لفظ مباشرت ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور رافضیوں کا…

لفظ مباشرت ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور رافضیوں کا دجل

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 2

ہمارے ہاں "مباشرت " میاں بیوی کے جنسی تعلقات اختیار کرنے کو بولا جاتا ہے ، اور اسی تصور اور تاثر کو رافضی اور منکرین حدیث عوام کو دکھا کر اصل حقائق کو چھپاتے ہیں -

عربی میں مباشرت کا معنی ہے بدن سے بدن ملانا ، جسم کا جسم سے مس ہونا ، امام شوکانی کہتے ہیں کہ "ان المباشرہ فی الاصل التقاء البشرتین "..یعنی مباشرت اصل میں دو جسموں کے ملنے کو کہتے ہیں -(منقول ، تفہیم اسلام )

عون المعبود شرح سنن ابی داؤد میں ہے کہ :

"معنی المباشرۃ ھھنا المر بالید من التقاء البشرتین"

:یعنی یہاں مباشرت سے صرف ہاتھ سے چھونا، اور دو جسموں کا ملنا مراد ہے

. کیا اس میں حرام کا کوئی پہلو ہے؟

آپ کی بیوی ہے کوئی اچھوت تو نہیں کہ دن میں اگر آپ میاں بیوی روزے کی حالت میں بھی باہم مل کر آرام کر لیں ، ایک دوسرے سے لپٹ جائیں ، آپ اپنی بیوی سے محبت سے پیش آ جائیں ، تو اس سے روزے کو کیا فرق پڑ جائے گا .. ؟

لیکن برا ہو تعصب کا ، انکار حدیث کا ، کہ مقصد دین کی تفہیم نہ رہی بلکہ اپنے نظریات کی خاطر لوگوں کو دھوکہ دینا ٹہرا اور جذباتی فضاء بنا کر حدیث بارے نفرت انگیز مہم چلائی گئی -

اسی حدیث کا اگلا حصہ اس کی مزید وضاحت کرتا ہے ، دیکھئے گا :

" کان املککم لاربہ "

....یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہشات پر تم میں سب سے زیادہ قابو پانے والے تھے ....سمجھنے کے لیے مکرر عرض ہے اگر بار خاطر نہ ہو کہ :

آپ اپنی بیویوں کا بوسہ لے لیتے ، ان سے مباشرت کرتے اور آپ تم میں سے سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے "

سوال یہ ہے کہ اگر مباشرت کا مطلب جنسی ملاپ ہی ہے تو خواہش پر قابو پانا کہاں گیا ؟..آپ کو عربی نہ بھی آتی ہو . مفکر صاحب آپ کو دھوکہ بھی دینا چاھیں تو آپ ان سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں

"جناب پھر خواہش پر قابو کیسا ہوا ؟"

نبی کریم کو جو اپنی خواہش پر ایسا قابو تھا تو مطلب یہی بنتا ہے نا کہ آپ کا عمل محض بیویوں سے دلجوئی کی ، محبت کی ترغیب ہے - بتائیے اس میں کیا گناہ ہے ؟...

اس حدیث کا صاف صاف مطلب ہے کہ بغیر شہوت کے ، محض محبت کے ساتھ آپ اپنی بیوی سے قربت اختیار کر سکتے ہیں - ذرا انسانی نفسیات کی طرف آئیے ...

آپ کی بیوی ،آپ سے گھنٹہ بھر پہلے اٹھ جاتی ہے ، گرمی ہو یا سردی چولہے پر جا کے کھڑی ہو جاتی ہے ، آپ کے لیے پکوان بناتی ہے ، آپ کے ناز اٹھاتی ہے ، اور پندرہ منٹ پہلے آپ کو ہولے سے آ کر اٹھاتی ہے کہ

"جی سرتاج ! سحری کیجئے "

آپ مزے سے سحری کرتے ہیں ، اور نماز پڑھ کر پھر سے دراز ہو جاتے ہیں - وہ بے چاری گھر بھر کے جھوٹے برتن دھو کے ، سامان سمیٹ کے مزید تھک ہار کے بستر پر جاتی ہے ...ایسے میں آپ اس کو پیار سے سمیٹ لیتے ہیں - کیا محبت کی معراج ہے ، اور کیسی انسانیت کی تکمیل ہے - اس کا جی کیسا اچھا ہو جاتا ہو گا ، آپ اس کو گلے لگا لیں ، بازوؤں میں چھپا لیں تو کیا برا کیا ؟- اور ہمارے نبی کریم سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے ، رحم دل تھے -

تبصرہ:

رافضی اور منکرین حدیث اس حد یث میں موجود لفظ مباشرت کا رائج اردو مطلب یعنی جماع لیتے ہیں یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ اسلامی شریعت میں پہلے دن سے مباشرت کے یہ معنی نہیں لیےگئے۔ اگر یہی معنی ہوتے یا لیے جاتے تو اسلام میں حیض و روزے کی حالت میں جماع جائز ٹھہرتا ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے فتاوی و مسائل کی ہزاروں کتابیں گواہ ہیں کہ آج تک کسی بھی عالم نے حیض اور روزے کے دوران مباشرت کو جائز نہیں لکھا۔

حقیقت یہ ہے کہ عربی میں مباشرت مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے معنی بالمشافہہ، بلاواسطہ ، رد برد کے بھی ہوتے ہیں مثلاً علامہ احمد محمد شاکر لکھتے ہیں:ویحتمل کما قال ابن الترکمانی ان یکون سمع ھذا الحدیث من عمر مباشرۃ وسمعہ عنہ بالواسطۃ۔یعنی احتمال ہے، جیسا کہ ابن ترکمانی نے کہا ہے کہ راوی نے اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ”مباشرۃ” (بلاواسطہ بالمشافہہ) بھی سنا ہو اور بالواسطہ بھی سنا ہو۔

حدیث میں لفظ مباشرت سے مراد

عربی زبان میں اس کے اصلی معنی بدن سے بدن ملانے ہی کے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ مشہور عربی لغت قاموس کی شرح تاج العروس میں لکھا ہے “جب بیوی اور خاوند دونوں ایک ہی لباس میں اکھٹے ہوجائیں اور خاوند کا جسم عورت کے جسم سے چھو جائے تو اسکو مباشرت کہتے ہیں (تاج العروس جلد 3 صفحہ 42)

اسی لیے صاحب عون المعبود (شرح سنن ابی داؤد ) ذکر فرماتے ہیں کہ :معنی المباشرۃ ھھنا المر بالید من التقاء البشرتین۔

ترجمہ :یعنی یہاں مباشرت سے صرف ہاتھ سے چھونا، اور دو جسموں کا ملنا مراد ہے۔ (خالص اسلام ص۲۳۹)

اس اقتباس سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مباشرت کی حقیقت جماع نہیں ہے یہ تو اس سے کنایہ ہے اور مجازا استعمال ہوتا ہے ۔اصل معنی مباشرت کا بدن کا بدن سے چھونا ہے خواہ جس حصے سے ہو۔

حیض کی حالت میں مباشرت وجماع کی حدود

حیض اورنفاس کی حالت میں بیوی سے جماع کے ساتھ مباشرت کی جائے ، یہ قسم تو قرآنی نص اورمسلمانوں کے اجماع کے مطابق حرام ہے ۔ناف سے اوپر اورگھٹنے سے نيچے مباشرت کرنا یعنی بوس وکنار ، اورمعانقہ وغیرہ ، اس کے حلال ہونے پر سب علماء کرام کا اتفاق ہے ۔دیکھیے شرح مسلم للنووی ۔ اورالمغنی ابن قدامہ ( 1 / 414 ) ۔

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یھودیوں میں سے کوئي عورت حالت حیض میں ہوتی تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے بھی نہیں تھے اورنہ ہی انہيں اپنے گھروں میں رکھتے تھے توصحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارہ میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آيت نازل فرمائی :{ آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو ۔۔۔ آیت کے آخر تک } ۔تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جماع کے علاوہ باقی سب کچھ کرو ۔جب یہودیوں کواس کا پتہ چلا تووہ کہنے لگے اس شخص کوہمارے ہر کام میں مخالفت ہی کرنی ہوتی ہے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 302 ) ۔

صفحہ 1 از 2