مکالمہ فدک (تیسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور شیعہ کتب - سنی شیعہ…

مکالمہ فدک (تیسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور شیعہ کتب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا دین کے عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جس طرح ستاروں پر چاند کی فضیلت اور چاندنی رات پر فضیلت ہے اور علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں چھوڑتے اپنی امت کے لئے درہم و دینار، بلکہ وہ وراثت میں چھوڑتے ہیں علم دین کو۔ پس جس نے اس کو حاصل کیا، اس نے بڑا حصہ پا لیا۔

(کتاب اصول الكافی: الشيخ الكليني: جلد 1 صفحہ 19)

اصول الکافی کی اس حدیث کو خمینی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے۔

3: یہ تیسری روایت شیعہ کی مشہور کتاب قرب الاسناد میں موجود ہے اور علامہ الحمیری القمی نے بحار الانوار کے حوالے سے بیان کی ہے۔

304۔ جعفر، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة لأهله۔

ترجمہ: حضرت ابو جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بےشک رسول اللہﷺ نے کسی کو درہم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا، بلاشبہ آنحضورﷺ کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عیوض رہن تھی، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لئے بطور نفقہ یہ جو لئے تھے۔ 

(قرب الاسناد الحمیری القمی: صفحہ 91، 92)

 (بحوالہ المجلسي في البحار: جلد 8 صفحہ 16، 219)


 

جعفری: یہ حوالے ہماری کتب میں ہیں اور تعجب ہے کہ پھر بھی ہمیں یہی سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ انبیاء کرام کی میراث میں مال ملکیت بھی شامل ہے۔

صدیقی: تم خود سوچو! ایک طرف تم لوگ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر تہمت لگاتے ہو کہ اس نے انبیاء کرام کی مالی میراث نہ ہونے کی حدیث خود گھڑی ہے، اور دوسری طرف خود شیعہ معتبر کتب میں اماموں سے یہی حقیقت کئی روایات میں بیان کی گئی ہے۔

جعفری: لیکن پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ باغ فدک سیدہ کا حق تھا اور بطورِ میراث انہیں ملنا چاہیے تھا۔

صدیقی: یار! تمہیں پتہ ہے کہ اہل تشیع کے ہاں عورت زمین کی وارث بنتی ہی نہیں ہے؟

جعفری: کیا مطلب؟ 

صدیقی: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق باغ فدک بطور میراث سیدہ کا حق نہیں بنتا، کیونکہ غیر منقولہ جائیداد یعنی زمین، گھر  اور باغات وغیرہ عورت کو وراثت میں نہیں دیے جاتے۔

جعفری: کمال ہے۔ تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟ وہ روایات ہماری کتب سے دکھاؤ؛ ایسے تھوڑی یقین کرلوں گا۔

صدیقی: جی بالکل! میں تمہیں کئی روایات دکھاتا ہوں، شیعہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ ان کے مذہب میں عورت کو غیر منقولہ جائیداد اور زمین کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا، شیعہ محدثین نے اس مسئلہ کو مستقل ابواب و عنوانات کے تحت مختلف معتبر کتب میں بیان کیا ہے۔

یہ دیکھو!

کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے۔!!

باب: (ان النساء لا يرثن من العقار شيئا) علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى، عن يونس، عن محمد بن حمران، عن زرارة عن محمد بن مسلم، عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا۔

عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا۔

اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں۔ ان کے چوتھے امام ابو جعفر (ع) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔!!

(الفروع من الکافی کتاب المواریث: جلد 7 صفحہ 137)


(1066) 26 يونس بن عبد الرحمان عن محمد بن حمران عن زرارة ومحمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا.

حضرت امام باقر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا عورت زمین و جائیداد میں سے کسی کی وارث نہیں۔

(کتاب تہذیب الاحکام الشیخ الطوسی: جلد 9 صفحہ 254)





 

جہاں تک ان کے حقوق غصب کرنے کا سوال ہے، اس بارے میں مجلسی باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ:

’’ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے جب دیکھا کہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) خفا ہو گئیں تو ان سے کہنے لگے: میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہﷺ کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کے لیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا۔ 

(حق الیقین: صفحہ 201، 202 ترجمہ از فارسی)

اب تم خود سوچو! حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اگر مال ملکیت کی لالچ ہوتی اور فدک اپنی ذات کے لئے حاصل کرنا مقصود ہوتا تو اپنی دولت سیدہ کی خدمت میں کیوں پیش کرتے؟ اتنی عاجزی سے سیدہ کی فضیلت کا اقرار کیوں کرتے؟ کیا ظالم حکمران اس طرح حقوق غصب کرتے ہیں؟ 

جعفری: فدک اہل بیت سے غصب کر کے انہیں مفلس کرنا اصل مقصد تھا تاکہ وہ خلافت کے لئے کوششیں نہ کرسکیں اور عام لوگ ان کی غربت دیکھ کر ان کی مدد ہی نہ کریں۔

صدیقی: یار۔ یہ بات اس وقت درست مان لیتا جب تم خلفاء ثلاثہؓ کو دولت مند ثابت کر دو گے۔

تاریخ اسلام، اہل سنت اور اہل تشیع تمام کتب کے مطابق کسی خلیفۂ رسول نے اپنے بعد کوئی جاگیر، مال ملکیت ورثہ میں نہیں چھوڑی۔ چاروں خلیفہ رسول نے عین سنت نبوی کے مطابق فقر و افلاس میں زندگی گذاری۔ نبی کریمﷺ کی تربیت یافتہ جماعت نے دنیاوی مال و دولت کبھی جمع نہ کی۔

اس لئے یہ کہنا کہ فدک کو غصب کرنے کا مقصد اہل بیت کو معاشی طور پر کمزور کرنا تھا، حقیقت کے منافی ہے، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مال فے سے حاصل شدہ آمدنی کو من وعن نبی کریمﷺ کے مطابق خرچ کیا، ان کے بعد دوسرے خلفاء رسول نے بھی صدیقی فیصلے کو قبول کیا اور اسی پر عمل کیا۔ فدک خلفاء راشدہ کے دور میں کسی کی بھی ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا گیا، ہر دور میں اس کے متولی ضرور بدلتے رہے۔

صفحہ 2 از 3