مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 6 از 16

حضرات!  انت منّی بمنزلۃھارون علیہ السلام من موسٰی علیہ السلام  میں سیدنا علیؓ کی خلافت کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ہے کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے فوت ہو جانے کی وجہ سے خلیفہ نہیں بنے اس روایت میں تو صرف اتنی تشبیہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی زندگی میں کوہ طور پر جاتے وقت پیچھے اپنے اہل و عیال اور قوم میں حضرت ہارون علیہ السلام کو چھوڑ گئے اور  اخلفنی کے معنیٰ بھی پیچھے رہ جانا ہے اسی طرح حضورِ اکرمﷺ نے بھی غزوہ تبوک میں جاتے وقت سیدنا علیؓ کو اپنے اہل و عیال کی خدمت اور حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑا حتیٰ کہ مسجدِ نبوی میں امامت اور جماعت کے لیے بھی دوسرے صحابی سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔  

جب اس موقع پر حضرت محمدﷺ نے سیدنا علیؓ کو مدینہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تو وہ غمگین ہوئے کہ میں عورتوں اور بچوں میں پڑا رہوں اور فضیلتِ جہاد سے محروم رہوں۔ تو آن حضرت محمدﷺ نے سیدنا علیؓ کی دل جوئی کی اور یہ الفاظ فرمائے کہ اسی پیچھے رہ جانے میں تیرا رتبہ کم نہ ہوگا، جیسا کہ حضرت ہارون علیہ السلام پیچھے رہ گئے تھے۔ اس روایت میں نہ خلافت کا کوئی ذکر ہے اور نہ خلافتِ بلا فصل سے اس کا کوئی تعلق ہے حالانکہ خود شیعہ کتب سے ہم ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصی اور خلیفہ حضرت یوشع علیہ السلام تھے نہ کہ حضرت ہارون علیہ السلام۔

2: مولوی اسماعیل بے چارے کو جب خلافتِ بلا فصل کے ثبوت میں کوئی آیت نہیں ملی تو کیوں خواہ مخواہ وقت ضائع کر رہا ہے؟ اور اب عاجز آ کر درود پڑھنا اور سکھانا شروع کر دیا۔ یہ تو مناظرہ ہے کوئی مجلسِ خوانی نہیں ہے۔ درود میں کہاں لکھا ہے کہ سیدنا علیؓ خلیفہ بلا فصل تھے؟ اور یہاں لکھا ہے کہ خلیفہ وہی ہوتا ہے جس پر درود پڑھا جائے؟ تشبیہ جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل سے دی گئی ہے، تو اگر آلِ ابراہیم سے پوری تشبیہ مراد ہے تو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں جو خلفاء ہوئے ہیں وہ نبی تھے، مگر آن حضرت محمدﷺ کی آل میں کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔  

مولوی اسماعیل بے چارے سے کوئی پوچھے تو سہی کہ آپ جو یہ درود پڑھانے اور سکھانے میں لگ گئے ہیں یہ کوئی سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کے لیے آیتِ قرآنی ہے یا کوئی حدیثِ متواتر اہلِ سنت ہے؟ خدا جانے آپ کو مناظر کس نے بنایا۔

3: مولوی اسماعیل بے چارے نے جو لمبی چوڑی آیات پڑھ کر حضرات انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ کیا ہے اس سے خلافتِ بلا فصل کی طرف سرے سے کوئی اشارہ تک بھی ثابت نہیں ہوتا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے خلفاء ہیں، انبیاء کے خلفاء ہیں اور ان کی خلافت سے نبوت مراد ہے۔ اور ہماری بحث رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کے متعلق ہے جو قطعاً رسول اور نبی نہیں ہیں۔ لہٰذا رسالت و نبوت کی آیات کو خلافت کے لیے کیسے دلیل بنا جا سکتا ہے؟  

حضرت! مولوی اسماعیل کو کہیے وقت ضائع نہ کرے۔ موضوع کے اندر رہ کر خلافتِ بلا فصل کو نصِ قرآن و حدیثِ متواتر اہلِ سنت سے ثابت کرے جب قرآن ہمارے لیے آیا اور سابقہ خلفاء کے نام لے کر ان کو بیان کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے خلیفہِ بلا فصل کی خلافت جو کہ نبوت و رسالت کی طرح اصولِ دین میں سے ہو اور اس کا منکر کافر و مرتد ہو، اس کا ذرہ بھر واضح الفاظ میں کسی ایک آیت میں بھی نام نہ ہو؟ یہ انتہائی تعجب کی بات ہے۔  

علاوہ ازیں ان آیات میں حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کے آباء و اخوان کا جو تذکرہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب ہدایت یافتہ موحد تھے اور شرک سے ہمیشہ پاک و منزہ رہے۔ خلافت کی کوئی معمولی سی بات بھی ان آیات میں نہیں ہے۔ شاید مولوی اسماعیل بے چارے کے پاس جب کوئی دلیل نہیں تو محض سامعین اور عوام کو مغالطہ دینا چاہتا ہے کہ میں بہت لمبی چوڑی آیات پڑھ کر خلافتِ بلا فصل کو ثابت کر رہا ہوں۔

4: رسول اللہﷺ نے سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کے لیے دعا فرمائی تو مولوی اسماعیل صاحب! میں پوچھتا ہوں کہ اس دعا فرمانے سے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل سے کیا رابطہ ہے؟ دعا سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کے لیے فرمائی تو خلیفہ بلا فصل سیدنا علی المرتضیٰؓ کیسے بن گئے۔

مولوی صاحب! ایسی بے ربط باتیں خلافتِ بلا فصل کس طرح ثابت کر سکتی ہیں؟ یہ تو سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کے فضائل و مناقب کی باتیں ہیں جن کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل سے کوئی تعلق نہیں۔  

باقی مولوی اسماعیل صاحب کے اس عالی شان ارشاد اور انوکھے استدلال پر بھی غور کیجیے کہ "اس لیے تو حضرت محمدﷺ کے صاحبزادے فوت ہو گئے اگر وہ فوت نہ ہوتے تو سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ امام نہ ہوتے تو آنحضرتﷺ کے صاحبزادوں کی وفات سے امامت سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کو ملی۔ مگر اس سے سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کیسے ثابت ہوگئی؟ شاید یہ کوئی مجتہدانہ باریکی ہے جو کسی کی سمجھ میں آنے کے قابل نہیں۔

مناظر شیعہ:

حضرات! دیکھنا یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خلافت قرآن سے ملتی ہے یا نہیں؟ اگر علیؓ اہلِ بیتؓ میں داخل ہے تو خلافت علیؓ کا حق ہے اور اگر اہلِ بیتؓ میں سے نہیں تو خلافت سیدنا علیؓ کا حق نہیں۔ میں نے اٹھائیس انبیاء کرام علیہم السلام کا نام قرآن مجید سے ثابت کیا کہ ان کی ذریت اور آل میں نبوت کو رکھا گیا ہے تو خلافت بھی رسول اللہﷺ کی ذریت اور آل میں باقی انبیاء علیہم السلام کی طرح جاری ہوگئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنا امام چنا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی ذریت کے لیے امامت کی دعا مانگی تو صرف سیدنا علیؓ ہی آل سے ہیں لہٰذا خلافت ان کا حق ہے کیونکہ جب آیتِ تطہیر نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ، سیدنا فاطمہؓ اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کو ایک چادر میں اپنے ساتھ لپیٹ کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا:

اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلاَءِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَطَہِّرْھُمْ۔

صفحہ 6 از 16