مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 9 از 16

تو کیا تمام فقراءِ مہاجرین کے لیے خلافت بلا فصل ثابت ہو جائے گی؟ مولوی اسماعیل صاحب! کوئی خلافت بلا فصل کی دلیل پیش کیجیے۔  

5: حضرات! آیت:

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت 55)

کے معنیٰ یہ ہیں: تمہارا رفیق تو بس اللہ ہے اور اس کا رسولﷺ اور ایمان والے ہیں جو قائم ہیں نماز پر اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ عاجزی کرنے والے ہیں۔ غور کیجیے، اس آیت کے اندر نہ تو سیدنا علیؓ کا نام مذکور ہے اور نہ خلافت کا کوئی ذکر موجود ہے تو اس آیت سے سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل کیسے ثابت ہو گی؟ اگر مولوی اسماعیل صاحب کہیں کہ ولی کے معنیٰ یہاں خلیفہ بلا فصل ہے تو پھر اللہ اور اس کے رسول کا ولی ہو جانا بھی خلیفہ بلا فصل کے معنیٰ میں ہوگا۔ اور آیت میں 

وَالَّذِيۡنَ، اٰمَنُوا، يُقِيۡمُوۡنَ، وَيُؤۡتُوۡنَ، هُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏۔

تمام جمع مذکر کے الفاظ ہیں، جن سے ایک شخص کیسے مراد ہو سکتا ہے؟ تو اس نصِ قرآنی سے تو قطعاً خلافت بلا فصل ثابت نہیں ہو سکتی۔  

6: باقی رہا حالتِ رکوع میں سائل کو انگشتری دینے کا قصہ تو میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ اہلِ سنت کے نزدیک روایتِ متواترہ ہے؟ اس روایت کا متواتر ہونا تو درکنار خبرِ واحد صحیح کا درجہ بھی نہیں رکھتی بلکہ پرلے درجے کی ضعیف اور موضوع ہو گئی ہے۔ جیسا کہ تفسیر مدارک میں قیل کے لفظ سے نقل کی گئی ہے جو کہ اس روایت کے ضعف پر دلالت کرتا ہے۔  

7: سائل کو انگشتری دینے والی روایت صرف ثعلبی سے ہے جس کو حاطب اللیل کا لقب دیتے ہیں جو رطب و یابس میں یعنی صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کرتا اور سلسلہ تفسیر میں اس کی روایت کلبی سے ہوتی ہے اور کلبی کے متعلق قاضی شمس الدین الذہبی نے لکھا ہے کہ کلبی عبد اللہ بن سبا یہودی کے ساتھیوں میں سے تھا جو کہتا تھا کہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب فوت نہیں ہوئے اور وہ دنیا میں پھر آئیں گے نیز اس روایت کا اصل راوی جو ثعلبی ہے، اس ثعلبی کی بعض روایات کا سلسلہ محمد بن مروان اسدی الصغیر پر ختم ہوتا ہے جس کو سلسلہ کذب اور وضع کی ایک کڑی بتایا جاتا ہے اور جو کٹر رافضی تھا۔ تو ایسی موضوع، ضعیف و بے بنیاد روایت سے شیعوں کے عقائد کا اصولی مسئلہ کیسے ثابت ہوگا؟ حالانکہ عقائد اور اصول کے ثبوت کے لیے خبرِ واحد جو کہ ضعیف بھی نہ ہو کافی نہیں ہو سکتی بلکہ متواتر روایات کے بغیر عقائد و اصول ثابت نہیں ہو سکتے مولوی اسماعیل صاحب! حسبِ شرائط مناظرہ سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل نصِ قرآن، یا حدیثِ متواتر اہلِ سنت سے ثابت کیجیے اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ خلیفہ بلا فصل ہوتے تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت ہرگز نہ کرتے احتجاج طبرسی صفحہ 54 پر ہے: ثم تناول ید ابی بکر فبایعہ 

ترجمہ: پھر سیدنا علیؓ نے ابوبکر صدیقؓ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کی۔ 

یہ بیعت پیری مریدی والی نہیں بلکہ خلافت منظور کرنے کی بیعت تھی۔  

8: اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الخ (سورۃ المائدہ: آیت 55)

آیت سے پہلے اور اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جو حکم دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ تم کس سے دوستی اور محبت رکھو، اور کس سے دوستی و محبت نہ رکھو جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ اور ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو اہلِ کتاب میں سے تمہارے دین کو ہنسی کھیل ٹھہراتے ہیں۔ بلکہ تمہارا دوست و رفیق صرف اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور مہاجرین و انصار ایمان دار ہیں جو نماز قائم رکھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رکوع اور عاجزی کرتے رہتے ہیں۔ اور نماز کی فضیلت اور تعریف یہ ہے کہ وہ ہر اس فعل سے پاک ہو جو نماز سے تعلق نہیں رکھتا خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔ فرق اتنا ہے کہ قلیل مفید ہے اور کثیر مفسد ہے۔ اب حضرت علیؓ کے متعلق یہ خیال کرنا کہ انہوں نے حالتِ نماز میں زکوٰۃ دی عقلاً و شرعاً صحیح نہیں ہو سکتا۔ اول اس لیے کہ یہاں زکوٰۃ کا ذکر نماز کے ساتھ ہے۔ اور قرآن مجید میں نماز کے ساتھ جہاں جہاں زکوٰۃ کا ذکر ہے وہاں فرض زکوٰۃ مراد ہے۔ اور شیعہ سنی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کی زندگی میں حضرت علیؓ کبھی مالکِ نصاب نہیں بنے کہ ان پر زکوٰۃ فرض ہوئی ہو۔ ثانیاً نماز کی حالت میں سائل کا سوال کرنا اور جناب علیؓ کا حالتِ نماز میں رکوع کے اندر انگشتری اتار کر دینا سیدنا علیؓ کے نماز میں خشوع کرنے کے خلاف ہے۔ کیونکہ انگشتری اتارنے اور دینے میں عملِ کثیر پایا جاتا ہے جو کہ مفسدِ نماز ہے۔  

9: اس آیت میں اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت 55)

کے بعد جو آیت ہے اس میں فرمایا گیا ہے: 

فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ۞(سورۃ المائدہ: آیت 56)

ترجمہ: کہ یہی اللہ تعالیٰ کی جماعت غالب ہوگی۔

تو شیعہ حضرات اپنے عقائد کے مطابق اس آیت سے سیدنا علیؓ کو کیسے مراد لے سکتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک سیدنا علیؓ تمام عمر مغلوب رہے؟ حتیٰ کہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر ان سے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی خلافت پر بیعت کروائی گئی اور وہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے پیچھے جا کر نماز بھی پڑھا کرتے تھے اور تعریفیں بھی کیا کرتے تھے۔

مناظرِ شیعہ:

حضرات! آیت: وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)

میں اگر عَلِيًّا سے حضرت علیؓ کی ذات مراد ہو تو کون سی نحوی غلطی ہوگی؟

1: اہلِ سنت کی معتبر تفسیر بیضاوی جلد دوم کے صفحہ 111 پر آیت:

وَاجۡعَلْ لِّىۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۞(سورۃ الشعراء: آیت 84)

کے متعلق لکھا ہوا ہے صادقا من ذریتی یجد اصل دینی 

ترجمہ:یعنی میری اولاد سے ایک صادق مقرر کیجیے جو میرے اصل دین کی تجدید کرے تو ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے امیر المومنینؓ کے لیے ہی دعا مانگی تھی جو کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے لیے لسانِ صدق ہیں۔

3: یہ دیکھو ہمارے مذہب کی تفسیر صافی کے صفحہ 330 پر ہے کہ: لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت 50)

سے مراد سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں۔

صفحہ 9 از 16