واقعہ ہجرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت اور قرآن…

واقعہ ہجرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت اور قرآن کریم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

واقعہ ہجرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی رفاقت اور قرآن کریم

کسی صاحب نے عالم کبیر، مشہور محقق مناظر، فاتح اعظم شیعیت، حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی خدمت میں عرض کیا کہ واقعہ ہجرت میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے سفر کے بارے میں کچھ ارشاد فرما دیں۔
حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ نے فرمایا وہ آیت پڑھو:
اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌ فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلَيۡهِ وَاَ يَّدَهٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا السُّفۡلٰى‌ وَكَلِمَةُ اللّٰهِ هِىَ الۡعُلۡيَا وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡم۞
(سورة التوبة: آیت 40)
ترجمہ: اگر تم اُن (حضور اکرمﷺ) کی مدد نہ کرو گے تو یقیناً اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں نے اُن کو جلا وطن کردیا تھا جب دو میں ایک آپ (ﷺ) تھے جس وقت کہ دونوں غار میں تھےجب وہ اپنے دوست (ساتھی) سے فرماتے تھے کہ (میرا) غم نہ کرو یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہیں سو اللہ نے آپ پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان لشکروں سے مدد فرمائی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کی بات کو نیچا کر دیا (وہ ناکام رہے) اور اللہ ہی کا بول بالا رہا اور اللہ زبردست حکمت والے ہیں۔
اس آیت سے اور تاریخ سے ثابت کہ جب کفار نے گھر سے نکالا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ ساتھ تھے۔ فرق اتنا ہے کہ کفار نے تو حضور اکرمﷺ کو نکالا مگر سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے ان صعوبتوں کو اپنے سر خود لیا۔
شیعہ اعتراض نمبر1:
سیدنا صدیقؓ ساتھ نہیں تھے۔ بعد میں جا ملے حضورﷺ نے واپس اس لئے نہ کیا کہ جا کے بتا دیں گے۔
الجواب: (إِذْ أَخْرَجَهُ) یعنی کس حالت میں نکالا؟
مفعول کی ضمیر "ہ" کا مرجع ہے نبی کریمﷺ کی ذات اور "ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ" حال ہے۔
یعنی اس حالت میں نکالا کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ ساتھ تھے۔
اوّل کا لفظ حضورﷺ کے لئے بولا گیا ہے قرآن نے حضور اکرمﷺ کو اوّل المسلمین کا لقب فرمایا اور ثانی کا لقب سیدنا صدیقؓ کو۔
اور ثانی بھی ایسا کہ غار میں، بدر میں، خلافت میں، قبر میں۔ ترتیب رُتبی میں عددِ مساوی کی نسبت مساوی سے کی جاتی ہے۔ یہاں یہی ترتیبِ رُتبی ہے۔
إِذْ هُمَا فِی الغَارِ ، یہ پہلے اذ کا بدل ہے۔
إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ، صاحب کی ’’لا اضافت طرف حضورﷺ کے یا اس ضمیر کہ جس کا مرجع نبیﷺ کی ذات ہو تو صاحب اس کا ہم مذہب ہو گا۔ غیر نہیں ہو سکتا۔
شیعہ اعتراض نمبر 2:
کہ يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ کی تردید کرتا ہے۔
الجواب:
یہاں صاحب کی اضافت سِجن کی طرف ہے نبیﷺ‎ کی طرف نہیں۔ اس آیت سے سیدنا صدیقِ اکبر کا صحابی ہونا نص صریح ہے سیدنا صدیقؓ کی صحابیت کا انکار نص صریح کا انکار ہے جو کُفر ہے لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا الخ۔
شیعہ اعتراض 3:
خوف کا تعلق استقبال سے ہوتا ہے ’’حزن‘‘ کا ماضی سے۔ تو سیدنا ابوبکرؓ نے کوئی منصوبہ بنایا تھا۔ اس کا غم تھا۔ یہی جس معل پر وارد ہو اسکا ارتکاب حرام ہے گویا صدیق حرام کے مرتکب ہوئے۔
الجواب:
اوّل تو حزن کا لفظ سارے قرآن میں انبیاء و صالحین کے لئے بولا گیا ہے۔ کافر کے لئے نہیں بولا گیا۔ پس سیدنا صدیقِ اکبرؓ، صالحین کے سردار تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حزن کا لفظ ہمیشہ اس غم کے لئے بولا جاتا ہے جو دوسروں کے لئے ہو، نہ کہ اپنی ذات کے لئے۔ تو منصوبہ ظاہر ہے کہ غم یہ تھا کہ جس ترکیب سے ہم نے ہجرت کی اس کا علم کسی کو نہیں تھا۔ پھر یہ کافر کیسے پہنچ گئے۔
ایک شیعہ عالم علامہ باذل نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے۔
چنیں گفت راوی کہ سالار دیں
چو سالم بحفظ جہاں آفریں
نہ نزدیک آں قوم پروکررفت
بسوئے سرائے ابوبکرؓ رفت
پئے ہجرت اونیز آمادہ بود
کہ سابق رسولش طہ دادہ بود
نبیﷺ‎ بر در خانہ اش چوں رسید
بگوشش صدائے سفر درکشید
چوں بو بکرؓ زاں حال آگاہ شد
زخانہ بروں رفت و ہمراہ شد
پھر آگے جا لکھتا ہے:
بدیدند غارے درآں تیر و شب
کہ خواندے عرب غار نورش لقب
گرفتند در جوف آں غار جا
ولے پیش بنہاد بو بکر پاء
بہر جا کہ سوراخ یا رفتہ دید
فنارا بدرید و آں رخنہ چید
بدیں گونہ تاشد عمام آں قبا
یکے رخنہ نگذشت مانداز قضا
براں رخنہ گوئند آں یار غار
کف پائے خود را نمود استوار
پس ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو حضورﷺ کی ذات کا غم تھا اپنا غم نہیں تھا۔
یہاں ایک بات اور سمجھ لیجئے کہ حضور اکرمﷺ جب اپنی خواہش سے گفتگو بھی نہیں کرتے تھے تو ظاہر ہے کہ آپﷺ کے اعمال میں بھی خواہش کا دخل نہیں تھا۔ بلکہ ہر کام اللہ کے حکم سے کرتے تو ظاہر ہے کہ ہجرت کے سفر میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے گھر جا کر انہیں ساتھ لے جانا اللہ کے حکم کے تحت تھا۔ اور اللہ کریم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ بتا نا منظور تھا کہ دورانِ سفر اگر وحی آئے تو آپ کے نائب کو اس کا علم ہو۔ دوسرے لوگ تو اس سے سیکھ لیں گے۔
نادان یہاں سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا علیؓ کے درمیان مقابلہ شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہر ایک کی اپنی شان ہے اپنا مقام ہے اور اپنا کام ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی ذات وہ ذات ہے جسکی قربانی کا ذکر اللہ کریم نے اپنی کتاب میں کیا۔
قریشِ مکہ بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اہمیت سے واقف تھے جبھی تو جہاں حضور اکرمﷺ کے قتل کے لئے ایک سو ایک اونٹ انعام مقرر کیا وہاں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے قتل کا بھی اتنا ہی انعام مقرر کیا۔
پھر سیدنا علیؓ تو بچّے تھے کسی سے دشمنی نہیں تھی اور قریش من حیث الجماعت صدیقؓ کے دشمن تھے اور ہجرت کا منظر یہ ہے کہ سیدنا علیؓ تو حضور اکرمﷺ کی چارپائی پر ہیں اور حضور اکرمﷺ سیدنا صدیقؓ کی گود میں آرام فرا رہے ہیں۔
یہ نصیب اللہ اکبر لُوٹنے کی جائے ہے
اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌
جو معیت حضور اکرمﷺ سے ہے، وہی معیت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ ہے اور یہ معیت ذاتی ہے کسی خاص وصف کی بناء پر نہیں۔
صفحہ 1 از 4