مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 16 از 16

تو حضرات! اب غور کیجیے کہ مولوی اسماعیل صاحب تو کہتے ہیں کہ غدیرِ خم پر اعلان اس لیے کیا گیا کہ یہاں سے راستے پھوٹتے تھے اور ان کی کتابیں یہ کہتی ہیں کہ اعلان تو وہاں عرفات کے میدان میں کرنا تھا، لیکن نبی کریمﷺ نے اپنی قوم کے ڈر سے وہاں اعلان نہ کیا، بلکہ غدیرِ خم پر بھی زجر و توبیخ کے بعد مجبور ہو کر گول مول الفاظ میں اعلان کیا کہ جس کے معنیٰ خلافتِ بلا فصل سوائے شیعہ حضرات کے کسی نے بھی نہیں سمجھے۔  

حضرات!  

خدا سے کس کو جائز اس طرح رد و بدل ہوگا  

تمہیں انصاف سے کہہ دو یہ عقدہ کیسے حل ہوگا  

شیعہ حضرات نے سیدنا علیؓ کی خلافت کے لیے تو یہ کہانی گھڑ لی لیکن ان بیچاروں کو یہ خیال نہ رہا کہ اس کہانی سے رسول اللہﷺ کی رسالت پر کیا زد پڑے گی۔

2: علاوہ ازیں مولوی اسماعیل کی یہ بات بھی تعجب سے خالی نہیں کہ غدیرِ خم پر مجمع منتشر ہونا تھا اور وہاں سے راستے پھوٹتے تھے یہ کتنی غلط بات ہے، کیونکہ غدیرِ خم مدینہ منورہ کے قریب ہے۔ تو جو لوگ یمن اور عراق، بحرین، عدن اور غدیرِ خم سے جنوب کو رہنے والے تھے وہ سب غدیرِ خم پر کیسے موجود تھے کہ وہاں اعلان سن لیتے؟ حالانکہ تمام لوگوں کا مجمع تو عرفات یا مکہ معظمہ میں تھا اور مختلف علاقوں کے لوگ شمالاً جنوباً اور شرقاً غرباً وہاں سے جاتے تھے، لہٰذا یہ اعلان بھی وہاں کرنا تھا نہ کہ غدیرِ خم پر۔

3: مولوی اسماعیل صاحب! تم خواہ مخواہ وقت ضائع کر رہے ہو، دیکھیے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو جب امیر المؤمنین سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد لوگوں نے خلیفہ ہونے کے لیے کہا تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس وقت ان لوگوں کو فرمایا:  

دَعُوْنِیْ وَالْتَمِسُوْا غَیْرِیْ۔

ترجمہ: تم لوگ مجھے امیر و خلیفہ بنانے سے چھوڑ دو، کوئی اور بنا لو۔  

اور اس کے بعد فرمایا:  

وَ اِنْ تَرَکْتُمُوْنِیْ فَاَنَا کَاَحَدِکُمْ وَ لَعَلِّیْ اَسْمَعُکُمْ وَ اَطْوَعُكُمْ لِمَنْ وَلَّیْتُمُوْهُ اَمْرَكُمْ ، وَاَنَا لَكُمْ وَزِیْرًا خَیْرٌ لَّكُمْ مِنِّیْ اَمِیْرًا۔  

اور اگر تم مجھے کو امیر بنانے سے چھوڑ دو تو میں تم میں سے ایک کی مثل رہوں گا، اور جس کو تم اپنا امیر بناؤ شاید میں تم سے زیادہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کروں گا۔ اور یاد رکھو میرا وزیر ہونا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے میرے امیر و خلیفہ ہونے سے۔  

غور کیجیے! اگر سیدنا علیؓ منصوص من اللہ اور خدا و رسول کی طرف سے مقرر و منتخب شدہ خلیفہ بلا فصل ہوتے تو لوگوں کو یہ کیوں فرماتے کہ مجھے خلیفہ نہ بناؤ کسی اور کو بناؤ۔  

حضرات! آپ اس بات کو بخوبی دیکھ چکے ہیں کہ مولوی اسماعیل حسبِ شرائط سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل پر کوئی ایک دلیل بھی نصِ قرآنِ مجید اور حدیثِ متواترِ اہلِ سنت سے پیش نہیں کر سکا اور نہ کر سکتا ہے۔

مناظر شیعہ( آخری تقریر)  

حضراتِ مومنین کرام! میں نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی خلافت قرآنِ مجید سے ثابت کی کہ خلافت منصوص من اللہ تھی، اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کا خلیفہ بلا فصل ہونا اہلِ سنت کی کتابوں سے ثابت کیا اور:

سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا‏ ۞(سورۃ الاسراء: آیت 80)

بھی سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کو ثابت کرتی ہے اور: 

وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)

میں بھی صاف طور پر سیدنا علیؓ کا نام موجود ہے۔ اور مولوی عبد الستار جو اس بات پر زور دے رہا ہے کہ رسول اللہﷺ کو زجر و توبیخ کی گئی، تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں۔  

جب یہ بات مولوی اسماعیل صاحب نے کہی تو بیچارے شیعوں کی گردنیں مارے شرم کے جھک گئیں اور ان کے چہرے مرجھا گئے اور مولوی اسماعیل بیچارہ غصہ میں کتابوں کو اِدہر اُدہر مار رہا تھا اور مناظرِ اہلِ سنت اور مسلمانانِ اہلِ سنت کے چہرے فتح و کامرانی سے چمک رہے تھے۔


صفحہ 16 از 16