اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 13 از 17

جیساکہ کلینی کہتا ہے کہ دو تہائی قرآن ساقط ہوچکا ہےاور قرآن تین حصوں میں نازل ہوا تھا ایک حصہ ہمارے دشمنوں کے بارے میں ایک سنن اور امثال ہیں اور ایک تہائی فرائض اور احکام اللہ کے کہا جاتا ہے کہ اگر یہ قرآن جس طرح نازل ہوا تھا پڑھا جاتا تو اس میں ہمارا نام بنام ذکر ہوتا اور یہی ان تمام کوششوں کا محور اور ظاہری ہدف ہے اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ امت ان تمام طویل صدیوں میں گم ہی رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر اس کے پاس کتاب کا صرف تیسرا حصہ ہی رہا ہے اور آئمہ جن کے پاس ان کے دعوے کے مطابق مکمل قرآن ہے کھڑے تماشہ دیکھتے رہے ہیں انہوں نے امت کو وہ نہیں پہنچایا تاکہ وہ گمراہی کے اسیر رہیں اور ان کو دوست اور دشمن کی تمیز نہ رہے وہ لوگوں کو مہدی کے ہاتھ ظاہر ہونے کا جھانسہ دیتے رہےنہ ہی امام غائب واپس لوٹ رہا ہے نہ ہی مصحف ظاہر ہو رہا ہے اگر امت اس کے بغیر ہدایت پر گامزن رہ سکتی ہے تو اس کے منتظر کے ساتھ ظاہر ہونے کا کیا فائدہ ہے اگر یہ امت کی ہدایت کے لئے اساس ہے تو ائمہ شیعہ اسکے اور امت کے درمیان حائل کیوں ہیں صرف اسی لیے کہ ان کی نگاہ میں  امت حیران و سر گردان اورگمراہ ہی رہے کیا اللہ تعالی نے اپنی کتاب کو اس لیے نازل کیا تھا کہ وہ منتظرکی اسیر رہے اللہ تعالی نے قرآن کو اس لئے نازل کیا تھا کہ امت کے پاس حرام حلال کے پہچان کے حصول کا کوئی ذریعہ نہ رہے شیعہ روایات کہتی ہیں کہ حضرت علی تحریف کے خوف سے اپنے مصحف کو نہ نکال سکےتو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ امت جو امت خیر ہے اس کے نصیب میں بدبختی اور گمراہی لکھ دی گئی ہے جس سے صرف منتظر کے اصحاب مستثنی ہیں کیونکہ وہ اپنے مصدر ہدایت اور سعادت کی اساس سے ہمیشہ دور رہے گی جبکہ ان کے نزدیک ائمہ ان وسائل تبلیغ کے مالک ہیں جو انبیاء کی دسترس میں بھی نہیں چنانچہ حضرت علی اور آئمہ ان کے گمان کے مطابق مافوق الفطرت قوتوں کے مالک ہیں ان طاقتوں کے ہوتے ہوئے ان کے لیے مکمل قرآن نشر کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا جیسا کہ مجلسی نے باب جوامع میں المعجزات کے عنوان کے تحت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک شخص کے پاس سے گزرنا ذکر کیا ہے جوہوہو کی رٹ لگا رہا تھا علی نے اس کو اپنے قریب کیا اور کوئی خفیہ کلام اس کے کان میں پھونکا جس سے اس کے دل میں سارے قرآن کی صورت گری ہوئی اور سارا قرآن حفظ ہو گیا  بحارالانوار جلد 42 صفحہ 17 اس کے علاوہ الکافی نے سو کے قریب ابواب ائمہ کےاوصاف میں باندھے ہیں مجلسی اور دوسرے محدیثین نے ہزاروں احادیث ائمہ کے مافوق الفطرت طاقتوں کے بارے میں نقل کی ہیں جیسا کہ ماکان مایکون کا علم رکھنا اپنی مرضی سے مرنا اپنی موت کی خبر ہونا  الکافی جلد 1 صفحہ 260  الکافی جلد 1 صفحہ 258 ان تمام اوصاف کے ہوتے ہوئے شیعیت کا الزام لگانا کے  قرآن کو تبدیل کردیا گیا      

 خلافت کو غضب کردیا گیا 

 باغ فدک کو غصب  کر دیا گیا 

 آئمہ کو تکلیف دی گئی 

 آئمہ کو شہید کیا گیا 

 حضرت فاطمہ کو شہید کیا گیا 

 اب ان تمام مافوق الفطرت طاقتوں کےآئمہ میں ہونے کے باوجودکیا یہ ممکن تھا 

 کیا کیا سنو گے کیا کیا سنائیں 

 کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں  

 متداول مصحف کی موجودگی کا دعوی 

 ہم ماقبل آپ کے سامنےشیعہ کی معنوی اور لفظی تحریف کی روایات اور کثیر مثالیں پیش کر چکے ہیں اب ہم یہ دعوی کہ شیعہ کے پاس  متداول مصحف موجودہے جس میں کئی قسم کی تحریفات اور اضافے شامل ہیں بلکہ کچھ مکمل سورہ بھی اس میں داخل کی گئی ہیں مصحف کی موجودگی کو ثابت کرتے ہیں  

 سورہٴ نورین 

 سورہٴ ولایت کیا ہے؟

یہ دوسورہ ہیں کہ اس کے جاعلین نے ناسیئانہ طور پر سست وغلط عبارت سےحضرت علیؓ کے مناقب و وصایت میں جعل کیا ہے ان دو سورہ کا گیارہویں صدی سے پہلے کوئی منبع اور مدرک کے ساتھ زکر نہیں ہے اورکوئی نام ومتن کا اثر نہیں تھا جن افراد نے اس کو نقل یا انتقاد کیا ہے نے بھی کوئی منبع(معتبر وغیر معتبر ) اس صدی سے پہلےذکر نہیں کیا مدارک اور شواہد کے بنا پر یہ دو سورہ ہندوستان میں نا معلوم افراد کے ہاتھ جعل ہوئی ہیں اور اس کے بعد اسلام اور قرآن کے دشمنوں کے ذریعہ نشر ہوئی ہے اولاً:ان کو دبستان المزاہب میں زکر کیا گیا ہے دبستان المذاہب کے موٴلف کا نام ہی تحریرنہیں ہے لہٰذا علماء نے اس کے موٴلف کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے بعض لوگوں نے اس کو  میر ذوالفقار علی حسین اردستانی سے نسبت دی ہے اور بعض لوگوں  نے  کیخسرو بن اسفندیار سے نسبت دی ہے جو ہندوستان میں مجوسیوں کا بڑا عالم تھا۔

بعض لوگ کہتے ہیں اس کتاب کے موٴلف نے اس وجہ سے اس کتاب کولکھا تاکہ دین

 زر دشت  کی تبلیغ کر کے دوسرے ادیان کو سست اور کمرنگ کردے۔ رضا زادہ ملک (کتاب دبستان مذاہب کے توانا محقق)نے جو متن کتاب سے اندازہ لگایا ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کا  موٴلف 1025 ء میں پیدا ہوا اور 1069 ء تک زندہ تھا اس محقق نے  کتاب دبستان مذاہب کےارتباط دلیلوں اور شواہد کی تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ سارے شواہد وقرائن اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ اس کتاب کا موٴلف حقیقتا  آذرکیوان اور دین  دساتریری کا ایک پکا پیرو ہے اوروہ بھی اس مذہب کے معتقد افراد کا مورد احترام شخص ہے اور یہ شخص موّبد کیخسرو اسفندیار یعنی آذرکیوان کے لڑکے کے علاوہ اورکوئی نہیں ہے 

اس نے بحث میں کتاب۔دبستان مذاہب کے لکھنے کی دلیل میں لکھا ہے ” دبستان مذاہب کا موٴلف خود جعلی دین کا رہبر تھا اور اس کی اساسی غرض ۔اگرچہ اس نے اس کا اظہار نہیں کیا ہے ۔دوسرے ادیان کے پیروکاروں کا اعتقاد سست کرنا اور ان سب کو اپنے دین میں لانا تھا اسی لئے اس نے سست اورغیر معتبر اسناد کو غیر مہذب لوگوں سے نقل کیا ہے 

برطانوی سامراج نے بھی

صفحہ 13 از 17