مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 7 از 16

ترجمہ: یہ میرے اہلِ بیتؓ ہیں ان کو پاک فرما اور بوقتِ حکم مُباہَلہ بھی آنحضرتﷺ ہی چار حضرات کو اپنے ساتھ مباہلہ کے لیے تشریف لائے تو یہی چار حضرات آنحضرتﷺ کے انفس وابناء ونساء بن سکتے ہیں آپ نے اور کسی کو شامل نہیں فرمایا تو بس خلافت بھی انہی کا حق تھا کہ آنحضرتﷺ کے بعد سیدنا علیؓ کا اور پھر سیدنا حسنؓ کا اور سیدنا حسینؓ کا یہی ہمارا مقصود و مدعا ہے۔

مناظر اہل سنت:

1: مولوی اسماعیل صاحب! یہ آپ کی مجتہدانہ من گھڑت باتیں ہیں یا قرآن مجید کا کوئی اصول ہے؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل ہیں؟ اٹھائیس انبیاء کرام علیہم السلام کا جن آیات میں ذکر ہے ان آیات میں سیدنا علیؓ کی خلافت کا نام کہاں ہے؟ آپ مجھ سے سیکھ لیجیے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو نبوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہوتے ہیں اور سیدنا علی المرتضیٰؓ محمد رسول اللہﷺ کے خلیفہ ہیں تو ان دونوں خلافتوں کا آپس میں بہت فرق ہے۔ ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا غلط ہے اور یہ تو آپ کو بھی مسلم ہے کہ سیدنا علیؓ نبی نہیں تھے۔  

2: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کے لیے جس امامت کے لیے دعا مانگی وہ امامتِ نبوت ہے۔ آپ کا اور ہمارا مناظرہ نبوت کے متعلق نہیں خلافت کے متعلق ہے اور اگر بالفرض آپ اس سے خلافت ہی مراد لیں تو پھر کیا سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کو خلافت ملنے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت سے خلافت نکل جائے گی؟ جب کہ آپ کی معتبر کتاب نہج البلاغہ صفحہ 85 کے حاشیہ پر مرقوم ہے کہ رسول اللہﷺ کا آٹھواں دادا سیدنا عمر فاروقؓ کا دادا تھا اور رسول اللہﷺ کا چوتھا دادا سیدنا عثمانؓ کا دادا تھا۔  

3: آیتِ تطہیر کا سیاق و سباق نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہرات کے خطاب سے گھرا ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 33)

بھی ازواجِ مطہرات کے لیے نازل ہوئی ہے۔ دیکھیے: قَرۡنَ۔ بُيُوۡتِكُنَّ ۔ تَبَرَّجۡنَ ۔ وَاَقِمۡنَ ۔ اٰتِيۡنَ۔ اَطِعۡنَ۔ وَاذْکُرْنَ۔ بُیُوْتِکُنَّ وَرَسُوۡلَهٗ۔(سورۃ الاحزاب)

یہ سب آگے پیچھے والے جمع مؤنث کے صیغے اور ضمیریں ہیں اور درمیان میں ذکرِ تطہیر ہے جن میں تمام تر مخاطب ازواجِ مطہراتؓ ہیں تو تطہیر کو ازواجِ مطہراتؓ سے کاٹ کر دوسری طرف لے جانا ظلم اور تحریفِ قرآن ہے باقی عَنۡكُمُ اور يُطَهِّرَكُمۡ میں ضمیر کُمْ کا لانا ایسا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کے لیے قرآنِ مجید میں:

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ الخ(سورۃ ہود: آیت 73)

میں ہے اور جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بیوی کو فرمایا: 

فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا الخ۔(سورۃ طٰہ: آیت 10)

سَاٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ۞(سورۃ النمل: آیت 7)

البتہ ہمارا بھی یہ ایمان ہے کہ جب یہ آیتِ تطہیر نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ اور بعض روایات میں سیدنا علیؓ کا نام بھی ہے ان حضرات کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا:

اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلاَءِ اَھْلُ بَیْتِیْ  فَطَھِّرْھُمْ

ترجمہ:اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیتؓ ہیں پس ان کو پاک کیجیے حضورِ اکرمﷺ کی دعا کی وجہ سے یہ حضرات بھی تطہیر میں داخل ہیں اگر آیتِ تطہیر ان کے لیے نازل ہوتی تو حضورِ اکرمﷺ کو ان کے لیے دعا مانگنے کی حاجت نہ ہوتی جب حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے چادر میں داخل ہونے کی درخواست کی تو حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: اَنْت ِعَلیٰ خَیْرٍ، خیر اسم تفضیل کا صیغہ ہے جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تو بہت اچھے حال پر ہے یعنی تمہارے حق میں تو یہ آیتِ تطہیر نازل ہوئی ہے اب میں ان کو بھی شامل کرتا ہوں جو پہلے شامل نہ تھے کیونکہ اگر شامل ہوتے تو دعا کی ضرورت ہی نہ تھی بہر حال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تطہیر میں یا اہلِ بیتؓ میں شامل ہونا سیدنا علیؓ کے فضائل تو ثابت کر دیتا ہے جس میں ہم کو کوئی اختلاف نہیں اور نہ حضرت علیؓ کی خلافت میں اختلاف ہے اختلاف تو صرف خلافت بلا فصل میں ہے جس کی آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ باقی رہا مباہلہ! تو یاد رکھیے مباہلہ واقع نہیں ہوا اگر مباہلہ واقع ہوتا تب حقیقت کھلتی کہ رسول اللہﷺ کس کو شامل کرتے ہیں اور کس کو شامل نہیں کرتے خود مقابل فریق نصرانیوں کا باہم مشورہ یہی ہوا کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ مباہلہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے اس لیے کوئی نصرانی اپنی بیوی، بچے اور عزیز و اقارب ساتھ نہیں لایا صرف چند آدمی صلح اور معاہدہ و جزیہ کی بات چیت کرنے کے لیے حاضر ہوئے جب حضرت محمدﷺ کو نصرانیوں کی آمد کی خبر ملی تو آپﷺ اپنی صداقت کا اظہار کرنے کے لیے فوری طور پر چند عزیز سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا حسنؓ و حسینؓ اور سیدنا علیؓ کو ساتھ لے کر تشریف لائے تاکہ نصرانیوں کے سامنے واضح ہو جائے کہ ہماری طرح رسول اللہﷺ مباہلہ سے منحرف نہیں ہوئے۔ اور تفسیر روح المعانی میں ہے: جَآءَ اَبُوْبَکْرٍ بِوَالَدِہٖ وَعُمَرُ بِوَلَدِہٖ وَعُثْماَنُ بِوَلَدِہٖ۔

ترجمہ: یعنی سیدنا ابو بکر صدیقؓ اپنے بال بچوں کو اور عمر فاروقؓ اور عثمانِ غنیؓ اپنے بال بچوں کو ساتھ لے کر مباہلہ کے لیے آ گئے۔ 

اہلِ سنت اور شیعہ کی کتابوں سے ثابت ہے کہ مسجدِ نبوی مہاجرین و انصار سے بھر گئی۔ ان امور سے قطع نظر کر کے دعوتِ مباہلہ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شرکت سے آپ کی فضیلت اور منقبت تو ثابت ہو سکتی ہے جس سے اہلِ سنت کو کوئی انکار نہیں۔ کیونکہ سیدنا علیؓ ہمارے پیر، مقتدا اور پیشوا ہیں اختلاف صرف خلافت بلا فصل میں ہے جس کی کوئی دلیل اب تک پیش نہیں کی گئی آپ خلافت بلا فصل کی کوئی دلیل پیش کیجیے ورنہ اپنی شکست کا اعلان کیجیے۔

مناظر شیعہ:

مولوی عبد الستار بار بار مطالبہ کر رہا ہے کہ سیدنا علیؓ کا نام قرآن مجید سے ثابت کیجیے دیکھیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

صفحہ 7 از 16