اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 15 از 17

 عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن علي بن الحكم، عن الحسينابن أبي العلاء قال: سمعت أبا عبد الله عليه السلام يقول: إن عندي الجفر الأبيض، قال:قلت: فأي شئ فيه؟ قال: زبور داود، وتوراة موسى، وإنجيل عيسى، وصحفإبراهيم عليهم السلام والحلال والحرام، ومصحف فاطمة، ما أزعم أن فيه قرآنا، وفيه مايحتاج الناس إلينا ولا نحتاج إلى أحد حتى فيه الجلدة، ونصف الجلدة، وربع الجلدةوأرش الخدش.وعندي الجفر الأحمر، قال: قلت: وأي شئ في الجفر الأحمر؟ قال: السلاحوذلك إنما يفتح للدم يفتحه صاحب السيف للقتل، فقال له عبد الله ابن أبي يعفور:أصلحك الله أيعرف هذا بنو الحسن؟ فقال: إي والله كما يعرفون الليل أنه ليل والنهار أنه نهار ولكنهم يحملهم الحسد وطلب الدنيا على الجحود والانكار، ولو طلبوا الحق بالحق لكان خيرا لهم.

 الکافی کتاب الحجۃ جلد 1 صفحہ 349 

 ترجمہ۔۔۔۔۔۔۔راوی کہتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا میرے پاس صندوق سفید ہے میں نے پوچھا اس میں کیا ہے فرمایا زبور داود توریت موسی انجیل عیسی صحف ابراہیم حلال و حرام اور مصحف فاطمہ ہے نہیں گمان کرتا میں کہ اس میں قرآن ہے اس میں ہر وہ چیز ہے کہ جس سے لوگ ہماری طرف محتاج ہوں ہم کسی کی طرف محتاج نہیں اس میں سزا کے لیے  ایک کوڑے نصف کوڑے اورربع کوڑے تک کا ذکر ہے اور خراش تک کے لیے بھی دیت کا اور میرے پاس صندوق سرخ بھی ہے میں نے کہا وہ کیا ہے فرمایا اس میں ہتھیار ہیں وہ خونریزی کے لیے کھولا جائے گا کھولے گا اس کو صاحب ذولفقار مراد قائم آل محمد عبداللہ ابن یعفور نے کہا اللہ آپ کی نگرانی کرےاولاد امام حسن اس کو جانتی ہے فرمایا اس طرح جیسے رات کو جانتے ہیں کہ وہ رات ہے اور دن کو جانتے ہیں کہ وہ دن ہے لیکن حسد ان پر سوار ہے اور طلب دنیا نے انکو انکار پر آمادہ کردیا ہے اگر حق کو سچائی کے ساتھ طلب کرتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا

 (باب)انه لم يجمع القرآن كله الا الأئمة عليهم السلام وانهم 

 الکافی کتاب الحجۃ جلد 1 صفحہ 328 

  علي بن محمد، عن بعض أصحابه، عن أحمد بن محمد بن أبي نصر قال: دفع إلي أبو الحسن (عليه السلام) مصحفا وقال: لا تنظر فيه، ففتحته وقرأت فيه: " لم يكن الذين كفروا " فوجدت فيها اسم سبعين رجلا من قريش بأسمائهم وأسماء آبائهم قال: فبعث إلي: ابعث إلي بالمصحف 

 محمد ابن محمد ابن ابو نصر سے مروی ہے کہ ابو الحسن نے مجھے ایک مصحف دیا اور کہااس کو نہ دیکھنا میں نے اس کو کھولا اور اس میں لم یکن الذین کفروا۔۔۔۔۔سے پڑھا تو اس میں میں نے ستر قریشیوں کے ان کے باپوں کے ناموں کے ساتھ نام پائے وہ کہتا ہے پھر انہوں نے یعنی علی رضی اللہ انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ یہ مصحف مجھے بھیج دو 

 الکافی جلد 231  

اس سے ملتی جلتی روایت بصائرالدرجات میں موجود ہیں 

 بصائر الدرجات صفحہ 246 

 بحارالانوار جلد 92 صفحہ 51 

 رجال کشی میں بھی اس سے ملتی جلتی روایت موجود ہے 

 صفحہ 588 

 اسی معنی کی روایت کتاب الغیبہ 

 صفحہ  181 اور 182 

 بحارالانوار جلد 92 صفحہ 60 

 الغیبہ صفحہ 194 

 بحار الانوار جلد 52 صفحہ 364

 یہ مشہور روایت ہے کہ قرآن جس طرح نازل ہوا اس کو امیرالمومنین کے سوا کسی نے تالیف نہیں کیا اور وہ اب ہمارے آقا محمد مہدی کے پاس آسمانی کتابوں اور انبیاء کی وراثت کے ساتھ موجود ہے 

 انوار نعمانیہ جلد 2 صفحہ 360 تا 362 

 ابن ندیم جو شیعہ ہے ذکر کرتا ہے کہ اس نے حضرت علی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک قرآن دیکھا جو حسن کی طرف منسوب گھروں میں سے ایک گھر کے پاس وراثتاپہنچا ہے 

 الفہرست صفحہ-28 

 ابن عنبہ جو علوی النسب ہونے کا دعویدار ہےحضرت علی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے دو مصاحف کا ذکر کرتا ہے ایک تین جلدوں میں ہے اور دوسرا ایک جلد میں جس کو اس نے خود دیکھا تھا لیکن وہ دونوں جب مشہد میں آگ لگی تو جل گئے 

 عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب صفحہ 130 تا 131 

 ابوعبداللہ زنجانی کہتا ہے میں نے نجف میں دارالکتب العلویہ میں  1353 ہجری میں ایک مصحف دیکھا جس کے آخر میں لکھا ہوا تھا اس کو علی ابن ابی طالب نے 40 ہجری کو لکھا 

 تاریخ القرآن صفحہ 67 68 

 مرزا مخدوم شیرازی جو شیعہ کے درمیان رہے اور ان کی بہت ساری کتابوں کا مطالعہ کیا ذکر کرتا ہے طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو تحریف قرآن کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف بہت سارے مصاحف کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حضرت علی اور ان کے بعد ان کی اولاد میں سے ائمہ کے ہاتھوں کے لکھے ہوئے ہیں اور ان میں وہی ہے جو سارے متواتر مصاحف میں مذکور ہے جو ناقابل شمار ہیں 

 النوافض الورقة 104

 جب امیر المومنین سریر آرائے خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو اس قرآن کو ظاہر کرنے اور اس قران کو ختم کرنے پر قادر نہ ہوئےکیونکہ اس سے اپنے سے پہلو پر مذمت و شناعت کا اظہار ہوتا تھا 

 انوار النعمانیہ جلد 2 صفحہ 362  

 نتیجہ ۔۔۔۔۔ہم نے یہ چند روایات نقل کی ہیں جو شیعت کے افسانہ تحریف القران کے اثبات میں ہیں وگرنہ تو الکافی اور دوسرے محدثین نےابواب باندھ کر دعوے کیے ہیں آئمہ کے مصاحف کے بارے میں اور پھر عقیدہ رجعت کے بارے میں لکھی جانے والی کتابوں میں کثیر روایات اس مصحف کادعوی کرتی نظر آتی ہیں جس کو امام العجل لائے گا 

  تحریف القران کے نظریے کی ابتداء 

 جب ہم تحریف القران کےافسانے کی ابتداء کو دیکھتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلا شخص جو لفظی اور معنوی تحریف کا قائل ملتا ہے وہ ابن سباء یہودی تھا 

  روایت۔۔۔۔ابن سباء یہودی کا قول۔۔۔۔

  ان القران جزء من تسعةاجزاءوعلمہ عندہ علی(رضی اللہ عنہ)  

یہ قرآن ان نو اجزاء میں سے ایک جز ہے اور اس کا علم علی (رضی اللہ عنہ) کے پاس ہے 

 احوال الرجال صفحہ 38 

 حسن بن محمد بن حنفیہ المتوفی 95ھ کے اس خط سے مزید اس کی وضاحت ہوتی ہے 

 ۔۔۔۔اس کی لڑائی میں ایک یہ بات بھی ہے جس کو ہم نے پایا ہے کہ یہ کہتے ہیں ہمیں ایسی وحی کی رہنمائی کی گئی ہے جس سے لوگ گمراہ اور ناواقف رہے ہیں اور ہمیں مخفی علم دیا گیا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبی نے قرآن کے نوحصے چھپا لیے اگر اللہ کے نبی نے اس سے کوئی چیز چھپائی ہوتی جو اللہ نے آپ پر نازل کیا تھا تو آپ زید کی بیوی کے متعلق یہ آیت  واذتقول للذی انعم اللہ علیہ

آیت کو چھپا لیتے 

صفحہ 15 از 17