اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 16 از 17

 کتاب الایمان لمحمد بن ابی عمر المکی العدنی صفحہ249 250 

 إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍۢ ۚ

 (القصص - 85)

 ترجمہ۔۔۔۔۔بے شک جس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیا ہے وہ ضرور تمہیں ایک لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لانے والا ہے 

 اس آیت سے سب سے پہلے استدلال کرنے والا عبداللہ ابن سبا یہودی تھا جس نے نظریہ رجعت کو ایجاد کیا اور سب سے پہلے اس آیت سےتاویل کے ذریعے  استدلال کرنے کی کوشش کی جیسا کہ وہ کہتا تھا اس شخص پر بڑا تعجب ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام دوبارہ دنیا میں لوٹیں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ لوٹنے کا انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ہے

 إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍۢ ۚ 

(القصص - 85)

 المقالات والفرق صفحہ-20 

 اکمال الدین صفحہ 425 435 

 فرق الشیعۃ صفحہ 22 23 

 رجال الکشی صفحہ 106 ۔108 ۔305

الروایات۔ 170۔ 171۔ 172۔ 173 174۔ 

 رجال کشی صفحه 108 

عبداللہ ابن سبا کے بارے تفصیل ابتداء شیعت لکھ کر تلاش کریں۔

 اور دوسرا شخص جو تحریف القرآن کے افسانے کو پھیلاتا ہےوہ ہشام بن حکم ہے کیونکہ اس نے دعوی کیا تھا کہ یہ قرآن جو لوگوں کے ہاتھ میں ہے عثمان کے زمانے میں بنایا گیا تھا جبکہ اصل قرآن صحابہ کرام کے مرتد ہونے کے سبب آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تھا 

 التنبیہ الرد صفحہ-25 

ہشام بن حکم کے احوال ہم نظریہ امامت شیعہ کااصول امامت میں لکھ چکے ہیں

 سلیم بن قیس حلالی جو تحریف القران کے بارے دو روایت پیش کرتا ہے سن 90 ہجری میں فوت ہوا 

    شیخ مفید جو ان کے ہاں رکن اسلام اور آیت اللہ الملک العلام کے نام سے ملقب ہےکہتا ہے  

 روایت۔۔۔۔ان یعنی امامیہ کا اتفاق ہے کے آئمہ ضلال( خلفاءثلاثہ مرادلیتےہیں)  نے قرآن کریم کی تالیف میں بہت زیادہ اختلاف کیا ہے اور انہوں نے اس میں قرآن کے تقاضے اور نبی کی سنت سے اعراض کیا ہے 

 اوائل المقالات صفحہ-13 

 سنہ3ہجری میں کلینی کے استاد شیعہ عالم علی بن ابراہیم قمی تحریف قرآن کے افسانے کو اپنی تفسیر میں بھرتے اور اپنی تفسیر کے مقدمے میں اس کی صراحت بھی کرتے ہیں

 تفسیر القمی جلد1 صفحہ10 48 100 110 118 122 123 142 159 

 جلد 2 صفحہ 21 صفحہ 111 صفحہ 175   

ان زندیقیت سے بھری ہوئی روایات کی توثیق شیعہ کا ایک بڑا عالم خوئی اپنی کتاب میں کرتا ہے 

 معجم رجال الحدیث للخوئی جلد 1 صفحہ 63 

 قمی کے بعد اس کا شاگرد کلینی جو ثقةالاسلام کے لقب سے ملقب ہے اصول الاربع میں سے ایک کتاب اصول الکافی کا مولف وہ بھی تحریف القرآن کے افسانے پربہت زیادہ روایات نقل کرتا ہے

 اصول الکافی باب فیہ نکت ونتف من التنزیل فی الولایة من 

جلد 1 صفحہ 413 

 باب ان القران یرفع کماانزل

جلد 2 صفحہ 619 

 باب النوادر جلد 2 صفحہ 628 

 اور شیعہ مصنفین نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ الکلینی تحریف القرآن کا عقیدہ رکھتا تھا کیونکہ اس نے اپنی کتاب کافی میں اس مفہوم کی روایت ذکر کی ہیں لیکن کسی ایک نے بھی جراح اور تنقید نہیں کی حالانکہ اس نے اپنی کتاب کے شروع میں ذکر کیا ہے وہ جوبھی روایت نقل کرے گا اس کی توثیق بھی کرے گا  

 تفسیر صافی مقدمہ سات 7 صفحہ 52 

 مقدمہ الکافی صفحہ 9 

 مجلسی نے مراۃ العقول کافی کے بعض روایت پر ضعف کا حکم  لگایا ہے لیکن تحریف قرآن کی روایات پر صحت کا حکم لگایا ہے 

 مرآۃ العقول جلد2 536 

 اصول کافی کی شرح الشافی میں بھی صحت کا حکم لگایا گیا ہے تحریف قرآن کی روایات پر 

 الشافی جلد 7 صفحہ 227 

 تحریف القرآن کے اس افسانے کا ذکرتفسیر العیاشی کے مصنف  نے بھی کیا ہے جو کہ الکلینی کا ہم عصر تھا 

 تفسیر العیاشی جلد 1 صفحہ 13 128 129 206 وغیرہ 

 تفسیر عیاشی کے بارے میں عالم محمد حسین طباطبائی کہتے ہیں یہ اپنے موضوع پر بہترین قدیم تالیف ہے 

 مقدمہ حول الکتاب مؤلفہ صفحہ 

 طوسی الفہرست صفحہ163 165 

 تیسری اور چوتھی صدی میں فرات بن ابراہیم کوفی ہوا ہے جس کی فرات کے نام سے ایک تفسیر ہے اس نے بھی تحریف القرآن کے افسانے کو نقل کیا ہے 

 تفسیر فرات صفحہ 18 صفحہ 58 وغیرہ 

 ملاباقرمجلسی نے فرات کوفی کو معتبر قرار دیا ہے 

 بحارالانوار جلد 1 صفحہ 37 

 محمد ابراہیم نعمان بھی سنہ 300 ھ کے زمانے میں ہوا اس نے اپنی کتاب الغیبہ میں تحریف القرآن کے  الزام کی روایت ذکر کی ہیں 

 الغیبة صفحہ 217 

 مجلسی کہتا ہے کہ یہ کتاب جلیل القدر اور صحیح ہے 

 بحارالانوار جلد 1 صفحہ 30 

 ابوالقاسم کوفی کے اپنی کتاب الاستغاثہ میں تحریف القرآن کی کہانی کا ذکر کرتا ہے 

 الاستغاثہ صفحہ25 

 نجاشی نے اس کی طرف التبدیل والتحریف نامی ایک کتاب منسوب کی ہے 

 النجاشی صفحہ 203 

 یہ تحریف کی بعض روایات کو براہ راست قمی سے روایت کرتا ہے

 الاستغاثہ صفحہ-29 

 شیعہ عالم مفید اپنی کتاب اوائل المقالات میں اپنے گروہ کا اس منکریعنی تحریف القران پر اجماع تحریر کرتا ہے

 اوائل المقالات صفحہ 51 

  مفیدکتاب الارشاد میں بعض روایات کو نقل کرتا ہے 

 الارشاد صفحہ 365 

 مجلسی نے کتاب کی توثیق کی ہے 

  بحارالانوار جلد 1 صفحہ 27    

 طبرسی نے تحریف القرآن کے افسانے کو الاحتجاج میں ذکر کیا ہےاور بہت ساری روایات ذکر کی ہیں 

 الاحتجاج صفحہ-14  

 شیعہ عالم نعمت اللہ جزائری کے اعتراف کے مطابق اس کے لیے دو ہزار سے زائد روایت گھڑی گئی ہیں 

 فصل الخطاب صفحہ 125 

 مجلسی نے بحارالانوار کتاب القران باب ان القران لم یجمعہ کماانزل الاآئمة 

 جلد 92 صفحہ 66 

 الکاشانی نے تفسیر صافی 

مقدمہ سادسہ صفحہ 40 55 136 163 399 460 

 البرھان باب ان القران لم یجمعہ کما انزل الاآئمة صفحہ 34 70 106 140 170 277 294 295 308 

 نعمت اللہ جزائری نے انوارالنعمانیہ جلد 2 صفحہ 358 357 

 ابوالحسن شریف نے مراۃالانوار مقدمہ ثانی صفحہ  36 اور 49 

 مازندرانی نے شرح الکافی میں شرح الجامع الکافئ جلد 11 صفحہ 66 

اب ہم چند نام زکر کرتے جو شیعہ کے سرخیل اور بڑے علماء محققین میں شمار ہوتے ہیں جو نظریہ تحریف القران کے قائل تھے

 جید علما کے نام جو تحریف قرآن کے قائل تھے اور ان کتب کے نام جن میں عقیدہ تحریف قرآن کھل کے بیان ہوا

80 رافضی مجتھدین اور انکی ان کتب کے نام جسمیں انہوں نے عقیدۂ تحریف قرآن کھل کے بیان کیا ہے

1۔۔اثبات الھدی للحر العاملی

صفحہ 16 از 17