مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 12 از 16

3: مولوی عبدالستار نے جو یہ کہا ہے کہ اگر چوتھی جگہ سیدنا علیؓ خلیفہ ہوں تو بھی وہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد خلیفہ ہو گئے اور یہ روایت سچی ہو گئی تو ان کی یہ بات غلط ہے کہ بعد اتصال چاہتا ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے:

يَّاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِى اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ‌ الخ۔(سورۃ الصف: آیت 6) 

ترجمہ: کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد رسول اللہﷺ ہی آئے اور کوئی نبی اور رسول نہیں آیا۔

4: اہلِ سنت کی معتبر کتاب ابو داؤد طیالسی، جلد اول صفحہ 23 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا: عَمَّمَنِی  رسول اللّٰہﷺ یوم غدیر سَدلھا خلفی ۔

ترجمہ: مجھے آنحضرتﷺ نے غدیر کے دن پگڑی باندھوائی جس کا شملہ میرے پیچھے تھا۔ 

حضرات! دیکھیے پگڑی تو سیدنا علیؓ کو باندھوائی گئی اور خلیفے اصحابِ ثلاثہؓ ہو جائیں۔

مناظرِ اہل سنت:

حضرات! مولوی اسماعیل نے جو خصائص نسائی صفحہ 9 :انت خلیفتی والی روایت پیش کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ابو بلج یحییٰ بن ابی سیم ہے جس کا نام یحییٰ تھا۔ تہذیب التہذیب جلد 12 صفحہ 47 پر ہے۔

ا: قال البخاری فیہ نظر :امام بخاری رحمۃاللہ نے فرمایا کہ ابو بلج یحییٰ میں اعتراض ہے۔

ب: ذکرہ ابنِ حبان فی الثقفات وقال خیطی۔ 

ترجمہ: ابنِ حبان نے ابو بلج کو ثقہ راویوں میں ذکر کر کے اس کے متعلق کہا ہے کہ یہ خطاء کرتا ہے یعنی اس کی روایتوں میں خطا واقع ہوتی ہے۔

ج: عن ابن معین ضعفہ۔

ترجمہ: یحییٰ بن معین نے اس ابو بلج یحییٰ کو ضعیف بیان کیا ہے۔ 

د: وقال احمد روی حدیثا منکراً۔

ترجمہ: اور امام احمد رحمۃاللہ نے فرمایا کہ اس ابو بلج یحییٰ نے حدیثِ منکر یعنی صحیح احادیث کے خلاف حدیث روایت کی ہے جس سے اس کا ضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے۔ نیز میزان الاعتدال للذہبی جلد 3 صفحہ 392 پر اس ابو بلج کے متعلق لکھا ہے: 

و من مناکیرہ عن عمر وبن میمون عن ابن عباس اس ابو بلج کی جو روایت خصائص نسائی  میں اَنْتَ خليفتی والی ہے اس روایت کو ابو بلج نے عمرو بن میمون عن ابنِ عباس کی سند سے روایت کیا ہے جو کہ اسی ابو بلج کی منکر روایت ہے یعنی اور ثقہ عادل راویوں کی احادیث کے خلاف ہے لہٰذا ایسی منکر اور ضعیف روایات سے کیسے خلافت بلا فصل ثابت ہو سکتی ہے؟ خبرِ واحد اگر چاہے صحیح بھی ہو اور ضعیف و منکر بھی نہ ہو اس سے عقیدہ اور اصولِ دین ثابت نہیں ہو سکتا، چہ جائیکہ ایسی کمزور روایت سے شیعہ کا اصولی مسئلہ خلافت بلا فصل ثابت ہو جائے۔ حسبِ شرائط کوئی حدیثِ متواتر پیش کیجیے دوسرے اگر بالفرض یہ روایت صحیح بھی ہو تو حضرت علیؓ کی مطلق خلافت پر دلالت کرے گی جس میں ہمارا اور تمہارا کوئی اختلاف نہیں مگر خلافت بلا فصل جس میں بحث ہے وہ اس سے کیسے ثابت ہو جائے گی۔

2: خصائص نسائی صفحہ 23 سے جو روایت: 

ھو ولی کل مومن من بعدی۔

والی پیش کی گئی ہے اس روایت کی اسناد میں جعفر بن سلیمان راوی ہیں جس کے متعلق تہذیب التہذیب جلد دوم صفحہ 95، 96 پر مرقوم ہے: 

انما کان یتشیع وکان یحدث باحادیث فی فصل علیّ۔

ترجمہ: کہ جعفر بن سلیمان شیعہ مذہب رکھتا تھا اور حضرت علیؓ کی فضیلت میں بہت سی احادیث بیان کرتا تھا۔ 

قال الدوری کان جعفر اذا ذکر معاویۃ شتمہ۔

ترجمہ: علامہ دوری کہتے ہیں کہ یہ جعفر بن سلیمان جب امیرِ معاویہؓ کا ذکر کرتا تو ان کو گالیاں دیتا تھا میزان الاعتدال جلد اول صفحہ 189 پر ہے: 

کان یحییٰ بن سعید لا یکتب حدیثہ ویستضعفہ۔

ترجمہ: یحییٰ بن سعید اس جعفر بن سلیمان کی حدیث نہیں لکھتے تھے اور اس کو ضعیف سمجھتے تھے۔

ب: قال یزید بن ربیع جعفر ینسب الی الرفض 

ترجمہ: یزید بن ربیع نے کہا کہ یہ جعفر رافضی بیان کیا جاتا ہے۔

ج: قال ابن عدی جعفر شیعی۔ 

ترجمہ: علامہ ابنِ عدی نے کہا کہ جعفر بن سلیمان شیعہ ہے۔

حضرات! غور کیجیے مولوی اسماعیل کس قسم کی روایت پیش کر رہا ہے، جب اس روایت کا راوی ہی ضعیف اور شیعہ رافضی ہے تو ایسی روایت ہمارے لیے کیسے قابلِ قبول ہو سکتی ہے اور استدلال میں کیسے پیش کی جا سکتی ہے؟ اگر بالفرض اس روایت کے ضعف سے قطعِ نظر کر لی جائے تب بھی اس روایت کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہے؟ البتہ خارجیوں کی تردید کے لیے آنحضرتﷺ فرما گئے ہیں کہ علیؓ میرے بعد ہر مؤمن کا دوست ہے، وَلِیّ کے معنیٰ دنیا کی کسی لغت کی کتاب میں خلیفہ بلا فصل کے نہیں ہیں۔

3: مولوی اسماعیل کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ بعد'ے ' ہمیشہ اتصال چاہتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں تھا غالباً بیچارہ اپنی کتابوں سے واقف نہیں دیکھیے شیعہ کی معتبر کتاب حیات القلوب جلد دوم صفحہ 146 پر لکھا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام شمعون را وصی خود گردانید وشمعون یحییٰ بن زکریا راو یحییٰ منذر راو منذر سلیمہ راو سلیمہ بردہ را علیہم السلام و بردہ وصیت ہا دکتا بہارا بمن تسلیم نمود۔

دیکھیے اس روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہﷺ کے درمیان کتنے نبی گزرے ہیں: شمعون، یحییٰ، منذر، سلیمہ، بردہ، وغیرہ تو مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھیے کہ اب بعدی کا اتصال کہاں گیا؟ نیز شیعہ کی کتاب درّہ نجفیہ شرح نہج البلاغہ کے صفحہ 190 پر ہے: 

روی عن النبی ﷺ انّہ اخبر ان بنی امیّۃ تملک الخلافۃ بعدہ۔

ترجمہ: کہ رسول اللہﷺ سے روایت کیا گیا کہ آپ نے خبر دی تھی کہ ضرور بنو امیہ میرے بعد خلافت کے مالک ہوں گے۔

تو اب مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھیے کہ بنو امیہ رسول اللہﷺ کے بعد متصلاً خلافت کے مالک بنے جب کہ رسول اللہﷺ اور بنی امیہ کے درمیان کتنے خلفاء اور ہوئے ہیں؟ تو اسی طرح رسول اللہﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے درمیان اور خلفاء ہونے سے حضرت علیؓ کا من بعدی خلیفہ ہونا صحیح رہے گا۔

4: ابو داؤد طیالسی کی پگڑی باندھوانے والی روایت کی اسناد میں اشعث بن سعید راوی رافضی شیعہ ہے تہذیب التہذیب میں مرقوم ہے  واتفقوا علٰی ضعفہ کہ تمام محدثین اشعث بن سعید کے ضعف پر متفق ہیں تو ایسے ضعیف راوی کی روایت کیسے قابلِ اعتبار ہوگی؟

صفحہ 12 از 16