اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

  توقیر احمد

صفحہ 8 از 12

 توہین نبوت میں ایک اور غلاظت

 شیعہ مصنفین ایک من گھڑت روایت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے متعہ کے درجات ذکر کئے ہیں 

 من تمتع مرِة فدرجةکدرجة الحسین و۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ترجمہ۔۔جس نے ایک بار متعہ کیا اس کا درجہ حسین کے درجے کی مثال ہے اور جس نے دو مرتبہ متعہ کیا اس کا درجہ حسن کے درجے کی مثل ہے جس نے تین مرتبہ متعہ کیا اس کا درجہ علی رضی اللہ عنہ کے درجے کی مثال ہے اور جس نے چار مرتبہ متعہ کیا اس کا درجہ میرے (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )درجے کی مثل ہے

 تفسیر منہج الصادقین جلد 2 صفہ نمبر 493 سورۃ النساء کی آیت 24 

 برہان المتعہ صفحہ نمبر 52 

 تجلیات صداقت 

 نوٹ۔ 

شیعہ مصنفین نے مقام نبوت کی توہین کرتے ہوئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سید الاولین والآخرین خاتم الانبیا المعصومین امام الانبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کو ایک روایت میں اپنے بارے میں امام مہدی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا لکھ کر مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے جبکہ دوسری روایت میں انہوں نے خلیفہ راشد صحابی رسول سیدنا علی المرتضی کی توہین اور نوجوان جنتیوں کے سردار حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کی توہین کر کے پھر مقام نبوت پر حملہ کرتے ہوئے چار بار متعہ کرنے والے کو مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجے تک پہنچا دیا

ایسے مذہب کو کون مسلمان اسلام سمجھ سکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ سراسر کفر ہے 

شیعہ مصنفین اپنے آپ کو کفر سے بچانے کے لیے کبھی کہتے ہیں کہ ہمارے بارہ امام تمام انبیاء علیہ السلام سے افضل ہیں سواء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارےمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل نہیں بلکہ شان مان مرتبہ عزت عظمت علم المعجزات وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہیں اس لیے انہوں نے  اولنا محمد آخرنا محمد واسطنا محمد کلنا محمد ایک من گھڑت روایت بھی بنا کر اپنے آپ کو مطمئن کر دیا لیکن جب اس پر بھی گرفت ہوئی کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایک شخص بھی نبوت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا توشیعہ کے بارہ امام امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ اور عظمت تک کیسے پہنچ سکتے لہذا شیعوں کا عقیدہ بھی کفر ہے اور مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال مرتبت کو کم کرنے کی ایک سازش ہے توشیعہ مصنفین نے کفر سے بچنے کے لیے یہ کہا کہ ہم اپنے بارہ اماموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شریک نہیں کرتے باقی تمام کمالات اور فضائل میں وہ محمد مصطفی کے برابر ہیں کیونکہ محمد مصطفی کریم پر نبوت ختم ہے اس لیے ہم اپنے اماموں کو مقام نبوت کے علاوہ باقی کمالات میں برابر سمجھتے ہیں درحقیقت یہ ان کا مذکورہ جواب بالکل بالکل فضول ہے کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور فضائل کو نبوت سے جدا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مقام نبوت کی وجہ سے ہی تمام فضائل میں کمال آ جاتا ہے اگر آپ صلی اللہ وسلم کی نبوت کا کوئی انکار کرے اور باقی فضائل کو ماننے کا دعوی کرے تو وہ شخص آپ کے فضائل کو کامل اور مکمل طور پر ہرگز نہیں مان سکتا کیوں کہ تمام فضائل میں کمال مقام نبوت کی وجہ سے ہے لہذا شیعوں کا یہ کہنا کہ ہم مقام نبوت کے علاوہ باقی فضائل و کمالات میں اپنے اماموں پر رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے برابر سمجھتے ہیں یہ سراسر اپنے آپ کو دھوکا ہے اور دوسری بات یہ کہ بعض شیعہ مصنفین نے خود تسلیم کیا ہے واقعاتا مقام نبوت سے فضائل و کمالات جدہ نہیں ہوسکتے اس لیے اپنے بارہ اماموں میں جب تک مقام نبوت کا عقیدہ نہیں رکھیں گے تب تک وہ فضائل اور کمالات میں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر نہیں ہو سکتے اور کلنا محمد کا عقیدہ برقرار نہیں رہ سکتا 

لہذا انہوں نے دبے لفظوں میں ہی سہی لیکن اس بات کو ظاہر کیا کہ ہمارے اماموں کی امامت بھی دراصل نبوت ہے 

 رویت۔ ۔۔

ملا باقر مجلسی لکھتا ہے ۔۔

 ۔۔بیان استناط الفرق بین النبی والامام من تلک الاخبارلایخلومن اشکال وکذاالجمیع بینھامشکل جدا۔ ۔۔۔۔۔۔۔

 بحارالانوار کتاب الامامۃ جلد 26 صفحہ نمبر 86 روایت نمبر 45 

 ۔ترجمہ۔ ان احادیث سے نبی اور امام کے درمیان فرق کا استنباط کرنا مشکل ہے اور اسی طرح دو روایتوں کے درمیان جمع کرنا بھی نہایت مشکل ہے ۔۔۔۔مختصر یہ کہ یہ یقین تو لازم ہے کہ امام نبی نہیں ہوتے اور یہ بھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر تمام انبیاء و اولیاء سے اشرف افضل ہیں ۔۔۔۔۔اور ہمیں ان کے موصوف بھ نبوہ نہ ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ خاتم الانبیاء علیہ السلاۃ وسلام کی جلالت کی رعایت ہو اور ہماری عقلوں کو نبوت اور امامت کے درمیان واضح فرق تک رسائی نہیں ہوسکتی اخبار سےجو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ تم جانتے ہی ہو 

 روایت۔ ۔اور حق یہ ہے کہ تمام کمالات صفات اور شرائط میں نبی اور امام میں کوئی فرق نہیں ہے سوا اس فرق کے جو حدیثوں میں فرق آیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ خاتم النبین ہیں اس لئے آپ کی تعظیم کی وجہ سے امام کو نبی کہنے سے منع ہے 

 حیات القلوب فارسی جلد 3 صفحہ نمبر 3 

 طبقات انبیاء و رسل و آئمہ

فرمایا امام جعفر صادق نے کہ انبیاء و مرسلین کے چارطبقے ہیں

 ۔  محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن أبي يحيى الواسطي، عن هشام بن سالم،

ودرست بن أبي منصور، عنه قال: قال أبو عبد الله عليه السلام: الأنبياء والمرسلون على أربع

طبقات: فنبي منبأ في نفسه لا يعدو غيرها، ونبي يرى في النوم ويسمع الصوت

ولا يعاينه في اليقظة، ولم يبعث إلى أحد وعليه إمام مثل ما كان إبراهيم على لوط عليهما السلام، ونبي

يرى في منامه ويسمع الصوت ويعاين الملك، وقد ارسل إلى طائفة قلوا أو كثروا، كيونس

قال الله ليونس: " وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون (١) " قال: يزيدون: ثلاثين ألفا

وعليه إمام، والذي يرى في نومه ويسمع الصوت ويعاين في اليقظة وهو إمام مثل

اولي العزم وقد كان إبراهيم عليه السلام نبيا وليس بإمام حتى قال الله: " إني جاعلك للناس

إماما قال: ومن ذريتي فقال الله: لا ينال عهدي الظالمين " من عبد صنما أو وثنا لا يكون إماما.

صفحہ 8 از 12