مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 13 از 16

ب: مولوی اسماعیل صاحب غالباً حواس باختہ ہو چکے ہیں، یہاں کوئی سیدنا علیؓ کو پگڑی بندھوانے یا نہ بندھوانے کی بحث ہو رہی ہے جو آپ نے پگڑی باندھوانے کی روایت پیش کر دی اگر پگڑی باندھوانے کی روایت صحیح مان لی جائے تو اس کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہوگا؟ دیکھیے مشکوٰۃ شریف صفحہ 374 پر ہے: عن عبد الرحمٰن بن عوف قال عمنی رسول اللہﷺ فسد لھا بین یدی ومن خلفی رواہ ابو داوٗد۔

ترجمہ:کہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے پگڑی باندھوائی جس کے کنارے یعنی شملے میرے آگے اور پیچھے دو لٹکا دیے حضرات! مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھیے کہ کیا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو پگڑی بندھوانے سے ان کی بھی خلافت بلا فصل ثابت ہو گئی؟

مناظر شیعہ:

مومنین کرام! میں امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کی خلافت کے دلائل کی بوچھاڑ کر دوں گا جن کے جواب کی مولوی عبد الستار میں طاقت ہی نہیں ہے۔

1: فتاویٰ عبد الحی میں لیلۃ الجن کی روایت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا:

و ما این اجلی الا قد اقترب 

ترجمہ: جو کچھ میرا خیال ہے وہ یہ ہے کہ میری رحلت کا وقت قریب آ چکا ہے۔ تو ابنِ مسعودؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا:  

یا رسول اللّٰہ!  الا تستخلف ابوبکر فاعرض عنی فرایت انہ کم یوافقہ قلت یا رسول اللّٰہ الا تستخلف عمر فاعرض عنی فرایت انہ کم یوافقہ قلتُ یا رسول اللّٰہﷺ الا تستخلف علیّا ً قال والذی لا الہ غیرہٗ لو بایعتموہ واطعتموہ ادخلکم الجنتّہ 

ترجمہ: یا رسول اللہ! آپ سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ کیوں نہیں بناتے؟ پس آپ نے منہ پھیر لیا اسی طرح سیدنا عمرؓ کے متعلق، اور جب میں نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے متعلق کہا تو آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر تم نے اس کی بیعت کر لی اور اطاعت کر لی تو خدا تم کو جنت میں داخل کرے گا۔  

دیکھیے! رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کا خلیفہ بنانا پسند نہ فرمایا اور سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور اطاعت کرنے پر بہشت کی خوشخبری سنائی اس سے بڑھ کر خلافتِ بلا فصل کی کیا دلیل ہوگی؟

2: اہلِ سنت کی متعدد احادیث کی معتبر کتابوں میں موجود ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فهٰذَا عَلِیُّ مَوْلَاهُ۔

ترجمہ: جس کا میں مولا ہوں، اس کا سیدنا علیؓ مولا ہے۔

دیکھیے! جس کو رسول اللہﷺ سب کا مولا فرما دیں، اس کی خلافتِ بلا فصل میں کسی کو شک ہو سکتا ہے؟ میں دیکھوں گا کہ مولوی عبد الستار ان معتبر روایات اور واضح و صاف احادیث کا کیا جواب دے گا قیامت تک جواب نہ دے سکے گا۔

مناظر اہل سنت:

حضرات! مولوی اسماعیل نے جو روایت فتاویٰ عبد الحی کی نقل کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن یعلی اسلمی ہے جس کے متعلق تہذیب التہذیب جزو 11 صفحہ 304 پر ہے: 

قال ابن عدی کوفیّ من الشیعۃ۔

ترجمہ: علامہ ابنِ عدی نے فرمایا کہ یحییٰ بن یعلی اسلمی کوفی شیعہ ہے۔ اور تقریب التہذیب جلد 2 صفحہ 556 پر ہے:  

یحیی بن یعلی الاسلمی الکوفی شیعیّ ضعیف من التاسعۃ۔  

ترجمہ: یحییٰ بن یعلی اسلمی کوفی ہے جو شیعہ تھا، نہایت ضعیف راوی ہے جو نویں درجہ میں شمار کیا گیا ہے۔  

نیز اسی روایت کی سند میں ایک دوسرا راوی ابو عبد اللہ جدلی ہے جس کے متعلق تقریب التہذیب جلد 2 صفحہ 597 پر ہے:  

رمی بالتشیّع۔ ابو عبد اللہ جدلی کو شیعہ بیان کیا گیا ہے۔  

تہذیب التہذیب جلد 12 صفحہ 148 پر ہے ابنِ سعد نے فرمایا: وكان شدید التشیع، کہ ابو عبد اللہ جدلی سخت شیعہ تھا۔ اور میزان الاعتدال للذہبی جلد 3 صفحہ 367 پر ہے: 

ابو عبد اللّٰہ الجدلی شیعی بغیض۔

ترجمہ: ابو عبد اللہ جدلی شیعہ تھا اور اصحابِ کرام سے سخت بغض رکھتا تھا۔  

طبقات الکبیر جلد 6 صفحہ 159 طبع جرمن پر علامہ ابنِ سعد لکھتے ہیں:  

اسمه عبدۃ بن عبد بن عبد الله يستضعف فی حديثه وكان شديد التشيّع۔  

ترجمہ: ابو عبد اللہ جدلی کا نام عبدہ بن عبد بن عبد اللہ ہے حدیث کی روایت میں اس کو ضعیف سمجھا جاتا ہے اور یہ سخت قسم کا شیعہ تھا۔  

فتاویٰ عبد الحی سے اس پیش کردہ روایت کے ہم معنیٰ ایک دوسری روایت بھی وہاں فتاویٰ میں ہے جس کی سند میں ایک راوی مینا موجود ہے جس کے متعلق موضوعات شوکانی طبع لاہور کے صفحہ 125 پر لکھا ہے:  

مينا مولى عبد الرحمٰن بن عوف ليس بثقة قد اُتّهم بوضعه۔  

ترجمہ: مینا جو عبد الرحمٰن بن عوفؓ کا مولیٰ ہے، (آزاد کردہ غلام) ثقہ اور قابلِ اعتبار راوی نہیں ہے۔ خود حدیث وضع کرنے کے ساتھ متہم ہے۔  

عبد الرحمٰن سیوطی رحمۃاللہ نے اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة کے صفحہ 197 پر اس مینا کے متعلق لکھا ہے:  

وغال فی التشيع ليس بثقة۔

ترجمہ: یہ مینا غالی شیعہ تھا، ثقہ اور قابلِ اعتبار نہیں ہے۔  

تقریب التہذیب کے صفحہ 518 پر اس مینا بن ابی مینا الجزار کے متعلق ہے:  

رمی بالرفض وکذبہ ابو حاتم۔

ترجمہ: مینا کو رافضی بیان کیا گیا ہے اور ابو حاتم نے اس کو جھوٹا راوی کہا ہے۔  

تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ 397 پر اس مینا کے متعلق لکھا ہے:  

قال الجوزجانی انکر الائمۃ حدیثہ لسوء مذہبہٖ۔  

ترجمہ: علامہ جوزجانی نے کہا کہ ائمہ حدیث نے اس مینا کی حدیث کا انکار کیا بوجہ اس کے بد مذہب ہونے کے۔  

اور ابو حاتم نے کہا تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ 397:

لا یعبأ بحدیثہ کان یکذب، قال ابن عدی انہ یغلو فی التشیع۔  

ترجمہ: اس مینا کی حدیث قابلِ اعتبار نہیں یہ جھوٹ کہتا تھا۔ اور ابنِ عدی نے فرمایا یہ مینا شیعہ ہونے میں غلو کرتا تھا۔  

حضرات! یہ فتاویٰ عبد الحی کی روایتوں کا حال ہے کہ جس کے روایت کرنے والے ہی شیعہ کذاب جھوٹے راوی ہوں کیا ایسی روایت سے ہمارے سامنے خلافتِ بلا فصل جیسا اصولی مسئلہ جس پر ایمان و کفر کا دارومدار رکھا گیا ہے ثابت ہو سکتا ہے؟  

صفحہ 13 از 16