اعتراض: ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دو مردوں…

اعتراض: ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دو مردوں کے سامنے(معاذاللہ) غسل کیا تھا۔

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

اگر عقل ہوتی تو سمجھ لیتے کہ ایک محرم مرد ، محرم عورت سے عورت کا مسئلہ ہی پوچھ سکتا ہے۔  

کچھ مسائل پریکٹیکل دکھائے بغیر کلیئر نہیں ہوتے۔  

ایک صحیح حدیث اعتراض

سیدہ عائشہ اور صحابہ کرام پر اعتراض

یہ سب کیا کہلاتا ہے؟  

شریعت کے اصولوں کے مطابق ہی سیدہ عائشہ نے سر کے بالوں پر پانی گرا کر درست طریقہ سکھلایا۔  

بغیر پریکٹکل کر کے بھی بتایا جا سکتا تھا۔

مطلب قرآن پاک براہ راست نازل ہوجانا چاہئے تھا۔  

نبی کریم کو دنیا میں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ 

اچھا اگر نبی کے پاس کوئی عورت آئے کہ شادی کے قوانین بتاہیں اور اسکو سب سمجھانے لگیں۔

نعوذ باللہ بغیر تشبیھ۔

اور نبی اسکو پریکٹکل طریقہ سے سمجھانے لگے تو ۔۔۔۔

بابا ھر چیز کی اپنی خاص شرطیں ھوتی ہیں۔

ایسا ھو سکتا تھا کہ خواتین کو بیبی کے پاس بھیجا جاتا کہ آپ ان کو دیکھیں اور دوسروں کو بتایں۔۔

ورنہ ھمارے عقیدہ کے مطابق ازواج النبی ص ایسا نہیں کر سکتی۔

اور نہ کیا۔ ۔

نبی کریم کے پاس عورتیں مخصوص مسائل پوچھنے آتی تھیں۔

کئی بار سیدہ عائشہ نے الگ لے جاکر انہیں مسائل سمجھائے۔

بھت خوب۔

یہ ھی ھمارا عقیدہ ہے کی بیبی نے عورتوں کو انکے مسائل بتاے۔

اور نبی نے مردوں کو۔

دین کی تعلیمات سیکھنے اور سکھانے میں عورت یا مرد میں تمیز نہیں کی جاتی۔

سیدہ عائشہ سے محرم مردوں نے جو مسئلہ پوچھا وہ شرعی حدود میں سکھلانا ممکن تھا۔ اسی لئے پریکٹیکل دکھلا کر تعلیم فرمادیا۔  

جب کوئی مسئلہ خاص خواتین سے مربوط آتا تھا نبی پاک بیبی کی طرف ارجا دیتے تھے۔

کون تھا محرم؟؟؟

مطلب عورت محرم مرد کو عورت کے مسائل سے آگاہ نہیں کرسکتی؟ کیا اہل تشیع کے ہاں یہ قانون ہے؟  

اس حدیث پر اہل تشیع اعتراض کرتے ہیں کہ ان احادیث کو ماننے سے لازم آتا ہے کہ اجنبی مرد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے تھے اور وہ اُن کو غسل کر کے دکھادیتی تھیں!!

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مرد اجنبی نہ تھے ان میں سے ابو سلمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھتیجے تھے اور دوسرے عبداللہ بن یزید آپ کے رضائی بھائی تھے۔ غرض دونوں محرم تھے آپ نے حجاب کی اوٹ میں غسل کیا اور ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ازواج مطہرات کپڑوں کے ساتھ غسل کرتی تھیں اور اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ان کو شرح صدر ہوجائے کہ اتنی مقدار پانی غسل کے لئے کافی ہوتا ہے۔

کرسکتی ہے لیکن پیامبر اسلام ایسا نہین کرتے تھے بلکہ عورتون کو بیبی پاس بھیجتے تھے۔

غلط

نبی کریم نے کئی بار عورتوں کو خود مسائل تعلیم فرمائے۔ 

نبی صرف مردوں کا نہیں ہوتا۔ 

بھت غلط۔

نبی نے دونوں چیزوں کا لحاظ رکھا۔

بیشک نبی مرد اور عورت دونوں کا ھوتا ہے۔

چلیں یہ حدیث پڑھیں

Sahih Bukhari - 228
کتاب:کتاب وضو کے بیان میں
باب:حیض کا خون دھونا ضروری ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ، قَالَ : وَقَالَ أَبِي : ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ .

ترجمہ

ابوحبیش کی بیٹی فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے۔ اس لیے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے۔ تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے ( بدن اور کپڑے ) سے خون کو دھو ڈال پھر نماز پڑھ۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ عروہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( بھی ) فرمایا کہ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی ( حیض کا ) وقت پھر آ جائے۔

صحیح ہے کوئی اعتراض نہیں۔

خارج از موضوع۔

کئی احادیث میں کئی مسائل عورتوں نے براہ راست نبی کریم سے پوچھے اور نبی کریم نے براہ راست تعلیم فرمائے۔  

کوئی منکر نہیں۔۔

خارج از موضوع۔

یہ حدیث آپ کی اس بات کا رد ہے کہ عورتوں کے مسائل کے لئے نبی کریم بیبی کی طرف بھیج دیتے تھے!!!  

ھم نے ادعا ھی نہین کیا۔

نبی کریم نے عورت یا مرد میں کوئی فرق نہیں رکھا۔

دین کی تعلیم سیکھنا اور سکھانا ہر خاص و عام ہر مرد و عورت کا فرض ہے اور ان کا حق ہے۔ 

بلکہ روایات میں ہے کہ نبی خاص مسائل کے لئے ارجاع بھی دےدے تے تھے 

یہ ان صورتوں میں جب عورتیں مسئلہ کو درست سمجھ نہ پاتیں۔ 

بیشک۔

جی تبھی بیبی نے ضروری سمجھا اور عورت اور مرد میں فرق کے بغیر پریکٹکل کر کے دکھایا۔

جی بالکل۔۔۔  مرد غیر محرم نہیں تھے۔

  مسئلہ شرعی حدود میں سکھلانا آسان اور عین ممکن تھا۔

بھت عمدہ۔

تو پس اپکا کھنا میں اچھی طرح سمجط گیا کہ بیبی نے بغیر مرد اور عورت کے فرق کے۔ پریکٹکل کرکے دکھایا۔

دل میں اگر عشق نبی اور محبت امہات المؤمنین ہو ، صحابہ کرام کی تعظیم و توقیر بھی ہو تو یہ حدیث سمجھا اتنا مشکل نہیں ہے۔

وہ پریکٹیکل جو شرعی حدود میں ممکن ہے۔ محرم مرد کو دکھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

کیا اہل تشیع کے ہاں عورت اپنے محرم مرد کو دین کی تعلیم کا کوئی طریقہ شرعی حدود میں رہ کر پریکٹیکل کر کے نہیں سکھا سکتی؟؟؟  

کیا اہل تشیع کے ہاں عورت اپنے محرم مرد کو دین کی تعلیم کا کوئی طریقہ شرعی حدود میں رہ کر پریکٹیکل کر کے نہیں سکھا سکتی؟؟؟ حالت مجبوری میں۔۔

جی جی بال کھولنے اور باندھنے کا مسلہ زبانی نہیں بتایا جا سکتا تھا

صرف بال کھولنا یا باندھنا نہیں بلکہ کتنا پانی استعمال کرنا ہے اور کس طرح گرانا ہے۔  


صفحہ 3 از 3