اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 17

 نتیجہ۔۔۔۔۔ان تمام تفاسیر میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں معاد  سے مراد موت قیامت جنت مقام محمود مکہ کی طرف لوٹنا لیکن تمام مفسرین خواہ وہ مسلمان ہوں یا شیعہ مفسر آخر میں سب نے اقتضاءالنص سے مکہ کی طرف لوٹنے کو ترجیح دی ہے اور اس آیت کریمہ کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی رسالت پر دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائیں ٹھیک  اسی طرح کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف لوٹے اور ہوا بھی اسی طرح کہ آپ شان و شوکت سے مکہ کی طرف لوٹ آئے اور بغیر کسی لڑائی کے فتح مکہ ہوا اسلام کی عزت ظاہر ہوئی اور کفر ذلیل ہوا یہی ہے اس آیت کی حقیقت جس میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا وفات کے بعد دنیا میں واپس آنے کا اشارہ تک نہیں ہے لیکن شیعہ مفسرین کی کوشش یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کی اصل حقیقت کو بگاڑ کر سینہ زوری سے اپنا مصنوعی  عقیدہ رجعت ثابت کریں لیکن آئی تک یہ حقیقت کھل کر سامنے آئیں اور شیعوں کا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت نہ ہوسکا 

 دوسری آیت۔۔۔۔۔۔

Surat No 27 : Ayat No 82 

وَ  اِذَا  وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ  دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ  کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾          

جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا ،   ہم زمین سے ان کے لئے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا  کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے ۔  

 بہت ساری احادیث میں مذکور ہے کہ یہ دابہ جانور علی علیہ السلام ہے 

جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا 

 حق الیقین فارسی صفحہ 336 

 تفسیر قمی 

 ترجمہ مقبول 

 تفسیر مجمع البیان 

 ترجمہ فرمان علی 

 تفسیر عیاشی 

ان تمام تفاسیر میں یہی بات لکھی ہوئی ہے اس آیت کی تفسیر میں دابہ یعنی جانور سے مراد حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ہے جو زمین سے نکلے گا اور اس کے ہاتھ میں عصا موسی اور انگشتری سلیمان ہوگی۔

 تبصرہ۔ 

 ملاباقرمجلسی نے سورہ نمل کی آیت نمبر 82 اور 83 سے اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے صرف باقرمجلسی ہی نہیں بلکہ شیعوں کے بہت سارے مفسرین نے ان آیات کو رجعت پر چسپاں کر کے اپنے ائمہ معصومین کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے کہ ان آیات میں رجعت کا ثبوت ہے  جبکہ ہردوایات میں سے کسی ایک میں بھی رجعت کا ذکر نہیں ہے آیت نمبر 83 میں ہے کہ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے ان میں سے ہر گروہ سے ایک ایک کو جدا کرکے ان کی علیحدہ ٹولیاں کرکے ان کو جمع کیا جائے گا اس سے آگے ہے کہ حتی اذا جاوء۔ ۔۔۔۔حتیٰ کہ جب وہ سارے آئیں گے تو اللہ تعالی انکو فرمائے گا  اکذبتم بایاتی کیا تم ہی تھے جو میری آیات کو جھٹلاتے تھے ؟؟

اور جب ان پر عذاب کا قول ثابت ہوگا اپنے ظلم کی وجہ سے  فھم لا ینطقون ۔تو وہ کچھ بول بھی نہیں سکیں گے 

 النمل آیت 83 84 85 

اس آیت کریمہ کی تفسیر قرآن کی دوسری آیات سے واضح ہوتی ہے 

 کماقال اللہ فوربک لنحشرنھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الایة

اے رسول تیرے رب کی قسم ہے ہم ان کو اور شیاطین کو اکھٹا کریں گے پھر سب کو جہنم کے گرداگرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے 

 ثم لننزعن من کل شیعة ایھم اشد علی الرحمان عتیا۔ ۔

پھر ہر گروہ میں سے ایسے لوگوں کو علیحدہ کریں گے جو دنیا میں بنسبت دوسروں کے اللہ کے زیادہ نافرمان تھے پھر ان لوگوں میں سے جو زیادہ سزا کے لائق ہیں ہم ان کو بخوبی جانتے ہیں اس لئے انکی جدا ٹولیاں بنا کر جدا سزائیں دیں گے 

 مریم آیت نمبر 68۔69۔70

 اس حقیقت کے ظاہر ہونے کے بعد شیعوں کا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت نہیں ہوتا۔

 اور مجلسی کی پیش کی ہوئی دوسری آیت یعنی سورہ نمل کی آیت نمبر 82 میں زمین سے ایک جاندار کے نکلنے کا ذکر ہے جو اللہ تعالی کی قدرت سے فصیح عربی زبان میں کلام کرے گا لیکن شیعہ مصنفین نے اس جاندار حیوان کو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ بناکر اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے 

درحقیقت علی رضی اللہ عنہ کو دابۃالارض کہنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بڑی گستاخی ہے لہٰذا ہم اس آیت کریمہ کے متعلق مفسرین حضرات کے اقوال نقل کرکے دابۃ الارض کو واضح کرتے ہیں 

شیعہ مفسرین اور مسلمان مفسرین دونوں کے اقوال نقل کریں گے 

 دابۃ الارض کی تحقیق 

 مسلمان مفسرین کے اقوال 

 تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ  ھی دابة ذات نرغب لھا اربع قواعم۔ ۔۔۔۔۔ترجمہ۔ ۔۔دابہ چار پاؤں والا جانور ہے اس کے جسم پر بہت سارے بال ہوں گے اور ابن زبیر نے اس دابہ کے اوصاف اس طرح بیان فرمائے ہیں۔کہ اس کا سر بیل کی طرح آنکھیں خنزیرکی طرح کان ہاتھی کی طرح سینہ شیر کی طرح گردن نعام پرندے کی طرح اور ٹانگیں اونٹ کی طرح ہیں اس کے ہر ایک جوڑ کے درمیان 12 ہاتھ کا فاصلہ ہوگا اس کے ساتھ حضرت موسی علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی وہ لوگوں سے کلام بھی کرے گا اور ان پر نشان بھی لگائے گا۔

اس نشان سے مومنین کے چہرے سے نور چمکے گا اور ان پر لکھا جائے گا  ھٰذا مومن حقا اور کافروں کے چہرے پر لکھ دیا جائے گا  ھذا کافر حقا

 حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ وہ دابہ ایسا ہے کہ اس کے بال ہیں پر ہیں اور داڑھی ہے لیکن دم نہیں 

 تفسیر ابن کثیر جلد 3 ص 499 

 معمولی الفاظ کی تبدیلی سے تفسیر مواہب الرحمٰن جلد 6۔ سورہ نمل کی آیت نمبر 82 کی تفسیر میں 

 تفسیر کوثر اسی آیت کی تفسیر میں 

۔اور تفسیر روح البیان میں ہے کہ اس دابہ کا نام جصاصہ ہے۔اور یہ پیدا ہوچکا ہے اور بعض صحابہ رضی اللہ عنھم نے اسے دیکھا بھی تھا کہ وہ قید ہے اس لیے اخراجنا فرمایا گیا یعنی قید سے آزاد کر کے اس کو نکالیں گے

 تفسیر روح البیان مذکورہ آیت کی تفسیر میں بحوالہ  نورالعرفان از مفتی احمد یار خان نعیمی 

 اور تفسیر روح المعانی میں ہے کہ ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ لوگوں کا گمان ہے کہ دابۃ الارض آپ ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا 

واللہ ان دابۃ الارض۔۔۔

صفحہ 4 از 17