اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 17

  الوافی کا مولف شیعہ عالم فیض الکاشانی کہتا ہے اہلبیت سے بکثرت ایسی روایات مروی ہیں جن میں انہوں نے قرآنی آیات کی اپنے اور اپنے اولیاء اور اپنے مخالفین کے ساتھ تفسیر بیان کی ہے حتی کہ ہمارے اسلاف نےبے حساب کتب تالیف کی ہیں جن میں انہوں نے قرآن کی تاویل میں اہل بیت سے جو کچھ مروی ہے اسے ترتیب قرآن کے مطابق ایک ایک آیت کر کے جمع کیا ہے جوان ائمہ شیعہ کے اور ان کے متبعین کے بارے میں ہے یا ان کے دشمن سے متعلق ہے میں نے ان میں سے ایک کتاب دیکھی ہے جو تقریبا بیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے اسی طرح اصول کافی تفسیرعیاشی تفسیر قمی اور ابو محمد زکی سے سماعت شدہ تفسیر میں اس قسم کی بہت زیادہ روایات ہیں 

 تفسیر الصافی جلد 1 صفحہ 24 25 

 الکافی میں اس بارے میں بہت سی روایات مروی ہیں جس کا اگر آپ مطالعہ کریں 

 باب فیہ نکت ونتف من التنزیل فی الولایة

اس باب میں قرآن مجید سے ولایت کے متعلق نکات اور معارف کا بیان اسباب میں ننانویں 99 روایات جمع  کردی ہیں آپ اسی باب میں طرح طرح کی معنوی تحریفات ملاحظہ فرماسکتےہیں 

 الکافی جلد 1 صفحہ 412 

اس کے علاوہ اور بہت سارے ابواب مذکور ہیں 

 باب ان الآئمة العلامات التی ذکرھا اللہ عزوجل فی کتابہ

 ان الایات التی ذکرھافی کتابہ ھم الائمة 

 ان اہل الذکر الذین امر اللہ الخلق بسوالھم ھم الائمة

 ملا باقر مجلسی نے کتاب بحارالانوار کی جلد 23 اور 24 میں معنوی تحریفات کےبہت سارے باب قائم کیے ہیں 

 باب تاویل المومنین ولایمان والمسلمین والاسلام بھم وبولایتھم الکفار والمشرکین والکفر والشرک الجبت والطاغوت واللات والعزی والاصنام باعدائھم ومخالفتھم 

یعنی اس باب میں یہ بیان ہوگا کہ قرآن مجید میں ایمان اور مومنین اور اسلام اور مسلمین سے مراد آئمہ اور ان کی ولایت ہے جبکہ کفار مشرکین کفر شرک جب طاغوت لات عزی اور اس نام سے مراد آئمہ شیعہ کے دشمن اور ان کے مخالفین مقصود ہیں پھر مؤلف نے اس باب کے تحت سو 100احادیث ذکر کی ہیں  

 یعنی اس باب میں یہ بیان ہوگا کہ قرآن مجید میں ابرار متقی اور صابر مقربین سے ائمہ شیعہ اور اصحاب الیامین سے ان کے پیروکار مراد ہیں جبکہ ان کے دشمن فجار اور اشرار اور اصحاب الشمال ہیں مولف نے اس باب میں پچیس شیعی روایات ذکر کی ہیں   

 جلد 23تا 24ملاحظہ فرمائیں

 شیعہ عالم حرالعاملی نے

فصول المھمة فی اصول الائمة

میں متقدمین کی طرح ابواب قائم کیے ہیں 

 الفصول المھمة۔ ص 256

 کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں …….   

 تبصرہ۔۔۔۔

شیعہ مذہب کا دارومدار صرف امامت ۔آئمہ۔اور تبراہ کے گرد گھومتا ہے۔ لیکن قرآن مجید یقینی طور پر شیعہ کے بارہ اماموں کے ذکر اور ان کے دشمنوں کے خلاف کسی واضح دلیل سے خالی ہے اسی امر نےشیعہ لوگوں کا سکون و اطمینان خراب اور ان کا معاملہ تباہ و برباد کر دیا ان لوگوں نے خود بھی یہ صراحت کی ہے کہ قرآن مجید آئمہ کے ذکر سے خالی ہے  وہ کہتے ہیں اگر قرآن کو ویسے پڑھا گیا ہوتا جیسے یہ اتارا گیا تھا تو اس میں ہمارا نام بنام ذکر ہوتا 

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 13 

 بحارالانوار جلد 19 صفحہ 30 

 البرھان جلد 1  صفحہ22

تو جب ان کے مذہب کی بنیاد امامت اورائمہ کا قرآن مجید میں کوئی ذکر ہی نہیں تھا تو ان لوگوں نے اپنے فریب خوروں کومطمئن کرنے اور سیدھا سادہ لوگوں اور جاہلوں کے درمیان اپنا مذہب رائج کرنے کے لیے اس رائے کو اختیار کیا ہےاس رائے کو مقبولیت دینے کے لیے حسب عادت اسے بعض اہل بیت کی طرف منسوب کر دیا یہ مسئلہ یقینا آیات قرآن کا ایک باطن ہے جو ان کے ظاہر کے مخالف ہیں کتب شیعہ میں اتنا پھیلا حتی کہ ان کے مذہب کا بنیادی اصول قرار پایا جیساکہ ماقبل میں ہم ان کی کتابوں کے حوالے اورچندروایات نقل کرچکےہیں

نتیجہ۔۔۔۔۔ یقینا قرآن عظیم میں اسرار توجیہات اشارات اور کنایات موجود ہیں یہ ایسا سمندر ہے جس کے خزانے اور عجائب کم ہوتے ہیں نہ اس کے اعجاز ہی کی کوئی انتہا ہے بہرحال ان تمام اشیاء کے لئے الفاظ میں گنجائش ہوتی ہے اور یہ عام معنی کی حدود سے باہر نہیں ہوتی لیکن ان باطینیوں  کا دعوی اس مقصد سے نہ آشنا ہے درحقیقت یہ اجنبی تاویلات جیسا کہ آگے ہم نے چند آیات نقل کی ہیں قرآنی الفاظ کے مدلولات ۔ مفہوم اور سیاق سے کوئی میل نہیں کھاتی بلکہ یہ مکمل طور پر قرآنی آیات کی مخالفت کرتی ہیں جن کا ہدف محض قرآن میں ایسی دلیل کو تلاش کرنا ہے جو انکے شذوذ کی تائید کرے اور اس کی غرض و غایت صرف کتاب اللہ اور دین الہی سے روکنا ہے  نیز نصوص شریعت کی تاویل میں اس باطنی نقطہ نظر کا نتیجہ مکمل طور پر دین سے باہر ہونا ہے 

 فتح الباری لابن حجر جلد 1 صفحہ 216 

 شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں جس نے باطنی معنی  کو جان لینے کا دعوی کیا جو ظاہر علم کے خلاف ہوتا ہے تو وہ خطاکار ہے جو ملحد زندیق ہے یا ضلالت کا شکار ایک جاھل ہے باطن جو ظاہری طور پر معلوم ہونے والی بات کے مخالف ہوتا ہے اس کی مثال اسماعیلیہ اور نصیریہ جیسے فرقوں میں سے باطنیہ قرامطہ کےدعوی جات ہیں 

 پھر فرماتے ہیں وکل شئ احصیناہ فی امام مبین کی تفسیر میں علی رضی اللہ عنہ مراد لیتے ہیں  فقاتلوا ائمۃ الکفر سے طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہ مراد لیتے ہیں  الشجرۃ الملعونۃ فی القران سے بنو امیہ مراد لیتے ہیں 

 مجموع الفتاوی جلد 13 صفحہ 236 237 

  پہلی آیت۔۔۔۔

  إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍۢ ۚ

 (القصص - 85)

 ترجمہ۔۔۔۔۔بے شک جس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیا ہے وہ ضرور تمہیں ایک لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لانے والا ہے 

 اس آیت سے سب سے پہلے استدلال کرنے والا عبداللہ ابن سبا یہودی تھا جس نے نظریہ رجعت کو ایجاد کیا اور سب سے پہلے اس آیت سےتاویل کے ذریعے  استدلال کرنے کی کوشش کی جیسا کہ وہ کہتا تھا اس شخص پر بڑا تعجب ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام دوبارہ دنیا میں لوٹیں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ لوٹنے کا انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ہے ماقبل آیة۔

 إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍۢ ۚ 

(القصص - 85)

 المقالات والفرق صفحہ-20 

 اکمال الدین صفحہ 425 435 

 فرق الشیعۃ صفحہ 22 23 

صفحہ 2 از 17