اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 11 از 17

 تیسری اور چوتھی صدی میں فرات بن ابراہیم کوفی ہوا ہے جس کی فرات کے نام سے ایک تفسیر ہے اس نے بھی تحریف القرآن کے افسانے کو نقل کیا ہے 

 تفسیر فرات صفحہ 18 صفحہ 58 وغیرہ 

 ملا باقر مجلسی نے فرات کوفی کو معتبر قرار دیا ہے 

 بحارالانوار جلد 1 صفحہ 37 

 محمد ابراہیم نعمان بھی سنہ 300 ھ کے زمانے میں ہوا اس نے اپنی کتاب الغیبہ میں تحریف القرآن کے  الزام کی روایت ذکر کی ہیں 

 الغیبة صفحہ 217 

 مجلسی کہتا ہے کہ یہ کتاب جلیل القدر اور صحیح ہے 

 بحارالانوار جلد 1 صفحہ 30 

 ابوالقاسم کوفی کے اپنی کتاب الاستغاثہ میں تحریف القرآن کی کہانی کا ذکر کرتا ہے 

 الاستغاثہ صفحہ25 

 نجاشی نے اس کی طرف التبدیل والتحریف نامی ایک کتاب منسوب کی ہے 

 النجاشی صفحہ 203 

 یہ تحریف کی بعض روایات کو براہ راست قمی سے روایت کرتا ہے

 الاستغاثہ صفحہ-29 

 شیعہ عالم مفید اپنی کتاب اوائل المقالات میں اپنے گروہ کا اس منکریعنی تحریف القران پر اجماع تحریر کیا ہے

 اوائل المقالات صفحہ 51 

 مفیدکتاب الارشاد میں بعض روایات کو نقل کرتا ہے 

 الارشاد صفحہ 365 

 مجلسی نے کتاب کی توثیق کی ہے 

  بحارالانوار جلد 1 صفحہ 27    

 طبرسی نے تحریف القرآن کے افسانے کو الاحتجاج میں ذکر کیا ہےاور بہت ساری روایات ذکر کی ہیں 

 الاحتجاج صفحہ-14  

 شیعہ عالم نعمت اللہ جزائری کے اعتراف کے مطابق اس کے لیے دو ہزار سے زائد روایت گھڑی گئی ہیں 

 فصل الخطاب صفحہ 125 

 مجلسی نے بحارالانوار کتاب القران باب ان القران لم یجمعہ کماانزل الاآئمة 

 جلد 92 صفحہ 66 

 الکاشانی نے تفسیر صافی 

مقدمہ سادسہ صفحہ 40 55 136 163 399 460 

 البرھان باب ان القران لم یجمعہ کما انزل الاآئمة صفحہ 34 70 106 140 170 277 294 295 308 

 نعمت اللہ جزائری نے انوارالنعمانیہ جلد 2 صفحہ 358 357 

 ابوالحسن شریف نے مراۃالانوار مقدمہ ثانی صفحہ  36 اور 49 

 مازندرانی نے شرح الکافی میں شرح الجامع الکافئ جلد 11 صفحہ 66 

 نتیجہ۔۔۔۔۔۔

ہم نے لفظی تحریف القران کی روایات کو مختصرا پیش کیاتاکہ عوام الناس کو اندازہ ہو کہ اس نظریہ کی ابتداءابن سباء سے ہوئی اور پڑھتے ہوے اس نہج پر پنہچا کہ اب ہر شیعہ موقف اختیار کرتا ہے کہ وہ تحریف القران کے قائل نہیں لیکن معاملہ اس کے برعکس نکلتاہےکیوںکہ اس قدر متواتراور کثیر روایات کا جھٹلانا ممکن نہیں ہے پھر فن الرجال کے ماہرین نے بھی تصدیق کی ہے جیسا کہ مختصرا ہم زکر کر آئے ہیں اب چلتے ہیں قران میں لفظی تحریفات کی مثالوں کی طرف      

 قران میں لفظی تحریف کی مثالیں 

  سب سے پہلے تحریف قرآن کے افسانے کو عملی جامہ پہنانے والے قمی اور کلینی ہیں انہوں  نے ہر اس آیت کےبعد جس میں  انزل اللہ علیک یا انزلنا الیک کے الفاظ تھےان کے بعد  فی علی کے لفظ کو داخل کردیا اور لفظ  ظلموا کے بعد آل محمد حقھم کو ٹھونس دیا لفظ  اشرکواکے بعد  فی ولایة علی کا اضافہ کر دیا اور قرآن میں جہاں جہاں  امة کا لفظ آتا ہے اس کو  آئمہ میں بدل دیا

 بئسما اشتروا به انفسهم ان يكفروا بما انزل الله (في علي )بغيا

 الکافی جلد 1 صفحہ 417 

 وان کنتم فی ریب مما نزلنا (فی علی) فاتو١ بسورۃ من مثلہ

 الکافی جلد 1 صفحہ 417 

 يا ايها الذين اوتوا الكتاب امنوا بما نزلنا (في علی) نورا مبينا

 الکافی جلد 1 صفحہ 417 

 قمی لکھتا ہے جو تحریف شدہ آیات ہیں ان میں یہ فرمان باری تعالی بھی ہے 

 لکن الله يشهد بما انزل اليك (في علي) انزله بعلمه والملائكه يشهدون

 یاایھاالرسول بلغ ما انزل الیک من ربک (فی علی) وا لم تفعل فما بلغت رسالتہ

 ان الذين كفروا وظلموا( آل محمد حقهم) لم يكن اللہ لیغفرلھم

 وسيعلم الذين ظلموا( ال محمد حقهم )في غمرات الموت

 تفسیر القمی جلد 1 صفحہ 160

 تفسیر القمی جلد 1 صفحہ 48 100 110 122  126  

 قمی کہتا ہے کہ اس کی بہت زیادہ مثالیں ہیں قرآن مجید میں

 تفسیر القمی جلد1۔ص  10 11  

 كنتم خير امة اخرجت للناس

اس آیت کے بارے میں لکھتاہے کہ یہ اس طرح نازل ہوئی تھی 

 كنتم خير آئمة اخرجت للناس

 تفسیر القمی جلد 1 صفحہ110  

 کلینی رضا سے اس آیت کبرعلی المشرکین کے بارے میں روایت کرتا ہے کہ وہ اس کے بعد  ولایة علی کا اضافہ کرتے ہیں اور  ماتدعوھم الیہ کے بعد  یامحمد من ولایة علی کا اضافہ کرتے ہیں کتاب اللہ میں ایسا ہی لکھا ہے

 الکافی جلد 1 صفحہ 418 

 آیت۔ فستعلمون من هو في ضلال مبين

میں یہ 

يا معاشر المكذبين حيث رسالة ابي في ولايه علي عليه السلام والائمه من بعده من هو في ضلال مبين

جھٹلانے والوں کا اضافہ کرتے ہیں پھر وہ اس بات کے ساتھ اس کفر اور تحریف کی توثیق و تاکید کرتے ہیں کہ یہ ایسے ہی نازل ہوئی تھی

 الکافی جلد 1 صفحہ 421 

 اللہ تعالی کے اس فرمان

   فلنذیقن الذين كفروا

میں 

بترکہم ولایت امیرالمؤمنین علیہ السلام عذابا شدیدا فی الدنیا ولنجزینھم اسواء والدین کانوایعملون۔

کا اضافہ کرتے ہیں 

 الکافی جلد 1 صفحہ 321 

 خلاصہ۔۔۔۔۔۔اس گروہ کی ایک جماعت صدیوں سے مسلسل اللہ تعالی کے کلام میں انسانی کلام داخل کرنے کی احمقانہ کوشش کرتی رہی ہے اس نے امکانی حد تک بہت بڑی تعداد تیار کرنے کے لیے پورا زور لگایا ان کوششوں کی مثالوں کے علاوہ جو ہم نے ذکر کی ہیں اور بھی بہت ساری مثالیں ہیں جیسا کہ فصل الخطاب کے مؤلف نے 1000 پیش کردہ مثالوں سےتحریف القرآن کے افسانے کو ظاہر کیا 

 فصل الخطاب صفحہ 253 

اسی طرح مجلسی نےباب باندھا ہے باب التحریف في الايات التي هي خلاف ما انزل الله مما رواہ مشائخنا

 بحارالانوار جلد 92 صفحہ 60 کے عنوان کے تحت قائم کردہ ابواب میں ذکر کیا ہے ایسے ہی ان کی تفسیر کی کتابیں بھی اس تلچھٹ سے بھری پڑی ہےان تمام روایت کو فصل الخطاب کے مؤلف نے جمع کیا ہے  فصل الخطاب صفحہ 253 رافضہ نے ان تراشیدہ روایت کو کتاب اللہ سے ساقط ہونے والی آیات کا ایک حصہ شمار کیا ہے کلینی کافی میں روایت کرتا ہے   ان القرآن الذی جاء بہ جبریل علیہ السلام الی محمد سبعۃ عشر الف ایۃ،

وہ قرآن جو جبرائیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اس کی 17000 آیات تھیں 

صفحہ 11 از 17