مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 15 از 16

حضرات! مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے غدیرِ خم پر سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کیا میں ان سے پوچھتا ہوں کہ دنیا کے گھی، گڑ، تمباکو وغیرہ کا اعلان نوشہرہ میں ہو اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت کا اعلان نہ مکہ میں، نہ مدینہ میں، نہ بیت اللہ میں، نہ مسجدِ نبوی میں اور نہ عرفات میں جہاں ہزاروں کا مجمع تھا بجائے ان مقامات کے ایک جنگل کے تالاب پر اعلان کرنے کی نوبت کیوں آئی؟ نماز دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، کئی سو مقامات پر قرآنِ مجید میں واضح الفاظ میں اس کی فرضیت کا اعلان ہے سیدنا علیؓ کی خلافت کا مسئلہ جب اصولِ دین میں سے ہے تو قرآن میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں اور نہ احادیث میں اور اگر ہے تو شیعہ کے نزدیک ایک ایسی روایت میں جو کہ جنگل میں بیان کی گئی اور وہاں بھی واضح الفاظ میں اعلان نہیں کیا گیا اور مولیٰ کا لفظ کہا گیا جس کے معنیٰ خلیفہ بلا فصل دنیا کی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور میں مولیٰ کے معنیٰ قرآنِ مجید اور احادیثِ شریف سے ثابت کر چکا ہوں کہ خلیفہ بلا فصل ہرگز نہیں ہو سکتے۔ یہ میرے پاس لغت کی جامع کتاب المنجد ہے جس کے صفحہ 1021 پر مولیٰ کے یہ معنیٰ مذکور ہیں: دوست، پڑوسی، چچا زاد بھائی، غلام، داماد وغیرہ، جن میں خلیفہ بلا فصل کا نام و نشان بھی نہیں۔  

باقی مولوی اسماعیل کا یہ کہنا کہ جس معنیٰ سے آنحضرتﷺ مولیٰ ہیں اسی معنیٰ سے سیدنا علیؓ مولیٰ ہیں تو یہاں اس روایت میں مولیٰ کے معنیٰ دوست کے ہیں جس پر اسی روایت کے اگلے الفاظ خود دال ہیں: 

اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَّالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ۔

ترجمہ: اے اللہ! تو دوست رکھ اس کو جو علیؓ کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علیؓ کو دشمن رکھے یہ الفاظ ظاہر اور بین قرینہ ہیں کہ اس روایت میں مولیٰ کے معنیٰ دوست ہیں، جس کی بنا پر روایت کے معنیٰ یہ ہیں: جس کا میں دوست ہوں اس کا علیؓ دوست ہے اس سے اس شخص کو تنبیہ مقصود تھی جس کی سیدنا علیؓ سے کچھ رنجش تھی اس رنجش کا آنحضرتﷺ کو اسی جنگل میں علم ہوا، جس کا فیصلہ اس جنگل میں ہی فرما دیا۔ ورنہ اگر خلافت کا اعلان مقصود ہوتا تو حضورِ اکرمﷺ عرفات کے میدان میں، جہاں ہزاروں کا مجمع تھا، اس میں ضرور اعلان فرماتے اس کے بعد اگر مولوی اسماعیل صاحب خواہ مخواہ بضد ہوں کہ یہ ضرور سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کا اعلان تھا تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ اعلان غدیرِ خم کے جنگل یا تالاب پر کیوں ہوا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ نے عرفات کے میدان میں کیوں یہ اعلان نہ کیا؟ باقی سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ کو اپنا دوست کہا اور سمجھا، یہی ہمارا بھی ایمان ہے کہ سیدنا علیؓ ہمارے مولیٰ و محبوب ہیں۔

مناظر شیعہ:

حضرات! مولوی عبد الستار صاحب پوچھتے ہیں کہ خلافتِ علیؓ کا اعلان غدیرِ خم پر کیوں ہوا؟ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں سے راستے جدا ہونے والے تھے۔ اس لیے وہاں غدیرِ خم پر اعلان فرما کر سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کو ثابت فرمایا اور اہلِ سنت کی معتبر کتاب میں ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ نے غدیرِ خم پر ہی یہ الفاظ فرمائے: 

من کنت مولاہ فھٰذا علیّ ُ مولاہ 

جس طرح آنحضرتﷺ مولائے کُل ہیں اسی طرح حضرت امیر المؤمنین سیدنا علیؓ بھی مولائے کل ہیں، تو مولائے کل کی موجودگی میں دوسرے کی امامت و خلافت کیسے جائز ہو سکتی ہے۔

مناظر اہل سنت:

حضرات! مولوی اسماعیل صاحب اب تو حقائق و واقعات کے خلاف کچھ بہکی بہکی باتیں بیان کرنے لگے ہیں۔ یہ تو کہتے ہیں کہ وہاں مجمع زیادہ تھا اور مختلف راستے پھوٹتے تھے اس لیے وہاں اعلان کیا۔ حالانکہ ان کی معتبر کتاب احتجاجِ طبرسی کے صفحہ 23 پر یوں لکھا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرفات کے میدان میں حج کے دن آ کر اللہ کا یہ حکم پہنچایا کہ لوگوں سے سیدنا علیؓ کی خلافت پر بیعت لے لو، اور سیدنا علیؓ کی خلافت و امامت کا اعلان کر دو کیونکہ اب آپ کی رحلت کا وقت قریب ہے تو رسول اللہﷺ نے اپنی قوم کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ٹال دیا اور تعمیل نہ کی اور وہاں سے واپس مدینہ منورہ کو روانہ ہوئے تو راستے میں جب مسجدِ خیف پہنچے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پھر نبی کریمﷺ کو حکم دیا کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دو مگر پھر بھی رسول اللہﷺ نے ٹال دیا اور حکم کی تعمیل نہ کی اور آپ وہاں سے چلتے چلتے کراعِ غمیم کے مقام پر، جو کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے پہنچے تو پھر رسول اللہﷺ پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور تیسری بار پھر وہی حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دو تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے اپنی قوم سے ڈر ہے اللہ تعالیٰ سے میری حفاظت کی ذمہ داری کی کوئی آیت لاؤ، تب یہ حکم لوگوں میں پہنچاؤں گا حضرت جبرئیل علیہ السلام واپس ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ کر سارا ماجرا عرض کیا اور ادہر رسول اللہﷺ چلتے چلتے غدیرِ خم پر پہنچے، جو جحفہ کی طرف تین میل کے فاصلہ پر ہے تو وہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام غدیرِ خم پر چوتھی بار آئے۔ تو اس دفعہ آنے کے متعلق احتجاجِ طبرسی جلد 1 صفحہ 34 پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں:  

اتاہ جبرئیل علٰی شمس ساعات مضت من النھار بالزجر الانتھار

ترجمہ: تو اس روز جب کہ دن کی پانچ گھڑیاں گزر رہی تھیں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس سخت زجر و توبیخ لے کر اترے۔  

اور زجر و توبیخ کے ساتھ کہا کہ اللہ تعالیٰ کا تجھے حکم ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دےمیں تجھے لوگوں سے محفوظ رکھوں گا اگر تو نے اب بھی سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان نہ کیا تو نے رسالت کے فرائض انجام نہ دیے تو پھر اس زجر و توبیخ کے بعد رسول اللہﷺ نے غدیرِ خم پر یہ الفاظ کہے: 

من کنت مولاہ فھذا علیّ مولاہ 

جو کہ خلافتِ مطلق کے معنیٰ بھی نہیں دے سکتے، چہ جائیکہ خلافتِ بلا فصل پر دلالت کریں۔  

صفحہ 15 از 16