مناظر شیعہ:
بعد از خطبہ حضرات! اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡئًا وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ النور: آیت 55)
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کامل مومنو اور صالحین کو خلافت فی الارض کا وعدہ فرما چکے ہیں۔
اور ہمارے نزدیک اور خود اہلِ سنت کے نزدیک بھی سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی خلافت دین کا جزو نہیں۔ ان کا ماننا ایمان میں داخل نہیں، تو وہ اس آیت کے مصداق نہ ہوئے۔
اس وقت بحث خلافتِ علیؓ سے ہے اور خلافت مضاف ہے اور علی مضاف الیہ ہے، مضاف اور مضاف الیہ ایک دوسرے کے غیر ہوتے ہیں۔
لہٰذا پہلے میں مطلق خلافت کی بحث کرتا ہوں پھر اس کے بعد خلافتِ بلا فصل سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ثابت کروں گا۔
قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ۞(سورۃ الاعراف: آیت 181)
ترجمہ: ان میں سے ایک جماعت ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتے ہیں اور اسی حق کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔
ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا الخ۔(سورۃ فاطر آیت 32)
ترجمہ: ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جن کو ہم نے چن لیا۔
چونکہ سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کو شوریٰ نے چنا اور اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا، لہٰذا یہ کتاب کے وارث اور خلیفہ نہیں بن سکتے۔
آیتِ استخلاف سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خلافت اللہ تعالیٰ دیتا ہے، شوریٰ سے نہیں ہوتی لہٰذا سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ جو شوریٰ سے خلیفہ چنے گئے، خلافت ان کا حق نہیں۔ اسی لیے تو اہلِ سنت کے نزدیک شیخینؓ کی خلافت ماننا دین میں ضروری نہیں۔ بس اگر شیعہ شیخینؓ کی خلافت کو نہ مانیں تو وہ مؤمن ہوں گے۔
آیتِ استخلاف میں ثابت ہے:
وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
ترجمہ: کہ ہم خلیفوں کو خوف کے بعد امن اور بے فکری کی زندگی دیں گے۔
تو امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں امن ہو گا اور کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔
اور آگے:
يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡئًا الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
کا مطلب یہ ہے کہ خلفاء ایسے ہوں گے جنہوں نے کبھی شرک و بت پرستی نہ کی ہو حالانکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے سوا سب نے بت پرستی کی ہے۔
فلہٰذا وہ اس آیت کے مصداق نہیں بن سکتے۔ تو وہ صرف حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔
اور مولوی! اب میں مولوی عبدالستار سے پوچھتا ہوں کہ اس آیتِ استخلاف کا کیا مطلب ہے؟ اور اس کے مصداق کون ہیں؟
مناظر اہل سنت:
بعد از خطبہ حضرات! مولوی اسماعیل صاحب نے حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل کو نصِ قرآن مجید اور احادیثِ متواترہ اہلِ سنت سے ثابت کرنا تھا مگر اس نے کوئی ایک دلیل بھی اس مدعا کے ثابت کرنے کے لیے پیش نہیں کی اور نہ قیامت تک پیش کر سکتا ہے اور نہ شیعہ مجتہدین میں سے کوئی قیامت تک ثابت کر سکے گا۔
1: مولوی اسماعیل صاحب! آپ کو حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کرنی ہے۔ آیتِ استخلاف پڑھ کر آپ کا یہ کہنا کہ سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی خلافت دین کا جزو نہیں یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلا فصل کی بحث ہے یا سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت بحث ہے؟ اگر آپ حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کرنے سے عاجز ہیں تو پھر آئیے چوتھا موضوع شروع کیجیے، میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت کو ثابت کرتا ہوں۔
2: مولوی صاحب! آپ کہتے ہیں کہ پہلے مطلق خلافت ثابت کروں گا پھر سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کروں گا آپ کی اور ہماری بحث مطلق خلافت میں نہیں ہے بلکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ سیدنا علیؓ خلیفہ بلا فصل تھے۔ آپ اس خلافتِ بلا فصل کو ثابت کیجیے، میں آپ کو اِدہر اُدہر نہیں بھاگنے دوں گا۔
3: مولوی اسماعیل صاحب! آپ نے جو:
اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ۞(سورۃ الاعراف: آیت 181)
اور: ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا الخ(سورۃ فاطر: آیت 32)
پڑھی ہے، یہ دونوں آیات سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کے ذکر سے بالکل ہی خالی ہیں آپ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کی بحث کو کیوں چھیڑ دیا؟ جب اپنے دعوے کو کسی دلیل سے ثابت نہیں کر سکتے تو پھر اِدہر اُدہر بھاگنے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔
4: چونکہ مولوی اسماعیل صاحب علمانہ باتوں سے کورے اور ناواقف ہیں اس لیے اس بیچارے کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ آیت میں لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
صیغہ مضارع منفی ہے، جس کے معنیٰ حال اور استقبال ہی ہوتے ہیں، ماضی کے نہیں ہوتے۔ جس کا مقصد ہے کہ ہم ان کو خلافت دیں گے جو ایمان لا چکے ہیں، جس میں یہ شرط نہیں کہ وہ کفر و شرک سے منزہ رہ کر ایمان لا چکے، بلکہ مطلق ایمان ہے اور وہ اب کبھی شرک نہیں کریں گے۔ یہاں آیت: مَاۤ اَشۡرَكُوۡا الخ۔(سورۃ الانعام: آیت 107)
یا لَمْ یُشْرِکُوْا نہیں ہے کہ زمانہ ماضی کی نفی پر دلالت کرے۔
مولوی صاحب! آپ خلافتِ بلا فصل کا ثبوت پیش کیجیئے ہاں اگر آپ خلافت بلا فصل کے ثبوت سے عاجز ہیں تو آئیے چوتھے موضوع پر بحث کیجیے میں حضرات خلفاءِ ثلاثہؓ کی خلافت کو ثابت کیے دیتا ہوں۔
5: مولوی اسماعیل صاحب! کہتے ہیں کہ خلافت شوریٰ سے نہیں ہوتی چونکہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو شوریٰ نے خلیفہ منتخب کیا لہٰذا وہ خلیفہ نہیں ہو سکتے۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ تو اپنے مذہب سے بھی نا واقف ہیں دیکھیے سیدنا علیؓ تو فرماتے ہیں: نہج البلاغہ جلد سوم صفحہ 8:
وَاِنَّمَا الشُّوْرٰی لِلْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ فَاِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی رَجُلٍ وَسَمَّوْہُ اِمَامًا کَانَ ذٰلِکَ لِلّٰہِ رِضًی۔
ترجمہ: خلافت کے شوریٰ کا حق مہاجرین و انصار کو ہے، پس اگر مہاجرین و انصار کسی شخص پر متفق ہو جائیں اور اس کو امامت کے لیے نامزد کریں تو وہ اللہ کا پسندیدہ امام ہوگا۔
دیکھیے سیدنا علی المرتضیٰؓ تو مہاجرین و انصار کے شوریٰ سے چنے ہوئے کو پسندیدہ خدا فرما رہے ہیں اور اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ نہیں ہوتا حالانکہ قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ الخ۔ (سورۃ الشوریٰ: آیت 38)
یعنی شوریٰ مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
6: مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکرؓ کو خلافت اللہ تعالیٰ نے نہیں دی ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ ان حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ہی خلافت دی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ان کی والدہ کے پاس لوٹانا اپنی طرف منسوب کیا، اگرچہ فرعون کے گھر سے اور فرعون کے آدمیوں کے سبب سے ہوا لیکن وعدہ اللہ تعالیٰ کا پورا ہوا یا جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ الخ۔(سورۃ الذاریات: آیت 58)
ترجمہ: تحقیق اللہ تعالیٰ ہی رزاق ہے۔
تو باوجود یکہ بظاہر کوئی ملازمت کے ذریعے، کوئی تجارت کے ذریعے، کوئی ہنر اور زراعت کے سبب سے رزق پا رہا ہے لیکن رزاق ہر ایک کا اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا وعدہ رزق پورا ہو رہا ہے۔
اسی طرح خلافت سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کو بذریعہ شوریٰ ملی ہے اور ظاہری سبب شوریٰ بنی ہیں مگر وعدہ اللہ تعالیٰ کا پورا ہوا ہے۔ تو ان حضرات کو اللہ تعالیٰ ہی نے خلیفہ بنایا اور چنا ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! اِدہر اُدہر نہ جائیے، سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل، آپ کے نزدیک توحید و رسالت کی طرح اصولِ دین میں سے ہے۔ بس جس طرح توحید:
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الخ۔(سورۃ الصافات: آیت 35)
وغیرہ آیات اور رسالت:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ الخ۔(سورۃ الفتح: آیت 29)
وغیرہ آیات میں واضح اور صریح الفاظ میں موجود ہے اسی طرح آپ خلافتِ بلا فصل کے لیے بھی واضح اور صریح الفاظ قرآن مجید میں یا حدیثِ متواترہ اہلِ سنت میں دکھائیے یقین رکھیے آپ قیامت تک نہیں دکھا سکتے۔
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ ۔۔۔ الایۃ۔(سورۃ النور: آیت 55)
مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کی خلافت مراد ہے، شاید بیچارے کو اپنی کتابوں سے بھی لاعلمی ہے۔ دیکھیے تفسیر صافی صفحہ 371 پر اسی آیت کے متعلق لکھا ہوا ہے:
نزلت فی القائم من اٰل محمدﷺ۔
اور آگے لکھتے ہیں:
عن اھل البیت انہا نزلت فی المہدی من اٰل محمد
ترجمہ: یعنی یہ آیتِ استخلاف صرف امام مہدی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ میرے سامنے کس منہ سے کہتے ہو کہ اس آیت کا مصداق سیدنا علیؓ ہے؟سیدنا علیؓ کی خلافت اس آیت سے ثابت ہے۔ ذرا سوچ کر بولو، کس کے سامنے بول رہے ہو، جنگل میں نہیں تونسوی سے مناظرہ کر رہے ہو۔
8: مولوی اسماعیل صاحب مجھ سے آیتِ استخلاف کا مطلب اور مصداق پوچھتے ہیں کہ اس سے کون مراد ہے؟ تو میں کہتا ہوں اس سے خلفاءِ راشدینؓ کی خلافت مراد ہے کیونکہ اس میں جمع کا صیغہ ہے جس کے لیے کم از کم تین خلفاء کا صحابہ کرام مخاطبینِ آیت میں سے ہونا ضروری ہے مولوی اسماعیل صاحب! آپ مجھ سے مت پوچھیے بلکہ آپ خلافتِ بلا فصل کی کوئی نص پیش کیجیے۔ اس آیت میں تو متعدد خلفاء سے وعدہ الٰہی ہے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کا تو نام و نشان بھی نہیں۔
مناظر شیعہ:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
میں تو کہتا ہوں کہ آیت کا مصداق سیدنا علیؓ اور ہمارے بارہ خلیفہ ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تم میں سے ویسے خلفاء بناؤں گا جیسے تم سے پہلے لوگوں میں بنائے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا:
اِنِّىۡ جَاعِلٌ فِى الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةً الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 30)
ترجمہ: تحقیق میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔
اور اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق فرمایا:
يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِى الۡاَرۡضِ الخ۔(سورۃ ص: آیت 26)
ترجمہ: اے داؤد تحقیق ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے:
اور اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا اور فرمایا:
هٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِىۡ فِىۡ قَوۡمِىۡ الخ۔(سورۃ الاعراف آیت 142)
ترجمہ: اے ہارون تم میرے خلیفہ رہو میری قوم میں۔
تو یہ آیات صراحتاً بتلا رہی ہیں کہ اگلے لوگوں میں خلافت کے دو طریقے ہی قرآنِ مجید میں ہیں جن کی تشبیہ اس آیتِ استخلاف میں دے کر فرمایا گیا ہے کہ تم میں بھی اس طرح خلفاء بناؤں گا تو اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلفاء سیدنا علیؓ اور ہمارے بارہ امام ہیں۔
آپ کے شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ تفسیر عزیزی کے صفحہ 484 پر لکھتے ہیں:
تنصیصِ خلفاء بالصفات قوی است از اسماء خلفاء
ترجمہ: یعنی خلفاء کو صفات سے بیان کرنا ان کے نام لے کر بیان کرنے سے زیادہ قوی ہے۔
بتائیے ہم سے کیوں نام علیؓ بمع قید خلافتِ بلا فصل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟ اہلِ سنت کے نزدیک تو خلافت اصولِ دین میں سے نہیں ہے۔ یعنی سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کوئی مانے یا نہ مانے کوئی حرج نہیں۔
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل صاحب! آپ کے نزدیک خلافتِ سیدنا علیؓ اصولِ دین میں سے ہے لہٰذا توحید اور رسالت کی طرح واضح نصوص سے خلافتِ بلا فصل ثابت کرو۔
آیتِ آدم اور داؤد اور موسیٰ و ہارون علیہم السلام کی پڑھتے ہوئے کیا اس سے حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت ہو جائے گی؟ یہ انبیاء علیہم السلام تو اللہ تعالیٰ کے خلفاء تھے۔ آپ کی اور ہماری بحث رسول اللہﷺ کے خلیفہ کے متعلق ہے۔
آپ کسی آیت سے ثابت کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کہے کہ میں رسول اللہﷺ کے خلفاء کا نام لے کر اعلان کروں گا اور اس کے بعد اپنے مذہب کے عقیدے کے مطابق سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل ثابت کیجیے۔
اور آیتِ استخلاف:
كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
میں جو تشبیہ ہے نفسِ خلافت میں ہے، یعنی پہلے لوگوں میں بھی خلفاء اللہ تعالیٰ نے بنائے تھے اور ان کو تمکین فی الارض اور سلطنت عطا فرمائی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ النساء: آیت 54)
تم میں سے بھی خلفاء بناؤں گا اور اس وعدہ خداوندی کے مطابق خلفاءِ راشدینؓ کو خلیفہ بنایا۔
تو تشبیہ کے لیے اتنا قدر کافی ہے۔ تشبیہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مشبہ کے لیے مشبہ بہ کی تمام صفات و لوازمات ثابت ہوں جیسا کہ کسی بہادر آدمی کو شیر سے تشبیہ دے کر کہا جاتا ہےھو کا لاسد وہ شیر کی مانند ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آدمی درندہ بھی ہو اور انسانیت سے نکل جائے اور اس کے لیے دم اور گردن کے بڑے بڑے بال بھی ہوں بلکہ صرف شجاعت میں تشبیہ مراد ہوتی ہے اسی طرح یہاں آیتِ استخلاف:
كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
میں بھی تشبیہ صرف خلافت اور حکومت دینے میں ہے، تمام صفات و لوازمات میں نہیں۔
ورنہ مولوی اسماعیل صاحب! ان آیات میں جن خلفاء کا آپ ذکر کر کے تشبیہ دے رہے ہیں وہ انبیاء تھے تو اگر پوری تشبیہ مراد ہے تو کیا رسول اللہﷺ کے خلفاء بھی پہلے خلفاء کی طرح نبی ہوں گے؟ باقی آپ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق جو کہا ہے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد خلیفہ نہیں بنے بلکہ وہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو چند دنوں کے لیے اپنی زندگی میں اپنا عارضی نائب بنا دیا تھا۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے خود مستقل نبی تھے ان کو موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں کتاب اور نبوت ملی ہوئی تھی اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہما السلام کے متعلق فرماتے ہیں:
وَاٰتَيۡنٰهُمَا الۡكِتٰبَ الۡمُسۡتَبِيۡنَ ۞(سورۃ الصافات: آیت 117)
ترجمہ: ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب عطاء کی تھی۔
اس آیت کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت سے کیا تعلق ہے آپ وقت ضائع نہ کیجیے، اگر خلافتِ سیدنا علیؓ پر کوئی نص ہے تو پیش کیجیے۔
اور تفسیر عزیزی کی عبارت سے لوگوں کو دھوکہ نہ دیجیے چونکہ آپ سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل دکھانے سے عاجز آ چکے ہیں اس لیے ایسی عبارتوں کے سہارے ڈھونڈ رہے ہیں شاہ عبد العزیز صاحبؒ نے اہلِ سنت کے عقیدے کے مطابق تصریحِ صفات یا تصریحِ اسماء کے اندر فوقیت کے سلسلے میں بحث کی ہے آپ کے نزدیک تو امامت و خلافتِ علیؓ بمنزلہ نبوت و رسالت ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ جب نبوت و رسالت کا ثبوت بغیر نام کے نہیں ہو سکتا تو خلافت و امامت بغیر نام کے کیسے ثابت ہو کر نبوت کی طرح ہو سکتی ہے؟ تو آپ صرف صفات کے ذریعے کس طرح امامت اور خلافتِ شیعہ اصول کے مطابق ثابت کرنے میں اہلِ سنت کے دامن میں پناہ لے کر اکتفاء کر سکتے ہیں جب کہ آپ کی اصول کافی کے صفحہ 176 پر ہے:
نَصَّ اللهُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہٗ عَلَی الْاَئِمَّةِ وَاحِدًا فَوَاحِدًا۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے ہر امام کا نام بطورِ نص کے بیان کر دیا ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے ایک امام کا نام لے کر ہر ایک کی امامت و خلافت پر نص فرمائی ہے آپ تو صرف سیدنا علیؓ کا نام بمع قید خلافتِ بلا فصل دکھانے سے گھبرا رہے ہیں خدا جانے آپ پر کیا بنتی جب میں آپ کی اصول کافی کی اس روایت کے مطابق آپ کے تمام ائمہ کی امامت کے منصوص ہونے کا آیاتِ قرآنی سے مطالبہ کرتا۔
مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کوئی مانے یا نہ مانے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ خلافت کا مسئلہ اہلِ سنت کے نزدیک اصولِ دین میں سے نہیں ہے تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جب اصولِ دین میں توحید، رسالت، قیامت ہیں تو ان کے ماسوا باقی احکامِ دین نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو کوئی مانے یا نہ مانے تو کوئی حرج نہیں؟ خلافت بھی باقی احکامِ دین کی طرح احکامِ دین میں سے ایک ضروری مسئلہ ہے اگرچہ ہمارے نزدیک اصولِ دین میں سے نہیں ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ مدعیِ خلافتِ بلا فصل ہیں، اور ہم معترض ہیں آپ اپنا دعویٰ واضح دلیل سے ثابت کیجیے جو آپ قیامت تک ثابت نہیں کر سکتے۔
مناظر شیعہ:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ الایۃ۔ (سورۃ النور: آیت 55)
میں نے آپ حضرات کے سامنے ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں صاف فرما رہے ہیں کہ تم میں سے ویسے خلفاء بناوے گا جیسے پہلے لوگوں میں بنائے تھے اور قرآن مجید میں یہی ثابت ہے کہ دو طرح کے خلیفے بنائے گئے یا اللہ تعالیٰ نے خود بنایا یا اس کے نبی نے خود اپنا خلیفہ بنایا، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو بنایا۔اس امت میں بھی رسول اللہﷺ کا خلیفہ انہی دو طریقوں پر بنایا گیا، نہ کہ شوریٰ وغیرہ سے۔
وَعَدَ اللّٰهُ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)
میں اللہ تعالیٰ فاعل ہیں نہ کہ شوریٰ اور اصحابِِ ثلاثہؓ شوریٰ سے خلیفہ ہوئے۔اگر اس آیت کا مصداق خلفاءِ راشدینؓ کی خلافت ہے تو مولوی عبد الستار صاحب بتائیں کہ ان کی خلافت کا منکر کیسا ہے؟
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل صاحب! آپ مدعی ہیں اور ہم معترض ہیں ہم کو تشبیہ کے لیے صرف خلافت میں تشبیہ دینا کافی ہے۔
آپ اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لیے اس احتمال کو جب تک نہ ہٹائیں آپ کا دعویٰ ثابت ہونا محال ہے آپ کا بار بار یہ کہنا کہ خلافت کے دو ہی طریقے ہیں یا خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے یا خود رسول خلیفہ بناتا ہے یہ کس آیت میں بیان کیا گیا ہے؟
کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خلیفہ کا اعلان خود میری طرف سے کیا جانا ضروری ہے یا خود میرے رسول کی طرف سے اعلان ضروری ہے۔
2: جن خلفاء کے متعلق آپ نے آیات پڑھی ہیں یہ تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کے خلفاء اور نبی ہیں۔ حالانکہ ہمارا اور آپ کا مناظرہ رسول اللہﷺ کے خلیفہِ بلا فصل کے متعلق ہے جو کہ خلیفہِ رسول ہے اور نبی نہیں ہے، لہٰذا آپ کا قیاس، قیاس مع الفارق ہے۔
3: اگر بالفرض آپ کا یہ اصول مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے خلفاء حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور رسول اللہﷺ کے خلیفہ سیدنا علیؓ کی خلافت تمام صفات و لوازمات میں ایک جیسی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ قرآن ہمارا اور رسول ہمارا اور خلیفہ بلا فصل بھی ہمارا، کے اس میں پہلے خلفاء کا ذکر تو نام بنام ہو مگر ہمارے خلیفہِ بلا فصل کی خلافت کا کہیں نام نہ ہو؟
لہٰذا آپ کے نزدیک جب پہلے خلفاء کی طرح سیدنا علیؓ کی خلافت ہے تو آپ سیدنا علیؓ کے خلافتِ بلا فصل کا ذکر نام کے ساتھ ثابت کیجیے جو قیامت تک آپ سے ثابت نہ ہوگا۔
4: خلفاءِ راشدینؓ کی خلافت کا بنانے والا اور دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کہ فاعلِ حقیقی ہے اگرچہ ظاہری سبب شوریٰ ہو، جیسا کہ سیدنا علیؓ کو بھی خلیفہ اللہ نے بنایا مگر ظاہری سبب شوریٰ تھا۔
5: خلفاءِ ثلاثہؓ کی خلافت واقعی اس آیت کا مصداق ہے اور ان کی خلافت کا منکر ہمارے نزدیک فاسق ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞ (سورۃ النور: آیت 55)
ترجمہ: جس نے اس خلافت کے بعد ناشکری کی وہ فاسق ہیں۔
مناظر شیعہ:
حضرات! دیکھیے اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ہمارے لیے وہ دین مقرر کرتے ہیں جو کہ تمام سابقہ انبیاء علیہم السلام کے لیے تھا اللہ تعالیٰ سورۃ شوریٰ میں فرماتا ہے:
شَرَعَ لَكُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوۡحًا وَّالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهٖۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى وَعِيۡسٰٓى اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ الخ۔ (سورۃ الشوریٰ: آیت 13)
ترجمہ: تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے وہی دین بھیجا جس کا حکم حضرت نوح علیہ السلام کو دیا اور تیری طرف وہی بھیجا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا تھا کہ سب دین کو قائم رکھو۔
اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰۤى اٰدَمَ وَنُوۡحًا وَّاٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ۞(سورۃ آلِ عمران: آیت 33)
ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۡۢ بَعۡضٍ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞(سورۃ آلِ عمران: آیت 34)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے چن لیا حضرت آدم علیہ السلام کو اور حضرت نوح علیہ السلام کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سارے جہان سے جو بعض بعض کی اولاد تھے۔
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ رَسُوۡلًا شَاهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ۞(سورۃ المزمل: آیت 15)
ترجمہ: ہم نے تمہاری طرف اسی طرح رسول بھیجا جس طرح ہم نے فرعون کی طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا۔
فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ النساء: آیت 54)
ترجمہ: ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی اور ان کو ملک عظیم اور بڑی بادشاہی اور سلطنت دی۔
ان آیات سے ثابت ہے کہ ہمارا دین سابقہ انبیاء کے دین کی طرح ہے اور ہمارا رسول سابقہ رسولوں کی طرح ہے اور سابقہ انبیاء علیہم السلام کے بعد اُن کی آل اور ذریت کو ہی خلافت اور کتاب و حکمت اور بادشاہی دی گئی تھی، تو ہمارے لیے بھی دین کا وہی طریقہ اور وہی حکم ضروری ہو گا تو پس حضرت محمدﷺ کے بعد خلافت آپﷺ کی آل کا حق ثابت ہوا، اور وہ سیدنا علیؓ ہی ہیں۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! قرآنِ مجید میں جہاں جہاں سابقہ انبیاء کرام اور ان کے وحی اور دین کو ہمارے رسول پاکﷺ اور آپﷺ کی وحی اور دین کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اس میں مطلق وحی کے بھیجنے اور اصولِ دین میں متفق ہونے کا ذکر ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ اور گزشتہ انبیاء علیہم السلام تمام امور وصفات و کمالات اور تمام جزوی و فروعی مسائل و احکام میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں، یہ تشبیہ صرف اصول دین اور مطلق وحی میں ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ ہمارا دین ناسخ ہے اور وہ منسوخ ہیں اور ان انبیاء علیہم السلام اور ان کے ادیان کے بعد نبوت اور وحی کا آنا جاری تھا اور حضورِ اکرمﷺ کے بعد بالکل ختم کر دیا گیا، تو ہر طرح سے پوری تشبیہ مراد لینا کس قدر جہالت ہے۔
2: اگر بالفرض مولوی اسماعیل صاحب کے اس جاہلانہ اصول کو مان لیں کہ پوری تشبیہ مراد ہے تو سابقہ امتوں اور دینوں میں جن خلفاء کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ تو انبیاء تھے، تو کیا سیدنا علیؓ کو بھی یہ نبی کہہ کر پہلے خلفاء سے تشبیہ دیں گے؟ بہر حال ان تمام آیات میں سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کا اشارہ تک بھی نہیں ہے۔
3: اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ رَسُوۡلًا شَاهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ۞(سورۃ المزمل: آیت 15)
میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت و نبوت سے رسول اللہﷺ کی رسالت کو تشبیہ دے کر سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کو ثابت کرنا نرالی منطق ہے۔
یہاں تو اہلِ مکہ اور کفار کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ جس طرح تمہاری طرف رسول بھیجا گیا ہے اسی طرح ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا، لیکن فرعون نے اُس رسول کی نافرمانی کی تو تباہ و فنا ہو گیا، لہٰذا فرعون کی طرح تم لوگ رسول پاکﷺ کی نافرمانی نہ کرو ورنہ تباہ کر دیے جاؤ گے۔ یہاں اور کوئی تشبیہ مراد نہیں ہے کیونکہ جہاں ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دی جائے وہاں تمام وجوہ سے تشبیہ کا ہونا ضروری نہیں جیسا کہ علمِ معانی میں مذکور و مسطور ہے۔
4: مولوی اسماعیل صاحب! اگر رسول اللہﷺ کے خلفاء کے لیے بھی سابقہ انبیاء علیہم السلام کی طرح آپﷺ کی آل میں سے ہونا ضروری ہے تو پھر اس آیتِ استخلاف کو کس منہ سے پڑھ رہے ہو؟ یہاں تو اللہ تعالیٰ حضورِ اکرمﷺ کو نص کر کے فرما رہے ہیں کہ میرا وعدہ خلافت اہلِ ایمان صالحین سے ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ میرا وعدہ خلافت صرف آپﷺ کی اولاد و آل سے ہے۔
5: مولوی اسماعیل صاحب کا یہ اصول بھی غلط ہے کہ سابقہ انبیاء کرام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ ان کی آل و اولاد میں سے ہوئے۔ کیونکہ ہارونؑ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے، جس سے ثابت ہوا کہ ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی خلافت نہیں ملی لہٰذا مولوی اسماعیل صاحب کا یہ استدلال بھی غلط رہا باقی رہا مولوی اسماعیل صاحب کا یہ دعویٰ کہ سابقہ انبیاء کے خلفاء ان کی اولاد سے ہوتے تو یہ بھی سراسر غلط ہے دیکھیے شیعہ کی معتبر کتاب اصولِ کافی صفحہ 181 پر ہے:
عن ابی عبدالله علیہ السلام قال اوصی موسی علیہ السلام الی یوشع بن نون و الی ولد ہارون ولم یوص الی ولدہ ولا الی ولد موسیٰ۔
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد یوشع بن نون کو اپنا وصی اور جانشین بنایا اور یوشع بن نون نے اپنے بعد ہارون کے لڑکے کو اپنا وصی و جانشین بنایا اور نہ اپنے لڑکے کو وصی بنایا اور نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد سے کسی کو وصی بنایا۔
معلوم ہوا کہ مولوی اسماعیل کا یہ کہنا کہ ہارون کو وصی بنایا تھا یہ بھی غلط ہے اور یہ دعویٰ کہ خلافت اولادِ انبیاء میں رہی یہ بھی غلط ہے کیونکہ حضرت یوشع علیہ السلام باوجودیکہ اولادِ موسیٰ نہ تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ ہوئے۔ اور پھر یوشع علیہ السلام کے خلیفہ ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوئے، نہ خود یوشع علیہ السلام کی اولاد سے ہوئے اور نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد سے۔
6: مولوی اسماعیل صاحب کے اگر اس مہمل اصول کو مانا جائے تو پھر خود اُن کے اپنے اصول سے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل بیخ و بُن سے اکھڑ جاتی ہے۔ کیونکہ حضرت علی المرتضیٰؓ اولادِ رسول اللہﷺ میں سے ہرگز نہیں ہیں۔ تو حضرت علی المرتضیٰؓ کا حقِ خلافت بالکل نہیں ہو سکتا۔
مناظر شیعہ:
حضرات! دیکھیے آنحضرت ﷺ نے سیدنا علیؓ کو فرمایا:
اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ۔
ترجمہ: اے علیؓ تو میرے لیے اس طرح ہے جس طرح کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیےحضرت ہارون علیہ السلام تھے۔ دیکھیے اس میں صاف ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی آنحضرتﷺ کے اسی طرح خلیفہ ہیں۔
2: مسلمانوں کو جو درود شریف سکھایا گیا ہے وہ یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَاٰلِ اِبْرَاھِیْمَ۔
دیکھیے درود شریف میں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد پر درود ہے اسی طرح حضرت محمدﷺ کے بعد ان کی اولاد پر درود کا حکم دیا گیا ہے۔ تو خلافت بھی اسی طرح ہے۔ مومنین کرام! آج مجھ سے درود کو سمجھ لو۔
3: سورۃ الانعام پارہ 7 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کو چنا۔ آیت یہ ہے:
وَتِلۡكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَيۡنٰهَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ عَلٰى قَوۡمِهٖ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 83)
وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ كُلًّا هَدَيۡنَا وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ وَمُوۡسٰى وَ هٰرُوۡنَ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 84)
وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى وَعِيۡسٰى وَاِلۡيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞(سورۃ الانعام: آیت 85)
وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَالۡيَسَعَ وَيُوۡنُسَ وَلُوۡطًا وَكُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ۞(سورۃ الانعام: آیت 86)
وَمِنۡ اٰبَآئِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 87)
ترجمہ: اور یہ ہماری دلیل ہے جو کہ ہم نے دی تھی ابراہیم علیہ السلام کو اس کی قوم کے مقابلے میں، درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کے چاہیں۔ تیرا رب حکمت والا ہے، جاننے والا۔ اور بخشا ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام سب کو ہم نے ہدایت دی اور نوح علیہ السلام کو ہدایت کی ہم نے ان سب سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو اور ایوب علیہ السلام و یوسف علیہ السلام کو اور موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام کو اور ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں نیک کام کرنے والوں کو۔ اور زکریا علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام کو۔ سب ہیں نیک بختوں میں۔ اور اسماعیل علیہ السلام اور الیسع علیہ السلام اور یونس علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کو اور سب کو ہم نے بزرگی دی سارے جہان والوں پر۔ اور ہدایت کی ہم نے بعضوں کو ان کے باپ دادوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے اور بھائیوں میں سے۔ اور ان کو ہم نے پسند کیا اور سیدھی راہ پر چلایا۔
دیکھیے حضرت! اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام کی اولاد اور بھائیوں کو چنا گیا تو ہمارے حضرت محمدﷺ کے بعد بھی خلافت آپﷺ کی اولاد اور رشتہ داروں کا حق ہوگی۔
4: یہ اہلِ سنت والجماعت کی معتبر کتاب بخاری شریف ہے آنحضرتﷺ نے حسنین کریمینؓ کو فرمایا کہ میں تمہارے لیے وہی مانگتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کے لیے مانگا تھا۔ تو جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کے بیٹے ان کے قائم مقام اور خلیفہ تھے اسی طرح رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ ہی آپﷺ کے خلیفہ ہوں گے یہی وجہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے بیٹے فوت ہو گئے اگر حضورِ اکرمﷺ کے بیٹے زندہ رہتے تو سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ امام نہ ہوتے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! انت منّی بمنزلۃھارون علیہ السلام من موسٰی علیہ السلام میں سیدنا علیؓ کی خلافت کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ہے کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے فوت ہو جانے کی وجہ سے خلیفہ نہیں بنے اس روایت میں تو صرف اتنی تشبیہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی زندگی میں کوہ طور پر جاتے وقت پیچھے اپنے اہل و عیال اور قوم میں حضرت ہارون علیہ السلام کو چھوڑ گئے اور اخلفنی کے معنیٰ بھی پیچھے رہ جانا ہے اسی طرح حضورِ اکرمﷺ نے بھی غزوہ تبوک میں جاتے وقت سیدنا علیؓ کو اپنے اہل و عیال کی خدمت اور حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑا حتیٰ کہ مسجدِ نبوی میں امامت اور جماعت کے لیے بھی دوسرے صحابی سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔
جب اس موقع پر حضرت محمدﷺ نے سیدنا علیؓ کو مدینہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تو وہ غمگین ہوئے کہ میں عورتوں اور بچوں میں پڑا رہوں اور فضیلتِ جہاد سے محروم رہوں۔ تو آن حضرت محمدﷺ نے سیدنا علیؓ کی دل جوئی کی اور یہ الفاظ فرمائے کہ اسی پیچھے رہ جانے میں تیرا رتبہ کم نہ ہوگا، جیسا کہ حضرت ہارون علیہ السلام پیچھے رہ گئے تھے۔ اس روایت میں نہ خلافت کا کوئی ذکر ہے اور نہ خلافتِ بلا فصل سے اس کا کوئی تعلق ہے حالانکہ خود شیعہ کتب سے ہم ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصی اور خلیفہ حضرت یوشع علیہ السلام تھے نہ کہ حضرت ہارون علیہ السلام۔
2: مولوی اسماعیل بے چارے کو جب خلافتِ بلا فصل کے ثبوت میں کوئی آیت نہیں ملی تو کیوں خواہ مخواہ وقت ضائع کر رہا ہے؟ اور اب عاجز آ کر درود پڑھنا اور سکھانا شروع کر دیا۔ یہ تو مناظرہ ہے کوئی مجلسِ خوانی نہیں ہے۔ درود میں کہاں لکھا ہے کہ سیدنا علیؓ خلیفہ بلا فصل تھے؟ اور یہاں لکھا ہے کہ خلیفہ وہی ہوتا ہے جس پر درود پڑھا جائے؟ تشبیہ جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل سے دی گئی ہے، تو اگر آلِ ابراہیم سے پوری تشبیہ مراد ہے تو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں جو خلفاء ہوئے ہیں وہ نبی تھے، مگر آن حضرت محمدﷺ کی آل میں کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
مولوی اسماعیل بے چارے سے کوئی پوچھے تو سہی کہ آپ جو یہ درود پڑھانے اور سکھانے میں لگ گئے ہیں یہ کوئی سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کے لیے آیتِ قرآنی ہے یا کوئی حدیثِ متواتر اہلِ سنت ہے؟ خدا جانے آپ کو مناظر کس نے بنایا۔
3: مولوی اسماعیل بے چارے نے جو لمبی چوڑی آیات پڑھ کر حضرات انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ کیا ہے اس سے خلافتِ بلا فصل کی طرف سرے سے کوئی اشارہ تک بھی ثابت نہیں ہوتا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے خلفاء ہیں، انبیاء کے خلفاء ہیں اور ان کی خلافت سے نبوت مراد ہے۔ اور ہماری بحث رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کے متعلق ہے جو قطعاً رسول اور نبی نہیں ہیں۔ لہٰذا رسالت و نبوت کی آیات کو خلافت کے لیے کیسے دلیل بنا جا سکتا ہے؟
حضرت! مولوی اسماعیل کو کہیے وقت ضائع نہ کرے۔ موضوع کے اندر رہ کر خلافتِ بلا فصل کو نصِ قرآن و حدیثِ متواتر اہلِ سنت سے ثابت کرے جب قرآن ہمارے لیے آیا اور سابقہ خلفاء کے نام لے کر ان کو بیان کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے خلیفہِ بلا فصل کی خلافت جو کہ نبوت و رسالت کی طرح اصولِ دین میں سے ہو اور اس کا منکر کافر و مرتد ہو، اس کا ذرہ بھر واضح الفاظ میں کسی ایک آیت میں بھی نام نہ ہو؟ یہ انتہائی تعجب کی بات ہے۔
علاوہ ازیں ان آیات میں حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کے آباء و اخوان کا جو تذکرہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب ہدایت یافتہ موحد تھے اور شرک سے ہمیشہ پاک و منزہ رہے۔ خلافت کی کوئی معمولی سی بات بھی ان آیات میں نہیں ہے۔ شاید مولوی اسماعیل بے چارے کے پاس جب کوئی دلیل نہیں تو محض سامعین اور عوام کو مغالطہ دینا چاہتا ہے کہ میں بہت لمبی چوڑی آیات پڑھ کر خلافتِ بلا فصل کو ثابت کر رہا ہوں۔
4: رسول اللہﷺ نے سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کے لیے دعا فرمائی تو مولوی اسماعیل صاحب! میں پوچھتا ہوں کہ اس دعا فرمانے سے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل سے کیا رابطہ ہے؟ دعا سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کے لیے فرمائی تو خلیفہ بلا فصل سیدنا علی المرتضیٰؓ کیسے بن گئے۔
مولوی صاحب! ایسی بے ربط باتیں خلافتِ بلا فصل کس طرح ثابت کر سکتی ہیں؟ یہ تو سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کے فضائل و مناقب کی باتیں ہیں جن کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل سے کوئی تعلق نہیں۔
باقی مولوی اسماعیل صاحب کے اس عالی شان ارشاد اور انوکھے استدلال پر بھی غور کیجیے کہ "اس لیے تو حضرت محمدﷺ کے صاحبزادے فوت ہو گئے اگر وہ فوت نہ ہوتے تو سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ امام نہ ہوتے تو آنحضرتﷺ کے صاحبزادوں کی وفات سے امامت سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کو ملی۔ مگر اس سے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کیسے ثابت ہوگئی؟ شاید یہ کوئی مجتہدانہ باریکی ہے جو کسی کی سمجھ میں آنے کے قابل نہیں۔
مناظر شیعہ:
حضرات! دیکھنا یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خلافت قرآن سے ملتی ہے یا نہیں؟ اگر علیؓ اہلِ بیتؓ میں داخل ہے تو خلافت علیؓ کا حق ہے اور اگر اہلِ بیتؓ میں سے نہیں تو خلافت سیدنا علیؓ کا حق نہیں۔ میں نے اٹھائیس انبیاء کرام علیہم السلام کا نام قرآن مجید سے ثابت کیا کہ ان کی ذریت اور آل میں نبوت کو رکھا گیا ہے تو خلافت بھی رسول اللہﷺ کی ذریت اور آل میں باقی انبیاء علیہم السلام کی طرح جاری ہوگئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنا امام چنا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی ذریت کے لیے امامت کی دعا مانگی تو صرف سیدنا علیؓ ہی آل سے ہیں لہٰذا خلافت ان کا حق ہے کیونکہ جب آیتِ تطہیر نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ، سیدنا فاطمہؓ اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کو ایک چادر میں اپنے ساتھ لپیٹ کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا:
اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلاَءِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَطَہِّرْھُمْ۔
ترجمہ: یہ میرے اہلِ بیتؓ ہیں ان کو پاک فرما اور بوقتِ حکم مُباہَلہ بھی آنحضرتﷺ ہی چار حضرات کو اپنے ساتھ مباہلہ کے لیے تشریف لائے تو یہی چار حضرات آنحضرتﷺ کے انفس وابناء ونساء بن سکتے ہیں آپ نے اور کسی کو شامل نہیں فرمایا تو بس خلافت بھی انہی کا حق تھا کہ آنحضرتﷺ کے بعد سیدنا علیؓ کا اور پھر سیدنا حسنؓ کا اور سیدنا حسینؓ کا یہی ہمارا مقصود و مدعا ہے۔
مناظر اہل سنت:
1: مولوی اسماعیل صاحب! یہ آپ کی مجتہدانہ من گھڑت باتیں ہیں یا قرآن مجید کا کوئی اصول ہے؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل ہیں؟ اٹھائیس انبیاء کرام علیہم السلام کا جن آیات میں ذکر ہے ان آیات میں سیدنا علیؓ کی خلافت کا نام کہاں ہے؟ آپ مجھ سے سیکھ لیجیے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو نبوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہوتے ہیں اور سیدنا علی المرتضیٰؓ محمد رسول اللہﷺ کے خلیفہ ہیں تو ان دونوں خلافتوں کا آپس میں بہت فرق ہے۔ ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا غلط ہے اور یہ تو آپ کو بھی مسلم ہے کہ سیدنا علیؓ نبی نہیں تھے۔
2: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کے لیے جس امامت کے لیے دعا مانگی وہ امامتِ نبوت ہے۔ آپ کا اور ہمارا مناظرہ نبوت کے متعلق نہیں خلافت کے متعلق ہے اور اگر بالفرض آپ اس سے خلافت ہی مراد لیں تو پھر کیا سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کو خلافت ملنے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت سے خلافت نکل جائے گی؟ جب کہ آپ کی معتبر کتاب نہج البلاغہ صفحہ 85 کے حاشیہ پر مرقوم ہے کہ رسول اللہﷺ کا آٹھواں دادا سیدنا عمر فاروقؓ کا دادا تھا اور رسول اللہﷺ کا چوتھا دادا سیدنا عثمانؓ کا دادا تھا۔
3: آیتِ تطہیر کا سیاق و سباق نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہرات کے خطاب سے گھرا ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ:
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 33)
بھی ازواجِ مطہرات کے لیے نازل ہوئی ہے۔ دیکھیے: قَرۡنَ۔ بُيُوۡتِكُنَّ ۔ تَبَرَّجۡنَ ۔ وَاَقِمۡنَ ۔ اٰتِيۡنَ۔ اَطِعۡنَ۔ وَاذْکُرْنَ۔ بُیُوْتِکُنَّ وَرَسُوۡلَهٗ۔(سورۃ الاحزاب)
یہ سب آگے پیچھے والے جمع مؤنث کے صیغے اور ضمیریں ہیں اور درمیان میں ذکرِ تطہیر ہے جن میں تمام تر مخاطب ازواجِ مطہراتؓ ہیں تو تطہیر کو ازواجِ مطہراتؓ سے کاٹ کر دوسری طرف لے جانا ظلم اور تحریفِ قرآن ہے باقی عَنۡكُمُ اور يُطَهِّرَكُمۡ میں ضمیر کُمْ کا لانا ایسا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کے لیے قرآنِ مجید میں:
قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِرَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ الخ(سورۃ ہود: آیت 73)
میں ہے اور جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بیوی کو فرمایا:
فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا الخ۔(سورۃ طٰہ: آیت 10)
سَاٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ۞(سورۃ النمل: آیت 7)
البتہ ہمارا بھی یہ ایمان ہے کہ جب یہ آیتِ تطہیر نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ اور بعض روایات میں سیدنا علیؓ کا نام بھی ہے ان حضرات کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا:
اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلاَءِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَطَھِّرْھُمْ
ترجمہ:اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیتؓ ہیں پس ان کو پاک کیجیے حضورِ اکرمﷺ کی دعا کی وجہ سے یہ حضرات بھی تطہیر میں داخل ہیں اگر آیتِ تطہیر ان کے لیے نازل ہوتی تو حضورِ اکرمﷺ کو ان کے لیے دعا مانگنے کی حاجت نہ ہوتی جب حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے چادر میں داخل ہونے کی درخواست کی تو حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: اَنْت ِعَلیٰ خَیْرٍ، خیر اسم تفضیل کا صیغہ ہے جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تو بہت اچھے حال پر ہے یعنی تمہارے حق میں تو یہ آیتِ تطہیر نازل ہوئی ہے اب میں ان کو بھی شامل کرتا ہوں جو پہلے شامل نہ تھے کیونکہ اگر شامل ہوتے تو دعا کی ضرورت ہی نہ تھی بہر حال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تطہیر میں یا اہلِ بیتؓ میں شامل ہونا سیدنا علیؓ کے فضائل تو ثابت کر دیتا ہے جس میں ہم کو کوئی اختلاف نہیں اور نہ حضرت علیؓ کی خلافت میں اختلاف ہے اختلاف تو صرف خلافت بلا فصل میں ہے جس کی آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ باقی رہا مباہلہ! تو یاد رکھیے مباہلہ واقع نہیں ہوا اگر مباہلہ واقع ہوتا تب حقیقت کھلتی کہ رسول اللہﷺ کس کو شامل کرتے ہیں اور کس کو شامل نہیں کرتے خود مقابل فریق نصرانیوں کا باہم مشورہ یہی ہوا کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ مباہلہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے اس لیے کوئی نصرانی اپنی بیوی، بچے اور عزیز و اقارب ساتھ نہیں لایا صرف چند آدمی صلح اور معاہدہ و جزیہ کی بات چیت کرنے کے لیے حاضر ہوئے جب حضرت محمدﷺ کو نصرانیوں کی آمد کی خبر ملی تو آپﷺ اپنی صداقت کا اظہار کرنے کے لیے فوری طور پر چند عزیز سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا حسنؓ و حسینؓ اور سیدنا علیؓ کو ساتھ لے کر تشریف لائے تاکہ نصرانیوں کے سامنے واضح ہو جائے کہ ہماری طرح رسول اللہﷺ مباہلہ سے منحرف نہیں ہوئے۔ اور تفسیر روح المعانی میں ہے: جَآءَ اَبُوْبَکْرٍ بِوَالَدِہٖ وَعُمَرُ بِوَلَدِہٖ وَعُثْماَنُ بِوَلَدِہٖ۔
ترجمہ: یعنی سیدنا ابو بکر صدیقؓ اپنے بال بچوں کو اور عمر فاروقؓ اور عثمانِ غنیؓ اپنے بال بچوں کو ساتھ لے کر مباہلہ کے لیے آ گئے۔
اہلِ سنت اور شیعہ کی کتابوں سے ثابت ہے کہ مسجدِ نبوی مہاجرین و انصار سے بھر گئی۔ ان امور سے قطع نظر کر کے دعوتِ مباہلہ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شرکت سے آپ کی فضیلت اور منقبت تو ثابت ہو سکتی ہے جس سے اہلِ سنت کو کوئی انکار نہیں۔ کیونکہ سیدنا علیؓ ہمارے پیر، مقتدا اور پیشوا ہیں اختلاف صرف خلافت بلا فصل میں ہے جس کی کوئی دلیل اب تک پیش نہیں کی گئی آپ خلافت بلا فصل کی کوئی دلیل پیش کیجیے ورنہ اپنی شکست کا اعلان کیجیے۔
مناظر شیعہ:
مولوی عبد الستار بار بار مطالبہ کر رہا ہے کہ سیدنا علیؓ کا نام قرآن مجید سے ثابت کیجیے دیکھیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)
ترجمہ: اور ہم نے انبیاء علیہم السلام کے لیے سیدنا علیؓ کو زبانِ صدق بنا دیا۔
ہمارے امیر المومنین سیدنا علیؓ انبیاء علیہم السلام کے لسانِ صدق ہیں۔
سورہ الشعراء میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ آپ نے دعا مانگی:
وَاجۡعَلْ لِّىۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۞(سورۃ الشعراء: آیت 84)
ترجمہ: اے میرے مولا! میرے لیے پچھلوں میں لسانِ صدق رکھیے۔
جب پہلی آیت سے ثابت ہوا کہ لسانِ صدق سیدنا علیؓ ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا میں سیدنا علیؓ مراد ہے اہلِ سنت کی کتاب تفسیر بیضاوی شریف میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا مانگی کہ اے اللہ! میری اولاد میں صادق پیدا کر جو میری آل سے دین کو زندہ کرے۔ دیکھیے حضرات! ان آیات سے سیدنا علیؓ کا نام ثابت ہو گیا۔
3: شفا قاضی عیاض میں لکھا ہے کہ سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ کا مددگار ہے دیکھیے جب حضورِ اکرمﷺ کا مددگار سیدنا علیؓ ہے تو خلیفہ بلافصل بھی وہی ہے۔
4: اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ ۞(سورۃ المائدہ: آیت 55)
ترجمہ: تمہارا ولی اور متولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ ایماندار ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ اس حال میں دیتے ہیں جب کہ نماز میں رکوع کر رہے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا والی اور متولی وہ ہوگا جو رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دے اور یہ واقعہ ہے کہ سیدنا علیؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک سائل آیا تو آپ نے اپنی انگشتری حالتِ رکوع میں اس کو دے دی جیسا کہ اہلِ سنت کی تفسیر مدارک میں منقول موجود ہے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! ذرا انصاف تو فرمائیے۔ آیت:
وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)
کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہے؟ بیچارے مولوی اسماعیل کو تو خود ان کے اپنے مذہب کے ہی تمام علماء و مجتہدین جھوٹا ثابت کر رہے ہیں دیکھیے ترجمہ مقبول 214 پر اس آیت کے معنیٰ یوں لکھتے ہیں: اور ہم نے ان سب کے لیے ذکرِ خیر بلند مرتبہ کا مقرر کیا اور دوسرا ترجمہ شیعہ فرمان علی صاحب کا دیکھیے 491 پر ہے اور ہم نے ان کے لیے اعلیٰ درجے کا ذکرِ خیر دنیا میں بھی قرار دیا تو غور کیجیے اگر اس آیت میں لفظ علیّا سے سیدنا علیؓ مراد ہوتے تو شیعہ مفسر علیا کے لفظ کا ترجمہ اعلیٰ درجہ کا ذکرِ خیر وغیرہ نہ کرتے بلکہ سیدنا علیؓ کا نام لکھتے کیونکہ اسمِ علم کے ترجمے میں وہی نام لکھا جاتا ہے، اس کا ترجمہ نہیں لکھا جاتا جیسا کہ محمد رسول اللّٰہ کے ترجمہ میں محمد کے معنیٰ نہیں لکھے جاتے بلکہ جوں کا توں نام لکھا جاتا ہے کہ محمد خدا کے رسول ہیں۔
2: بفرضِ محال اگر یہاں علیّا سے مراد سیدنا علیؓ ہی ہوں تو اس آیت کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہوگا؟ اس سے بس زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوگا کہ سیدنا علیؓ لسانِ صدق ہے جس سے ان کی فضیلت ثابت ہوگی اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مولوی اسماعیل صاحب بیچارے کو خلافت بلا فصل کی کوئی نص تو مل نہیں سکتی اس لیے کبھی آپ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞ (سورۃ مریم: آیت 50) پڑھ دیتے ہیں اور کبھی:
وَاِنَّهٗ فِىۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِىٌّ حَكِيۡمٌ ۞(سورۃ الزخرف: آیت 4)
پڑھ کر اپنے دل کو بہلا لیتے ہیں ورنہ ان آیات کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہے؟ خود ان کے شیعہ مفسر مقبول احمد اپنے ترجمہ کے صفحہ 974 پر اس کے معنیٰ یوں لکھتے ہیں: اور بے شک وہ قرآن مجید ہمارے پاس ام الکتاب میں عالی شان اور حکمت والا ہے اور دوسرا شیعہ فرمان علی اپنے ترجمہ صفحہ 780 پہ لکھتا ہے: اور بے شک یہ قرآن اصلی کتاب لوح محفوظ میں بھی جو ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے اور یقیناً بڑے رتبہ کی اور پر حکمت ہےحضرات! شیعہ مفسرین کے ترجمہ کے مطابق ان آیات کو سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل یا ان کی ذات سے کیا تعلق ہے؟ مولوی اسماعیل کو کہو کہ وقت ضائع نہ کرے۔
3: مولوی اسماعیل صاحب نے جو یہ آیت پڑھی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:
وَاجۡعَلْ لِّىۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۞ (سورۃ الشعراء: آیت 84)
ترجمہ: یعنی اے اللہ رب! میرا بول سچا پچھلوں میں۔
یعنی ایسے اعمالِ مرضیہ اور آثارِ حسنہ کی توفیق دے کر پیچھے آنے والی نسلیں ہمیشہ میرا ذکرِ خیر کریں اور میرے راستے کی طرف چلنے پر راغب ہوں اور بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ آخر زمانے میں میرے گھرانے سے نبی ہو چنانچہ یہی ہوا کہ حق تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو دنیا میں قبولِ عام عطا فرمایا اور ان کی نسل سے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہﷺ کو مبعوث فرمایا جنہوں نے ملتِ ابراہیمی کی تجدید کی اور فرمایا: میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں آج بھی ابراہیم علیہ السلام کا ذکرِ خیر اہلِ مِلل کی زبان پر جاری ہے اور امتِ محمدیہ تو ہر نماز میں كَمَا صَلَّيْتَ عَلیٰ اِبْرَاهِيمَ اور كَمَا بَارَكْتَ عَلیٰ اِبْرَاهِيمَ پڑھتی ہے اور خود شیعہ مفسر مولوی فرمان علی صاحب نے اپنے ترجمہ کے صفحہ 590 پر اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں میں میرا ذکرِ خیر قائم کر۔ غور کیجیے! اس آیت کو تو حضرت علیؓ کی ذات سے بھی کوئی تعلق نہیں، چہ جائیکہ اس سے خلافت بلا فصل ثابت ہو۔
4: شفا قاضی عیاض کے حوالے سے جو سیدنا علیؓ کا رسول اللہﷺ کا مددگار ہونا بیان کیا ہے، کیا اس سے خلافت بلا فصل ثابت ہو جاتی ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞(سورۃ الانفال: آیت 62)
اللہ تعالیٰ نے آپ کی امداد و تائید فرمائی اپنی مدد سے اور ایمانداروں سے۔ نیز مہاجرین کے حق میں فرمایا گیا ہے:
وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ الخ۔(سورۃ الحشر: آیت 8)
ترجمہ: مہاجرین اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔
تو کیا تمام فقراءِ مہاجرین کے لیے خلافت بلا فصل ثابت ہو جائے گی؟ مولوی اسماعیل صاحب! کوئی خلافت بلا فصل کی دلیل پیش کیجیے۔
5: حضرات! آیت:
اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت 55)
کے معنیٰ یہ ہیں: تمہارا رفیق تو بس اللہ ہے اور اس کا رسولﷺ اور ایمان والے ہیں جو قائم ہیں نماز پر اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ عاجزی کرنے والے ہیں۔ غور کیجیے، اس آیت کے اندر نہ تو سیدنا علیؓ کا نام مذکور ہے اور نہ خلافت کا کوئی ذکر موجود ہے تو اس آیت سے سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل کیسے ثابت ہو گی؟ اگر مولوی اسماعیل صاحب کہیں کہ ولی کے معنیٰ یہاں خلیفہ بلا فصل ہے تو پھر اللہ اور اس کے رسول کا ولی ہو جانا بھی خلیفہ بلا فصل کے معنیٰ میں ہوگا۔ اور آیت میں
وَالَّذِيۡنَ، اٰمَنُوا، يُقِيۡمُوۡنَ، وَيُؤۡتُوۡنَ، هُمۡ رَاكِعُوۡنَ۔
تمام جمع مذکر کے الفاظ ہیں، جن سے ایک شخص کیسے مراد ہو سکتا ہے؟ تو اس نصِ قرآنی سے تو قطعاً خلافت بلا فصل ثابت نہیں ہو سکتی۔
6: باقی رہا حالتِ رکوع میں سائل کو انگشتری دینے کا قصہ تو میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ اہلِ سنت کے نزدیک روایتِ متواترہ ہے؟ اس روایت کا متواتر ہونا تو درکنار خبرِ واحد صحیح کا درجہ بھی نہیں رکھتی بلکہ پرلے درجے کی ضعیف اور موضوع ہو گئی ہے۔ جیسا کہ تفسیر مدارک میں قیل کے لفظ سے نقل کی گئی ہے جو کہ اس روایت کے ضعف پر دلالت کرتا ہے۔
7: سائل کو انگشتری دینے والی روایت صرف ثعلبی سے ہے جس کو حاطب اللیل کا لقب دیتے ہیں جو رطب و یابس میں یعنی صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کرتا اور سلسلہ تفسیر میں اس کی روایت کلبی سے ہوتی ہے اور کلبی کے متعلق قاضی شمس الدین الذہبی نے لکھا ہے کہ کلبی عبد اللہ بن سبا یہودی کے ساتھیوں میں سے تھا جو کہتا تھا کہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب فوت نہیں ہوئے اور وہ دنیا میں پھر آئیں گے نیز اس روایت کا اصل راوی جو ثعلبی ہے، اس ثعلبی کی بعض روایات کا سلسلہ محمد بن مروان اسدی الصغیر پر ختم ہوتا ہے جس کو سلسلہ کذب اور وضع کی ایک کڑی بتایا جاتا ہے اور جو کٹر رافضی تھا۔ تو ایسی موضوع، ضعیف و بے بنیاد روایت سے شیعوں کے عقائد کا اصولی مسئلہ کیسے ثابت ہوگا؟ حالانکہ عقائد اور اصول کے ثبوت کے لیے خبرِ واحد جو کہ ضعیف بھی نہ ہو کافی نہیں ہو سکتی بلکہ متواتر روایات کے بغیر عقائد و اصول ثابت نہیں ہو سکتے مولوی اسماعیل صاحب! حسبِ شرائط مناظرہ سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل نصِ قرآن، یا حدیثِ متواتر اہلِ سنت سے ثابت کیجیے اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ خلیفہ بلا فصل ہوتے تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت ہرگز نہ کرتے احتجاج طبرسی صفحہ 54 پر ہے: ثم تناول ید ابی بکر فبایعہ
ترجمہ: پھر سیدنا علیؓ نے ابوبکر صدیقؓ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کی۔
یہ بیعت پیری مریدی والی نہیں بلکہ خلافت منظور کرنے کی بیعت تھی۔
8: اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الخ (سورۃ المائدہ: آیت 55)
آیت سے پہلے اور اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جو حکم دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ تم کس سے دوستی اور محبت رکھو، اور کس سے دوستی و محبت نہ رکھو جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ اور ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو اہلِ کتاب میں سے تمہارے دین کو ہنسی کھیل ٹھہراتے ہیں۔ بلکہ تمہارا دوست و رفیق صرف اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور مہاجرین و انصار ایمان دار ہیں جو نماز قائم رکھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رکوع اور عاجزی کرتے رہتے ہیں۔ اور نماز کی فضیلت اور تعریف یہ ہے کہ وہ ہر اس فعل سے پاک ہو جو نماز سے تعلق نہیں رکھتا خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔ فرق اتنا ہے کہ قلیل مفید ہے اور کثیر مفسد ہے۔ اب حضرت علیؓ کے متعلق یہ خیال کرنا کہ انہوں نے حالتِ نماز میں زکوٰۃ دی عقلاً و شرعاً صحیح نہیں ہو سکتا۔ اول اس لیے کہ یہاں زکوٰۃ کا ذکر نماز کے ساتھ ہے۔ اور قرآن مجید میں نماز کے ساتھ جہاں جہاں زکوٰۃ کا ذکر ہے وہاں فرض زکوٰۃ مراد ہے۔ اور شیعہ سنی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کی زندگی میں حضرت علیؓ کبھی مالکِ نصاب نہیں بنے کہ ان پر زکوٰۃ فرض ہوئی ہو۔ ثانیاً نماز کی حالت میں سائل کا سوال کرنا اور جناب علیؓ کا حالتِ نماز میں رکوع کے اندر انگشتری اتار کر دینا سیدنا علیؓ کے نماز میں خشوع کرنے کے خلاف ہے۔ کیونکہ انگشتری اتارنے اور دینے میں عملِ کثیر پایا جاتا ہے جو کہ مفسدِ نماز ہے۔
9: اس آیت میں اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت 55)
کے بعد جو آیت ہے اس میں فرمایا گیا ہے:
فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ۞(سورۃ المائدہ: آیت 56)
ترجمہ: کہ یہی اللہ تعالیٰ کی جماعت غالب ہوگی۔
تو شیعہ حضرات اپنے عقائد کے مطابق اس آیت سے سیدنا علیؓ کو کیسے مراد لے سکتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک سیدنا علیؓ تمام عمر مغلوب رہے؟ حتیٰ کہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر ان سے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی خلافت پر بیعت کروائی گئی اور وہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے پیچھے جا کر نماز بھی پڑھا کرتے تھے اور تعریفیں بھی کیا کرتے تھے۔
مناظرِ شیعہ:
حضرات! آیت: وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)
میں اگر عَلِيًّا سے حضرت علیؓ کی ذات مراد ہو تو کون سی نحوی غلطی ہوگی؟
1: اہلِ سنت کی معتبر تفسیر بیضاوی جلد دوم کے صفحہ 111 پر آیت:
وَاجۡعَلْ لِّىۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۞(سورۃ الشعراء: آیت 84)
کے متعلق لکھا ہوا ہے صادقا من ذریتی یجد اصل دینی
ترجمہ:یعنی میری اولاد سے ایک صادق مقرر کیجیے جو میرے اصل دین کی تجدید کرے تو ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے امیر المومنینؓ کے لیے ہی دعا مانگی تھی جو کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے لیے لسانِ صدق ہیں۔
3: یہ دیکھو ہمارے مذہب کی تفسیر صافی کے صفحہ 330 پر ہے کہ: لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)
سے مراد سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں۔
4: تفسیر قمی میں ہے کہ سیدنا موسیٰ کاظم فرماتے ہیں کہ لسانِ صدق سے مراد سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں۔
5: باقی مولوی عبد الستار نے جو حضرت علیؓ کی گردن میں رسی ڈالنے کا طعنہ دیا تو یہ ان کی بخاری شریف میں لکھا ہوا ہے کہ کفار نے حضورِ اکرمﷺ کے گلے کو گھونٹا تھا، اگر حضرت علیؓ کے گلے کو بھی رسی سے گھونٹا گیا تو کیا حرج ہے؟
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل صاحب بیچارے تو سیدنا علیؓ کے نام کو قرآن سے ثابت کرنے کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔ مولوی صاحب! بحث سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل پر ہے، کوئی ایسی آیت پیش کرو کہ جس میں توحید و رسالت کی طرح صاف لفظوں میں سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل کا اعلان ہو یہ کھینچا تانی کرنا دیانت سے دور ہے آپ کے تو ابھی سے ہوش اڑ گئے ہیں، آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔
1: مولوی اسماعیل صاحب بار بار کہتے ہیں کہ اگر:
لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)
میں سیدنا علیؓ کی ذات مراد لی جائے تو کون سی نحوی غلطی ہوگی؟ تو میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر کوئی مرزائی مولوی صاحب کو کہے کہ آیت:
وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِى اسْمُہٗ اَحۡمَد ۔(سورۃ الصف: آیت 6)میں مراد ہو تو کون سی نحوی غلطی ہو جائے گی؟ تو کیا نحوی غلطی نہ ہونے سے قرآن کا معنیٰ و مقصد بھی ٹھیک رہ جائے گا؟ اسی طرح اگر کوئی خارجی مولوی اسماعیل سے کہے کہ آیت:
وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ الخ۔(سورۃ الشوریٰ: آیت 26)
میں یزید بن معاویہ مراد ہے تو کون سی نحوی غلطی ہوگی؟ یا میں مولوی اسماعیل سے پوچھتا ہوں کہ اگر آیت:
اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِى الدَّرۡكِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 145)
میں منافقین سے مراد رافضی شیعہ ہوں تو اس میں کون سی نحوی غلطی ہوگی؟ مولوی اسماعیل صاحب کے قانون کے مطابق جب منافقین سے رافضی شیعہ مراد لینے میں کوئی نحوی غلطی نہیں ہوتی تو رافضیوں کا جہنمی ہونا نصِ قرآن سے ثابت ہو گیا لہٰذا ان کو اس قانون کی ایجاد مبارک ہو بھلا یہ بھی کوئی عقل و اصول کی بات ہے کہ جس آیت میں کوئی نحوی غلطی لازم نہ آئے اس سے جو بھی معنیٰ مراد لیا جائے وہ صحیح اور مطابقِ قرآن ہوگا۔
2: مولوی اسماعیل صاحب نے جو بیضاوی شریف کا حوالہ نقل کیا ہے اس میں حسبِ عادت اپنی دیانت کا دیوالیہ نکال دیا اور پوری خیانت کر کے عبارت کو ادھورا چھوڑ دیا۔ کیونکہ بیضاوی شریف جلد دوم صفحہ 111 پر ہے:
صادقا من ذریتی یجد اصل دینی ویدعوا لناس الیٰ ماكنت ادعوهم اليه وهو محمد صلوات الله علیه۔
ترجمہ: میری اولاد سے ایک صادق آئے جو میرے اصل دین کی تجدید کرے اور لوگوں کو اس دینِ حق کی طرف دعوت دے جس کی میں دعوت دیتا ہوں اور وہ محمدﷺ ہیں دیکھیے حضرات! مولوی اسماعیل نے خیانت کر کےوهو محمد صلوات الله عليه کے الفاظ چھوڑ دیے تاکہ صادقا من ذریتی کا مصداق بجائے محمدﷺ کے سیدنا علیؓ کو دکھائے۔
3، 4: تفسیر صافی اور تفسیر قمی کے جو حوالے پیش کیے ہیں کہ: لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)
سے مراد سیدنا علیؓ ہیں تو یہ شرائطِ مناظرہ کے بالکل خلاف ہے کیونکہ یہ نہ تو نصِ قرآن سے ہے اور نہ اہلِ سنت کی متواتر حدیث سے ہے بلکہ یہ شیعوں کی ایک من گھڑت بات ہے اور یہ دونوں کتابیں بھی شیعوں کی ہیں اور انہوں نے بھی آیت کے الفاظ کے ترجمہ کے اندر عَلِيًّا کے لفظ کے معنیٰ سیدنا علیؓ کا نام نہیں کیا، جیسا کہ ہم شیعہ مذہب کے اردو تراجم سے بھی یہ بات واضح کر چکے ہیں۔
5: میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیا حضورِ اکرمﷺ ان کفار کے تابع ہو گئے اور ان کی کسی بات کو مان لیا اور کسی قسم کی دینی کمزوری کا اظہار کیا؟ جیسا کہ شیعوں نے سیدنا علیؓ کے متعلق گھڑا ہے کہ ان کی گردن میں رسی ڈالی گئی اور ان سے سیدنا ابو بکرؓ کی بیعت لی گئی اور ہاتھ پر ہاتھ رکھوایا گیا نیز اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو تو کفار پر غالب کر دیا اور حضورِ اکرمﷺ کے سامنے آپ کے ہاتھوں ان کو ہلاک کرا دیا، تو کیا شیعہ حضرات کے نزدیک سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اصحابِ ثلاثہؓ پر غلبہ ہوا؟
مناظر شیعہ:
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے دعا مانگی:
رَّبِّ اَدۡخِلۡنِىۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِىۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلْ لِّىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ۞ (سورۃ الاسراء: آیت 80)
ترجمہ: اے میرے رب عطاء کر دے مجھے ایک سلطان جو نصیر و مدد گار ہو۔
اب میں مولوی عبد الستار صاحب سے پوچھتا ہوں کہ سلطانِ نصیر کون ہے؟
2: آنحضرتﷺ نے فرمایا اِنِّی تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ مشکوٰۃ شریف صفحہ 568 میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ایک قرآنِ مجید اور دوسری اہلِ بیتؓ دیکھیے اہلِ بیتؓ کا کون مقابلہ کر سکتا ہے؟
3: تفسیر خازن میں ہے رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ کے متعلق فرمایا اِن َّ ھٰذَا اَخِیْ وَوَصِیْ وَخَلِفَتِیْ فِیْکُمْ فَاسْمَعُوْالَہٗ وَاَطِیْعُوْہُ
تحقیق سیدنا علیؓ میرا بھائی اور میرا وصی اور میرا خلیفہ ہے تم لوگوں میں، پس اس کا حکم سنو اور مانو۔
4: نیز معالم التنزیل میں بھی بعینہٖ یہی الفاظ مذکورہ بالا ہیں دیکھیے حضرات! کیسی واضح روایت سے سیدنا علیؓ کا خلیفہ ہونا ثابت ہو گیا۔
مناظرِ اہل سنت: مولوی اسماعیل صاحب:
سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ۞
کا مطلب مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟ اپنے مذہب کے ترجمہ مقبول احمد صفحہ 578 سے پوچھ لیجیے جو لکھتے ہیں: اور میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والا غلبہ مقرر فرما دیجیے اور اپنے فرمان علی صاحب شیعہ کے ترجمہ صفحہ 462 سے پوچھیے جو لکھتے ہیں اور مجھے خاص اپنی بارگاہ سے ایک حکومت عطا فرما جس سے ہر قسم کی مدد پہنچے تو اس آیت میں نہ تو سیدنا علیؓ کا نام موجود ہے اور نہ کوئی خلافت بلا فصل کا ذکر ہے اس آیت میں تو آنحضرتﷺ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ایک دعا سکھلائی گئی کہ کفارِ مکہ پر فتح و نصرت کے لیے یہ دعا پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے نصرت اور حکومت طلب کرو۔
2: حضرات! اہلِ بیتؓ کی محبت ہمارے ایمان کا جزو ہے ہم اہلِ سنت ہیں، شیعہ تو نہیں کہ بارہ اماموں کے علاوہ خاندانِ نبوت، اہلِ بیتؓ اور ازواجِ مطہراتؓ بناتِ طیبات پر کافر اور کذاب ہونے کے فتوے دیں اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور سیدنا علیؓ و سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے پوتے سیدنا زیدؓ کو واصلِ بجہنم کہیں اور سیدنا علی نقی کے بیٹے اور سیدنا حسن عسکری کے بھائی سیدنا جعفر کو کذاب کا فتویٰ دیں ہمارے نزدیک تو اہلِ بیتؓ کے چھوٹے بڑے، بارہ حضرات اور ان کی اولاد، عزیز و اقارب کے تمام افراد رہنما اور مقتدا، قابلِ تعظیم و محبت ہیں باقی ثقلین سے مراد کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ ہے ویسے رسول اللہﷺ کی وصیت میں اہلِ بیتؓ کی تعظیم و محبت اور انصار کا احترام اور غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم فرمایا گیا ہے جس پر ہمارا ایمان ہے مولوی صاحب! اس روایت کا سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل سے سرِمو بھی تعلق نہیں ہے۔
3، 4: تفسیر خازن اور تفسیر معالم التنزیل کی روایت ایک ہی ہے خازن میں اس کی سند مختصر ہے: روى محمد بن اسحٰق عن علیّ اور معالم التنزیل میں اس روایت کی پوری سند موجود ہے: روى ٰمحمد بن إسحاق عن عبد الغفار بن القاسم عن المنهال بن عمرو عن عبد الله بن الحارث بن عبد المطلب عن عبد الله بن عباس عن علی بن أبی طالب۔
یہ اس روایت کی اصل اور پوری سند ہے یہ روایت اہلِ سنت کے نزدیک قطعاً نا قابلِ اعتبار ہے کیونکہ اس روایت کا راوی عبد الغفار ہے جو رافضی شیعہ ہے ائمہ حدیث نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ یہ روایتیں اپنی طرف سے وضع کیا کرتا تھا دیکھیے:
1: قانون الموضوعات صفحہ 270 پر علامہ طاہر الفتنی الہندی نے لکھا ہے: عبدالغفار بن القاسم متروک شیعی يضع۔
عبد الغفار بن القاسم اس قسم کا راوی ہے جس کی روایت چھوڑ دی جاتی ہے کیونکہ وہ شیعہ تھا اور روایتیں اپنی طرف سے وضع کرتا تھا۔
2: کشف الاحوال فی نقد الرجال صفحہ 70 پر علامہ مولانا عبد الوہاب مدراسی لکھتے ہیں: عبد الغفار بن القاسم بن ابی مريم الانصاری الكوفی متروك يضع شيعی۔
عبد الغفار متروک راوی ہے جو روایتیں وضع کرتا اور بناتا اور شیعی تھا۔
3: علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ابن کثیر میں آیت:
وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ۞(سورۃ الشعراء: آیت 214)
کے تحت جلد 3 صفحہ 350، 351 پر اس روایت اخی ووصی وخليفتی کے متعلق لکھا ہے کہ اس روایت کا راوی صرف عبد الغفار بن القاسم ہے: تفرد بهذا السياق عبد الغفار بن القاسم بن ابی مريم وهو متروك كذاب شيعی اتهمه علی بن المدينی وغيره بوضع الحديث وضعه الائمة۔
جو کہ متروک، انتہائی کذاب اور جھوٹا ہے، شیعہ ہے، علی بن المدینی وغیرہ نے اس کو وضعِ حدیث کا متہم کیا ہے اور ائمہ حدیث نے اس کو ضعیف لکھا ہے۔
4: ملا علی قاری نے اپنی کتاب الموضوعات الکبیر مجتبائی صفحہ 94 پر لکھا ہے کہ یہ روایت ان ھذا اخی سوویت والخلیفۃ من بعدی موضوعات میں سے ہے۔
5: لسان المیزان جلد 4 صفحہ 42 حرف العین میں عبد الغفار بن القاسم کے متعلق یہ الفاظ لکھے ہیں: هو رافضی ليس بثقة ويقال من رؤوس الشيعة۔
کہ یہ عبد الغفار رافضی تھا، کوئی معتبر اور سچا راوی نہ تھا اور اس کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ بڑے شیعوں میں سے تھا حضرات! غور کیجیے کہ بیچارہ مولوی اسماعیل کس قدر موضوع روایات پیش کرتا ہے یہ اس کے شکست کھانے کی دلیل ہے۔ حالانکہ شرائطِ مناظرہ میں خلافت بلا فصل کی دلیل نصِ قرآن اور اہلِ سنت کی متواتر حدیث مقرر کی گئی ہے۔ اس روایت کا متواتر ہونا تو درکنار، یہ تو خبرِ واحد صحیح بھی نہیں بلکہ موضوع اور شیعوں کی من گھڑت ہے۔ علاوہ ازیں اگر بفرضِ محال اس روایت کے موضوع ہونے سے قطعِ نظر کر لی جائے تو اس میں خلافت بلا فصل کا ذکر کہاں ہے؟ اس قسم کے الفاظ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے متعلق شیعہ کی معتبر کتاب تفسیر صافی کے صفحہ 523 پر موجود ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی اہلیہ محترمہ سیدہ حفصہؓ کو فرمایا:
اِنَّ اَبَا بَكْرٍ يَلِی الْخِلَافَةَ مِنْ بَعْدِی ثُمَّ بَعْدَهُ اَبُوكِ فَقَالَتْ مَنْ اَنْبَاَكَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ۔
ترجمہ: ضرور بالضرور میرے بعد خلافت کا والی ابوبکرؓ ہوگا، اس کے بعد تیرا باپ عمرؓ خلیفہ ہوگا سیدہ حفصہؓ نے حضورِ اکرمﷺ سے پوچھا: آپ کو اس بات کی خبر کس نے دی ہے؟ تو حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر نے خبر دی ہے تو اس روایت میں حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: میرے بعد خلیفہ ابوبکرؓ ہوگا اور خازن والی اس کمزور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ میرے بعد علیؓ ہے اب دونوں روایتوں کی تطبیق اس طرح ہے کہ یہ دونوں حضرات رسول اللہﷺ کے بعد خلیفہ ہوں گے۔ اگر سیدنا علیؓ سے پہلے ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ خلیفہ رسول اللہﷺ ہوں اور پھر سیدنا علیؓ خلیفہ ہوں تو بھی آپ کا یہ ارشاد سچا ہے کہ علیؓ میرے بعد خلیفہ ہے کیونکہ خازن کی روایت اور معالم التنزیل کی روایت میں میرے بعد خلیفہ بلا فصل کا کوئی لفظ نہیں ہے۔ مولوی اسماعیل صاحب! سیدنا علیؓ کے فضائل اور خلافت کے حق ہونے میں مناظرہ نہیں ہے۔ سیدنا علیؓ کی خلافت ہمارا ایمان ہے اور آپ کے فضائل ہمارا دین ہے آپ کا اور ہمارا اختلاف خلافت بلا فصل میں ہے۔ لہٰذا آپ حسبِ شرائط نصِ قرآن اور حدیثِ متواترِ اہلِ سنت سے کوئی ایک دلیل پیش کیجیے لیکن دنیا بھر کے شیعہ مجتہد اس قسم کی کوئی دلیل نہیں پیش کر سکتے۔۔
مناظرِ شیعہ
1: خصائص نسائی صفحہ 9 پر ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ کو فرمایا: اَنْتَ خَلِيفَتِی تو میرا خلیفہ ہے دیکھیے امیر المومنین سیدنا علیؓ کی خلافت کا واضح الفاظ میں اعلان ہے۔
2: خصائص نسائی میں صفحہ 23 پر ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان علیّا ً مِّنی وانا منہ وھو علیّ کل مومن من بعدی
ترجمہ: تحقیق علیؓ مجھ سے ہے اور میں علیؓ سے ہوں اور وہ علیؓ ہر مومن کا میرے بعد ولی ہے۔ دیکھیے اس روایت سے بھی صاف امیر المومنینؓ کی خلافت ثابت ہو رہی ہے اب تو مولوی عبد الستار کا مطالبہ پورا ہو گیا، بار کہتا ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت ثابت کرو۔
3: مولوی عبدالستار نے جو یہ کہا ہے کہ اگر چوتھی جگہ سیدنا علیؓ خلیفہ ہوں تو بھی وہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد خلیفہ ہو گئے اور یہ روایت سچی ہو گئی تو ان کی یہ بات غلط ہے کہ بعد اتصال چاہتا ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے:
يَّاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِى اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ الخ۔(سورۃ الصف: آیت 6)
ترجمہ: کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد رسول اللہﷺ ہی آئے اور کوئی نبی اور رسول نہیں آیا۔
4: اہلِ سنت کی معتبر کتاب ابو داؤد طیالسی، جلد اول صفحہ 23 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا: عَمَّمَنِی رسول اللّٰہﷺ یوم غدیر سَدلھا خلفی ۔
ترجمہ: مجھے آنحضرتﷺ نے غدیر کے دن پگڑی باندھوائی جس کا شملہ میرے پیچھے تھا۔
حضرات! دیکھیے پگڑی تو سیدنا علیؓ کو باندھوائی گئی اور خلیفے اصحابِ ثلاثہؓ ہو جائیں۔
مناظرِ اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل نے جو خصائص نسائی صفحہ 9 :انت خلیفتی والی روایت پیش کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ابو بلج یحییٰ بن ابی سیم ہے جس کا نام یحییٰ تھا۔ تہذیب التہذیب جلد 12 صفحہ 47 پر ہے۔
ا: قال البخاری فیہ نظر :امام بخاری رحمۃاللہ نے فرمایا کہ ابو بلج یحییٰ میں اعتراض ہے۔
ب: ذکرہ ابنِ حبان فی الثقفات وقال خیطی۔
ترجمہ: ابنِ حبان نے ابو بلج کو ثقہ راویوں میں ذکر کر کے اس کے متعلق کہا ہے کہ یہ خطاء کرتا ہے یعنی اس کی روایتوں میں خطا واقع ہوتی ہے۔
ج: عن ابن معین ضعفہ۔
ترجمہ: یحییٰ بن معین نے اس ابو بلج یحییٰ کو ضعیف بیان کیا ہے۔
د: وقال احمد روی حدیثا منکراً۔
ترجمہ: اور امام احمد رحمۃاللہ نے فرمایا کہ اس ابو بلج یحییٰ نے حدیثِ منکر یعنی صحیح احادیث کے خلاف حدیث روایت کی ہے جس سے اس کا ضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے۔ نیز میزان الاعتدال للذہبی جلد 3 صفحہ 392 پر اس ابو بلج کے متعلق لکھا ہے:
و من مناکیرہ عن عمر وبن میمون عن ابن عباس اس ابو بلج کی جو روایت خصائص نسائی میں اَنْتَ خليفتی والی ہے اس روایت کو ابو بلج نے عمرو بن میمون عن ابنِ عباس کی سند سے روایت کیا ہے جو کہ اسی ابو بلج کی منکر روایت ہے یعنی اور ثقہ عادل راویوں کی احادیث کے خلاف ہے لہٰذا ایسی منکر اور ضعیف روایات سے کیسے خلافت بلا فصل ثابت ہو سکتی ہے؟ خبرِ واحد اگر چاہے صحیح بھی ہو اور ضعیف و منکر بھی نہ ہو اس سے عقیدہ اور اصولِ دین ثابت نہیں ہو سکتا، چہ جائیکہ ایسی کمزور روایت سے شیعہ کا اصولی مسئلہ خلافت بلا فصل ثابت ہو جائے۔ حسبِ شرائط کوئی حدیثِ متواتر پیش کیجیے دوسرے اگر بالفرض یہ روایت صحیح بھی ہو تو حضرت علیؓ کی مطلق خلافت پر دلالت کرے گی جس میں ہمارا اور تمہارا کوئی اختلاف نہیں مگر خلافت بلا فصل جس میں بحث ہے وہ اس سے کیسے ثابت ہو جائے گی۔
2: خصائص نسائی صفحہ 23 سے جو روایت:
ھو ولی کل مومن من بعدی۔
والی پیش کی گئی ہے اس روایت کی اسناد میں جعفر بن سلیمان راوی ہیں جس کے متعلق تہذیب التہذیب جلد دوم صفحہ 95، 96 پر مرقوم ہے:
انما کان یتشیع وکان یحدث باحادیث فی فصل علیّ۔
ترجمہ: کہ جعفر بن سلیمان شیعہ مذہب رکھتا تھا اور حضرت علیؓ کی فضیلت میں بہت سی احادیث بیان کرتا تھا۔
قال الدوری کان جعفر اذا ذکر معاویۃ شتمہ۔
ترجمہ: علامہ دوری کہتے ہیں کہ یہ جعفر بن سلیمان جب امیرِ معاویہؓ کا ذکر کرتا تو ان کو گالیاں دیتا تھا میزان الاعتدال جلد اول صفحہ 189 پر ہے:
کان یحییٰ بن سعید لا یکتب حدیثہ ویستضعفہ۔
ترجمہ: یحییٰ بن سعید اس جعفر بن سلیمان کی حدیث نہیں لکھتے تھے اور اس کو ضعیف سمجھتے تھے۔
ب: قال یزید بن ربیع جعفر ینسب الی الرفض
ترجمہ: یزید بن ربیع نے کہا کہ یہ جعفر رافضی بیان کیا جاتا ہے۔
ج: قال ابن عدی جعفر شیعی۔
ترجمہ: علامہ ابنِ عدی نے کہا کہ جعفر بن سلیمان شیعہ ہے۔
حضرات! غور کیجیے مولوی اسماعیل کس قسم کی روایت پیش کر رہا ہے، جب اس روایت کا راوی ہی ضعیف اور شیعہ رافضی ہے تو ایسی روایت ہمارے لیے کیسے قابلِ قبول ہو سکتی ہے اور استدلال میں کیسے پیش کی جا سکتی ہے؟ اگر بالفرض اس روایت کے ضعف سے قطعِ نظر کر لی جائے تب بھی اس روایت کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہے؟ البتہ خارجیوں کی تردید کے لیے آنحضرتﷺ فرما گئے ہیں کہ علیؓ میرے بعد ہر مؤمن کا دوست ہے، وَلِیّ کے معنیٰ دنیا کی کسی لغت کی کتاب میں خلیفہ بلا فصل کے نہیں ہیں۔
3: مولوی اسماعیل کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ بعد'ے ' ہمیشہ اتصال چاہتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں تھا غالباً بیچارہ اپنی کتابوں سے واقف نہیں دیکھیے شیعہ کی معتبر کتاب حیات القلوب جلد دوم صفحہ 146 پر لکھا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام شمعون را وصی خود گردانید وشمعون یحییٰ بن زکریا راو یحییٰ منذر راو منذر سلیمہ راو سلیمہ بردہ را علیہم السلام و بردہ وصیت ہا دکتا بہارا بمن تسلیم نمود۔
دیکھیے اس روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہﷺ کے درمیان کتنے نبی گزرے ہیں: شمعون، یحییٰ، منذر، سلیمہ، بردہ، وغیرہ تو مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھیے کہ اب بعدی کا اتصال کہاں گیا؟ نیز شیعہ کی کتاب درّہ نجفیہ شرح نہج البلاغہ کے صفحہ 190 پر ہے:
روی عن النبی ﷺ انّہ اخبر ان بنی امیّۃ تملک الخلافۃ بعدہ۔
ترجمہ: کہ رسول اللہﷺ سے روایت کیا گیا کہ آپ نے خبر دی تھی کہ ضرور بنو امیہ میرے بعد خلافت کے مالک ہوں گے۔
تو اب مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھیے کہ بنو امیہ رسول اللہﷺ کے بعد متصلاً خلافت کے مالک بنے جب کہ رسول اللہﷺ اور بنی امیہ کے درمیان کتنے خلفاء اور ہوئے ہیں؟ تو اسی طرح رسول اللہﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے درمیان اور خلفاء ہونے سے حضرت علیؓ کا من بعدی خلیفہ ہونا صحیح رہے گا۔
4: ابو داؤد طیالسی کی پگڑی باندھوانے والی روایت کی اسناد میں اشعث بن سعید راوی رافضی شیعہ ہے تہذیب التہذیب میں مرقوم ہے واتفقوا علٰی ضعفہ کہ تمام محدثین اشعث بن سعید کے ضعف پر متفق ہیں تو ایسے ضعیف راوی کی روایت کیسے قابلِ اعتبار ہوگی؟
ب: مولوی اسماعیل صاحب غالباً حواس باختہ ہو چکے ہیں، یہاں کوئی سیدنا علیؓ کو پگڑی بندھوانے یا نہ بندھوانے کی بحث ہو رہی ہے جو آپ نے پگڑی باندھوانے کی روایت پیش کر دی اگر پگڑی باندھوانے کی روایت صحیح مان لی جائے تو اس کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہوگا؟ دیکھیے مشکوٰۃ شریف صفحہ 374 پر ہے: عن عبد الرحمٰن بن عوف قال عمنی رسول اللہﷺ فسد لھا بین یدی ومن خلفی رواہ ابو داوٗد۔
ترجمہ:کہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے پگڑی باندھوائی جس کے کنارے یعنی شملے میرے آگے اور پیچھے دو لٹکا دیے حضرات! مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھیے کہ کیا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو پگڑی بندھوانے سے ان کی بھی خلافت بلا فصل ثابت ہو گئی؟
مناظر شیعہ:
مومنین کرام! میں امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کی خلافت کے دلائل کی بوچھاڑ کر دوں گا جن کے جواب کی مولوی عبد الستار میں طاقت ہی نہیں ہے۔
1: فتاویٰ عبد الحی میں لیلۃ الجن کی روایت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا:
و ما این اجلی الا قد اقترب
ترجمہ: جو کچھ میرا خیال ہے وہ یہ ہے کہ میری رحلت کا وقت قریب آ چکا ہے۔ تو ابنِ مسعودؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا:
یا رسول اللّٰہ! الا تستخلف ابوبکر فاعرض عنی فرایت انہ کم یوافقہ قلت یا رسول اللّٰہ الا تستخلف عمر فاعرض عنی فرایت انہ کم یوافقہ قلتُ یا رسول اللّٰہﷺ الا تستخلف علیّا ً قال والذی لا الہ غیرہٗ لو بایعتموہ واطعتموہ ادخلکم الجنتّہ
ترجمہ: یا رسول اللہ! آپ سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ کیوں نہیں بناتے؟ پس آپ نے منہ پھیر لیا اسی طرح سیدنا عمرؓ کے متعلق، اور جب میں نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے متعلق کہا تو آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر تم نے اس کی بیعت کر لی اور اطاعت کر لی تو خدا تم کو جنت میں داخل کرے گا۔
دیکھیے! رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کا خلیفہ بنانا پسند نہ فرمایا اور سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور اطاعت کرنے پر بہشت کی خوشخبری سنائی اس سے بڑھ کر خلافتِ بلا فصل کی کیا دلیل ہوگی؟
2: اہلِ سنت کی متعدد احادیث کی معتبر کتابوں میں موجود ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فهٰذَا عَلِیُّ مَوْلَاهُ۔
ترجمہ: جس کا میں مولا ہوں، اس کا سیدنا علیؓ مولا ہے۔
دیکھیے! جس کو رسول اللہﷺ سب کا مولا فرما دیں، اس کی خلافتِ بلا فصل میں کسی کو شک ہو سکتا ہے؟ میں دیکھوں گا کہ مولوی عبد الستار ان معتبر روایات اور واضح و صاف احادیث کا کیا جواب دے گا قیامت تک جواب نہ دے سکے گا۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل نے جو روایت فتاویٰ عبد الحی کی نقل کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن یعلی اسلمی ہے جس کے متعلق تہذیب التہذیب جزو 11 صفحہ 304 پر ہے:
قال ابن عدی کوفیّ من الشیعۃ۔
ترجمہ: علامہ ابنِ عدی نے فرمایا کہ یحییٰ بن یعلی اسلمی کوفی شیعہ ہے۔ اور تقریب التہذیب جلد 2 صفحہ 556 پر ہے:
یحیی بن یعلی الاسلمی الکوفی شیعیّ ضعیف من التاسعۃ۔
ترجمہ: یحییٰ بن یعلی اسلمی کوفی ہے جو شیعہ تھا، نہایت ضعیف راوی ہے جو نویں درجہ میں شمار کیا گیا ہے۔
نیز اسی روایت کی سند میں ایک دوسرا راوی ابو عبد اللہ جدلی ہے جس کے متعلق تقریب التہذیب جلد 2 صفحہ 597 پر ہے:
رمی بالتشیّع۔ ابو عبد اللہ جدلی کو شیعہ بیان کیا گیا ہے۔
تہذیب التہذیب جلد 12 صفحہ 148 پر ہے ابنِ سعد نے فرمایا: وكان شدید التشیع، کہ ابو عبد اللہ جدلی سخت شیعہ تھا۔ اور میزان الاعتدال للذہبی جلد 3 صفحہ 367 پر ہے:
ابو عبد اللّٰہ الجدلی شیعی بغیض۔
ترجمہ: ابو عبد اللہ جدلی شیعہ تھا اور اصحابِ کرام سے سخت بغض رکھتا تھا۔
طبقات الکبیر جلد 6 صفحہ 159 طبع جرمن پر علامہ ابنِ سعد لکھتے ہیں:
اسمه عبدۃ بن عبد بن عبد الله يستضعف فی حديثه وكان شديد التشيّع۔
ترجمہ: ابو عبد اللہ جدلی کا نام عبدہ بن عبد بن عبد اللہ ہے حدیث کی روایت میں اس کو ضعیف سمجھا جاتا ہے اور یہ سخت قسم کا شیعہ تھا۔
فتاویٰ عبد الحی سے اس پیش کردہ روایت کے ہم معنیٰ ایک دوسری روایت بھی وہاں فتاویٰ میں ہے جس کی سند میں ایک راوی مینا موجود ہے جس کے متعلق موضوعات شوکانی طبع لاہور کے صفحہ 125 پر لکھا ہے:
مينا مولى عبد الرحمٰن بن عوف ليس بثقة قد اُتّهم بوضعه۔
ترجمہ: مینا جو عبد الرحمٰن بن عوفؓ کا مولیٰ ہے، (آزاد کردہ غلام) ثقہ اور قابلِ اعتبار راوی نہیں ہے۔ خود حدیث وضع کرنے کے ساتھ متہم ہے۔
عبد الرحمٰن سیوطی رحمۃاللہ نے اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة کے صفحہ 197 پر اس مینا کے متعلق لکھا ہے:
وغال فی التشيع ليس بثقة۔
ترجمہ: یہ مینا غالی شیعہ تھا، ثقہ اور قابلِ اعتبار نہیں ہے۔
تقریب التہذیب کے صفحہ 518 پر اس مینا بن ابی مینا الجزار کے متعلق ہے:
رمی بالرفض وکذبہ ابو حاتم۔
ترجمہ: مینا کو رافضی بیان کیا گیا ہے اور ابو حاتم نے اس کو جھوٹا راوی کہا ہے۔
تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ 397 پر اس مینا کے متعلق لکھا ہے:
قال الجوزجانی انکر الائمۃ حدیثہ لسوء مذہبہٖ۔
ترجمہ: علامہ جوزجانی نے کہا کہ ائمہ حدیث نے اس مینا کی حدیث کا انکار کیا بوجہ اس کے بد مذہب ہونے کے۔
اور ابو حاتم نے کہا تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ 397:
لا یعبأ بحدیثہ کان یکذب، قال ابن عدی انہ یغلو فی التشیع۔
ترجمہ: اس مینا کی حدیث قابلِ اعتبار نہیں یہ جھوٹ کہتا تھا۔ اور ابنِ عدی نے فرمایا یہ مینا شیعہ ہونے میں غلو کرتا تھا۔
حضرات! یہ فتاویٰ عبد الحی کی روایتوں کا حال ہے کہ جس کے روایت کرنے والے ہی شیعہ کذاب جھوٹے راوی ہوں کیا ایسی روایت سے ہمارے سامنے خلافتِ بلا فصل جیسا اصولی مسئلہ جس پر ایمان و کفر کا دارومدار رکھا گیا ہے ثابت ہو سکتا ہے؟
علاوہ ازیں بفرضِ محال اگر اس روایت کو مان بھی لیا جائے تو اس روایت میں کہاں لکھا ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہو کہ علی المرتضیٰؓ خلیفہ بلا فصل ہیں، میں نے ان کو مقرر کر دیا ہے عقائد ترغیبی کلمات سے ثابت نہیں ہوتے حضورِ اکرمﷺ کو نورِ نبوت اور اطلاعِ الٰہی سے یہ معلوم تھا کہ سیدنا علیؓ کی خلافت میں فتنہ، فساد اور اختلاف ہوگا، اس لیے آپ نے سیدنا علیؓ کی اطاعت اور بیعت کی ترغیب دی باقی اعلان اور تقررِ خلیفہ آنحضرتﷺ نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور ارادہ پر چھوڑا، اس لیے نہ آنحضرتﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، اور سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کر کے اور عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منوا کر نہیں گئے، اور یہی مشیتِ ایزدی تھی رسول اللہﷺ مشیتِ ایزدی کے خلاف سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کے کہنے پر کیسے تقریر اور اعلان فرماتے؟
1: حضرات! مولوی اسماعیل کی دوسری مایہ ناز دلیل روایت:
من کنتُ مولاہ فھٰذا علیّ مولاہ ہے۔
مولا کے معنیٰ خلیفہ بلا فصل نہیں آتے۔
قرآن مجید میں ہے:
فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الخ(سورۃ التحریم: آیت 4)
ترجمہ: یعنی آنحضرتﷺ کا اللہ تعالیٰ مولا ہے اور جبرئیل علیہ السلام اور صالح مؤمنین مولا ہیں۔
تو کیا اس کا یہی مطلب ہو گا کہ اللہ اور جبریل علیہ السلام اور صالح مومنین رسول اللہﷺ کے خلیفہ بلا فصل ہیں؟ باقی جیسا رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ کو مولا کہا ہے، اسی مشکوٰۃ شریف کے صفحہ 293 پر ہے کہ رسول اللہﷺ نے زید بن حارثہؓ کو فرمایا:
اَنْتَ اَخُوْنَا وَ مَوْ لاَناَ۔
ترجمہ: تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولٰی ہے۔
تو کیا زید بن حارثہؓ بھی رسول اللہﷺ کے خلیفہ بلا فصل تھے؟
2: شیعہ حضرات! آپ جو ہمیشہ کہا کرتے ہیں مولانا کفایت حسین صاحب، مولانا بشیر صاحب، مولانا محمد اسماعیل وغیرہ، کیا یہ سب مولانا صاحبان بلا فصل خلیفہ ہیں؟ یہ وہی مولا کا لفظ تو ہے تو رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ کے متعلق فرمایا اور آپ اپنے علماء کے متعلق کہا کرتے ہیں۔
مولوی اسماعیل صاحب! سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا ہمارے مولا ہیں، مقتدا ہیں، پیشوا اور رہنما ہیں آپ خلافتِ بلا فصل کی کوئی دلیل پیش کیجیے ورنہ اپنی شکست کا اعلان کیجیے مولا کے لفظ کے معنیٰ تو مطلق خلافت بھی نہیں ہو سکتے، چہ جائے کہ خلافتِ بلا فصل ہوں۔
مناظر شیعہ:
حضراتِ مومنین کرام! رسول اللہﷺ نے غدیر کے موقعہ پر جب یہ آیت نازل ہوئی:
يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت 67)
تو سیدنا علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: من کنت مولاه فهذا علی مولاه، اور اس سے ان کی خلافت کا اعلان کیا۔ اور مولوی عبد الستار مجھے صبح سے بار بار کہہ رہا ہے کہ مجھے خلافتِ بلا فصل کا لفظ دکھاؤ
دیکھیے یہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب ابطال الباطل ہے اس میں لکھا ہے:
من كنت مولاه فهذا علی مولاه وهو خليفتی بلا فصل۔
جوں ہی شیعہ مولوی نے یہ روایت پیش کی تو صدرِ اہلِ سنت مولانا اللہ یار خان صاحب اور علامہ تونسوی مدظلہ مناظرِ اہلِ سنت نے فرمایا: یہ کتاب ہمیں دکھائیے، کہاں ہیں یہ الفاظ؟ تو فوراً بیچارے مولوی اسماعیل نے اس کتاب کو پھینک دیا اور اپنی کتابوں میں خلط ملط کر دیا۔ اس پر سارے شیعہ عوام و خواص گھبرا گئے کہ شاید ہمارے مناظر نے جھوٹ بولا ہے ادھر علامہ تونسوی مناظرِ اہلِ سنت نے کڑک کر فرمایا: میں چھوڑنے والا نہیں ہوں، جلدی کتاب دکھاؤ اس پر سارے شیعہ مولوی اسٹیج پر کھڑے ہو گئے اور کتاب تلاش کرنے لگے صدرِ اہلِ تشیع مولوی امیر محمد قریشی نے فرمایا: اہلِ سنت حضرات صبر کریں، کتاب تلاش کی جا رہی ہے۔ علامہ تونسوی صاحب نے فرمایا: جب وہ کتاب مولوی اسماعیل صاحب کے ہاتھ میں تھی اور وہ اس کا حوالہ پڑھ کر ثبوت پیش کر رہے تھے تو اب وہ یکایک کہاں غائب ہو گئی ہے کہ تلاش کی جا رہی ہے؟ جب ادہر علامہ تونسوی کی طرف سے زور دیا گیا تو مجبوراً کتاب نکالی گئی اور مولوی اسماعیل نے نہایت شرمسار ہو کر اقرار کیا کہ یہ الفاظ میں نے اپنی طرف سے کہے تھے، کتاب میں نہیں ہیں اس پر شیعہ مناظر کی دیانت و علمیت کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ یہ منظر بھی قابلِ دید تھا۔ اہلِ سنت کے چہرے خوشی سے ہشاش بشاش تھے اور بیچارے شیعوں کے کچھ لوگ تو اسی وقت مناظرہ سے اٹھ کر چلے گئے اور باقی دل میں یہ محسوس کر رہے تھے کہ ہم نے مولوی اسماعیل کو بلا کر اپنے مذہب کو رسوا کیا۔
اس کے بعد مولوی اسماعیل صاحب نے حسبِ ذیل تقریر کی:
دیکھیے! اہلِ سنت کی معتبر کتاب میں موجود ہے کہ سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ کو کہا کہ آج سے تو ہمارا مولیٰ ہے۔ دیکھیے! اہلِ سنت کے پیشوا سیدنا عمرؓ تو مولیٰ مان رہے ہیں مگر مولوی عبد الستار سیدنا علیؓ کو مولیٰ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے، بار بار انکار کرتا ہے تو جس معنیٰ سے آنحضرتﷺ مومنین کے مولیٰ ہیں اسی معنیٰ سے سیدنا علیؓ بھی مومنین کے مولیٰ ہیں لہٰذا یہ سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کی کیسی واضح دلیل ہے اور رسول اللہﷺ نے غدیرِ خم پر اس خلافت کا اعلان فرمایا جیسا کہ بیان کر چکا ہوں۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل صاحب کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے غدیرِ خم پر سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کیا میں ان سے پوچھتا ہوں کہ دنیا کے گھی، گڑ، تمباکو وغیرہ کا اعلان نوشہرہ میں ہو اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت کا اعلان نہ مکہ میں، نہ مدینہ میں، نہ بیت اللہ میں، نہ مسجدِ نبوی میں اور نہ عرفات میں جہاں ہزاروں کا مجمع تھا بجائے ان مقامات کے ایک جنگل کے تالاب پر اعلان کرنے کی نوبت کیوں آئی؟ نماز دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، کئی سو مقامات پر قرآنِ مجید میں واضح الفاظ میں اس کی فرضیت کا اعلان ہے سیدنا علیؓ کی خلافت کا مسئلہ جب اصولِ دین میں سے ہے تو قرآن میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں اور نہ احادیث میں اور اگر ہے تو شیعہ کے نزدیک ایک ایسی روایت میں جو کہ جنگل میں بیان کی گئی اور وہاں بھی واضح الفاظ میں اعلان نہیں کیا گیا اور مولیٰ کا لفظ کہا گیا جس کے معنیٰ خلیفہ بلا فصل دنیا کی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور میں مولیٰ کے معنیٰ قرآنِ مجید اور احادیثِ شریف سے ثابت کر چکا ہوں کہ خلیفہ بلا فصل ہرگز نہیں ہو سکتے۔ یہ میرے پاس لغت کی جامع کتاب المنجد ہے جس کے صفحہ 1021 پر مولیٰ کے یہ معنیٰ مذکور ہیں: دوست، پڑوسی، چچا زاد بھائی، غلام، داماد وغیرہ، جن میں خلیفہ بلا فصل کا نام و نشان بھی نہیں۔
باقی مولوی اسماعیل کا یہ کہنا کہ جس معنیٰ سے آنحضرتﷺ مولیٰ ہیں اسی معنیٰ سے سیدنا علیؓ مولیٰ ہیں تو یہاں اس روایت میں مولیٰ کے معنیٰ دوست کے ہیں جس پر اسی روایت کے اگلے الفاظ خود دال ہیں:
اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَّالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ۔
ترجمہ: اے اللہ! تو دوست رکھ اس کو جو علیؓ کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علیؓ کو دشمن رکھے یہ الفاظ ظاہر اور بین قرینہ ہیں کہ اس روایت میں مولیٰ کے معنیٰ دوست ہیں، جس کی بنا پر روایت کے معنیٰ یہ ہیں: جس کا میں دوست ہوں اس کا علیؓ دوست ہے اس سے اس شخص کو تنبیہ مقصود تھی جس کی سیدنا علیؓ سے کچھ رنجش تھی اس رنجش کا آنحضرتﷺ کو اسی جنگل میں علم ہوا، جس کا فیصلہ اس جنگل میں ہی فرما دیا۔ ورنہ اگر خلافت کا اعلان مقصود ہوتا تو حضورِ اکرمﷺ عرفات کے میدان میں، جہاں ہزاروں کا مجمع تھا، اس میں ضرور اعلان فرماتے اس کے بعد اگر مولوی اسماعیل صاحب خواہ مخواہ بضد ہوں کہ یہ ضرور سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کا اعلان تھا تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ اعلان غدیرِ خم کے جنگل یا تالاب پر کیوں ہوا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ نے عرفات کے میدان میں کیوں یہ اعلان نہ کیا؟ باقی سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ کو اپنا دوست کہا اور سمجھا، یہی ہمارا بھی ایمان ہے کہ سیدنا علیؓ ہمارے مولیٰ و محبوب ہیں۔
مناظر شیعہ:
حضرات! مولوی عبد الستار صاحب پوچھتے ہیں کہ خلافتِ علیؓ کا اعلان غدیرِ خم پر کیوں ہوا؟ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں سے راستے جدا ہونے والے تھے۔ اس لیے وہاں غدیرِ خم پر اعلان فرما کر سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کو ثابت فرمایا اور اہلِ سنت کی معتبر کتاب میں ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ نے غدیرِ خم پر ہی یہ الفاظ فرمائے:
من کنت مولاہ فھٰذا علیّ ُ مولاہ
جس طرح آنحضرتﷺ مولائے کُل ہیں اسی طرح حضرت امیر المؤمنین سیدنا علیؓ بھی مولائے کل ہیں، تو مولائے کل کی موجودگی میں دوسرے کی امامت و خلافت کیسے جائز ہو سکتی ہے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل صاحب اب تو حقائق و واقعات کے خلاف کچھ بہکی بہکی باتیں بیان کرنے لگے ہیں۔ یہ تو کہتے ہیں کہ وہاں مجمع زیادہ تھا اور مختلف راستے پھوٹتے تھے اس لیے وہاں اعلان کیا۔ حالانکہ ان کی معتبر کتاب احتجاجِ طبرسی کے صفحہ 23 پر یوں لکھا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرفات کے میدان میں حج کے دن آ کر اللہ کا یہ حکم پہنچایا کہ لوگوں سے سیدنا علیؓ کی خلافت پر بیعت لے لو، اور سیدنا علیؓ کی خلافت و امامت کا اعلان کر دو کیونکہ اب آپ کی رحلت کا وقت قریب ہے تو رسول اللہﷺ نے اپنی قوم کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ٹال دیا اور تعمیل نہ کی اور وہاں سے واپس مدینہ منورہ کو روانہ ہوئے تو راستے میں جب مسجدِ خیف پہنچے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پھر نبی کریمﷺ کو حکم دیا کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دو مگر پھر بھی رسول اللہﷺ نے ٹال دیا اور حکم کی تعمیل نہ کی اور آپ وہاں سے چلتے چلتے کراعِ غمیم کے مقام پر، جو کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے پہنچے تو پھر رسول اللہﷺ پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور تیسری بار پھر وہی حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دو تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے اپنی قوم سے ڈر ہے اللہ تعالیٰ سے میری حفاظت کی ذمہ داری کی کوئی آیت لاؤ، تب یہ حکم لوگوں میں پہنچاؤں گا حضرت جبرئیل علیہ السلام واپس ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ کر سارا ماجرا عرض کیا اور ادہر رسول اللہﷺ چلتے چلتے غدیرِ خم پر پہنچے، جو جحفہ کی طرف تین میل کے فاصلہ پر ہے تو وہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام غدیرِ خم پر چوتھی بار آئے۔ تو اس دفعہ آنے کے متعلق احتجاجِ طبرسی جلد 1 صفحہ 34 پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں:
اتاہ جبرئیل علٰی شمس ساعات مضت من النھار بالزجر الانتھار
ترجمہ: تو اس روز جب کہ دن کی پانچ گھڑیاں گزر رہی تھیں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس سخت زجر و توبیخ لے کر اترے۔
اور زجر و توبیخ کے ساتھ کہا کہ اللہ تعالیٰ کا تجھے حکم ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دےمیں تجھے لوگوں سے محفوظ رکھوں گا اگر تو نے اب بھی سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان نہ کیا تو نے رسالت کے فرائض انجام نہ دیے تو پھر اس زجر و توبیخ کے بعد رسول اللہﷺ نے غدیرِ خم پر یہ الفاظ کہے:
من کنت مولاہ فھذا علیّ مولاہ
جو کہ خلافتِ مطلق کے معنیٰ بھی نہیں دے سکتے، چہ جائیکہ خلافتِ بلا فصل پر دلالت کریں۔
تو حضرات! اب غور کیجیے کہ مولوی اسماعیل صاحب تو کہتے ہیں کہ غدیرِ خم پر اعلان اس لیے کیا گیا کہ یہاں سے راستے پھوٹتے تھے اور ان کی کتابیں یہ کہتی ہیں کہ اعلان تو وہاں عرفات کے میدان میں کرنا تھا، لیکن نبی کریمﷺ نے اپنی قوم کے ڈر سے وہاں اعلان نہ کیا، بلکہ غدیرِ خم پر بھی زجر و توبیخ کے بعد مجبور ہو کر گول مول الفاظ میں اعلان کیا کہ جس کے معنیٰ خلافتِ بلا فصل سوائے شیعہ حضرات کے کسی نے بھی نہیں سمجھے۔
حضرات!
خدا سے کس کو جائز اس طرح رد و بدل ہوگا
تمہیں انصاف سے کہہ دو یہ عقدہ کیسے حل ہوگا
شیعہ حضرات نے سیدنا علیؓ کی خلافت کے لیے تو یہ کہانی گھڑ لی لیکن ان بیچاروں کو یہ خیال نہ رہا کہ اس کہانی سے رسول اللہﷺ کی رسالت پر کیا زد پڑے گی۔
2: علاوہ ازیں مولوی اسماعیل کی یہ بات بھی تعجب سے خالی نہیں کہ غدیرِ خم پر مجمع منتشر ہونا تھا اور وہاں سے راستے پھوٹتے تھے یہ کتنی غلط بات ہے، کیونکہ غدیرِ خم مدینہ منورہ کے قریب ہے۔ تو جو لوگ یمن اور عراق، بحرین، عدن اور غدیرِ خم سے جنوب کو رہنے والے تھے وہ سب غدیرِ خم پر کیسے موجود تھے کہ وہاں اعلان سن لیتے؟ حالانکہ تمام لوگوں کا مجمع تو عرفات یا مکہ معظمہ میں تھا اور مختلف علاقوں کے لوگ شمالاً جنوباً اور شرقاً غرباً وہاں سے جاتے تھے، لہٰذا یہ اعلان بھی وہاں کرنا تھا نہ کہ غدیرِ خم پر۔
3: مولوی اسماعیل صاحب! تم خواہ مخواہ وقت ضائع کر رہے ہو، دیکھیے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو جب امیر المؤمنین سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد لوگوں نے خلیفہ ہونے کے لیے کہا تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس وقت ان لوگوں کو فرمایا:
دَعُوْنِیْ وَالْتَمِسُوْا غَیْرِیْ۔
ترجمہ: تم لوگ مجھے امیر و خلیفہ بنانے سے چھوڑ دو، کوئی اور بنا لو۔
اور اس کے بعد فرمایا:
وَ اِنْ تَرَکْتُمُوْنِیْ فَاَنَا کَاَحَدِکُمْ وَ لَعَلِّیْ اَسْمَعُکُمْ وَ اَطْوَعُكُمْ لِمَنْ وَلَّیْتُمُوْهُ اَمْرَكُمْ ، وَاَنَا لَكُمْ وَزِیْرًا خَیْرٌ لَّكُمْ مِنِّیْ اَمِیْرًا۔
اور اگر تم مجھے کو امیر بنانے سے چھوڑ دو تو میں تم میں سے ایک کی مثل رہوں گا، اور جس کو تم اپنا امیر بناؤ شاید میں تم سے زیادہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کروں گا۔ اور یاد رکھو میرا وزیر ہونا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے میرے امیر و خلیفہ ہونے سے۔
غور کیجیے! اگر سیدنا علیؓ منصوص من اللہ اور خدا و رسول کی طرف سے مقرر و منتخب شدہ خلیفہ بلا فصل ہوتے تو لوگوں کو یہ کیوں فرماتے کہ مجھے خلیفہ نہ بناؤ کسی اور کو بناؤ۔
حضرات! آپ اس بات کو بخوبی دیکھ چکے ہیں کہ مولوی اسماعیل حسبِ شرائط سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل پر کوئی ایک دلیل بھی نصِ قرآنِ مجید اور حدیثِ متواترِ اہلِ سنت سے پیش نہیں کر سکا اور نہ کر سکتا ہے۔
مناظر شیعہ( آخری تقریر)
حضراتِ مومنین کرام! میں نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی خلافت قرآنِ مجید سے ثابت کی کہ خلافت منصوص من اللہ تھی، اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کا خلیفہ بلا فصل ہونا اہلِ سنت کی کتابوں سے ثابت کیا اور:
سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ۞(سورۃ الاسراء: آیت 80)
بھی سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کو ثابت کرتی ہے اور:
وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)
میں بھی صاف طور پر سیدنا علیؓ کا نام موجود ہے۔ اور مولوی عبد الستار جو اس بات پر زور دے رہا ہے کہ رسول اللہﷺ کو زجر و توبیخ کی گئی، تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں۔
جب یہ بات مولوی اسماعیل صاحب نے کہی تو بیچارے شیعوں کی گردنیں مارے شرم کے جھک گئیں اور ان کے چہرے مرجھا گئے اور مولوی اسماعیل بیچارہ غصہ میں کتابوں کو اِدہر اُدہر مار رہا تھا اور مناظرِ اہلِ سنت اور مسلمانانِ اہلِ سنت کے چہرے فتح و کامرانی سے چمک رہے تھے۔