اعتراض: ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دو مردوں…

اعتراض: ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دو مردوں کے سامنے(معاذاللہ) غسل کیا تھا۔

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

 اس حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں نے سر اور جسم کے اس بالائی حصے میں غسل کا عمل دیکھا جس کو دیکھنا محرم کے لئے جائز ہے اور اگر انہوں نے اس غسل کا مشاہدہ نہ کیا ہوتا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پانی منگانے اور ان کی موجودگی میں غسل کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے ستر کا انتظام، سر اور چہرے کے نچلے حصے کے لئے کیا تھا جس کو دیکھنا محرم کے لئے جائز نہیں ہے۔۔

(شرح صحیح مسلم جلد ١ صفحہ ١٠١٩۔١٠٢٦)

  خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ غسل میں سر کے بال کھولنے کے بغیر ہی سر پر تین دفعہ پانی ڈالنا چاہئے اس حدیث کا باقی جسم کے غسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس حدیث پر رافضیوں سے واٹس آپ پر کی گئی گفتگو/مکالمہ

محدث کبیر سے کوئی پوچھے کہ صرف سر دھونا نہیں آرہا تھا جاہل صحابی کو کہ وہ بھی امی سر کا غسل دکھا رہی تھی؟؟ / کیسی کیسی نا معقول جاہلانہ تاویلیں کرتے ہیں غلط بات کو چھپانے کے لیے

چلیں آپ ثابت کریں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ نے مکمل غسل کرکے دکھایا تھا۔۔۔ 

ویسے اگر ایسا ہوتا تو بیچ میں پردہ کا ذکر کیوں ؟؟

یہ حدث کبیر کی ذاتی راء تھی آپ نے کیوں مانی؟؟؟

اصل عربی متن پیش کریں

یہ لیں

Sahih Bukhari - 251

کتاب:کتاب غسل کے احکام و مسائل

باب:اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَبَهْزٌ ، وَالْجُدِّيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ : قَدْرِ صَاعٍ .

ترجمہ:

میں ( ابوسلمہ ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ ( نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔ )

اوپر متن حدیث موجود ہے۔ آپ آرام سے غور کریں اور بتائیں کہ ہمارے محدثین نے کہاں پر غلط ترجمہ یا غلط تشریح کی ہے۔  

سئلھا اخوھا عن غسل النبی

صحیح؟

اب بتائیں غسل نبی پاک کا طریقہ کار کیا تھا؟

فقط سر دھونا؟؟؟؟؟

آپ بتائیں غسل ہی دکھانا تھا تو بیچ میں پردہ کیوں ؟  

انسان صرف ایک حدیث سے اپنی پسند کا مطلب نہیں نکال لیتا۔۔ اسی واقعہ کے متعلق تمام صحیح احادیث دیکھ کر درست مفہوم نکالا جاتا ہے۔  

کیا یہ معقول بات ہے کی سر دھونے کا ہی پریکٹیکل کیا ہوگا امی نے؟؟؟ اور صحابی یہی جاننے کے لیے آئے؟؟؟

کیا یہ معقول ہے سوال غسل کا ہو اور سر دھوکر فائنل؟؟؟

کیا کوئی وضو کا طریقہ ہوچھے تو مولانا اپنا چہرہ فقط دھوکر کہہ دے کہ چل بیٹا یہی ہے وضو؟؟؟؟

یہی ہمارا سوال ہے آپ کا کیوں؟ غسل پریکٹیکلی دکھایا تو پردہ کیسا ہوگا وہ؟ باریک یا موٹا کیلنک والا؟؟؟؟ یقینا پتلا جس کے لیے صحابی بھونک رہا ہے کہ امی معاذاللہ جہاں جہاں پہ پانی ڈال رہی تھیں تو ہم دیکھ رہے تھے

میرے جوابات کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔ پوری بکواس ہے یہ روایت امی کے خلاف۔۔۔

بندہ کچھ معقول بات تو کرے کم از کم

آپ کی تمام باتیں نامعقول ہیں۔

پہلی بات۔۔ عورت کے غسل میں سر کے بال کھولنے یا نہ کھولنے پر صحابہ کرام میں اختلاف پیدا ہوا تھا۔

  سوال مکمل غسل کے متعلق ہونا کس طرح ممکن ہے کیونکہ نبی کریم پہلے ہی مرد کے غسل کے متعلق تعلیم فرماچکے ہیں۔

  دوسری بات دونوں مرد محرم تھے اور صرف جسم کے وہی حصے دیکھے جو اسلام میں محرم کو دیکھنے کی اجازت ہے۔

اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ اہل علم کسی بھی واقعہ کے متعلق تمام روایات یکجہ کرکے پھر اس واقعہ کے متعلق حتمی رائے قائم کرتے ہیں۔  

بیچ میں پردہ کا موجود ہونا ہی آپ کے مؤقف کو باطل کردیتا ہے۔

باریک پردہ نہیں ہوتا۔۔ پردہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ آر پار نظر نہ آسکے۔۔ 

صحابی کا بھونکنا آپ کو اس لئے لگ رہا ہے کہ بغض صحابہ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔

اگر منصف مزاجی سے حدیث کو سمجھیں گے تو بات سمجھ میں آجائے گی۔  

اگر یہ حدیث بکواس ہے تو عورتوں کے کئی مسائل سیدہ عائشہ صدیقہ سے مروی ہیں وہ سب بھی معاذاللہ بکواس ہوجائیں گے!!

بلکہ میرے علم کے مطابق خود اہل تشیع کے ہاں سیدہ عائشہ کی مروی کئی احادیث کی بنیاد پر عورتوں کے اہم مسائل کا حل نکالا گیا ہے۔

ویسے جب پردہ کے پیچھے سے نظر نہین ارھا تھا تو امی جان کر کیا رھی تھی۔

مسلہ تو یہی ہے کہ بیبی چاھ رھی ہین کہ لوگوں کو غسل دکھایں۔

تو وہ پردہ کے پیچھے سے کیسے دکھا سکتی ہین۔

غسلِ جنابت سکھایا جارہا تھا دو ننھے منے بچوں کو اور بچوں نے کالے ویلڈنگ والے چشمے پہن رکھے تھے

کاش قرآن پاک پر ایمان ہوتا۔۔ صحابہ کرام کی عزت و توقیر بھی ہوتی اور امہات المؤمنین کا تقدس بھی دل میں ہوتا۔  

مسئلہ یہ ہے کہ دل میں جب بغض صحابہ اور بغض امہات المؤمنین ہو تو پھر انسان اندھا بن جاتا ہے۔  

اگر اوپر کے دلائل نہیں پڑھے تو پڑھ لیں۔

اور اگر پڑھ کر بھی یہی کہنا ہے تو پھر اندھے بنے رہیں۔ 

ہماری احادیث ہم بہتر جانتے ہیں۔

اوپر محدثین کرام کی تشریح دوسری صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کرچکا ہوں۔  

عقل کا اندھا بھی سمجھ سکتا ہے۔

کہ اگر کوئی سوال کوے اور آپ اسکو پریکٹکل دکھانا چاھتے ہیں تو یا تو پردہ نہیں ھوگا اور ھوگا نازک۔

ورنہ اگر بیان کرنا ہے تو اسکے ضروری نہیں کہ دکھائی ۔

لیکن اگر پریکٹکل دکھانا ہے تو دکھائی دینا ضروری ہے۔

توھین تم نے بھری اپنی کتب بیبی کے لئے اور الزام پھر بھی دوسروں پر

صفحہ 2 از 3