مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 11 از 16

2: حضرات! اہلِ بیتؓ کی محبت ہمارے ایمان کا جزو ہے ہم اہلِ سنت ہیں، شیعہ تو نہیں کہ بارہ اماموں کے علاوہ خاندانِ نبوت، اہلِ بیتؓ اور ازواجِ مطہراتؓ بناتِ طیبات پر کافر اور کذاب ہونے کے فتوے دیں اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور سیدنا علیؓ و سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے پوتے سیدنا زیدؓ کو واصلِ بجہنم کہیں اور سیدنا علی نقی کے بیٹے اور سیدنا حسن عسکری کے بھائی سیدنا جعفر کو کذاب کا فتویٰ دیں ہمارے نزدیک تو اہلِ بیتؓ کے چھوٹے بڑے، بارہ حضرات اور ان کی اولاد، عزیز و اقارب کے تمام افراد رہنما اور مقتدا، قابلِ تعظیم و محبت ہیں باقی ثقلین سے مراد کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ ہے ویسے رسول اللہﷺ کی وصیت میں اہلِ بیتؓ کی تعظیم و محبت اور انصار کا احترام اور غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم فرمایا گیا ہے جس پر ہمارا ایمان ہے مولوی صاحب! اس روایت کا سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل سے سرِمو بھی تعلق نہیں ہے۔

3، 4: تفسیر خازن اور تفسیر معالم التنزیل کی روایت ایک ہی ہے خازن میں اس کی سند مختصر ہے: روى محمد بن اسحٰق عن علیّ اور معالم التنزیل میں اس روایت کی پوری سند موجود ہے: روى ٰمحمد بن إسحاق عن عبد الغفار بن القاسم عن المنهال بن عمرو عن عبد الله بن الحارث بن عبد المطلب عن عبد الله بن عباس عن علی بن أبی طالب۔ 

یہ اس روایت کی اصل اور پوری سند ہے یہ روایت اہلِ سنت کے نزدیک قطعاً نا قابلِ اعتبار ہے کیونکہ اس روایت کا راوی عبد الغفار ہے جو رافضی شیعہ ہے ائمہ حدیث نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ یہ روایتیں اپنی طرف سے وضع کیا کرتا تھا دیکھیے:  

1: قانون الموضوعات صفحہ 270 پر علامہ طاہر الفتنی الہندی نے لکھا ہے: عبدالغفار بن القاسم متروک شیعی يضع۔ 

عبد الغفار بن القاسم اس قسم کا راوی ہے جس کی روایت چھوڑ دی جاتی ہے کیونکہ وہ شیعہ تھا اور روایتیں اپنی طرف سے وضع کرتا تھا۔  

2: کشف الاحوال فی نقد الرجال صفحہ 70 پر علامہ مولانا عبد الوہاب مدراسی لکھتے ہیں: عبد الغفار بن القاسم بن ابی  مريم الانصاری الكوفی متروك يضع شيعی۔ 

عبد الغفار متروک راوی ہے جو روایتیں وضع کرتا اور بناتا اور شیعی تھا۔  

3: علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ابن کثیر میں آیت:

وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ۞(سورۃ الشعراء: آیت 214)

کے تحت جلد 3 صفحہ 350، 351 پر اس روایت اخی ووصی وخليفتی کے متعلق لکھا ہے کہ اس روایت کا راوی صرف عبد الغفار بن القاسم ہے: تفرد بهذا السياق عبد الغفار بن القاسم بن ابی مريم وهو متروك كذاب شيعی اتهمه علی بن المدينی وغيره بوضع الحديث وضعه الائمة۔ 

جو کہ متروک، انتہائی کذاب اور جھوٹا ہے، شیعہ ہے، علی بن المدینی وغیرہ نے اس کو وضعِ حدیث کا متہم کیا ہے اور ائمہ حدیث نے اس کو ضعیف لکھا ہے۔  

4: ملا علی قاری نے اپنی کتاب الموضوعات الکبیر مجتبائی صفحہ 94 پر لکھا ہے کہ یہ روایت ان ھذا اخی سوویت والخلیفۃ من بعدی    موضوعات میں سے ہے۔  

5: لسان المیزان جلد 4 صفحہ 42 حرف العین میں عبد الغفار بن القاسم کے متعلق یہ الفاظ لکھے ہیں: هو رافضی ليس بثقة ويقال من رؤوس الشيعة۔ 

کہ یہ عبد الغفار رافضی تھا، کوئی معتبر اور سچا راوی نہ تھا اور اس کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ بڑے شیعوں میں سے تھا حضرات! غور کیجیے کہ بیچارہ مولوی اسماعیل کس قدر موضوع روایات پیش کرتا ہے یہ اس کے شکست کھانے کی دلیل ہے۔ حالانکہ شرائطِ مناظرہ میں خلافت بلا فصل کی دلیل نصِ قرآن اور اہلِ سنت کی متواتر حدیث مقرر کی گئی ہے۔ اس روایت کا متواتر ہونا تو درکنار، یہ تو خبرِ واحد صحیح بھی نہیں بلکہ موضوع اور شیعوں کی من گھڑت ہے۔ علاوہ ازیں اگر بفرضِ محال اس روایت کے موضوع ہونے سے قطعِ نظر کر لی جائے تو اس میں خلافت بلا فصل کا ذکر کہاں ہے؟ اس قسم کے الفاظ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے متعلق شیعہ کی معتبر کتاب تفسیر صافی کے صفحہ 523 پر موجود ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی اہلیہ محترمہ سیدہ حفصہؓ کو فرمایا: 

اِنَّ اَبَا بَكْرٍ يَلِی الْخِلَافَةَ مِنْ بَعْدِی ثُمَّ بَعْدَهُ اَبُوكِ فَقَالَتْ مَنْ اَنْبَاَكَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ۔

ترجمہ: ضرور بالضرور میرے بعد خلافت کا والی ابوبکرؓ ہوگا، اس کے بعد تیرا باپ عمرؓ خلیفہ ہوگا سیدہ حفصہؓ نے حضورِ اکرمﷺ سے پوچھا: آپ کو اس بات کی خبر کس نے دی ہے؟ تو حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر نے خبر دی ہے تو اس روایت میں حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: میرے بعد خلیفہ ابوبکرؓ ہوگا اور خازن والی اس کمزور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ میرے بعد علیؓ ہے اب دونوں روایتوں کی تطبیق اس طرح ہے کہ یہ دونوں حضرات رسول اللہﷺ کے بعد خلیفہ ہوں گے۔ اگر سیدنا علیؓ سے پہلے ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ خلیفہ رسول اللہﷺ ہوں اور پھر سیدنا علیؓ خلیفہ ہوں تو بھی آپ کا یہ ارشاد سچا ہے کہ علیؓ میرے بعد خلیفہ ہے کیونکہ خازن کی روایت اور معالم التنزیل کی روایت میں میرے بعد خلیفہ بلا فصل کا کوئی لفظ نہیں ہے۔ مولوی اسماعیل صاحب! سیدنا علیؓ کے فضائل اور خلافت کے حق ہونے میں مناظرہ نہیں ہے۔ سیدنا علیؓ کی خلافت ہمارا ایمان ہے اور آپ کے فضائل ہمارا دین ہے آپ کا اور ہمارا اختلاف خلافت بلا فصل میں ہے۔ لہٰذا آپ حسبِ شرائط نصِ قرآن اور حدیثِ متواترِ اہلِ سنت سے کوئی ایک دلیل پیش کیجیے لیکن دنیا بھر کے شیعہ مجتہد اس قسم کی کوئی دلیل نہیں پیش کر سکتے۔۔

مناظرِ شیعہ

1: خصائص نسائی صفحہ 9 پر ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ کو فرمایا: اَنْتَ خَلِيفَتِی تو میرا خلیفہ ہے دیکھیے امیر المومنین سیدنا علیؓ کی خلافت کا واضح الفاظ میں اعلان ہے۔

2: خصائص نسائی میں صفحہ 23 پر ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان علیّا ً مِّنی وانا منہ وھو علیّ کل مومن من  بعدی

ترجمہ: تحقیق علیؓ مجھ سے ہے اور میں علیؓ سے ہوں اور وہ علیؓ ہر مومن کا میرے بعد ولی ہے۔ دیکھیے اس روایت سے بھی صاف امیر المومنینؓ کی خلافت ثابت ہو رہی ہے اب تو مولوی عبد الستار کا مطالبہ پورا ہو گیا، بار کہتا ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت ثابت کرو۔

صفحہ 11 از 16