر.(519)

وقال (علیه السلام): انا الاسم الاعظم و هو (کهیعص).(520)

وقال (علیه السلام): انا المتکلم علی لسان عیسی (فی المهد صبیاً)(526) انا یوسف الصدیق، انا المتقلب فی الصور.

وقال (علیه السلام): انااالاخرة والاولی، انا أبدی وأعید، انا فرع من فروع الزیتون وقندیل من قنادیل النبوة.

وقال (علیه السلام): انا مظهر کیف الاشیاء.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال العباد لایعزب عنی شی‏ء فی الارض ولافی السماء.

وقال (علیه السلام): انا مصباح الهدی، انا مشکوة الذی فیها نور المصطفی، انا الذی لیس عمل عامل الا به معرفتی.

وقال (علیه السلام): اناخازن(532) السموات وخازن الارض، اناقائم بالقسط، انا عالم بتغیر الزمان وحدثانه، انا الذی

اعلم عدد النمل ووزنها وخفتها ومقدار الجبال ووزنها وعدد قطرات الامطار.

وقال (علیه السلام): انا آیة الکبری التی اراها الله فرعون وعصی.

وقال (علیه السلام): انا اقتل القتلتین احیی مرتین واظهر الاشیاء کیف شئت‏

وقال (علیه السلام): انا الذی رمیت وجه الکفار وبکف تراب فرجعوا هلکی، انا الذی جحدوا ولایتی الف امة فمسخوهم.

وقال (علیه السلام): انا المذکور فی سالف الزمان وخارج وظاهر فی آخرالزمان.

وقال (علیه السلام): انا قاصم فراعنة الاولین ومخرجهم ومعذبهم فی الاخرین، انا معذب الجبت والطاغوت ومحرقهم ومعذبهم یغوث ویعوق ونسراً.

وقال (علیه السلام): انا متکلم بسبعین لساناً ومفتی کل شی‏ء علی سبعین وجهاً، انا الذی اعلم ما یحدث فی اللیل والنهار أمراً بعد امر وشیئاً بعد شی‏ء الی یوم القیمة.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی اثنان وسبعون اسماً من اسماء العظام.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال الخلایق فی مشارق الارض ومغاربها لایخفی علی منهم شی‏ء.

وقال (علیه السلام): انا الکعبة والبیت الحرام والبیت العتیق، انا الذی یملکنی الله شرق الارض وغربها فی طرفة عین ولمح البصر.

وقال (علیه السلام): انا محمد المصطفی، انا علی المرتض کما قال النبی (صلی الله علیه و آله و سلم): علی ظهر منی، انا الممدوح بروح القدس، انا المعنی الذی لایقع علیه اسم ولا شبه.

وقال (علیه السلام): انا اظهر الاشیاء الوجودیة کیف اشاء، انا باب حطتهم(537) التی یدخلون فیها. 

 مختصر ترجمہ۔ ۔۔۔

جناب علی علیہ السلام نے اپنے بعض خطبات میں ارشاد فرمایا ہے میں وہ ہوں جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں بعد رسول میرے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔

میں وہ ذوالقرنین ہوں جس کا ذکر صحف اولی میں ہے ۔

۔میں خاتم سلیمان کا مالک ہوں۔

 میں یوم حساب کا مالک ہوں۔

میں صراط اور میدان حشر کا مالک ہوں۔ 

میں قاسم جنت و نار ہوں۔ 

میں اول آدم ہوں میں اول نوح ہوں۔

میں جبار کی آیت ہوں ۔

میں اسرار کی حقیقت ہوں۔

میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں۔

میں پھلوں کا پکانے والا ہوں۔

میں چشموں کا جاری کرنے والا ہوں۔

 نہروں کو بہانے والا ہوں ۔

میں علم کا خزانہ ہوں ۔

میں حلم کا پہاڑ ہوں۔

میں امیرالمومنین ہوں چشمہ یقین ۔

ہوں میں زمین وآسمان میں حجت خدا ہوں۔

میں متزلزل کرنے والا ہوں میں بجلی کی کڑک ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ نور ہو جس سے موسی علیہ السلام نے ہدایت کا اقتباس کیا ۔۔

صور کا مالک ہوں۔

میں قبروں سے مردوں کو نکال کر زندہ کرنے والا ہوں ۔

میں یوم النشور کا مالک ہوں ۔

میں ایوب بلا رسیدہ کا صاحب اور اس کو شفا دینے والا ہوں۔

آسمانوں کو قائم کرنے والا ہوں ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ حی ہوں جسے موت نہیں۔

میں تمام مخلوقات پر ولی حق ہوں ۔

میں وہ ہوں جس کے سامنے بات نہیں بدل سکتی ۔

مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے ۔

میں وہ ہوں جسے امر مخلوق تفویض کیا گیا    

میں خلیفة اللہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 آگے شیعہ مصنف لکھتا ہے کہ مولیٰ کائنات کا یہ فرمان خلاف قرآن اور اسلام نہیں بلکہ عین اسلام ہے۔

 شیعہ مصنف سید ظہور الحسن خطیب شیعہ ملتان جلاءالعیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 61 ۔60

 خلاصہ روایات 

  میں یوم حساب کا مالک ہوں 

 میرے پاس غیب کی کنجیاں ہیں 

 میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں 

 میں جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والا ہوں 

 میں چشموں کو جاری کرنے والا ہوں 

 میں پھلوں کو پکانے والا ہوں 

 میں نہروں کو بہانے والا ہوں 

 صور کا مالک ہوں 

 میں قبروں سے مردوں کو نکالنے والا ہوں 

 میں نوح کو نجات دینے والا ہوں  

 میں ایوب کو شفا دینے والا ہو 

 ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی آگ کو ٹھنڈا کرنے والا اور نجات دینے والا میں تھا 

 موسی علیہ السلام کو فرعون سے بچاکر تورات پڑھانے والا میں تھا 

 عیسی علیہ السلام کو جھولے میں بات کر آنے والا اور انجیل کی تعلیم دینے والا میں تھا 

 یوسف علیہ والسلام کی مدد کرنے والا میں تھا 

 سلیمان علیہ السلام کے لئے ہواؤں کو مسخر کرنے والا میں تھا 

 میں وہ ہوں جس کے سامنے بات بدل نہیں سکتی 

 میں وہ حی ہوں جس پر موت نہیں

 مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے 

 میں وہ ہوں جس کو امر مخلوق تفویض کیا گیا ہے

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 61 تا 65 

 دوسرے آئمہ کے بارے۔ ۔۔

 ہمارے اللہ کے ساتھ مختلف حالات ہوتے ہیں کبھی ہم اللہ بن جاتے ہیں اور کبھی وہ اللہ اور ہم مخلوق بن جاتے ہیں 

 جلاءالعیون اور مقدمہ ثانی جلد2 صفحہ 67 

 محمد وآل محمد اسباب کے محتاج نہیں بلکہ  اسباب ان کے محتاج ہیں

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 68

 محمد وآل محمد پر نیند طاری ہو سکتی ہے نہ اونگھ 

 جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 69

 محمد وآل محمد ہر لمحہ ہر گھڑی تمام مخلوق کی آواز کو سنتے ہیں اور ہر ایک کی آواز پہچان کر اس کی مشکل کشائی کرتے ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ جلد 2 صفحہ 69

 محمد و آل محمد عالم الغیب حاجت روا مشکل کشا حاضر ناظر اور اللہ کی حکومت کے وزیراعظم ہے اب جووہ چاہتے ہیں اللہ بھی وہی چاہتا ہے اور ان کا قول اللہ کا قول ہے

صفحہ 4 از 12