اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 10 از 17

یہ امر توجہ طلب ہے کہ یہ تاویلات شیعہ کے ہاں صرف تاویل قرآن کے بارے میں اجتہادی آراء کا درجہ نہیں رکھتی جو رد و قبول بحث اور اصلاح کے قابل ہوتی ہیں بلکہ یہ تشریحات شیعہ اصول کے مطابق ان کے لیے شرعی نصوص ہیں جو وحی کا مقام اور اسی اہمیت کی حامل ہیں اور انہیں فرمان نبوی جیسا تقدس اور شرعی حیثیت حاصل ہےشیعہ کے ہاں ایسی روایات بکثرت مروی ہیں جو اس طرح کی عقل فطرت اور لغت و منطق کے ساتھ کسی طرح بھی میل نہ کھانے والی روایات کو رد کرنے سے ڈراتی اور باور کراتی ہیں کہ اپنی عقل کا چراغ گل کر دو اور اندھادھند ایمان لے آؤ کے مصداق تسلیم کرنا اور احتراز سے گریز کرنا لازمی ہے ان لوگوں نے اپنے پیروکاروں کو اس طرح کی نصوص کو قبول کرنے کا عادی بنانے کے لئے بڑی کوششیں کیں اور زور لگایا ہے مثال کےلیے ہم نے ماقبل میں دو روایات پیش کی ہیں    

معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ کے لئے پاوں جمانا  اور کتاب اللہ کی کسی دلیل سے احتجاج کرنا صرف اسی وقت ممکن ہے جب وہ فحش اورمعنوی تاویل کے زریعے استدلال کریں۔اہل تشیع اس قدر معنوی تحریفات کی ہیں کہ بحارالانوار کے مؤلف نے قرآن کی 174 آیات سے عقیدہ رجعت کو استدلال کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ چند مثالیں تھیں شیعہ کی طرف سے معنوی تحریف القرآن کی جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں  

 قرآن میں لفظی تحریف کی مثالیں اور تحریف 

 قران کے جابجا الفاظ بدل دیے گئے ہیں قرآن مجید کے ترتیب خراب کردی ہے۔یعنی اس کی سورتوں کی ترتیب اور سورتوں کے اندر جو آیتیں ہیں ان کی ترتیب اور آیتوں کے اندر جو کلمات ہیں ان کی ترتیب اور کلمات کے اندر جو حروف ہیں ان کی ترتیب خراب کردی گئی ہے 

روایات اہل تشیع 

 عبارات اہل تشیع

 روایت۔۔۔۔ابن سباء یہودی کا قول۔۔۔۔

 ان القران جزء من تسعة اجزاءوعلمہ عند علیؓ ۔

یہ قرآن ان نو اجزاء میں سے ایک جز ہے اور اس کا علم علی (رضی اللہ عنہ) کے پاس ہے 

 احوال الرجال صفحہ 38 

 حسن بن محمد بن حنفیہ المتوفی 95ھ کے اس خط سے مزید اس کی وضاحت ہوتی ہے 

 ۔۔۔۔اس کی لڑائی میں ایک یہ بات بھی ہے جس کو ہم نے پایا ہے کہ یہ کہتے ہیں ہمیں ایسی وحی کی رہنمائی کی گئی ہے جس سے لوگ گمراہ اور ناواقف رہے ہیں اور ہمیں مخفی علم دیا گیا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبی نے قرآن کے نوحصے چھپا لیے اگر اللہ کے نبی نے اس سے کوئی چیز چھپائی ہوتی جو اللہ نے آپ پر نازل کیا تھا تو آپ زید کی بیوی کے متعلق یہ آیت 

واذتقول للذی انعم اللہ علیہ

آیت کو چھپا لیتے 

 کتاب الایمان لمحمد بن ابی عمر المکہ العدنی صفحہ249 250 

١۔۔۔علي عليه السلام يجمع القرآن ويعرضه على الناس

فلما رآى غدرهم وقلة وفائهم له لزم بيته وأقبل على القرآن يؤلفه ويجمعه، فلم يخرج

من بيته حتى جمعه وكان في الصحف والشظاظ والأسيار والرقاع. 

فلما جمعه كله وكتبه بيده على تنزيله وتأويله والناسخ منه والمنسوخ، بعث إليه

أبو بكر أن اخرج فبايع. فبعث إليه علي عليه السلام: (إني لمشغول وقد آليت نفسي يمينا

أن لا أرتدي رداء إلا للصلاة حتى أؤلف القرآن وأجمعه).

فسكتوا عنه أياما فجمعه في ثوب واحد وختمه، ثم خرج إلى الناس وهم

مجتمعون مع أبي بكر في مسجد رسول الله. فنادى علي عليه السلام بأعلى صوته:

 کتاب سلیم بن قیس صفحہ 146 

 ترجمہ و تشریح۔۔۔۔۔

حضرت علی اپنے گھر میں بیٹھے رہتے انہوں نے اسے جمع کیا یہ صحیفوں اور کپڑوں کے ٹکڑوں میں تھا انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت جلدی نہ کرنے پر یہ عذر پیش کیا کہ وہ قرآن جمع کرنے میں مصروف تھے اور کہا میں نے قسم کھا رکھی تھی کہ میں جب تک قرآن جمع نہ کر لو تب تک نماز کے سوا اپنی چادر نہیں اوڈھوں گا حضرت علی رضی اللہ نے صرف قرآن جمع نہیں کیا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کی تعبیر اور ناسخ و منسوخ کو بھی جمع کیا تھا 

 شیخ مفید جو ان کے ہاں رکن اسلام اور آیت اللہ الملک العلام کے نام سے ملقب ہےکہتا ہے  

 روایت۔۔۔۔ان یعنی امامیہ کا اتفاق ہے کے آئمہ ضلال( خلفاءثلاثہ مرادلیتےہیں)  نے قرآن کریم کی تالیف میں بہت زیادہ اختلاف کیا ہے اور انہوں نے اس میں قرآن کے تقاضے اور نبی کی سنت سے اعراض کیا ہے 

 اوائل المقالات صفحہ-13 

 سنہ3ہجری میں کلینی کے استاد شیعہ عالم علی بن ابراہیم قمی تحریف قرآن کے افسانے کو اپنی تفسیر میں بھرتے اور اپنی تفسیر کے مقدمے میں اس کی صراحت بھی کرتے ہیں

 تفسیر القمی جلد1 صفحہ10 48 100 110 118 122 123 142 159 

 جلد 2 صفحہ 21 صفحہ 111 صفحہ 175   

ان زندیقیت سے بھری ہوئی روایات کی توثیق شیعہ کا ایک بڑا عالم خوئی اپنی کتاب میں کرتا ہے 

 معجم رجال الحدیث للخوئی جلد 1 صفحہ 63 

 قمی کے بعد اس کا شاگرد کلینی جو ثقةالاسلام کے لقب سے ملقب ہے اصول الاربع میں سے ایک کتاب اصول الکافی کا مولف وہ بھی تحریف القرآن کے افسانے پربہت زیادہ روایات نقل کرتا ہے

 اصول الکافی باب فیہ نکت ونتف من التنزیل فی الولایة من 

جلد 1 صفحہ 413 

 باب ان القران یرفع کماانزل

جلد 2 صفحہ 619 

 باب النوادر جلد 2 صفحہ 628 

 اور شیعہ مصنفین نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ الکلینی تحریف القرآن کا عقیدہ رکھتا تھا کیونکہ اس نے اپنی کتاب کافی میں اس مفہوم کی روایت ذکر کی ہیں لیکن کسی ایک نے بھی جراح اور تنقید نہیں کی حالانکہ اس نے اپنی کتاب کے شروع میں ذکر کیا ہے وہ جوبھی روایت نقل کرے گا اس کی توثیق بھی کرے گا  

 تفسیر صافی مقدمہ سات 7 صفحہ 52 

 مقدمہ الکافی صفحہ 9 

 مجلسی نے مراۃ العقول کافی کے بعض روایت پر ضعف کا حکم  لگایا ہے لیکن تحریف قرآن کی روایات پر صحت کا حکم لگایا ہے 

 مرآۃ العقول جلد2 536 

 اصول کافی کی شرح الشافی میں بھی صحت کا حکم لگایا گیا ہے تحریف قرآن کی روایات پر 

 الشافی جلد 7 صفحہ 227 

 تحریف القرآن کے اس افسانے کا ذکرتفسیر العیاشی کے مصنف  نے بھی کیا ہے جو کہ الکلینی کا ہم عصر تھا 

 تفسیر العیاشی جلد 1 صفحہ 13 128 129 206 وغیرہ 

 تفسیر عیاشی کے بارے میں عالم محمد حسین طباطبائی کہتے ہیں یہ اپنے موضوع پر بہترین قدیم تالیف ہے 

 مقدمہ حول الکتاب مؤلفہ صفحہ 

 طوسی الفہرست صفحہ163 165 

صفحہ 10 از 17