اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

  توقیر احمد

صفحہ 5 از 12

 جلاء العیون مقدمہ ثانی جلد 2صفحہ 81 80

 تمام انبیاء نے مصائب و مشکلات میں جس رب کو پکارا وہ علی علیہ السلام ہے   

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 66 مقدمہ ثانی 

 ان حضرات پر ارضی و سماوی حالات اس طرح ظاہر ہیں جس طرح ہاتھ کی ہتھیلی

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 دنیا کو نعمتوں کو تقسیم کرنے والے اور آخرت میں بہشت و دوزخ بانٹنے والے یہی حضرات ہیں 

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 یہ حضرات ماں کے پیٹ میں ہی اتنے ہی عالم و عارف تھے جتنے بلوغت کے بعد 

 کلید مناظرہ صفحہ-16 15 

 یہ حضرات خالق کائنات کے طرح بے مثل و بے نظیر ہیں 

 چودہ ستارے صفحہ 2 

 یہ حضرات اللہ تعالی کے سوا ہر چیز پر متصرف غالب حاکم ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ اول جلد 2 صفحہ 29 

 جناب عالی کے نورانی قطرات سے انبیاء و ملائکہ پیدا کیے گئے ہیں اس لئے علی ان کا رب ہے  

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 26 27 

 آئمہ حضرات جمیع انبیاء و ملائکہ سے افضل ہیں اور انبیاء و ملائکہ کے رب ہیں 

 جلاءالعیون مقدمہ اول جلد 2 صفحہ 24 

 محمد و آل محمد کو موت نہیں فنا نہیں اب ایمان والوں کے یہی مددگار ہیں اب اللہ بھی نگہبان نہیں ہے 

 جلاءالعیون مقدمہ آسان جلد 2 صفحہ 87 86

  عقیدہ :اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتاہے ۔(معاذ اللہ 

 اصولِ کافی جلد 1 صفحه نمبر 328 یعقوب کلینی 

 تمام روئے زمین کے مالک امام ہیں 

 اصول کافی جلد 1 صفحه 503 باب 104 

 ائمہ وہ تمام علوم جانتے ہیں جو ملائکہ انبیاء و مرسلین کو ملے ہیں 

 اصول کافی جلد 1 صفحه 292 باب42 کتاب الحجۃ 

 یہ چودہ انوار نورانیت کے لحاظ سے آپس میں ذرہ برابر کمی و بیشی نہیں رکھتے ہیں جو جو معجزات تمام انبیاء میں بحالت انفرادی موجود تھے ان میں سے ہر ایک میں مجموعی حالت میں موجود ہیں۔ 

 ان سے بحالت بیداری یا حالت خواب بھول چوک کا سرزد ہونا ناممکن ہے 

 کلید مناظرہ صفحہ 13 14

 أولنا محمد وآخرنا محمد وأوسطنا محمد کلنا محمد 

 ہم سب کے سب محمد ہیں 

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 69

 یہ ہمارے مذہب کے ضروریات میں سے ہے دنیا کا کوئی بھی فرد ائمہ کے مقامات روحانی و معنوی تک نہیں پہنچ سکتا ہے یہاں تک کہ ملک مقرب و نبی مرسل بھی نہیں پہنچ سکتے 

 حکومت اسلامی از امام خمینی اردو صفحہ 55 

 تبصرہ۔ ۔

ان تمام عبارات کو ہم نے شیعوں کی معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ مذہب میں نبوت اور رسالت کا درجہ کم تر اور امامت ولایت کا درجہ اس سے بالاتر ہے۔

ایک طرف تو شیعہ مصنفین نے نبوت اور رسالت سے امامت و ولایت کا درجہ بالاتر کہہ کر اپنے بارہ اماموں میں ایسی صفات کا عقیدہ رکھا جو خالص اللہ کی صفات تھی اور صاف لفظوں میں کہہ بھی دیا کہ ائمہ حضرات کبھی کبھی اللہ بن جاتے ہیں اور نبوت کا کمتر ہونا اور امامت کا بالاتر ہونا اس طرح بھی ثابت کیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مصائب و مشکلات میں تمام انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کے مددگار تھے کیونکہ وہ حضرت علی اللہ تعالی عنہ  اور دوسرے گیارہ اماموں کو امام مانتے ہیں اور اپنے کلمے میں اور اذان میں علی ولی اللہ ملا کر بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے نزدیک حضرت علی ہی ولی اللہ ہیں یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ امامت اور ولایت کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے تمام انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام سے اعلی تر اور بالاتر ہیں اس لئے انبیاء علیہ السلام نے بھی مشکلات میں رب کہہ کر علی کو ہی پکارا اور علی رضی اللہ عنہ نے ہی ان کو مصائب و مشکلات سے نجات عطا کی ایک طرف شیعہ مصنفین نے اپنے اماموں کو تمام انبیاء سے افضل اور اعلی تر ہونے کا عقیدہ رکھا لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ اگر اس طرح آئمہ حضرات کو تمام انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام ومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اپنے اماموں کو کھلم کھلا بالاتر کہیں گے تو لوگ بھی انہیں کھلم کھلا کافر کہنے میں کوئی تاخیر نہیں کریں گےتو انہوں نے بمجبوری ہی صحیح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اماموں کے ساتھ ملا کر جوجو الوہیت کی صفتیں اپنے اماموں میں ذکر کی تھی اب ان کے ساتھ محمد کا لفظ ملاکر محمد و آل محمد کا جملہ بنا کر عوام کے سامنے عام کر دیا ورنہ انہوں نے بہت سارے مقامات پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اپنے اماموں کو یا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بالاتر ذکر کیا ہے 

 مثلا شیعوں کا مشہور مفسر مقبول احمد دہلوی اصول کافی اور تفسیرعیاشی کے حوالے سے امام محمد باقر سے نقل کر کے لکھتا ہے کہ جس وقت 

 یوم ندعوا کل اناس بامامهم۔ ۔۔۔

 بنی اسرائیل آیت نمبر 71   

آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کل آدمیوں کے امام نہیں ہیں فرمایا میں تمام آدمیوں کی طرف خدا کا رسول ہوں لیکن عنقریب میرے بعد خدا کی طرف سے میرے اہل بیت میں سے کل آدمیوں کے لیے امام مقرر کیے جائیں گے 

 ترجمہ مقبول آیت مذکورہ کی تفسیر میں 

اس روایت میں شیعہ مصنفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امام ہونے کا انکار نقل کیا ہے اور ان کے نزدیک رسول اللہ سے امام افضل ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے حیاۃالقلوب اور جلاءالعیون سے نقل کیا ہے لہذا شیعوں کے نزدیک امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے بارہ اماموں سے کمتر ہوں گے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نزدیک رسول ہیں امام نہیں 

 ایک اور توہین 

صفحہ 5 از 12