Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اعتراض: اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دو مردوں کے سامنے(معاذاللہ) غسل کیا تھا۔

  جعفر صادق

اہل تشیع صحیح بخاری کی جن بیشمار صحیح احادیث پر اعتراض کرتے ہیں ، ان میں سے ایک حدیث وہ بھی ہے جس کے متن میں درج ہے کہ اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دو مردوں کے سامنے غسل کیا تھا۔


امام بخاری فرماتے ہیں کہ!

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو، عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَبَهْزٌ وَالْجُدِّيُّ عَنْ شُعْبَةَ قَدْرِ صَاعٍ‏.

ابو سلمہ (عبدالرحمٰن) فرماتے ہیں کہ!۔ میں اور عائشہ (رضی اللہ عنہا) کا (رضاعی) بھائی (ہم دونوں) عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس گئے آپ کے (رضاعی) بھائی نے نبی صلی اللہ علیہ کے (سر کے) غسل کے بارے میں پوچھا (کہ یہ کیسا تھا؟) تو انہوں (عائشہ رضی اللہ عنا) نے صاع (ڈھائی کلو) کے برابر (پانی کا) ایک برتن منگوایا پھر انہوں نے غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا، ہمارے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔

(بخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع ونحوہ ح ٢٥١)

اس حدیث کو امام مسلم ٣٢٠/٤٢۔

دارالسلام:٧٢٨) نسائی (الصغری:١٢٧/١ح٢٢٨ والکبری:١١٦/١ح٢٣٢ احمد بن حنبل (المسند:٦/ ٧٢،٧١ح٢٤٩٣٤، ١٤٣/٦ح٢٥٦٢٠) ابو نعیم الاصبھانی (المستخرج علی صحیح مسلم ٣٧٠/١ ح ٧٢٠ ابوعوانہ (المسند المستخر جلد ١/ ٢٦٦،٢٩٥) اور بہیقی (السنن الکبرٰی:١٩٥/١) نے شعبہ (بن الحجاج) کی سند سے مختراََ و مطولانحو المعنی بیان کیا ہے۔


اس روایت کے مفہوم میں درج ذیل باتیں اہم ہیں۔

1️⃣ صحابہ کرام کے دور میں اس بات پر شدید اختلاف ہوگیا تھا کہ غسل جنابت کرتے وقت عورت اپنے سر کے بال کھولے گی یا نہیں اور یہ کہ غسل کے لئے کتنا پانی کافی ہے عبدالللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے تھے کہ غسل کرتے وقت اپنے سر کے بال کھول کر غسل کریں اس پر تعجب کرتے ہوئے امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ۔۔

ياعجباً لا بن عمرو ھذا يأمر النساء إّذا اغتسلن أن ینقضن روؤسھن أفلا یأمرھن أن يحلقن رؤوسن۔

ابن عمرو پر تعجب ہے کہ وہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ غسل کرتے وقت اپنے سر کے بال کھول دیں وہ انہیں یہ حکم نہیں دیتے کہ وہ اپنے سر کے بال منڈوا ہی لیں؟؟؟۔۔۔

(صحیح مسلم ٣٣١/٥٩، دارالسلام:٧٤٧)۔۔۔

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا پر رد کے لئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عملاَََََ سر پر پانی ڈال کر سمجھایا کہ بال کھولنا ضروری نہیں ہے۔

٣۔ محدث ابوعوانہ الاسفرائنی (متوفی ٣١٦ ھ) نے اس حدیث پر درج ذیل باب باندھا ہے۔۔۔

[باب صفۃ الاوانی التی کان یغتسل منھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصفۃ غسل راسہ من الجنابۃ، دون سائر جسدہ]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل والے برتنوں کا بیان اور غسل جنابت میں، باقی سارے جسم کو چھوڑ کر (صرف) سردھونے کی صفت کا بیان (صحیح ابوعوانہ:٢٨٤/١)۔۔۔

  محدث کبیر کی اس تبویب سے معلوم ہوا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے صرف سر دھو کر دکھایا تھا باقی جسم دھوکر نہیں دکھایا تھا۔

صحیح مسلم والی روایت میں آیا ہے کہ!۔

[فأفرغت علی رأسھا ثلاثاً]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر پر تین دفعہ (بال کھولنے کے بغیر ہی) پانی بہایا تھا۔ (٣٢٠/٤٢) باقی جسم کے غسل کا کوئی ذکر اس روایت میں نہیں ہے۔

 صحیح بخاری و صحیح مسلم میں آیا ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ اور شاگردوں کے درمیان (موٹا) پردہ (حجاب، ستر) تھا ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کررہے تھے۔۔۔

[فاطمہ ابنتہ تسترہ یثوب]

اور آپ کی بیٹی فاطمہ نے ایک کپڑے کے ذریعے آپ کا پردہ کر رکھا تھا

(موطا امام مالک:١٥٢/١ ح ٣٥٦ بتحقیق، وصحیح البخاری:٣٥٧ و صحیح مسلم:٢٣٦/٨٢ بعد ح ٧١٩)۔

یہ ظاہر ہے کہ پردے کے پیچھے نظر آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ورنہ پھر پردے کا کیا مقصد ہے؟؟؟

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے رضائی بھائی عبداللہ بن یزید البصری تھے (ارشاد الساری للقسطلانی: ج ١ ص ٣١٧) یا کثیر بن عبیدالکوفی تھے (فتح الباری:٣٦٥/١) ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے تھے (فتح الباری:٣٦٥/١) معلوم ہوا کہ یہ دونوں شاگرد، غیر مرد نہیں بلکہ محرم تھے اسلام میں محرم سے سر، چہرہ اور ہاتھوں کا کوئی پردہ نہیں ہے۔۔۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی خدمت حاضر ہونے والے دونوں محرم تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے پردہ ڈال کر غسل کیا اور دونوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کا سر اور اوپر کا بدن دیکھا جو محرم کو دیکھانا درست ہے لیکن جسم کے باقی اعضاء جن کا مستور رکھنا محرم سے بھی ضروری ہے وہ پردہ میں تھے]۔۔۔

(فضل الباری: جلد ٢ صفحہ ٤٢٨)۔

اس حدیث پر اہل تشیع اعتراض کرتے ہیں کہ ان احادیث کو ماننے سے لازم آتا ہے کہ اجنبی مرد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے تھے اور وہ اُن کو غسل کر کے دکھادیتی تھیں!!

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مرد اجنبی نہ تھے ان میں سے ابو سلمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھتیجے تھے اور دوسرے عبداللہ بن یزید آپ کے رضائی بھائی تھے۔ غرض دونوں محرم تھے آپ نے حجاب کی اوٹ میں غسل کیا اور ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ازواج مطہرات کپڑوں کے ساتھ غسل کرتی تھیں اور اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ان کو شرح صدر ہوجائے کہ اتنی مقدار پانی غسل کے لئے کافی ہوتا ہے۔

 اس حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں نے سر اور جسم کے اس بالائی حصے میں غسل کا عمل دیکھا جس کو دیکھنا محرم کے لئے جائز ہے اور اگر انہوں نے اس غسل کا مشاہدہ نہ کیا ہوتا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پانی منگانے اور ان کی موجودگی میں غسل کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے ستر کا انتظام، سر اور چہرے کے نچلے حصے کے لئے کیا تھا جس کو دیکھنا محرم کے لئے جائز نہیں ہے۔۔

(شرح صحیح مسلم جلد ١ صفحہ ١٠١٩۔١٠٢٦)

  خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ غسل میں سر کے بال کھولنے کے بغیر ہی سر پر تین دفعہ پانی ڈالنا چاہئے اس حدیث کا باقی جسم کے غسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس حدیث پر رافضیوں سے واٹس آپ پر کی گئی گفتگو/مکالمہ

محدث کبیر سے کوئی پوچھے کہ صرف سر دھونا نہیں آرہا تھا جاہل صحابی کو کہ وہ بھی امی سر کا غسل دکھا رہی تھی؟؟ / کیسی کیسی نا معقول جاہلانہ تاویلیں کرتے ہیں غلط بات کو چھپانے کے لیے

چلیں آپ ثابت کریں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ نے مکمل غسل کرکے دکھایا تھا۔۔۔ 

ویسے اگر ایسا ہوتا تو بیچ میں پردہ کا ذکر کیوں ؟؟

یہ حدث کبیر کی ذاتی راء تھی آپ نے کیوں مانی؟؟؟

اصل عربی متن پیش کریں

یہ لیں

Sahih Bukhari - 251

کتاب:کتاب غسل کے احکام و مسائل

باب:اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَبَهْزٌ ، وَالْجُدِّيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ : قَدْرِ صَاعٍ .

ترجمہ:

میں ( ابوسلمہ ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ ( نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔ )

اوپر متن حدیث موجود ہے۔ آپ آرام سے غور کریں اور بتائیں کہ ہمارے محدثین نے کہاں پر غلط ترجمہ یا غلط تشریح کی ہے۔  

سئلھا اخوھا عن غسل النبی

صحیح؟

اب بتائیں غسل نبی پاک کا طریقہ کار کیا تھا؟

فقط سر دھونا؟؟؟؟؟

آپ بتائیں غسل ہی دکھانا تھا تو بیچ میں پردہ کیوں ؟  

انسان صرف ایک حدیث سے اپنی پسند کا مطلب نہیں نکال لیتا۔۔ اسی واقعہ کے متعلق تمام صحیح احادیث دیکھ کر درست مفہوم نکالا جاتا ہے۔  

کیا یہ معقول بات ہے کی سر دھونے کا ہی پریکٹیکل کیا ہوگا امی نے؟؟؟ اور صحابی یہی جاننے کے لیے آئے؟؟؟

کیا یہ معقول ہے سوال غسل کا ہو اور سر دھوکر فائنل؟؟؟

کیا کوئی وضو کا طریقہ ہوچھے تو مولانا اپنا چہرہ فقط دھوکر کہہ دے کہ چل بیٹا یہی ہے وضو؟؟؟؟

یہی ہمارا سوال ہے آپ کا کیوں؟ غسل پریکٹیکلی دکھایا تو پردہ کیسا ہوگا وہ؟ باریک یا موٹا کیلنک والا؟؟؟؟ یقینا پتلا جس کے لیے صحابی بھونک رہا ہے کہ امی معاذاللہ جہاں جہاں پہ پانی ڈال رہی تھیں تو ہم دیکھ رہے تھے

میرے جوابات کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔ پوری بکواس ہے یہ روایت امی کے خلاف۔۔۔

بندہ کچھ معقول بات تو کرے کم از کم

آپ کی تمام باتیں نامعقول ہیں۔

پہلی بات۔۔ عورت کے غسل میں سر کے بال کھولنے یا نہ کھولنے پر صحابہ کرام میں اختلاف پیدا ہوا تھا۔

  سوال مکمل غسل کے متعلق ہونا کس طرح ممکن ہے کیونکہ نبی کریم پہلے ہی مرد کے غسل کے متعلق تعلیم فرماچکے ہیں۔

  دوسری بات دونوں مرد محرم تھے اور صرف جسم کے وہی حصے دیکھے جو اسلام میں محرم کو دیکھنے کی اجازت ہے۔

اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ اہل علم کسی بھی واقعہ کے متعلق تمام روایات یکجہ کرکے پھر اس واقعہ کے متعلق حتمی رائے قائم کرتے ہیں۔  

بیچ میں پردہ کا موجود ہونا ہی آپ کے مؤقف کو باطل کردیتا ہے۔

باریک پردہ نہیں ہوتا۔۔ پردہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ آر پار نظر نہ آسکے۔۔ 

صحابی کا بھونکنا آپ کو اس لئے لگ رہا ہے کہ بغض صحابہ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔

اگر منصف مزاجی سے حدیث کو سمجھیں گے تو بات سمجھ میں آجائے گی۔  

اگر یہ حدیث بکواس ہے تو عورتوں کے کئی مسائل سیدہ عائشہ صدیقہ سے مروی ہیں وہ سب بھی معاذاللہ بکواس ہوجائیں گے!!

بلکہ میرے علم کے مطابق خود اہل تشیع کے ہاں سیدہ عائشہ کی مروی کئی احادیث کی بنیاد پر عورتوں کے اہم مسائل کا حل نکالا گیا ہے۔

ویسے جب پردہ کے پیچھے سے نظر نہین ارھا تھا تو امی جان کر کیا رھی تھی۔

مسلہ تو یہی ہے کہ بیبی چاھ رھی ہین کہ لوگوں کو غسل دکھایں۔

تو وہ پردہ کے پیچھے سے کیسے دکھا سکتی ہین۔

غسلِ جنابت سکھایا جارہا تھا دو ننھے منے بچوں کو اور بچوں نے کالے ویلڈنگ والے چشمے پہن رکھے تھے

کاش قرآن پاک پر ایمان ہوتا۔۔ صحابہ کرام کی عزت و توقیر بھی ہوتی اور امہات المؤمنین کا تقدس بھی دل میں ہوتا۔  

مسئلہ یہ ہے کہ دل میں جب بغض صحابہ اور بغض امہات المؤمنین ہو تو پھر انسان اندھا بن جاتا ہے۔  

اگر اوپر کے دلائل نہیں پڑھے تو پڑھ لیں۔

اور اگر پڑھ کر بھی یہی کہنا ہے تو پھر اندھے بنے رہیں۔ 

ہماری احادیث ہم بہتر جانتے ہیں۔

اوپر محدثین کرام کی تشریح دوسری صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کرچکا ہوں۔  

عقل کا اندھا بھی سمجھ سکتا ہے۔

کہ اگر کوئی سوال کوے اور آپ اسکو پریکٹکل دکھانا چاھتے ہیں تو یا تو پردہ نہیں ھوگا اور ھوگا نازک۔

ورنہ اگر بیان کرنا ہے تو اسکے ضروری نہیں کہ دکھائی ۔

لیکن اگر پریکٹکل دکھانا ہے تو دکھائی دینا ضروری ہے۔

توھین تم نے بھری اپنی کتب بیبی کے لئے اور الزام پھر بھی دوسروں پر

اگر عقل ہوتی تو سمجھ لیتے کہ ایک محرم مرد ، محرم عورت سے عورت کا مسئلہ ہی پوچھ سکتا ہے۔  

کچھ مسائل پریکٹیکل دکھائے بغیر کلیئر نہیں ہوتے۔  

ایک صحیح حدیث اعتراض

سیدہ عائشہ اور صحابہ کرام پر اعتراض

یہ سب کیا کہلاتا ہے؟  

شریعت کے اصولوں کے مطابق ہی سیدہ عائشہ نے سر کے بالوں پر پانی گرا کر درست طریقہ سکھلایا۔  

بغیر پریکٹکل کر کے بھی بتایا جا سکتا تھا۔

مطلب قرآن پاک براہ راست نازل ہوجانا چاہئے تھا۔  

نبی کریم کو دنیا میں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ 

اچھا اگر نبی کے پاس کوئی عورت آئے کہ شادی کے قوانین بتاہیں اور اسکو سب سمجھانے لگیں۔

نعوذ باللہ بغیر تشبیھ۔

اور نبی اسکو پریکٹکل طریقہ سے سمجھانے لگے تو ۔۔۔۔

بابا ھر چیز کی اپنی خاص شرطیں ھوتی ہیں۔

ایسا ھو سکتا تھا کہ خواتین کو بیبی کے پاس بھیجا جاتا کہ آپ ان کو دیکھیں اور دوسروں کو بتایں۔۔

ورنہ ھمارے عقیدہ کے مطابق ازواج النبی ص ایسا نہیں کر سکتی۔

اور نہ کیا۔ ۔

نبی کریم کے پاس عورتیں مخصوص مسائل پوچھنے آتی تھیں۔

کئی بار سیدہ عائشہ نے الگ لے جاکر انہیں مسائل سمجھائے۔

بھت خوب۔

یہ ھی ھمارا عقیدہ ہے کی بیبی نے عورتوں کو انکے مسائل بتاے۔

اور نبی نے مردوں کو۔

دین کی تعلیمات سیکھنے اور سکھانے میں عورت یا مرد میں تمیز نہیں کی جاتی۔

سیدہ عائشہ سے محرم مردوں نے جو مسئلہ پوچھا وہ شرعی حدود میں سکھلانا ممکن تھا۔ اسی لئے پریکٹیکل دکھلا کر تعلیم فرمادیا۔  

جب کوئی مسئلہ خاص خواتین سے مربوط آتا تھا نبی پاک بیبی کی طرف ارجا دیتے تھے۔

کون تھا محرم؟؟؟

مطلب عورت محرم مرد کو عورت کے مسائل سے آگاہ نہیں کرسکتی؟ کیا اہل تشیع کے ہاں یہ قانون ہے؟  

اس حدیث پر اہل تشیع اعتراض کرتے ہیں کہ ان احادیث کو ماننے سے لازم آتا ہے کہ اجنبی مرد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے تھے اور وہ اُن کو غسل کر کے دکھادیتی تھیں!!

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مرد اجنبی نہ تھے ان میں سے ابو سلمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھتیجے تھے اور دوسرے عبداللہ بن یزید آپ کے رضائی بھائی تھے۔ غرض دونوں محرم تھے آپ نے حجاب کی اوٹ میں غسل کیا اور ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ازواج مطہرات کپڑوں کے ساتھ غسل کرتی تھیں اور اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ان کو شرح صدر ہوجائے کہ اتنی مقدار پانی غسل کے لئے کافی ہوتا ہے۔

کرسکتی ہے لیکن پیامبر اسلام ایسا نہین کرتے تھے بلکہ عورتون کو بیبی پاس بھیجتے تھے۔

غلط

نبی کریم نے کئی بار عورتوں کو خود مسائل تعلیم فرمائے۔ 

نبی صرف مردوں کا نہیں ہوتا۔ 

بھت غلط۔

نبی نے دونوں چیزوں کا لحاظ رکھا۔

بیشک نبی مرد اور عورت دونوں کا ھوتا ہے۔

چلیں یہ حدیث پڑھیں

Sahih Bukhari - 228
کتاب:کتاب وضو کے بیان میں
باب:حیض کا خون دھونا ضروری ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ، قَالَ : وَقَالَ أَبِي : ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ .

ترجمہ

ابوحبیش کی بیٹی فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے۔ اس لیے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے۔ تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے ( بدن اور کپڑے ) سے خون کو دھو ڈال پھر نماز پڑھ۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ عروہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( بھی ) فرمایا کہ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی ( حیض کا ) وقت پھر آ جائے۔

صحیح ہے کوئی اعتراض نہیں۔

خارج از موضوع۔

کئی احادیث میں کئی مسائل عورتوں نے براہ راست نبی کریم سے پوچھے اور نبی کریم نے براہ راست تعلیم فرمائے۔  

کوئی منکر نہیں۔۔

خارج از موضوع۔

یہ حدیث آپ کی اس بات کا رد ہے کہ عورتوں کے مسائل کے لئے نبی کریم بیبی کی طرف بھیج دیتے تھے!!!  

ھم نے ادعا ھی نہین کیا۔

نبی کریم نے عورت یا مرد میں کوئی فرق نہیں رکھا۔

دین کی تعلیم سیکھنا اور سکھانا ہر خاص و عام ہر مرد و عورت کا فرض ہے اور ان کا حق ہے۔ 

بلکہ روایات میں ہے کہ نبی خاص مسائل کے لئے ارجاع بھی دےدے تے تھے 

یہ ان صورتوں میں جب عورتیں مسئلہ کو درست سمجھ نہ پاتیں۔ 

بیشک۔

جی تبھی بیبی نے ضروری سمجھا اور عورت اور مرد میں فرق کے بغیر پریکٹکل کر کے دکھایا۔

جی بالکل۔۔۔  مرد غیر محرم نہیں تھے۔

  مسئلہ شرعی حدود میں سکھلانا آسان اور عین ممکن تھا۔

بھت عمدہ۔

تو پس اپکا کھنا میں اچھی طرح سمجط گیا کہ بیبی نے بغیر مرد اور عورت کے فرق کے۔ پریکٹکل کرکے دکھایا۔

دل میں اگر عشق نبی اور محبت امہات المؤمنین ہو ، صحابہ کرام کی تعظیم و توقیر بھی ہو تو یہ حدیث سمجھا اتنا مشکل نہیں ہے۔

وہ پریکٹیکل جو شرعی حدود میں ممکن ہے۔ محرم مرد کو دکھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

کیا اہل تشیع کے ہاں عورت اپنے محرم مرد کو دین کی تعلیم کا کوئی طریقہ شرعی حدود میں رہ کر پریکٹیکل کر کے نہیں سکھا سکتی؟؟؟  

کیا اہل تشیع کے ہاں عورت اپنے محرم مرد کو دین کی تعلیم کا کوئی طریقہ شرعی حدود میں رہ کر پریکٹیکل کر کے نہیں سکھا سکتی؟؟؟ حالت مجبوری میں۔۔

جی جی بال کھولنے اور باندھنے کا مسلہ زبانی نہیں بتایا جا سکتا تھا

صرف بال کھولنا یا باندھنا نہیں بلکہ کتنا پانی استعمال کرنا ہے اور کس طرح گرانا ہے۔