مکالمہ فدک (تیسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور شیعہ کتب - سنی شیعہ…

مکالمہ فدک (تیسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور شیعہ کتب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

جعفری: یار تمہاری کئی باتیں درست ہیں، مجھے لگتا ہے کہ فدک پر میرا علم محدود ہے، مجھے مزید تحقیق کرنا ہو گی۔ 

صدیقی: میں نے تمہیں صرف چند روایات دکھائی ہیں۔ درحقیقت شیعہ معتبر کتب میں بیشمار روایات سے بھی یہی حقائق ثابت ہوتے ہیں۔

جعفری: مجھے یاد آ رہا ہے ایک بار ایران میں یہ مسئلہ دوران کلاس زیر بحث آیا تھا، ہمارے استاد محترم نے ان روایات کو رد کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگرچہ یہ روایات ائمہ معصومین سے صحیح السند روایات ہیں لیکن قابل حجت نہیں بن سکتیں کیونکہ یہ روایات قرآن کریم سے متعارض ہیں۔

صدیقی: بیشک یہ بھی ایک مسلمہ اصول ہے کہ قرآن کریم سے متعارض کوئی روایت قابل قبول نہیں ہوتی، تم دلیل دو کہ یہ روایات قرآن کریم سے متعارض ہیں۔

جعفری: کئی آیات قرآنی میں انبیاء کرام کے ورثہ کا ذکر کیا گیا ہے۔

اگر انبیاء کرام کی واقعی میراث نہ ہوتی تو پھر قرآن کریم میں میراث انبیاء کا ذکر بھی نہ کیا جاتا۔

میں تمہیں کل تفصیل سے بتاؤں گا، آج ہم یہیں پر گفتگو ختم کرتے ہیں۔ 

صدیقی: چلو ٹھیک ہے ، کل ہم میراثِ انبیاء کو قرآن کریم کی روشنی میں معلوم کریں گے۔ 

تم جو بھی آیات قرآنی پیش کروگے، ہم انہیں اہل سنت تفاسیر اور شیعہ تفاسیر سے بھی دیکھیں گ ، اور ان شاء اللہ اس مسئلہ کا حل قرآن کریم سے ہی تلاش کریں گے۔

جعفری: بالکل ٹھیک ہے۔

میں اب چلتا ہوں۔ یا علی مدد 

صدیقی: ٹھیک ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
 


صفحہ 3 از 3