اعتراض غزوہ بدر اور صحابہ کا خوف خیر طلب کے اعتراضات کا رد…

اعتراض غزوہ بدر اور صحابہ کا خوف خیر طلب کے اعتراضات کا رد

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 2 از 2

فلما كان يومئذ التقوا، فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا وَأُسِرَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، وَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بكر وعمر وعليا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ وَالْإِخْوَانُ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمُ الْفِدْيَةَ فَيَكُونَ مَا أَخَذْنَاهُ مِنْهُمْ قُوَّةً لَنَا عَلَى الْكُفَّارِ وَعَسَى أَنْ يَهْدِيَهُمُ اللَّهُ فَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟» قَالَ:قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى مَا رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تمكني مِنْ فُلَانٍ قَرِيبٍ لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنَ حَمْزَةَ مِنْ فُلَانٍ أَخِيهِ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ حَتَّى يَعْلَمَ اللَّهُ أَنْ لَيْسَ فِي قُلُوبِنَا هَوَادَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ، هَؤُلَاءِ صَنَادِيدُهُمْ وَأَئِمَّتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ

(خلاصہ یہ ہے کہ) سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کی تعداد اور مشرکین کی تعداد دیکھی تو آپ ﷺ نے قبلے کی طرف چہرہ مبارک فرما کر دونوں ہاتہوں کو پہیلایا اور فرمایا کہ ’’اے اللہ جو تم نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ پورا فرما، اے اللہ اگر تم نے مسلمانوں کی اس جماعت کو ھلاک کردیا تو زمین میں کبھی بھی تمہاری عبادت نہ کی جائے گی‘‘۔۔ آپ ﷺ دعا کرتے رھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک گر گئی۔ اس کے بعد ابوبکرؓ آپ ﷺ کے پاس آئے اور چادر مبارک اٹھا کر آپﷺ کے اوپر ڈال دی اور گلے لگا کر فرمایا کہ یا رسول اللہ آپ کا اللہ کو پکارنا کافی ہے، اللہ نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا کرے گا۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی کہ جب تم اللہ سے دعا کررہے تھے۔۔ (آیت 9)۔ جنگ بدر ک دن مشرکین کے ستر لوگ مرے اور ستر گرفتار ہوئے، ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ابوبکرؓ، علیؓ اور عمرؓ سے مشورہ طلب کیا، ابو بکرؓ نے کہا کہ اللہ کے رسول یہ ھمارے رشتہ دار ہیں ان کو فدیہ کے بدلے آزاد کردیا جائے، یہ فدیہ کفار کے مقابلے میں ھم کو کام آئے گا اور اللہ ان کو ھدایت دے گا اور یہ ھمارے ساتھی بن جائیں گے۔ عمرؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ میرا فلاں رشتہ دار میرے حوالے کریں، علیؓ کا بھائی عقیل ان کے حوالے کریں اور حمزہب کا فلاں رشتہ دار ان کے حوالے کرین ھم ان کی گردنیں اڑا دیں تاکہ اللہ ظاہر کردے کہ ھماری دلوں میں ان مشرکین کے لئے کوئی نرمی نہیں۔۔۔

یہ روایت بھی واضح ہے کہ رسول اللہﷺ ان صحابہؓ کے لئے دعا کررہے ہیں جن کو ڈرپوک کہا جارہا ھے، اور ان سے مشورہ لے رہے ہیں۔

ثابت ہوا کہ اللہ اور رسول اللہﷺ ان صحابہؓ سے راضی تھی۔

۳، جن صحابہؓ کو خوف زدہ کہہ کر عمران خان صاحب اور خیر طلب صاحب ان پر تنقید کررہے ہیں انھی کے ذریعے سے اللہ نے ان مشرکین کو شکست دی، تو ان پر تنقید کرنا گویا اللہ کے فیصلے سےراضی نہ ہونا ھے ۔

اب آتے ہیں شیعہ کتب کی طرف، اگر شیعوں کو کسی کی خوف زدہ ھونے پر تنقید کرنے کا شوق ہے تو زرا یہاں بھی خیر طلب صاحب تنقید کریں۔

۱، شیعہ تفسیر البیان، جو ان کے علامہ محمد حسین طباطبائی کے لکھی ہوئی ہے، اس میں سورہ مائدہ کی آیت 6 وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا)، کی تفسیر میں ہے کہ

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ وحی میں سے کچھ چیزوں کی تبلیغ کرنے سے ڈرتے تھے اور لوگوں کے خوف کی وجہ سے چھپاتے تھے، اور وہ خوف مشرکین یا کفار سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے تھا۔

(عربی عبارت اسکین میں دیکھی جاسکتی ہے، یہاں طوالت سے بچنے کے لئے اس کا خلاصہ لکھا گیا ہے۔)

تو شیعوں کے نزدیک گویا رسول اللہﷺ مسلمانوں سے بھی خوف کی وجہ سے احکامات چھپاتے تھے، اور اس آیت کے بارے میں شیعہ کھتے ہیں کہ یہ علیؓ کے خلافت کے اعلان کے لئے تھی جس کے اعلان سے آپ ﷺ ڈرتے تھے ۔

۲، نھج البلاغہ خطبہ 67 میں سیدنا علی ؓ اپنے شیعوں کی بزدلی پر ٹوکتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ

’’تم شامیوں کے ڈر سے اپنے گھروں کے دروازے بند کرکے چھپ جاتے ہو جس طرح گوہ اپنے سوراخ میں اور بچھو اپنے بھٹ میں چھپ جاتا ھے، جس کے تمہارے جیسے مددگار ہوں اسے تو ذلیل ہی ہونا ہے‘‘۔۔

یہ حال یہ سیدنا علیؓ کے صحابیوں کا جو خود کو شیعان علی کہلاتے تھے۔

۳، شیعہ محدث اور مجتھد ابو جعفر طوسی اپنی ’’کتاب الغیبہ‘‘ میں اپنے امام غائب کے بارے میں لکھتا ھے کہ

لا علۃ تمنع من ظہورہ الا خوفہ علی نفسہ من القتل۔

یعنی امام غائب اس لیے ظاہر نہیں ہوتے کہ ان کو اپنے قتل ہونے کاخوف ہے۔

ان پر بھی کوئی شیعہ خصوصا خیر طلب صاحب پوسٹ بنا کر کچھ تنقید کریں تاکہ پتا چلے کہ یہ اسلام کے ساتھ کتنے سچے ہیں۔

اللہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔



صفحہ 2 از 2