مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 10 از 16

4: تفسیر قمی میں ہے کہ سیدنا موسیٰ کاظم فرماتے ہیں کہ لسانِ صدق سے مراد سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں۔

5: باقی مولوی عبد الستار نے جو حضرت علیؓ کی گردن میں رسی ڈالنے کا طعنہ دیا تو یہ ان کی بخاری شریف میں لکھا ہوا ہے کہ کفار نے حضورِ اکرمﷺ کے گلے کو گھونٹا تھا، اگر حضرت علیؓ کے گلے کو بھی رسی سے گھونٹا گیا تو کیا حرج ہے؟

مناظر اہل سنت:

حضرات! مولوی اسماعیل صاحب بیچارے تو سیدنا علیؓ کے نام کو قرآن سے ثابت کرنے کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔ مولوی صاحب! بحث سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل پر ہے، کوئی ایسی آیت پیش کرو کہ جس میں توحید و رسالت کی طرح صاف لفظوں میں سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل کا اعلان ہو یہ کھینچا تانی کرنا دیانت سے دور ہے آپ کے تو ابھی سے ہوش اڑ گئے ہیں، آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔

1: مولوی اسماعیل صاحب بار بار کہتے ہیں کہ اگر:

لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)

میں سیدنا علیؓ کی ذات مراد لی جائے تو کون سی نحوی غلطی ہوگی؟ تو میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر کوئی مرزائی مولوی صاحب کو کہے کہ آیت:

وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِى اسْمُہٗ اَحۡمَد  ۔(سورۃ الصف: آیت 6)میں مراد ہو تو کون سی نحوی غلطی ہو جائے گی؟ تو کیا نحوی غلطی نہ ہونے سے قرآن کا معنیٰ و مقصد بھی ٹھیک رہ جائے گا؟ اسی طرح اگر کوئی خارجی مولوی اسماعیل سے کہے کہ آیت:

وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ‌ الخ۔(سورۃ الشوریٰ: آیت 26)

 میں یزید بن معاویہ مراد ہے تو کون سی نحوی غلطی ہوگی؟ یا میں مولوی اسماعیل سے پوچھتا ہوں کہ اگر آیت:

اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِى الدَّرۡكِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 145) 

میں منافقین سے مراد رافضی شیعہ ہوں تو اس میں کون سی نحوی غلطی ہوگی؟ مولوی اسماعیل صاحب کے قانون کے مطابق جب منافقین سے رافضی شیعہ مراد لینے میں کوئی نحوی غلطی نہیں ہوتی تو رافضیوں کا جہنمی ہونا نصِ قرآن سے ثابت ہو گیا لہٰذا ان کو اس قانون کی ایجاد مبارک ہو بھلا یہ بھی کوئی عقل و اصول کی بات ہے کہ جس آیت میں کوئی نحوی غلطی لازم نہ آئے اس سے جو بھی معنیٰ مراد لیا جائے وہ صحیح اور مطابقِ قرآن ہوگا۔

2: مولوی اسماعیل صاحب نے جو بیضاوی شریف کا حوالہ نقل کیا ہے اس میں حسبِ عادت اپنی دیانت کا دیوالیہ نکال دیا اور پوری خیانت کر کے عبارت کو ادھورا چھوڑ دیا۔ کیونکہ بیضاوی شریف جلد دوم صفحہ 111 پر ہے:  

صادقا من ذریتی یجد اصل دینی ویدعوا لناس   الیٰ ماكنت ادعوهم اليه وهو محمد صلوات الله علیه۔ 

ترجمہ: میری اولاد سے ایک صادق آئے جو میرے اصل دین کی تجدید کرے اور لوگوں کو اس دینِ حق کی طرف دعوت دے جس کی میں دعوت دیتا ہوں اور وہ محمدﷺ ہیں دیکھیے حضرات! مولوی اسماعیل نے خیانت کر کےوهو محمد صلوات  الله عليه کے الفاظ چھوڑ دیے تاکہ صادقا من ذریتی کا مصداق بجائے محمدﷺ کے سیدنا علیؓ کو دکھائے۔

3، 4: تفسیر صافی اور تفسیر قمی کے جو حوالے پیش کیے ہیں کہ: لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)

سے مراد سیدنا علیؓ ہیں تو یہ شرائطِ مناظرہ کے بالکل خلاف ہے کیونکہ یہ نہ تو نصِ قرآن سے ہے اور نہ اہلِ سنت کی متواتر حدیث سے ہے بلکہ یہ شیعوں کی ایک من گھڑت بات ہے اور یہ دونوں کتابیں بھی شیعوں کی ہیں اور انہوں نے بھی آیت کے الفاظ کے ترجمہ کے اندر عَلِيًّا کے لفظ کے معنیٰ سیدنا علیؓ کا نام نہیں کیا، جیسا کہ ہم شیعہ مذہب کے اردو تراجم سے بھی یہ بات واضح کر چکے ہیں۔

5: میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیا حضورِ اکرمﷺ ان کفار کے تابع ہو گئے اور ان کی کسی بات کو مان لیا اور کسی قسم کی دینی کمزوری کا اظہار کیا؟ جیسا کہ شیعوں نے سیدنا علیؓ کے متعلق گھڑا ہے کہ ان کی گردن میں رسی ڈالی گئی اور ان سے سیدنا ابو بکرؓ کی بیعت لی گئی اور ہاتھ پر ہاتھ رکھوایا گیا نیز اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو تو کفار پر غالب کر دیا اور حضورِ اکرمﷺ کے سامنے آپ کے ہاتھوں ان کو ہلاک کرا دیا، تو کیا شیعہ حضرات کے نزدیک سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اصحابِ ثلاثہؓ پر غلبہ ہوا؟

مناظر شیعہ:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے دعا مانگی:

رَّبِّ اَدۡخِلۡنِىۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِىۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلْ لِّىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا‏ ۞ (سورۃ الاسراء: آیت 80)

ترجمہ: اے میرے رب عطاء کر دے مجھے ایک سلطان جو نصیر و مدد گار ہو۔

اب میں مولوی عبد الستار صاحب سے پوچھتا ہوں کہ سلطانِ نصیر کون ہے؟

2: آنحضرتﷺ نے فرمایا اِنِّی تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ مشکوٰۃ شریف صفحہ 568 میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ایک قرآنِ مجید اور دوسری اہلِ بیتؓ دیکھیے اہلِ بیتؓ کا کون مقابلہ کر سکتا ہے؟

3: تفسیر خازن میں ہے رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ کے متعلق فرمایا اِن َّ ھٰذَا اَخِیْ وَوَصِیْ وَخَلِفَتِیْ فِیْکُمْ فَاسْمَعُوْالَہٗ وَاَطِیْعُوْہُ

تحقیق سیدنا علیؓ میرا بھائی اور میرا وصی اور میرا خلیفہ ہے تم لوگوں میں، پس اس کا حکم سنو اور مانو۔

4: نیز معالم التنزیل میں بھی بعینہٖ یہی الفاظ مذکورہ بالا ہیں دیکھیے حضرات! کیسی واضح روایت سے سیدنا علیؓ کا خلیفہ ہونا ثابت ہو گیا۔

مناظرِ اہل سنت: مولوی اسماعیل صاحب: 

سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا‏ ۞

کا مطلب مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟ اپنے مذہب کے ترجمہ مقبول احمد صفحہ 578 سے پوچھ لیجیے جو لکھتے ہیں: اور میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والا غلبہ مقرر فرما دیجیے اور اپنے فرمان علی صاحب شیعہ کے ترجمہ صفحہ 462 سے پوچھیے جو لکھتے ہیں اور مجھے خاص اپنی بارگاہ سے ایک حکومت عطا فرما جس سے ہر قسم کی مدد پہنچے تو اس آیت میں نہ تو سیدنا علیؓ کا نام موجود ہے اور نہ کوئی خلافت بلا فصل کا ذکر ہے اس آیت میں تو آنحضرتﷺ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ایک دعا سکھلائی گئی کہ کفارِ مکہ پر فتح و نصرت کے لیے یہ دعا پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے نصرت اور حکومت طلب کرو۔

صفحہ 10 از 16