مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 4 از 16

3: اگر بالفرض آپ کا یہ اصول مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے خلفاء حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور رسول اللہﷺ کے خلیفہ سیدنا علیؓ کی خلافت تمام صفات و لوازمات میں ایک جیسی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ قرآن ہمارا اور رسول ہمارا اور خلیفہ بلا فصل بھی ہمارا، کے اس میں پہلے خلفاء کا ذکر تو نام بنام ہو مگر ہمارے خلیفہِ بلا فصل کی خلافت کا کہیں نام نہ ہو؟  

لہٰذا آپ کے نزدیک جب پہلے خلفاء کی طرح سیدنا علیؓ کی خلافت ہے تو آپ سیدنا علیؓ کے خلافتِ بلا فصل کا ذکر نام کے ساتھ ثابت کیجیے جو قیامت تک آپ سے ثابت نہ ہوگا۔

4: خلفاءِ راشدینؓ کی خلافت کا بنانے والا اور دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کہ فاعلِ حقیقی ہے اگرچہ ظاہری سبب شوریٰ ہو، جیسا کہ سیدنا علیؓ کو بھی خلیفہ اللہ نے بنایا مگر ظاہری سبب شوریٰ تھا۔

5: خلفاءِ ثلاثہؓ کی خلافت واقعی اس آیت کا مصداق ہے اور ان کی خلافت کا منکر ہمارے نزدیک فاسق ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 

وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞ (سورۃ النور: آیت 55) 

ترجمہ: جس نے اس خلافت کے بعد ناشکری کی وہ فاسق ہیں۔

مناظر شیعہ:

حضرات! دیکھیے اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ہمارے لیے وہ دین مقرر کرتے ہیں جو کہ تمام سابقہ انبیاء علیہم السلام کے لیے تھا اللہ تعالیٰ سورۃ شوریٰ میں فرماتا ہے:  

شَرَعَ لَكُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوۡحًا وَّالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهٖۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى وَعِيۡسٰٓى اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ الخ۔ (سورۃ الشوریٰ: آیت 13)

ترجمہ: تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے وہی دین بھیجا جس کا حکم حضرت نوح علیہ السلام کو دیا اور تیری طرف وہی بھیجا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا تھا کہ سب دین کو قائم رکھو۔

اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰۤى اٰدَمَ وَنُوۡحًا وَّاٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ۞(سورۃ آلِ عمران: آیت 33)

ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۡۢ بَعۡضٍ‌ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‌ ۞(سورۃ آلِ عمران: آیت 34)

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے چن لیا حضرت آدم علیہ السلام کو اور حضرت نوح علیہ السلام کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سارے جہان سے جو بعض بعض کی اولاد تھے۔

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ رَسُوۡلًا شَاهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ۞(سورۃ المزمل: آیت 15)

ترجمہ: ہم نے تمہاری طرف اسی طرح رسول بھیجا جس طرح ہم نے فرعون کی طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا۔

فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا‏ ۞(سورۃ النساء: آیت 54)

ترجمہ: ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی اور ان کو ملک عظیم اور بڑی بادشاہی اور سلطنت دی۔  

ان آیات سے ثابت ہے کہ ہمارا دین سابقہ انبیاء کے دین کی طرح ہے اور ہمارا رسول سابقہ رسولوں کی طرح ہے اور سابقہ انبیاء علیہم السلام کے بعد اُن کی آل اور ذریت کو ہی خلافت اور کتاب و حکمت اور بادشاہی دی گئی تھی، تو ہمارے لیے بھی دین کا وہی طریقہ اور وہی حکم ضروری ہو گا تو پس حضرت محمدﷺ کے بعد خلافت آپﷺ کی آل کا حق ثابت ہوا، اور وہ سیدنا علیؓ ہی ہیں۔

مناظر اہل سنت:

حضرات! قرآنِ مجید میں جہاں جہاں سابقہ انبیاء کرام اور ان کے وحی اور دین کو ہمارے رسول پاکﷺ اور آپﷺ کی وحی اور دین کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اس میں مطلق وحی کے بھیجنے اور اصولِ دین میں متفق ہونے کا ذکر ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ اور گزشتہ انبیاء علیہم السلام تمام امور وصفات و کمالات اور تمام جزوی و فروعی مسائل و احکام میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں، یہ تشبیہ صرف اصول دین اور مطلق وحی میں ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ ہمارا دین ناسخ ہے اور وہ منسوخ ہیں اور ان انبیاء علیہم السلام اور ان کے ادیان کے بعد نبوت اور وحی کا آنا جاری تھا اور حضورِ اکرمﷺ کے بعد بالکل ختم کر دیا گیا، تو ہر طرح سے پوری تشبیہ مراد لینا کس قدر جہالت ہے۔

2: اگر بالفرض مولوی اسماعیل صاحب کے اس جاہلانہ اصول کو مان لیں کہ پوری تشبیہ مراد ہے تو سابقہ امتوں اور دینوں میں جن خلفاء کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ تو انبیاء تھے، تو کیا سیدنا علیؓ کو بھی یہ نبی کہہ کر پہلے خلفاء سے تشبیہ دیں گے؟ بہر حال ان تمام آیات میں سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کا اشارہ تک بھی نہیں ہے۔

3: اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ رَسُوۡلًا شَاهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ۞(سورۃ المزمل: آیت 15)

میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت و نبوت سے رسول اللہﷺ کی رسالت کو تشبیہ دے کر سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کو ثابت کرنا نرالی منطق ہے۔  

یہاں تو اہلِ مکہ اور کفار کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ جس طرح تمہاری طرف رسول بھیجا گیا ہے اسی طرح ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا، لیکن فرعون نے اُس رسول کی نافرمانی کی تو تباہ و فنا ہو گیا، لہٰذا فرعون کی طرح تم لوگ رسول پاکﷺ کی نافرمانی نہ کرو ورنہ تباہ کر دیے جاؤ گے۔ یہاں اور کوئی تشبیہ مراد نہیں ہے کیونکہ جہاں ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دی جائے وہاں تمام وجوہ سے تشبیہ کا ہونا ضروری نہیں جیسا کہ علمِ معانی میں مذکور و مسطور ہے۔

4: مولوی اسماعیل صاحب! اگر رسول اللہﷺ کے خلفاء کے لیے بھی سابقہ انبیاء علیہم السلام کی طرح آپﷺ کی آل میں سے ہونا ضروری ہے تو پھر اس آیتِ استخلاف کو کس منہ سے پڑھ رہے ہو؟ یہاں تو اللہ تعالیٰ حضورِ اکرمﷺ کو نص کر کے فرما رہے ہیں کہ میرا وعدہ خلافت اہلِ ایمان صالحین سے ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ میرا وعدہ خلافت صرف آپﷺ کی اولاد و آل سے ہے۔

صفحہ 4 از 16