اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 14 از 17

دبستان مذاہب کے موٴلف کی غرض کو اجراء کرنے کے لئے اسے دیاکیونکہ کتاب دبستان مذاہب پہلی بار انگریزوں کے ذریعہ پرچار ہوئی جیسا کہ اس کتاب کے پہلے فارسی اڈیشن میں ”ویلیام بیلی“ہندوستان میں انگریز سفیر کے ذریعہ اس کتاب کی رونمائی ہوئی اس وقت جبکہ اس خطہ میں ان کی ایسٹ انڈیا کمپنی تھی ان لوگوں نے ان مجلوں میں جو ایشیا اور جہان اسلام پرچھائے ہوئے تھے ان سوروں کو شیعی سوروں کے عنوان سے منتشر کیا یہ سب استعمار گروں کی غرض اور” لڑاؤ اور حکومت کرو “ کی پالیسی  کار فرما تھی۔

سورہٴ ولایت “صرف ایک مجہول اور خطی قرآن کے آخر میں17 ویں صدی میں ہندوستان میں لکھی گئی ہے اور اس کا کوئی اثر شیعہ اور غیر شیعہ منابع میں موجود نہیں ہے اس کا تنہا ایڈرس یہ ہے کہ یہ نسخہ جون 1912ءمیں ہندوستان کے بانکی پور کے کتا ب خانہ میں پایا گیا اور اس کے مدیر نے کہا ہے کہ اس نسخہ کو  نواب کےکوساس نےبیس سال پہلےلکھنوٴسےخریدہ ہے یہ نسخہ کی چھپائی 200سے 300سال کے درمیان کی ہے 

بہر حال کوئی بھی قرآن کی سلامت کی دلیلوں پر غور کرنے اور یہ دو سورہ کی پرسان حال عبارت دیکھ کر اس کے جالی ہونے کا حکم لگا سکتا ہے التبہ یہ بات فقط یہ دو سورہ کے لئے نہیں ہے بلکہ قرآن کے نزول کے بعد کسی نے بھی کوشش کی ہے قرآن کی طرح آیت اور سورہ لائے اس کا انجام رسوائی اور استہزاء تھا کیونکہ قرآن بے نظیر ہے اور اس کا زیبا متن اور عمیق مضمون کسی متن سے قابل قیاس نہیں ہے ۔

 کیخسرو اسفندیار، دبستان المذاهب، باتحقیق رحیم رضازاده ملک، تهران،‌ 1362 ش

 ایک مستشرق برائن وہ اپنے پاس ایک ایرانی مصحف کا دعوی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کتاب اللہ میں کئی اضافے ہیں

جس میں سورہ ولایہ کا بھی زکرکرتا ہیے 

 الخطوط العریضة ص 11 

 شیخ محب الدین میں بھی تحفہ اثناعشری سورہ ولایة کا اسکین لگایا ہے 

 تحفہ اثناعشری صفحہ 31 

 مجلة الفتح عدد842 ص 9

 شیعہ احمد کسروی الشیعة والتشیع 

 فصل الخطاب ص 180 

 خلاصہ۔ ۔۔جس طرح مسلمہ کذاب نے قرانی آیات میں الفاظ کی ملاوٹ کی تھی اسی طرح شیعہ قوم بھی کوشش کرتی رہی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ روایات گھڑی گئی ہیں اب روایات ملاحظہ فرمائیں 

  علي بن محمد، عن بعض أصحابه، عن أحمد بن محمد بن أبي نصر قال: دفع إلي أبو الحسن (عليه السلام) مصحفا وقال: لا تنظر فيه، ففتحته وقرأت فيه: " لم يكن الذين كفروا " فوجدت فيها اسم سبعين رجلا من قريش بأسمائهم وأسماء آبائهم قال: فبعثإلي: ابعث إلي بالمصحف 

 محمد ابن محمد ابن ابو نصر سے مروی ہے کہ ابو الحسن نے مجھے ایک مصحف دیا اور کہااس کو نہ دیکھنا میں نے اس کو کھولا اور اس میں

لم یکن الذین کفروا۔۔۔۔۔

سے پڑھا تو اس میں میں نے ستر قریشیوں کے ان کے باپوں کے ناموں کے ساتھ نام پائے وہ کہتا ہے پھر انہوں نے یعنی علی رضی اللہ انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ یہ مصحف مجھے بھیج دو 

 الکافی جلد 231  

اس سے ملتی جلتی روایت بصائرالدرجات میں موجود ہیں 

 بصائر الدرجات صفحہ 246 

 بحارالانوار جلد 92 صفحہ 51 

 رجال کشی میں بھی اس سے ملتی جلتی روایت موجود ہے 

 صفحہ 588 

 اسی معنی کی روایت کتاب الغیبہ 

 صفحہ  181 اور 182 

 بحارالانوار جلد 92 صفحہ 60 

 الغیبہ صفحہ 194 

 بحار الانوار جلد 52 صفحہ 364 

 نتیجہ۔۔۔متداول مصحف کے دعوے کے بارےمیں ہم نے یہ چندمثالیں پیش کی ہیں جو کہ شیعہ کے تحریف القران کے افسانہ کی مختصر مثالیں ہیں 

 مصحف فاطمہؓ مصحف علیؓ اور مصحف امام العج۔ 

 اہل تشیع کا ایک اور افسانہ

مصحف فاطمہ مصحف علی و آئمہ اور امام العجل کے پاس اصلی مصحف کا ہونا 

 عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن عمر بن عبد العزيز، عن حماد بنعثمان قال: سمعت أبا عبد الله عليه السلام يقول: تظهر الزنادقة في سنة ثمان وعشرين ومائة وذلك أني نظرت في مصحف فاطمة عليها السلام، قال: قلت: وما مصحف فاطمة؟ قال:إن الله تعالى لما قبض نبيه صلى الله عليه وآله دخل على فاطمة عليها السلام من وفاته من الحزن ما لايعلمه إلا الله عز وجل فأرسل الله إليها ملكا يسلي غمها ويحدثها، فشكت ذلك (١)إلى أمير المؤمنين عليه السلام فقال: إذا أحسست بذلك وسمعت الصوت قولي لي فأعلمته بذلكفجعل أمير المؤمنين عليه السلام يكتب كلما سمع حتى أثبت من ذلك مصحفا قال: ثم قال:أما إنه ليس فيه شئ من الحلال والحرام ولكن فيه علم ما يكون.

 ترجمہ۔۔۔۔۔۔۔راوی کہتا ہے میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے سنا کہ 128 ہجری میں فلاسفہ عہد بنی عباس ظاہر ہوں گے جو منکر اسلام و توحید ہوں گےیہ میں نے مصحف فاطمہ میں دیکھا ہے میں نے پوچھا مصحف فاطمہ کیا ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا تو جناب فاطمہ پر ہجوم غم واندوہ ہوا ایسا کہ جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا  خدا نے ان کے پاس غم میں تسلی دینے کے لیے ایک فرشتہ بھیجا جس نے ان سے کلام کیا حضرت فاطمہ نے یہ واقعہ امیرالمومنین علیہ السلام سے بیان کیا حضرت نے فرمایا اب جب یہ فرشتہ آئے اور تم اس کی آواز سنو تو مجھے بتانا چناچہ جب فرشتہ آیا تو حضرت فاطمہ نے آگاہ کیا امیرالمومنین علیہ السّلام فرشتے کی تمام باتوں کو لکھتے جاتے تھے یہاں تک کہ وہ باتیں اس مصحف میں لکھی گئی پھر فرمایا اس میں حلال و حرام کا ذکر نہیں بلکہ آئندہ ہونے والے واقعات کا ذکر ہے

 الکافی کتاب الحجۃ جلد 1 صفحہ 348 

صفحہ 14 از 17