اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

  توقیر احمد

صفحہ 7 از 12

اس من گھڑت روایت میں شیعہ مصنف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر حسد کے طور پر شک کرنے کی تہمت لگائی ہے مثلا پہلے لکھا ہے کہ آسمانوں پر جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی فرمائی گئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی شک و شبہ پیدانہیں ہوا لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی اور آپ کو امام الانبیاء ہونے کا شرف حاصل ہوا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں شک کرنے لگے تو ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی کی فضیلت پر شک کرنا حسد کی وجہ سے تھا کہ امام الانبیاء ہونے میں تو میں منفرد ہوں اس لیے میری فضیلت سب پر ہونی چاہیےشیعہ مفسر نے آگے لکھا ہے کہ ابن شہر آشوب نے اس آیت کی تفسیر میں جناب امام محمد باقر سے روایت کی ہے  ۔۔۔۔۔۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان انبیاء سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی خدا نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور علی امیرالمومنین ہیں اور کتاب اربعین خطیب میں ہے کہ آپ کے پوچھنے پر انبیاء نے جواب دیا کہ ہم سب آپ کی رسالت اور علی کی ولایت پر مبعوث ہوئے 

 ضمیمہ مقبول سورہ یونس کی آیت نمبر 95 کی تفسیر 

اس روایت میں شیعہ مصنف نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کو وحی الہی میں شک کرنے والا بتا کر انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام سے پوچھنا ذکر کیا ہے اور ان کا جواب دینا کہ ہم آپ کے رسالت اور علی کی ولایت کے اقرار پر مبعوث ہوئے ہیں لہذا آپ شک نہ کریں اور اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ شیعہ مذہب میں ولایت کا درجہ رسالت سے فوق یعنی اوپر ہے 

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ-17 

ان عبارتوں میں شیعہ مصنفین امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلم کھلا توہین کر کے صریح کفر کیا ہےکوئی مسلمان آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی الہی میں شک کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا 

 آیت کا صحیح مطلب 

اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ سے پہلے بنی اسرائیل کے علماء کے اختلاف کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اور ان میں سے جوعلماء غلط طریقہ پر ہوں گے اللہ ان کو سزا دے گا اور اس کے بعد فرمایا کہ میرے محبوب اگر بالفرض والمحال آپ بھی وحی الہی کے بارے میں کچھ شک کریں تو پھر جو لوگ آپ سے پہلے کتاب یعنی تورات انجیل اور زبور پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو کیوں کے آپ کی نبوت کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے 

 مثلهم فی التورات وفی الانجیل۔۔۔۔۔۔  ۔

یقینا آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے ہٹایا ہے تو تم جس طرح پہلے شک نہیں کرتے تھے آئندہ بھی ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا اور ان لوگوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے اللہ تعالی کی آیت کو جھٹلایا ورنہ تم بھی نقصان والوں میں سے ہو جاؤ گے        

اس آیت کریمہ میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ رسول اللہ نے وحی الہی میں شک کیا تھا اور اس شک کی بناپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اہل کتاب سے پوچھا تھا یہ ہرگز نہیں ہے درحقیقت ان آیات میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن سنانا دوسروں کو مقصود ہے جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے کہ اے میرے محبوب تیرے رب کا فیصلہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر میں آپ کے پاس موجود ہوں  فلاتقل لھمااف۔ ۔۔۔تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا  وقل لھماقولاکریما۔ ۔اور ان کے ساتھ ادب سے بات کرنا بنی اسرائیل آیت 23 

اس طرح اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے خطاب ہے کہ آپ والدین میں سے کسی کو اف تک نہ کہنا وغیرہ لیکن نصیحت کرنا دوسروں کو مقصود ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین نزول آیت کے وقت دنیا میں موجود ہی نہیں تھے تو اسی طرح سورہ یونس کی آیت نمبر 94 95 میں بھی اگرچہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن نصیحت کرنا اہل کتاب کو مقصود تھی کے اگر وہ آپ کی نبوت میں شک کرتے ہیں تو اہل کتاب کے علماء سے پوچھ لیں اور وہ اللہ کی آیات کو جھٹلائیں گے تو خود ہی خسارہ والوں میں ہو جائیں گے ۔لہذا اس آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب نہیں ہے اس لیے مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے شک ہے اور نہ ہی کسی سے پوچھوں گا لہذا رسول اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی منزل من اللہ چیز پر ذرہ برابر بھی شک نہیں تھا اور اس کی تصدیق خود اللہ نے فرمائی 

  آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (285)

 یعنی جو چیز رب تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس پر رسول اللہ نے ایمان رکھا اور مومنین نے بھی اس کو مان لیا 

 مقام نبوت کی ایک اور توہین 

 فرائد السمطین میں بسند امام جعفر صادق اور امام صادق نے مسند علی بن حسین روایت کی ہے کہ ہم ہیں مسلمانوں کے امام اور اہل جہاں پر حجت ہائے خدا اور مومنوں کے سردار اور نورانی پیشانیوں اور نورانی ہاتھوں اور نورانی پاؤں انبیاء اوصیاء کے سردار 

 ۔کلید مناظرہ صفحہ 74 

 حضرت علی  علیہ السلام کی منقبت احاطہ تقریروتحریر سے باہر ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء اور ملائکہ کا آپ کے آستانہ عالیہ کے ادنیٰ غلام ہیں ۔نعوذباللہ۔ 

 کلید مناظرہ صفحہ 35 

 خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے امام سے کمتر سمجھنا 

 چوں قائم ماظاہر شواد اول کسے کہ۔ ۔۔۔بیعت کندمحمدباشدوبعدازاں آں علی۔ 

 ترجمہ۔ جب قائم آل محمد غار سے باہر آئے گا تو اللہ تعالی فرشتوں سے اس کی مدد کرے گا اور سب سے اول اس کی بیعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی 

 حق الیقین فارسی صفحه 347 در اثبات رجعت 

 چون قائم آل محمد بیرون آید ۔۔۔۔۔خدا اورا یاوری  کند ملائکه واول کسے کہ باوبیعت کند محمدباشدوبعدازاں علی 

صفحہ 7 از 12