Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت امیر معاویہ کا قبول اسلام فتح مکہ سے پہلے (تحقیق)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

 حضرت امیر معاویہ کا قبول اسلام 

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں دو قسم کی روایات ملتی ہیں ۔

 ایک روایت فتح مکہ سن 8 ہجری۔

 دوسری روایت فتح مکہ سے قبل کی ہے ۔

 حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان فتح مکہ 8 ھ کے موقع پر فرمایا ، لیکن اس سے بہت عرصے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام داخل ہوچکا تھا ،جس کا ایک اہم اور واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر، جنگ احد، جنگ خندق اور صلح حدیبیہ میں حصہ نہیں لیا ، حالانکہ آپ رضی اللہ عنہ جوان اور فنون حرب وضرب کے ماہر تھے ۔

 حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی ہی سے روایت ہے کہ قصرت عن رسول اللہ بمشقص میں نے نبی کریم ﷺ کے بال مبارک ( مروہ کے مقام پر) چھوٹے کئے ۔

  امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کہ ان کا نبی کریم ﷺ کے یہ بال کاٹنا ’’مروۃ ‘‘ کے مقام پر تھا۔

  اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کا یہ بال ترشوانا کسی عمرہ میں تھا ۔کیونکہ نبی کریم ﷺ نے صرف ایک حج کیا وہ بھی فتح مکہ کے بعد اور اس میں حلق کروایا تھا نہ کے قصر ۔اور حج میں منی کے مقام پر حلق کروایا جاتا ہے نہ کہ مروہ کے مقام پر ۔

  چنانچہ امام نووی نے تصریح کی ہے کہ آپ حج کررہے تھے اور آپ نے منی کے مقام پر حلق کروایا تھا اور ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے بال مبارک لوگوں میں تقسیم کئے ۔(نووی)

  پتہ چلاکہ حضرت امیر معاویہ کا نبی کریم کے بال تراشنے کا واقعہ کسی عمرہ کے دوران ہوا۔

 نبی کریم ﷺ ہجرت مدینہ کے بعد ۶ ہجری کو عمرہ کی نیت سے مکہ کیلئے روانہ ہوئے تھے مگر آپ کو مقام حدیبیہ پر روک لیا گیا تھا ۔ جس کے بعد اگلے سال آپ نے یہ عمرہ ادا کیا ۔

  پس ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ صلح حدیبیہ اور عمرۃ القضا کے درمیان کسی وقت میں ایمان لائے تھے اور عمرۃ القضاہ میں وہ نبی کریم کے ساتھ شامل تھے۔

قبول اسلام ظاہر نہ كرنے كي وجہ

” میں عمرةالقضا سے بھی پہلے اسلام لاچکا تھا ، مگر مدینہ جانے سے ڈرتا تھا ، جس کی وجہ یہ تھی کہ میری والدہ نے مجھے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر تم مسلمان ہوکرمدینہ چلے گئے تو ہم تمہارے ضروری اخراجات زندگی بھی بند کردیں گے “ (طبقات ابن سعد ؒ)

  حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اس بات کی تصریح موجود ہے کہ جب کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا تو اسلام میرے دل میں گھر کرچکا تھا میں نے اس بات کا ذکر اپنی والدہ ہند سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ خبردار اگر تو نے اپنے باپ کے مذہب کی مخالفت کی ورنہ ہم تیرا خرچہ پانی بند کردیں گے ۔مگر بہرحال میں اسلام لاچکا تھا اور خدا کی قسم نبی کریم ﷺ اس حال میں حدیبیہ سے لوٹ رہے تھے کہ میں آپ کی تصدیق کرنے والا تھا اور خدا کی قسم جب آپ عمرۃ القضاء کیلئے تشریف لائے تو میں اس وقت بھی مسلمان تھا مگر والد کے خوف سے اپنے اسلام کو چھپائے رکھااور فتح مکہ کے دن کھل کر اس کا اظہار کیا: اسلمت یوم القضیۃ و لکن کتمت اسلامی من ابی

 البدایۃ والنہایۃ ،ج8،ص171 دارابن کثیر ،بیروت

 تاریخ دمشق لامام ابی القاسم بن ہبۃ اللہ بن عبد اللہ الشافعی المعروف بابن عساکر ،ج59،ص55،دارلفکر ،بیروت

 اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ ،ج4،ص433

الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ، ص668،دارالاعلام ،اردن

 اس کے علاوہ مندرجہ ذیل افراد نے بھی آپ کا فتح مکہ سے قبل اسلام لانے کا ذکر کیا ہے ۔

معرفۃ الصحابہ لابن ابی نعیم ،ص2496

تاریخ الاسلام للذہبی ، ج4،ص308

تقریب التہذیب ،ص537دارالقلم دمشق

سیر اعلام النبلاء ، ج2،ص119

 الاصابۃ ، ج6،ص120

 جن حضرات نے فتح مکہ کا قول نقل کیا ہے وہ بھی اس قول کے معارض نہیں کیونکہ خود آپؓ نے فرمایا کہ میں نے اسلام کو چھپائے رکھا تھااور فتح مکہ کے دن اظہار کیا تھا ۔

پس فتح مکہ کے دن اسلام لانے کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت اپنے والد کے ساتھ ایمان کا اظہار کیا۔