اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت

  توقیر احمد

صفحہ 9 از 12

ترجمہ۔ ایک نبی وہ ہے جو خواب میں فرشتوں کو دیکھتا ہے اس کی آواز سنتا ہے اور جاگتے میں کسی کو نہیں دیکھتا اور وہ کسی کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا ہوتا بلکہ اس کا ایک امام ہوتا ہے 

 الکافی کتاب الحج باب نمبر 2 جلد 1 صفحہ 175

 شیعہ مصنفین اپنی اماموں کو اس طرح کا نبی سمجھتے ہیں ان کے نزدیک نبی اور امام میں یہی فرق ہے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا 

ونبي يرى في منامه ويسمع الصوت ويعاين الملك قلت:الامام ما منزلته؟ قال: يسمع الصوت ولا يرى ولا يعاين الملك

 ترجمہ۔نبی وہ ہے جو فرشتے کو خواب میں دیکھتا ہے اس کی آواز سنتا ہے لیکن ظاہر بظاہر حالت بیداری میں نہیں دیکھتا اور رسول وہ ہے جو آواز بھی سنتا ہے خواب میں بھی دیکھتا ہے اور ظاہر میں بھی  راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا امام کی منزل کیا ہے فرمایا وہ فرشتے کی آواز سنتا ہے مگر دیکھتا نہیں 

 الکافی کتاب الحجۃ باب 3جلد۔ 1ص ،176

 دوسری روایت میں ہے 

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن إسماعيل بن مرار قال: كتب الحسن بنالعباس المعروفي إلى الرضا عليه السلام: جعلت فداك أخبرني ما الفرق بين الرسول والنبي والامام؟ قال: فكتب أو قال: الفرق بين الرسول والنبي والامام أن الرسول الذي ينزل عليه جبرئيل فيراه ويسمع كلامه وينزل عليه الوحي وربما رأى في منامه نحو رؤيا إبراهيم عليه السلام، والنبي ربما سمع الكلام وربما رأى الشخص ولم يسمع والامام هو الذي يسمع الكلام ولا يرى الشخص.

 ترجمہ۔ حسن بن عباس معروفی نے امام رضا کو لکھا کہ آپ پر فدا ہوں کیا فرق ہے رسول و نبی و امام میں ؟آپ نے جواب میں فرمایا رسول وہ ہے جس پر جبرائیل نازل ہو اور ان کا کلام سنیے اور اس پر وحی نازل ہو اور کبھی خواب میں بھی دیکھے جیسے ابراہیم کا خواب اور نبی وہ ہے کہ کبھی کبھار کلام سنتا ہے اور کبھی فرشتے کے وجود کو دیکھتا ہے اور امام وہ ہے جو کلام سنتا ہے اور فرشتے کے وجود کو نہیں دیکھتا 

 الکافی کتاب الحجۃ باب نمبر 3 جلد 1 صفحہ 177 

 تبصرہ

شیعہ مصنفین اپنے بارہ ائمہ حضرات کو اس طرح کا نبی سمجھتے ہیں اور ملاباقرمجلسی نے جو حیاۃالقلوب میں لکھا ہے کہ نبی اور امام میں کوئی فرق نہیں ۔اور حق یہ ہے کہ تمام کمالات صفات اور شرائط میں نبی اور امام میں کوئی فرق نہیں ہے سوا اس فرق کے جو حدیثوں میں فرق آیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ خاتم النبین ہیں اس لئے آپ کی تعظیم کی وجہ سے امام کو نبی کہنے سے منع ہے 

 حیات القلوب فارسی جلد 3 صفحہ نمبر 3 

 نوٹ 

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ مصنفین کے نزدیک امام اور نبی میں چولی دامن کا تعلق ہے ان کے نزدیک امام بھی نبی ہیں ہے وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی وجہ سے اپنے اماموں کو نبی نہیں کہتے  ہیں باقی ان کو نبی سمجھتے ضرور ہیں اور نبی نہ کہنے کی وجہ بھی خود بتائیں کہ اگر اماموں کو نبی کہیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا لحاظ نہیں رہے گا ورنہ امام کو نبی ہی سمجھتے ہیں۔

 شیعوں کے خاتم المحدثین ملاباقرمجلسی نے ڈرتے ڈرتے بالآخر کہہ بھی دیا کہ امامت حقیقت میں نبوت ہے 

 ترک لفظ اطیوا یا رسول اولی الامرمستعر است بایں کہ مرتبہ امامت نزیر مرتبہ نبوت است۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

 ترجمہ لفظ اطیعوا کو رسول اور الامر کے درمیان سے ترک کرنا اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولوالامر منکم یہ اس بات  کی خبر دیتا ہے کہ مرتبہ امامت مرتبہ نبوت کے برابر اس کے مثل ہے چناچہ نبوت اللہ تعالی کی طرف سے فرشتے کی وساطت سے مقرر کی جاتی ہے امامت بھی نبوت کی ہی  حقیقت ہے جو خدا کی طرف سے نبی کی وساطت سے مقرر کی جاتی ہے 

 حیات القلوب فارسی جلد 3 فصل نہم صفحہ 81 

یہی سبب ہے یعنی شیعہ مذہب میں نبوت اور امامت ایک ہی چیز ہے اس لئے جس نے کسی امام کی امامت کا انکار کیا وہ شیعوں کے نزدیک کسی نبی کی نبوت کے انکار کرنے کی طرح کافر ہے جیسا کہ شیعوں کے ثقةالاسلام علامہ محمد بن یعقوب کلینی نے لکھا ہے ۔

 علي بن إبراهيم، عن صالح بن السندي، عن جعفر بن بشير، عن أبي سلمةعن أبي عبد الله عليه السلام قال: سمعته يقول: نحن الذين فرض الله طاعتنا، لا يسع الناسإلا معرفتنا ولا يعذر الناس بجهالتنا، من عرفنا كان مؤمنا، ومن أنكرنا كان كافرا،ومن لم يعرفنا ولم ينكرنا كان ضالا حتى يرجع إلى الهدى الذي افترض الله عليهمن طاعتنا الواجبة فإن يمت على ضلالته يفعل الله به ما يشاء.

 ترجمہ۔ ہم وہ ہیں جو اللہ نے ہماری اطاعت فرض کی ہے لوگوں کو ہماری معرفت کے سوا کوئی چارہ نہیں اور ہم سے جاھل رہے گا کوئی تو عذر قابل قبول نہیں ہو گا جس نے ہم کو پہچانا وہ مومن ہے اور جس نے انکار کیا وہ کافر ہے اور جس نے نہ پہچانا نہ انکار کیا وہ گمراہ ہے جب تک وہ اس ہدایت کی طرف نہ لوٹے جسے اللہ نے ہماری اطاعتکی صورت میں فرض کیا ہےپس اگر وہ اسی گمراہی کی حالت میں مرگیا تو اللہ جو چاہے گا وہ دے گا 

 روایت۔  راوی کہتا ہے میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے کہا کہ میں اپنا عقیدہ آپ کے سامنے پیش کرو فرمایا بیان کرو میں نے کہا 

اشہد الا الہ اللہ الا شریک لہ واشہد ان محمد عبدہ ورسولہ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وحدہٗ لاشریک ہے وہ اور محمد اس کے عبد اور رسول ہیں اور میں اقرار کرتا ہوں ان تمام باتوں کا جو وہ خدا کی طرف سے لے کر آئے اور یہ کہ علی امام ہیں اللہ نے ان کی اطاعت فرض کی ہے ان کے بعد حضرت حسین اور ان کے بعد علی بن حسین اور ان کے بعد آپ امام ہیں اور ان سب کی اطاعت اللہ نے فرض کی ہے حضرت نے فرمایا یہی اللہ اور اس کے ملائکہ کا دین ہے 

 الکافی کتاب الحجۃ باب 8 صفحہ جلد 1 صفحہ 200

 ایمانیات میں بتایا گیا ہے کہ شیعہ مذہب میں جن کو بارہ ائمہ معصومین کہا جاتا ہے ان پر بھی نبوت کی طرح ایمان لانا لازمی ہے اور ان کی امامت کو نبوت کے نظیر اور مصر نہ ماننے والا شیعوں کے نزدیک کافر ہے 

 خلاصہ روایات 

  میں یوم حساب کا مالک ہوں 

 میرے پاس غیب کی کنجیاں ہیں 

 میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں 

 میں جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والا ہوں 

 میں چشموں کو جاری کرنے والا ہوں 

 میں پھلوں کو پکانے والا ہوں 

صفحہ 9 از 12