اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 12 از 17

 اصول الکافی کتاب فضل القرآن باب نوادر جلد 2 صفحہ 134 ۔جب کہ قرآنی آیات جس طرح مشہور ہے کہ چھے ہزار سے کچھ زائد ہیں اس روایت کا تقاضا یہ ہے کہ تقریبا دو تہائی حصہ ساقط ہے اور یہ کتنا بڑا افترا ہے۔یہ روایت کافی میں ہے جو ان کی سب سے صحیح کتاب ہےلیکن کچھ شیعہ کا کہنا ہے کہ کافی میں ساری روایت صحیح نہیں ہے  کتاب دعوۃ التقریب صفحہ 383  شیعہ بین الحقائق والاوہام صفحہ 419 اور ۔420 ۔اگر ہم اس جیسے قول کو حقیقت پر محمول کریں تقیہ پر نہیں جو ان کے ہاں حسن اور صحیح اور ضعیف کے اصول و ضوابط پر تحفظات اور اس سلسلے میں ان کے اختلافات اور اضطراب اگر ہم اس سے بھی تجاوز کریں کیونکہ ان کے نزدیک ضعیف کا حکم کبھی صرف سند پر ہو سکتا ہے ان کا کہنا ہے 

الکافی کی اکثر احادیث کی اسناد صحیح نہیں لیکن وہ متون کے لحاظ سے اور عقائد حقہ کی معرفت کے اعتبار سے معتبر ہیں ان جیسی روایت میں سند کو نہیں دیکھا جاتا 

 مقدمہ شرح جامع الشعرانی 

اگر ہم ان تمام باتوں سے صرف نظر کریں اور ان کے علماء سے اس روایت کی صحت کے بارے میں جواب چاہیے تاکہ ہم اپنے اس عمل میں انکی کتب الرجال کی روشنی میں اسناد پر غور کرکے زیادہ سے زیادہ غیر جانبدار رہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ مجلسی سابقہ روایت کے متعلق کہتا ہے

 فالخبر صحیح ولا یخفی ان ھذا الخبر و کثیرا من الاخبار الصحیحۃ  صریحۃ فی نقص القرآن و تغیرہ و عندی ان الاخبار فی ھذا الباب متواترۃ معنی و طرح جمیعھا یوجب رفع الاعتماد عن الاخبار راسا بل ظنی ان الاخبار فی ھذا الباب لا یقصر عن اخبار الامامۃ فکیف یثبتونھا بالخبر،

 لہذا یہ خبر صحیح ہے

 مخفی نہ رہے کہ یہ خبر اور دیگر بہت ساری صحیح روایات صراحتاً قرآن پاک میں کمی اور تبدیلی پر دلالت کرتی ہیں اور میرے نزدیک تحریف قرآن کے مسئلہ میں روایات ماننامتواتر ہیں اور ان سب روایات کو ترک کرنا تمام ذخیرہ حدیث سے اعتماد کو اٹھانا ہے، بلکہ میرا خیال ہے کہ تحریف قرآن کی روایات مسئلہ امامت کی روایات سے کم نہیں، اگر ان روایات کا اعتبار نہ ہوا تو مسئلہ امامت روایات سے کیسے ثابت کریں گے؟،

 مرآۃ العقول جلد 2 صفہ 536 مجلسی کی یہ گواہی ان کے نزدیک انتہائی زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ وہ کافی کا محقق شارح ہے جس نے اس میں صحیح اور ضعیف کو بیان کیا ہے  مرآۃ العقول اور محمد جواد مغنیہ کی کتاب العمل بالحدیث وشروطہ وعندالامامیة ضمن کتاب دعوۃ التقریب صفحہ 383

   معاصر علماء سے اس روایت کی صحت کے متعلق آگاہی  چاہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا عالم عبدالحسین مظفر کہتا ہے یہ صحیح طرح موثق ہے الشافی شرح اصول الکافی جلد 7 صفحہ 227 یہ بحث تھی اس روایت کے صحیح ہونے پر  اب اس روایت کے معنی کیا ہیں تو اس کی وضاحت کافی کا شارح محمد صالح بن احمد مازندانی 

یوں کرتا ہے قرآن کی آیات 6500 ہیں اور اس سے جو زائد حصہ ہے وہ تحریف کی وجہ سے ساقط ہو چکا ہے  شرح جامع الکافی جلد 11 صفحہ 76 

 مجلسی کہتا ہے یہ روایت اور بہت ساری دیگر صحیح روایات قرآن میں کمی اور تحریف کے حوالے سے صریح ہیں  

 مرآۃ العقول جلد 2 صفحہ 536  ابن بابویہ شروعات کا بارے میں الاعتقادات میں جو ان کے معاصر علماء کی تحقیق کے مطابق معتبر کتاب ہے  الذریعہ جلد 13 صفحہ 101 وہ کہتا ہے  یقینا قرآن کے علاوہ اتنی وحی نازل ہوئی ہے کہ اگر اسے قرآن کے ساتھ جمع کرلیا جاتا تو وہ ستر ہزار آیت کی مقدار کے برابر ہوتی یہ جبرائیل کے اس قول کی طرح ہے  عش ماشئت فانك ميت واحبب ما شئت فانك مفارقه واعمل ما شئت فانك ملاقيه الاعتقادات صفحہ 102اس کے بعد اس نے اس جیسی کئی مثالیں پیش کی ہیں 

 تباین۔۔۔۔۔۔۔

ابن بابویہ کہتا ہے 

نزل من الوحی الذي ليس بقران

 قرآن کے علاوہ نازل ہونے والی وحی 

 جبکہ کلینی کہتا ہے ان القرآن الذی جاء بھ جبرائیل  وہ قرآن جس کو جبرائیل لے کر آئے ابن بابویہ کہتا ہے کہ کمی غیر قرآن میں ہےجبکہ کلینی کہتا ہے کمی قرآن میں ہے اسی لئے مجلسی اور مازندرانی نے اس روایت کی ایسی شرح کی ہے جو اس ملحدانہ سوچ کے ظاہری مفہوم کے مطابق ہے جب کہ ہم ابن بابویہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ روایت میں مذکور قرآن کریم کی آیات کی تعداد سے زیادہ تعداد کو قدسی احادیث پر ماحمول کرتا ہے  وافی کا مصنف لفظی تحریف کی کفریہ تاویلات کرتے ہوے  قرآن کی آیات سے زائد تعداد ہوسکتا ہے ان آیات کی ہو جن کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہے الوافی مجلد ثانی جلد 1 صفحہ 273 

 شیعہ کا آج کا سب سے بڑا عالم اور مرجع خوئی جو ظاہرا قرآن کا دفاع کرتا ہےلیکن موقف اختیار کرتا ہے کہ تلاوت منسوخ ہونے کا قول تحریف کا قول ہے 

 البیان صفحہ 201 گویا اس نے چاہا کہ یہ دروازہ ہی بند کردے اور ثابت شدہ قاعدے کو رد کردیں تاکہ مبہم اور غیر واضح انداز میں اپنے دل میں چھپائے ہوئے عقیدے کو ثابت کر سکے نسخ اور تحریف کے درمیان فرق بالکل واضح ہے تحریف بشر کا فعل ہے اور اللہ تعالی نے اس کے فاعل کی مذمت کی ہے اور نسخ اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں 

 ما ننسخ من ايه او ننسها نات بخير منها او مثلها

 نتیجہ۔۔۔

صفحہ 12 از 17