مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 8 از 16

وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)

ترجمہ: اور ہم نے انبیاء علیہم السلام کے لیے سیدنا علیؓ کو زبانِ صدق بنا دیا۔ 

ہمارے امیر المومنین سیدنا علیؓ انبیاء علیہم السلام کے لسانِ صدق ہیں۔  

سورہ الشعراء میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ آپ نے دعا مانگی: 

وَاجۡعَلْ لِّىۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۞(سورۃ الشعراء: آیت 84)

ترجمہ: اے میرے مولا! میرے لیے پچھلوں میں لسانِ صدق رکھیے۔ 

جب پہلی آیت سے ثابت ہوا کہ لسانِ صدق سیدنا علیؓ ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا میں سیدنا علیؓ مراد ہے اہلِ سنت کی کتاب تفسیر بیضاوی شریف میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا مانگی کہ اے اللہ! میری اولاد میں صادق پیدا کر جو میری آل سے دین کو زندہ کرے۔ دیکھیے حضرات! ان آیات سے سیدنا علیؓ کا نام ثابت ہو گیا۔  

3: شفا قاضی عیاض میں لکھا ہے کہ سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ کا مددگار ہے دیکھیے جب حضورِ اکرمﷺ کا مددگار سیدنا علیؓ ہے تو خلیفہ بلافصل بھی وہی ہے۔  

4: اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ ۞(سورۃ المائدہ: آیت 55)

ترجمہ: تمہارا ولی اور متولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ ایماندار ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ اس حال میں دیتے ہیں جب کہ نماز میں رکوع کر رہے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا والی اور متولی وہ ہوگا جو رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دے اور یہ واقعہ ہے کہ سیدنا علیؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک سائل آیا تو آپ نے اپنی انگشتری حالتِ رکوع میں اس کو دے دی جیسا کہ اہلِ سنت کی تفسیر مدارک میں منقول موجود ہے۔

مناظر اہل سنت:

حضرات! ذرا انصاف تو فرمائیے۔ آیت:

وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)

کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہے؟ بیچارے مولوی اسماعیل کو تو خود ان کے اپنے مذہب کے ہی تمام علماء و مجتہدین جھوٹا ثابت کر رہے ہیں دیکھیے ترجمہ مقبول 214 پر اس آیت کے معنیٰ یوں لکھتے ہیں: اور ہم نے ان سب کے لیے ذکرِ خیر بلند مرتبہ کا مقرر کیا اور دوسرا ترجمہ شیعہ فرمان علی صاحب کا دیکھیے 491 پر ہے اور ہم نے ان کے لیے اعلیٰ درجے کا ذکرِ خیر دنیا میں بھی قرار دیا تو غور کیجیے اگر اس آیت میں لفظ علیّا سے سیدنا علیؓ مراد ہوتے تو شیعہ مفسر علیا کے لفظ کا ترجمہ اعلیٰ درجہ کا ذکرِ خیر وغیرہ نہ کرتے بلکہ سیدنا علیؓ کا نام لکھتے کیونکہ اسمِ علم کے ترجمے میں وہی نام لکھا جاتا ہے، اس کا ترجمہ نہیں لکھا جاتا جیسا کہ محمد رسول اللّٰہ کے ترجمہ میں محمد کے معنیٰ نہیں لکھے جاتے بلکہ جوں کا توں نام لکھا جاتا ہے کہ محمد خدا کے رسول ہیں۔  

2: بفرضِ محال اگر یہاں علیّا سے مراد سیدنا علیؓ ہی ہوں تو اس آیت کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہوگا؟ اس سے بس زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوگا کہ سیدنا علیؓ لسانِ صدق ہے جس سے ان کی فضیلت ثابت ہوگی اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مولوی اسماعیل صاحب بیچارے کو خلافت بلا فصل کی کوئی نص تو مل نہیں سکتی اس لیے کبھی آپ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞ (سورۃ مریم: آیت 50) پڑھ دیتے ہیں اور کبھی: 

وَاِنَّهٗ فِىۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِىٌّ حَكِيۡمٌ ۞(سورۃ الزخرف: آیت 4)

پڑھ کر اپنے دل کو بہلا لیتے ہیں ورنہ ان آیات کو خلافت بلا فصل سے کیا تعلق ہے؟ خود ان کے شیعہ مفسر مقبول احمد اپنے ترجمہ کے صفحہ 974 پر اس کے معنیٰ یوں لکھتے ہیں: اور بے شک وہ قرآن مجید ہمارے پاس ام الکتاب میں عالی شان اور حکمت والا ہے اور دوسرا شیعہ فرمان علی اپنے ترجمہ صفحہ 780 پہ لکھتا ہے: اور بے شک یہ قرآن اصلی کتاب لوح محفوظ میں بھی جو ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے اور یقیناً بڑے رتبہ کی اور پر حکمت ہےحضرات! شیعہ مفسرین کے ترجمہ کے مطابق ان آیات کو سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل یا ان کی ذات سے کیا تعلق ہے؟ مولوی اسماعیل کو کہو کہ وقت ضائع نہ کرے۔  

3: مولوی اسماعیل صاحب نے جو یہ آیت پڑھی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے: 

وَاجۡعَلْ لِّىۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۞ (سورۃ الشعراء: آیت 84)

ترجمہ: یعنی اے اللہ رب! میرا بول سچا پچھلوں میں۔ 

یعنی ایسے اعمالِ مرضیہ اور آثارِ حسنہ کی توفیق دے کر پیچھے آنے والی نسلیں ہمیشہ میرا ذکرِ خیر کریں اور میرے راستے کی طرف چلنے پر راغب ہوں اور بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ آخر زمانے میں میرے گھرانے سے نبی ہو چنانچہ یہی ہوا کہ حق تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو دنیا میں قبولِ عام عطا فرمایا اور ان کی نسل سے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہﷺ کو مبعوث فرمایا جنہوں نے ملتِ ابراہیمی کی تجدید کی اور فرمایا: میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں آج بھی ابراہیم علیہ السلام کا ذکرِ خیر اہلِ مِلل کی زبان پر جاری ہے اور امتِ محمدیہ تو ہر نماز میں كَمَا صَلَّيْتَ عَلیٰ اِبْرَاهِيمَ اور كَمَا بَارَكْتَ عَلیٰ اِبْرَاهِيمَ   پڑھتی ہے اور خود شیعہ مفسر مولوی فرمان علی صاحب نے اپنے ترجمہ کے صفحہ 590 پر اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں میں میرا ذکرِ خیر قائم کر۔ غور کیجیے! اس آیت کو تو حضرت علیؓ کی ذات سے بھی کوئی تعلق نہیں، چہ جائیکہ اس سے خلافت بلا فصل ثابت ہو۔  

4: شفا قاضی عیاض کے حوالے سے جو سیدنا علیؓ کا رسول اللہﷺ کا مددگار ہونا بیان کیا ہے، کیا اس سے خلافت بلا فصل ثابت ہو جاتی ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞(سورۃ الانفال: آیت 62)

اللہ تعالیٰ نے آپ کی امداد و تائید فرمائی اپنی مدد سے اور ایمانداروں سے۔ نیز مہاجرین کے حق میں فرمایا گیا ہے: 

وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ الخ۔(سورۃ الحشر: آیت 8)

ترجمہ: مہاجرین اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ 

صفحہ 8 از 16