اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 3 از 17

 رجال الکشی صفحہ 106 ۔108 ۔305

الروایات۔ 170۔ 171۔ 172۔ 173 174۔ 

 رجال کشی صفحه 108 

عبداللہ ابن سبا کے بارے میں تفصیل ہم ابتداء شیعت  اور شیعہ کا چوتھا اصول دین امامت ۔شیعت قدیم فلسفوں کی آماجگاہ وغیرہ میں لکھ چکے ہیں 

 رجعت دیگر ادیان میں

عہد عتیق میں رجعت کے موضوع کی طرف اشارہ ہوا ہے منجملہ حزقیال نے بنی اسرائیل کے زندہ ہوجانے اور آخر الزمان میں داؤد(ع) کی حکومت کی طرف اشارہ کئے ہیں

  عهد عتیق 37: 21-27

 امو دانیال نے بھی کہا ہے: آخر الزمان میں ـ وہ جو مٹی میں سو چکے ہیں ـ جاگ اٹھیں گے

  عهد عتیق 12: 1-3

عہد جدید میں بھی قیامت ثانیہ سے پہلے، مسیح کی  حکومت اور ان کے آباء و اجداد کے زندہ ہوجانے کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔

 مکاشفه یوحنا 20: 4-6

 اللہ نے آئمہ کو خلیفہ بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ رجعت کے بعد کا ہے نبوت کے بعد بلافصل نہیں ہے   

 خلاصہ ۔۔۔۔قرآن کی آیت سے تاویل باطلہ کے ذریعے سب سے پہلا شخص عبداللہ ابن سباء تھا جس نے اس آیت تاویل پیش کی اور اس سے عقیدہ رجعت استدلال کیا

 Surat No 28 : Ayat No 85 

اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ  اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡہُدٰی وَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۸۵﴾

جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے  وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لانے والا ہے کہہ دیجئے کہ میرا رب اسے  بھی بخوبی جانتا ہے جو ہدایت لایا ہے اور ا سے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے ۔  

 بہت ساری احادیث میں منقول ہے کہ مراد رجعت حضرت رسول است بسوے دنیا

 اس آیت سے مراد حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کی طرف رجعت کرنا یعنی واپس آنا ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 337 

 ترجمہ مقبول صفہ 788 

 تفسیر قمی صفحہ 505 

 تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 280 

 تفسیر نور ثقلین جلد 4 صفحہ 144 

 تفسیر المتقین صفحہ 513 

ان تمام تفاسیر میں شیعہ مفسرین نے اپنے ائمہ معصومین کی طرف روایات منسوب کرکے اس بات پر زور دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجعت کرکے یعنی دنیا میں واپس آئیں گے 

 تبصرہ۔ ۔

شیعہ مصنفین قرآن مجید کی اس آیت کریمہ سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی رجعت اپنے اماموں کے اقوال کے ذریعہ سے ثابت کرتے ہیں پھر اس رجعت میں اپنے اماموں سے یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارہویں  امام کی بیعت کریں گے  

جیسا کہ ملاباقرمجلسی نے امام محمد باقر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے کہ جب قائم آل محمد غار سے باہر آئیں گے تو خدا اس کی ملائکہ سے مدد کرے گا اور سب سے اول محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم اس کی بیعت کریں گے اور اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ لیکن باوجود اس کے جھوٹ کو کتنا ہی مزین کرکے پیش کیا جائے پھر بھی جھوٹ سچ نہیں ہو سکتا 

خود شیعہ مصنفین نے انکشاف کیا ہے کہ یہ عقیدہ بھی عبداللہ بن سبا یہودی کا گھڑا ہوا ہے اس نے اسلام قبول کیا اور علی سے محبت کا اظہار کیا جب وہ یہودی تھا یوشع بن نون سے متعلق یہی کہتا تھا کہ وہ موسی علیہ السلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد اسلام قبول کرکے یہی بات علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اس شخص نے سب سے پہلے علی بن ابی طالب کی امامت کے لزوم کا قول ذکر کیا اور ان کے دشمنوں سے براة ظاہر کی اور انہیں کافر قرار دیااور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ان کی رجعت کا سب سے پہلا قائل ہوا اسی بنیاد پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رافضی مذہب دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے 

 المقالات والفرق صفحہ-20 

 اہلسنت تفاسیر 

امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق لکھا ہے ۔

 انہ علیہ السلام خرج من الغار۔۔۔

 ترجمہ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے وقت غار سے نکل کر مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام جحفہ۔ پرائے اور مکہ کی طرف جانے والے راستے کو پہچان لیا تو مکہ کی محبت کا جوش و بھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور اپنے والد گرامی کی جائے پیدائش کا محبت سے تذکرہ کیا تو جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے شہر اور اپنی جائے پیدائش کے اتنے ہی مشتاق ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اتنی ہی محبت ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان الذی فرض ۔۔۔۔ایة یعنی جزات نے قرآن کو پہنچانا آپ پر فرض کیا ہے جس کی وجہ سے آپ مکہ چھوڑنے پر مجبور کئے گئے وہ ذات ضروربالضرور آپ کو اس معاد یعنی مکہ کی طرف لوٹ آئے گی وہ بھی اس حال میں کہ آپ ان پر غالب ہوں گے اسلام کی عزت کا اظہار ہوگا اور کافروں کی ذلت ہوگی اور یقینا ہوابھی اسی طرح اگرچہ معادسے مرادبعض  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور بعض نے جنت اور بعض نے مقام محمود لیا ہے لیکن سب سے زیادہ آیت کے ظاہری معنیٰ کے اعتبار سے یہی زیادہ موافق ہے کہ اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کی خوشخبری دی گئی ہے  

 تفسیر کبیر جلد 25 صفحہ 21 

 تفسیر البدیع جلد 2 صفحہ 94 

 تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 534 

 تفسیر ابن عباس صفحہ 434 

 صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 703 

 اہل تشیع تفاسیر 

 تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ میں معادسے مراد مکہ کی طرف لوٹنا ہے 

 وقیل الی معاد الی الموت۔ وقیل الی المرجع یوم القیامة۔

۔  ترجمہ۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ معاد سے مراد موت کی طرف لوٹنا ہے اور بعض نے کہا کہ قیامت کے دن کو مرجع کہا گیا ہے یعنی موت کے بعد آپ کو وہاں لوٹآئے گا  جہاں سے آپ آئے ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنت کے طرف لوٹانا مراد ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ آپ کو وفات دے گا اور وہ آپ کے جنت میں داخل ہونے کا باعث ہوگی لیکن آیت کا ظاہر تقاضہ یہ ہے کہ آپ کو مکہ کی طرف لوٹائے گا 

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 259 

 تفسیر نمونہ جلد 9 صفحہ 161 

 تفسیر المیزان جلد 16 صفحہ 88 صفحہ 141  

 تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 162 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 134 

 تفسیر فرمان علی صفحہ 631 

صفحہ 3 از 17