مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 5 از 16

5: مولوی اسماعیل صاحب کا یہ اصول بھی غلط ہے کہ سابقہ انبیاء کرام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ ان کی آل و اولاد میں سے ہوئے۔ کیونکہ ہارونؑ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے، جس سے ثابت ہوا کہ ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی خلافت نہیں ملی لہٰذا مولوی اسماعیل صاحب کا یہ استدلال بھی غلط رہا باقی رہا مولوی اسماعیل صاحب کا یہ دعویٰ کہ سابقہ انبیاء کے خلفاء ان کی اولاد سے ہوتے تو یہ بھی سراسر غلط ہے دیکھیے شیعہ کی معتبر کتاب اصولِ کافی صفحہ 181 پر ہے:  

عن ابی عبدالله علیہ السلام قال اوصی موسی علیہ السلام الی یوشع بن نون و الی ولد ہارون ولم یوص الی ولدہ ولا الی ولد موسیٰ۔  

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد یوشع بن نون کو اپنا وصی اور جانشین بنایا اور یوشع بن نون نے اپنے بعد ہارون کے لڑکے کو اپنا وصی و جانشین بنایا اور نہ اپنے لڑکے کو وصی بنایا اور نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد سے کسی کو وصی بنایا۔  

معلوم ہوا کہ مولوی اسماعیل کا یہ کہنا کہ ہارون کو وصی بنایا تھا یہ بھی غلط ہے اور یہ دعویٰ کہ خلافت اولادِ انبیاء میں رہی یہ بھی غلط ہے کیونکہ حضرت یوشع علیہ السلام باوجودیکہ اولادِ موسیٰ نہ تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ ہوئے۔ اور پھر یوشع علیہ السلام کے خلیفہ ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوئے، نہ خود یوشع علیہ السلام کی اولاد سے ہوئے اور نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد سے۔

6: مولوی اسماعیل صاحب کے اگر اس مہمل اصول کو مانا جائے تو پھر خود اُن کے اپنے اصول سے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل بیخ و بُن سے اکھڑ جاتی ہے۔ کیونکہ حضرت علی المرتضیٰؓ اولادِ رسول اللہﷺ میں سے ہرگز نہیں ہیں۔ تو حضرت علی المرتضیٰؓ کا حقِ خلافت بالکل نہیں ہو سکتا۔

مناظر شیعہ:

حضرات! دیکھیے آنحضرت ﷺ نے سیدنا علیؓ کو فرمایا:  

اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ۔

ترجمہ: اے علیؓ تو میرے لیے اس طرح ہے جس طرح کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیےحضرت ہارون علیہ السلام تھے۔ دیکھیے اس میں صاف ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی آنحضرتﷺ کے اسی طرح خلیفہ ہیں۔

2: مسلمانوں کو جو درود شریف سکھایا گیا ہے وہ یہ ہے: 

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَاٰلِ اِبْرَاھِیْمَ۔ 

دیکھیے درود شریف میں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد پر درود ہے اسی طرح حضرت محمدﷺ کے بعد ان کی اولاد پر درود کا حکم دیا گیا ہے۔ تو خلافت بھی اسی طرح ہے۔ مومنین کرام! آج مجھ سے درود کو سمجھ لو۔

3: سورۃ الانعام پارہ 7 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کو چنا۔ آیت یہ ہے:  

وَتِلۡكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَيۡنٰهَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ عَلٰى قَوۡمِهٖ‌ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 83)

وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ‌ كُلًّا هَدَيۡنَا وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ‌ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ وَمُوۡسٰى وَ هٰرُوۡنَ‌ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 84)

وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى وَعِيۡسٰى وَاِلۡيَاسَ‌ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞(سورۃ الانعام: آیت 85)

وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَالۡيَسَعَ وَيُوۡنُسَ وَلُوۡطًا‌ وَكُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ۞(سورۃ الانعام: آیت 86)

وَمِنۡ اٰبَآئِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ‌ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 87)

ترجمہ: اور یہ ہماری دلیل ہے جو کہ ہم نے دی تھی ابراہیم علیہ السلام کو اس کی قوم کے مقابلے میں، درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کے چاہیں۔ تیرا رب حکمت والا ہے، جاننے والا۔ اور بخشا ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام سب کو ہم نے ہدایت دی اور نوح علیہ السلام کو ہدایت کی ہم نے ان سب سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو اور ایوب علیہ السلام و یوسف علیہ السلام کو اور موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام کو اور ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں نیک کام کرنے والوں کو۔ اور زکریا علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام کو۔ سب ہیں نیک بختوں میں۔ اور اسماعیل علیہ السلام اور الیسع علیہ السلام اور یونس علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کو اور سب کو ہم نے بزرگی دی سارے جہان والوں پر۔ اور ہدایت کی ہم نے بعضوں کو ان کے باپ دادوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے اور بھائیوں میں سے۔ اور ان کو ہم نے پسند کیا اور سیدھی راہ پر چلایا۔

دیکھیے حضرت! اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام کی اولاد اور بھائیوں کو چنا گیا تو ہمارے حضرت محمدﷺ کے بعد بھی خلافت آپﷺ کی اولاد اور رشتہ داروں کا حق ہوگی۔

4: یہ اہلِ سنت والجماعت کی معتبر کتاب بخاری شریف ہے آنحضرتﷺ نے حسنین کریمینؓ کو فرمایا کہ میں تمہارے لیے وہی مانگتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کے لیے مانگا تھا۔ تو جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کے بیٹے ان کے قائم مقام اور خلیفہ تھے اسی طرح رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ ہی آپﷺ کے خلیفہ ہوں گے یہی وجہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے بیٹے فوت ہو گئے اگر حضورِ اکرمﷺ کے بیٹے زندہ رہتے تو سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ امام نہ ہوتے۔

مناظر اہل سنت:

صفحہ 5 از 16