اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 17

اہل تشیع اور تحریف القران

 بنام مفتی عبدالعزیز عزیزی صاحب دامت برکات

فہرست ۔۔۔

 مقدمہ۔

 غرض وغایت

  معنوی تحریفات اہل تشیع

 لفظی تحریفات اہل تشیع

 متاول مصحف کی موجودگی

 مصحف علی ؓ 

 مصحف فاطمہؓ 

 شیعہ کاعقیدہ کہ قرآن مجید صرف ایک نگران کے ساتھ ہی قابل حجت ہے 

 صرف آئمہ ہی معرفتِ قرآن کا ملکہ رکھتے ہیں  

 علیؓ ہی مفسر القران 

 امام العجل کا اصلی قران کو لانا 

 ابتداء نظریہ تحریف القران 

 خلاصہ۔

 نتیجہ

 مقدمہ۔۔۔۔

 ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ

 إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ 

 غرض وغایت۔۔۔۔

آج کل سوشل میڈیا پر شیعت نے کہرام برپا کیا ہوا ہے شیعت اپنے عقائد باطلہ کو ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اور اپنے عقائد کو ثابت کرنےکے لیےاور ان کو اسلام ثابت کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے اور شیعت مذہب کا محور نظریہ امامت ہے اب نظریہ امامت کو ثابت کرنے کے لیےکبھی کہاجاتاہےہ قرآن میں لفظی و معنوی تحریف ہوئی ہے کبھی کہا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ کا مصحف الگ ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے حضرت فاطمہؓ کا مصحف الگ ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے اصلی قران امام عجل کے پاس ہےکبھی کہاجاتا ہےقران کی تفسیرصرف حضرت علیؓ ہی کر سکتےہیں کبھی کہا جاتا ہے قران صرف آئمہ ہی کے ساتھ حجت ہے۔ کبھی کہاجاتا ہے شیعہ ناسخ ومنسوخ کے قائل نہیں اور پھر عقیدہ بداء کی تاویل ناسخ ومنسوخ سے کردی جاتی ہے۔ جب کہ ان سب اقوال کی ابتداء عبداللہ ابن سباء یہودی سے ہوئی، اس کا کہنا کہ 

ان القران جزء من تسعةاجزاءوعلمہ عندہ علی(رضی اللہ عنہ)  

یہ قرآن ان نو اجزاء میں سے ایک جز ہے اور اس کا علم علی (رضی اللہ عنہ) کے پاس ہے 

 احوال الرجال صفحہ 38 

اہل تشیع کی قرآن میں معنوی تحریف

(معنوی تحریف)

شیعہ کے ہاں یہ نظریہ قرآن کےباطنی معنی کے طور پر مشہور ہےاور اس نظریہ کے نتیجے میں شیعہ کے ہاں کتاب اللہ ایسی شکل اختیار کر چکی ہے جو موجودہ قرآن سے بالکل مختلف ہے شیعہ حضرات معنوی طور پر قرآن میں موجود ارکان دین کی تفسیر مندرجہ ذیل معنی میں کرتے ہیںں

 ارکان دین کی تفسیر ائمہ شیعہ سے کرتے ہیں 

 کفر و شرک والی آیات کی تفسیر علی رضی اللہ تعالی عنہ کی امامت و ولایت میں شرک سے کرتے ہیں 

 حلال و حرام کی آیات کی تفسیر ائمہ شیعہ اور ان کے دشمنوں سے کرتے ہیں 

ان معنوی تحریف شدہ تفسیروں کو پڑھنے والا

اخرکار قیاس باطلہ تاویل باطلہ کو ہی اصل معنی شمار کر لیتا ہےاوراہلبیت کے نام پر گمراہ ہو جاتاہے اور اس کو اسلام شریعت اہلبیت واصحاب رسول ورسول  کے مراتب میں کوئی فرق نظر نہیں آتا اور

نتیجتا۔ صرف بارہ آئمہ کو ماننے اور اصحاب رسول و باقی اہلبیت کو کافر زندیق مرتد کہنے لگتا ہے

 معنوی تحریف کی روایات 

 محمد بن منصور بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک بندے سے اللہ تعالی کے اس فرمان 

قل انماحرم ربی الفواحش۔ ۔۔۔۔اعراف33۔۔۔۔

کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یقینا قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے قرآن میں اللہ تعالی کی حرام کردہ تمام چیزیں ظاہر ہیں اور اس حرام کا باطنی معنی آئمہ استبداد ہیں اسی طرح قرآن میں اللہ تعالی کے حلال کردہ تمام چیزیں ظاہر ہے اوراس حلال کا باطنی معنی آئمہ حق ہیں

 الکافی جلد 1 صفحہ 373 

 الغیبۃ صفحہ 83 

 تفسیر العیاشی جلد 2 صفحہ 16 

بحارالانوار کےمؤلف نے ایک باب ھی اسی عنوان سے قائم کیا ہے

 باب ان للقران ظھرا مؤلف بحارالانوار

اس باب میں 84 روایات ذکر کی گئی ہیں اس کے علاوہ بہت زیادہ کثیر تعداد میں روایات کتاب الامامة کے مختلف ابواب میں ذکر کی ہیں 

 بحارالانوار جلد 92 ص 78۔ ۔۔  106 

 تفسیرالبرھان کے مؤلف نے بھی اسی نام سے ایک باب قائم کیا ہے 

باب ان القران لہ ظہر وبطن تفسیر برہان

اس کے مقدمہ میں اس مسئلے پر تفصیلی بات کی گئی ہے مقدمہ میں پانچ فصلیں قائم کی ہیں جن میں اس مسئلہ کے بارے میں اپنے ائمہ کی روایت ذکر کی ہے 

 مراةالانوار صفحہ 4 تا 19 

 تفسیر القمی جلد 1 صفحہ ۔14 ۔16 

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 11  

 تفسیر الصافی جلد1 صفحہ 29 

ان تمام تفسیروں میں معنوی تحریف پر کلام کیا گیا ہے 

 روایت

ان القران ظھرا وبطنا وببطنہ بطن الی سبعة ابطن 

ترجمہ۔۔۔۔یقینا قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے اور اس کے باطن کے ایک سے لے کر سات تک باطن ہیں 

 تفسیر الصافی جلد 13/1  

 روایت۔۔۔۔یقینا آیت کا پہلا حصہ کسی شے کے بارے میں ہوتا ہے اور دوسرا حصہ کسی اور شے کے بارے میں ہوتا ہے یہ باہم ملا ہوا کلام ہے جو کتنے پہلو پر پھرتا ہے

 تفسیر العیاشی جلد1 صفحہ 11 

 المحاسن للبرقی صفحہ 300 

 البرھان جلد 1 صفحہ 21 20    

 الصافی جلد 1 صفحہ 29 

 بحارالانوار جلد 92 صفحہ 95 

 وسائل الشیعہ جلد 18 صفحہ 146 

 روایت۔۔۔۔کلام الہی کی ہر آیت کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے بلکہ مشہور روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر آیت کے سات بطون اور ستر باطن ہیں 

 مراۃ الانوار صفحہ 3 

 اہل تشیع کا دعوی ہے کہ بیشتر قرآن مجید شیعہ کے دشمنوں کے بارے میں نازل ہوا ہے 

 تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 24 

 شیعہ عالم بحرانی کا دعوی ہے کے تنہا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قرآن مجید میں 1154 مرتبہ ذکر کیا گیا ہے اور اس نے اس کے بارے میں مستقل ایک کتاب تالیف کی ہے جس کا نام 

اللوامع النورانیة فی اسماءعلی واھل بیتہ القران 

  تعرف کتاب یہ شخص اس کتاب میں عربی لغت کے ہر قاعدے قانون کو توڑتا عقل و منطق کے ہر اصول سے تجاوز کرتا اور اس کتاب میں رقم کردہ تحریفات کے ذریعے اپنی قوم کو رسوا کرتا ہےیہ تاویلات اور تحریفات اس سے قبل مختلف مقامات پر بکھری ہوئی اور غیر معروف تھی لیکن اس نے انہیں شیعہ کے مختلف۔ ۔ مصادر  سے نقل کرکے ایک جگہ جمع کر دیا ہے 

 روایت۔۔۔۔قرآن چار حصوں میں نازل ہوا ہے ایک حصہ ہمارے متعلق ہے دوسرا حصہ ہمارے دشمنوں کے بارے میں ہے تیسرا حصہ سنن وامثال ہیں اور چوتھا فرائض واحکام کے بارے میں ہے 

 الکافی جلد 2 صفحہ 627 

 البرھان جلد 1 صفحہ 21 

 روایت۔۔۔۔۔

ولناکرائم القران 

یعنی قرآن کے عمدہ اور بہترین مقامات ہمارے لئے ہیں

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 19 

 تفسیر الفرات صفحہ 1 اور 2 

 بحار الانوار جلد جلد 24 صفحہ 305 

 کنز الفوائد صفحہ 2 

 تفسیرالبرھان جلد1 صفحہ 21

 اللوامع النورانیہ صفحہ 7 

صفحہ 1 از 17