واقعہ ہجرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت اور قرآن…

واقعہ ہجرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت اور قرآن کریم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4
ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ الخ۔ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ الخ۔
حضور اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کا وہ محبوب گروہ ہے کہ کُتبِ سابقہ میں جہاں حضورِ اکرمﷺ کے اوصاف بیان ہوئے وہاں حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کےبھی یہی اوصاف بیان ہوئے۔
یہاں ایک نکتہ سمجھ لیجیئے:
کُتبِ سابقہ پر جو لوگ ایمان لائے اگر وہ اپنے وقت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کے قائل نہ ہوتے جو اُن کی کتاب میں درج تھی تو کیا وہ لوگ مومن شمار ہوتے؟
جواب ظاہر ہے کہ جب وہ کتاب الہٰی کے ایک جُزو کے منکر ہوئے تو پوری کتاب ہی کے منکر ہوئے لہٰذا ان کے کافر ہونے میں کوئی شبہ کرسکتا ہے۔
اب اس حقیقت پر غور کیجئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیدائش سے پہلے اُن کی عظمت کو تسلیم نہ کرنے والا جب مسلمان نہیں ہو سکتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کی پیدائش کے بعد جو اُن کی عظمت کا قائل نہ ہو۔ اُسے کیا کہیں گے؟ لفظ یا اصطلاح خود تلاش کر لیجئے۔
"ازالۃُ الخفا عن خلافۃ الخلفاء" میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ذکر کیا ہے کہ جب بیتُ المقدس پر حملہ ہوا تو ایک پادری نے کہا تم اپنے رسول(ﷺ) کا دوسرا خلیفہ پیش کرو۔
ہمارے پاس اس کے جو اوصاف لکھے ہیں اگر وہی ہوا تو ہم اطاعت قبول کرلیں گے۔
چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ آئے، غلام اونٹ پر سوار تھا اور آپ نے مُہار پکڑی ہوئی تھی 11 پیوند لگے ہوئے تھے۔
پادری ایک تحریر لے کر سامنے آیا:
سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا کہ اللہ اور مومنوں کا سال ہے وہ واپس چلا گیا۔ ( آپؓ کے)ساتھیوں نے پوچھا یہ کیا بات تھی۔
آپؓ نے فرمایا اسلام سے پہلے ہم یہاں آئے تھے اس پادری نے مجھے دیکھا تھا اور کہا تمہارے ہاں ایک نبی (ﷺ) پیدا ہو گا تم اس کےدوسرے خلیفہ ہو گے۔ تمہاری فوجیں یہاں آئیں گی اس وقت میرا گرِجا بچانا چنانچہ میں نے اُسے لکھ دیا۔ اب یہ پادری وہی تحریر لے کر میرے سامنے پیش کر رہا تھا۔
تو میں نے وہ جواب دیا جو تم نے سُن لیا تھا۔
یہ ہے ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ الخ۔
كَزَرۡعٍ: یہ کھیتی اسلام ہے یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ثابت ہوا کہ لا تعداد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر ہے۔
أَخْرَجَ شَطْأَہُ: یہ مکی زندگی ہے۔
فَآَزَرَہُ: قریب ہجرت۔
فَاسْتَغْلَظَ: مدنی زندگی۔
فَاسْتَوَی: دَورِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کیونکہ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ اور لِیَغِیظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ کا تعلق اسی دور سے ہے اس مثال کو سمجھنے کے لئے چند مقدمات ہیں۔
پہلا مقدمہ: ترقی ہوگی علی الاتصال ہوگی۔ درمیان میں کٹے گی نہیں اور اللہ تک پہنچے گی۔
دوسرا مقدمہ: ترقی کے تمام مدارج عہد نبیﷺ میں پورے نہیں ہوئے۔ لِیَغِیظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ کا نقشہ قیصر ؔو کسریٰ کی شکست نے پیش کیا اور یہ بعد میں ہوا۔ حدیبیہ کے بعد حضور اکرمﷺ نے سلاطین کے نام خطوط پہنچے۔ رومی اور ایرانی حکومتوں کا ردّ عمل مختلف تھا۔ ایرانیوں کی فرعونیت کا یہ عالم تھا کہ بازانؔ کے نام حکم بھیجا کہ اس نبی کو گرفتار کرکے یہاں بھیجو۔ اس نے فیروؔز دیلمی کو بھیجا۔ اُس نے حضور اکرمﷺ پر سامنے آ کر کہا۔ امدنی ربی ان احملک الیہ کہ میرے مالک نے مجھے حکم دیا کہ آپ کو اس کے پیش کروں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا صبح جواب دیا جائے گا۔صبح کو اسے بلا کر فرمایا کہ میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ تیرا رب قتل ہو گیا ہے۔ فیروز نے جواب سن کر وقت نوٹ کر لیا۔ جو بعد میں صحیح ثابت ہوا۔
علامہ باذل نے حملہ حیدری میں اس کا نقشہ کچھ یوں پیش کیا ہے:
بگوئید اوّل جواب سلام
رسانید آنگہ زمن ایں پیام
کہ از قدرتِ قادر ذوالجلال
شود پاک گیتی ز کفر و ضلال
ہمہ اہل ایران و اہل یمن
بزودی در آئیندہ در دین من
معلوم ہوا کہ ایران اور یمن کو کفر سے پاک کرنے والی جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی۔ لہٰذا وہی جماعت دینداروں کی تھی۔ اور ان ممالک میں دین پھیلا اور یہ عہدِ فاروقیؓ میں ہوا گویا حضور اکرمﷺ کی پیشگوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھوں عہدِ فاروقیؓ میں پوری ہوئی اور یہ بھی ثابت ہوا کہ دینِ عمرؓ ہی دینِ محمدیﷺ تھا۔
تیسرا مقدمہ: حضور اکرمﷺ کے علی الاتصال 24 سال خلافتِ اصحابِ ثلاثہؓ رہی اگر شیعوں کا دعویٰ خلیفہ بلا فصل تسلیم کیا جائے تو ظاہر ہے کہ ترقی علی الاتصال نہیں ہوئی۔ بلکہ بقول ان کے درمیان میں کفار کی حکومت آگئی اور ترقی انتہاء کو بھی نہ پہنچی۔
اعتراض: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جنگیں جو ہوتی رہیں رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کہاں رہ گیا؟
الجواب: معترض کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جو فرمایا وہ ٹھیک نہیں۔ کوئی ایماندار تو یہ اعتراض نہیں کر سکتا۔ جس کا قرآن پر ایمان ہو۔ وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ مؤرخین نے جو واقعات بیان کئے ہیں وہ قرآن کے احکام کو رَد نہیں کر سکتے۔
اگر جھگڑے ہی رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کی تردید کرتے ہیں۔ تو جھگڑے کس کے درمیان ہوئے؟
اگر سیدہ عائشہؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ، رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کا مصداق نہیں تو سیدنا علیؓ اور وہ جنہیں تُم اہلِ بیت کہتے ہو وہ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کا مصداق کیسے رہ گئے؟
جب تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اور اہلِ بیت رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ سے خارج ہیں تو اس کا مصداق بھی تو لکھیں چلیں تاریخ سے ہی دکھائیے۔
سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مطالبہ قصاصِ عثمانؓ کا تھا۔ رافضی مؤرخین نے اسکو خلافت کا جھگڑا بنا ڈالا۔
اور بعد میں آنے والے تمام مؤرخین مکھی پر مکھی مارتے گئے۔
سورۃ الحجرات میں دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جھگڑے عناد، لالچ یا کسی دنیوی غرض کے تحت نہیں تھے۔
اس لیے اس سورہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اخلاق بتائے تاکہ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کی صفت اُٹھ نہ جائے۔ مثلاً مومن یا تو نیک ہے یا بد۔ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تب رہیں گے جب نیک صورت قائم رہے۔ اگر نیک ہے تو حاضر ہے یا غائب۔
صفحہ 3 از 4