اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

  توقیر احمد

صفحہ 6 از 12

شیعوں کے مشہور مفسر مقبول احمد دہلوی نے تفسیر عیاشی سے ایک روایت نقل کی ہے کہ زید ابن ارقم سے روایت ہے کہ عرفہ کی شام روح الامین جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ولایت علی کا حکم لے کر نازل ہوئے اور جناب رسول خدا نے منافقوں کے خوف سے اس حکم کے پہنچانے میں مظاہرہ کیا گھبراہٹ محسوس کی اور کچھ لوگوں کو بلاکر مشورہ کیا کہ آیا حج میں یہ احکام سنائے جائیں یا نہیں راوی کہتا ہے کہ ہماری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ جواب دیں تو جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے گریہ فرمایا جبرائیل امین نے عرض کیا یارسول اللہ آپ امر خدا کے پہنچانے سے دل تنگ ہوتے ہیں حضرت نے فرمایا یہ بات نہیں ہے بلکہ میرا پروردگار جانتا ہے کہ قریش کے ہاتھوں سے کتنی اذیتیں پہنچیں ہیں۔۔۔۔۔پھر وہ میرے علی کی ولایت کا اقرار کیوں کر لیں گے یہ سن کر جبریل امین چلے گئے اس کے بعد پروردگارعالم نے  فلعلک تارک۔۔۔۔۔۔نازل فرمائی یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس کے کسی حصے کو چھوڑ دو اور تمہارا دل اس سے تنگ ہو

 ترجمہ مقبول سوره هود کی آیت نمبر 12 کی تفسیر 

اس روایت میں شیعہ مصنفین نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہوئے کہانی بنائی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم توحید باری تعالی اور اپنی رسالت کا پیغام پہنچانے میں نہ کبھی گھبرائے نہ کسی کا خوف کیا اور نہ ہی کبھی دل تنگ ہو کرکبھی رونے کی نوبت آئی بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ کرکے تمام مخالفتوں کے باوجود استقامت سے حق کا پیغام پہنچاتے رہے حتیٰ کے جہاد بھی کیا اور ہزارہا تکلیف برداشت کرکے اللہ تعالی کا ہر قسم کا پیغام صرف پہنچایا نہیں بلکہ پیغام پہنچانے کا حق ادا کر دیا آپ کی استقامت کی وجہ سےایساانقلاب آیا کہ آج تک اس کو کوئی روک نہیں سکا بلکہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے لیکن باوجود اس حقیقت کے شیعہ مصنفین کہہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب حضرت علی کی ولایت کا حکم نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل تنگ ہوکر گھبراتے ہوئے رو رو کر کہہ رہے ہیں کہ جبریل میرا پروردگار جانتا ہے کہ قریش کے ہاتھوں مجھے کتنی اذیتیں پہنچی ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ میں نے کتنی تکلیف برداشت کی ہیں پھر بھی اللہ مجھے تکلیفوں میں ڈال رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر رو رہے تھے درحقیقت ایسا نظریہ کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا شیعہ مصنفین کو مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرتبت اور منزلت کو کم کرنا مقصود تھا اس لئے انہوں نے من گھڑت روایات سے آپ کی توہین کی ہے جو کھلا کفر ہے 

 آیت کی تفسیرو ترجمہ 

جو چیز تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی جاتی ہے ان میں سے بعض کو شاید آپ اس خیال سے چھوڑ دیں یا آپ کے دل پر کوئی تنگی ہو کہ مخالف یہ کہیں گے کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل کیا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہو اور اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے 

 سوره هود آیه 12 

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قسم کی تسلی دے کر پیغام پہنچانے کا شوق دلایا اور فرمایا کہ مخالفین کی ایسی باتوں سے کہ اس کے پاس خزانے نہیں یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ نہیں شاید آپ کا دل تنگ ہو ایسی باتوں سے اور اس وجہ سے آپ کوئی حکم پہنچانے سے ترک کردیں لہذا آپ ان کی پرواہ تک نہ کریں آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں دوسری آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے 

آیت میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی حکم کے پہنچانے میں دلتنگ ہوئے یارو رہے تھے یا گھبراگئے یہ ساری باتیں شیعہ مصنفین نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں ۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں شک ہوا شیعہ مصنف نے تفسیر قمی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج آسمان پر تشریف لے گئے تو خدا تعالی نے علی بن ابی طالب کی فضیلت میں وحی فرمائی اور شرف اور بزرگی آنحضرات کی ظاہر کی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپسی میں بیت المعمور پہنچے تو وہاں اللہ تعالی نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر تمام انبیاء علیہ السلام کو جمع کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جماعت پڑھنے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اس وحی کی بابت جو علی کے بارے میں نازل ہوئی کچھ خیال گزرا اس پر خدا تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی 

 فان کنت فی شک مما انزل الیک۔ ۔۔۔۔۔

 ترجمہ۔ ۔پس جو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اگر اس کے بارے میں تم کو کچھ کہوں تو جو لوگ تم سے پہلے کتاب پڑھا کرتے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھو تحقیق تمہارے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے حق آیا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں اور اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں میں سے نہ ہوجاؤ ورنہ تم بھی نقصان والوں میں سے ہو جاؤ گے 

 ترجمہ مقبول  سوره یونس آیت 94 95 

صفحہ 6 از 12