اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 5 از 17

 ترجمہ۔ ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم اس دابۃالارض کو پر ہونگے اور جسم پر بہت سے بال ہوں گے اور نہ میرے پر ہیں اور نہ میرے جسم پر اس کی طرح بال ہے اور دوسری بات یہ کہ اس کے کھرے ہونگے مجھے اس کی طرح کھر نہیں

 تفسیر روح المعانی جلد 11 صفحہ 22 

 حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی نے لکھا ہے کہ بخاری و مسلم اور احادیث کی دیگر کتابوں نے قرب قیامت کی نشانیوں میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال کا خروج مسیح علیہ السلام کا نزول زمین میں خسف کا واقع ہونا آگ کا نکلنا اور دابۃ الارض کا خروج شامل ہے ۔اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب قسم کا جانور ہوگا جو لوگوں سے بات چیت کرے گا اور واضح طور پر بتائے گا کہ فلاں سچا مومن ہے اور فلاں منافق اور کافر ہے 

 خلاصہ۔ 

دابۃ الارض کے جسم پر بہت سارے بال چار پاؤں والا جانور اور اس کے پر ہوں گے بیل کی طرح سر خنزیر کی طرح آنکھیں ہاتھی کی طرح کان شیر کی طرح سینہ پرندے کی طرح گردن اونٹ کی طرح ٹانگیں جوڑوں کے درمیان بارہ ہاتھ کا فاصلہ اور اس کے کھر اور اس کی داڑھی بھی ہوگی        

وہ پیدا کیا جا چکا ہے اس لیے اخرجنا فرمایا وہ عجیب جانور ہے جو باتیں کرے گا ۔موسی علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی سے نشان لگائے گا تو مومن کے چہرے پر سچا مومن اور کافرین کے چہروں پر پکا کافر خود بخود لکھ دیا جائے گا 

  شیعہ تفاسیر میں دابہ کی تفصیل 

 ۔تفسیر التبیان میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا 

دابة الارض دواب اللہ لھا زغب وریش لھا اربعة قوائم ۔

 ترجمہ۔ یعنی وہ دابا اللہ کے جانوروں میں سے ایک ایسا جانور ہے کہ جس کے جسم پر بہت بال ہیں اور اس کے پر بھی ہیں اور اس کے چار پاؤں ہیں 

 تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 106 

مذکورہ آیت کی تفسیر 

 یہی روایت تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 پر مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھی ہے

 تفسیر کبیر یعنی تفسیر منہج الصادقین میں حضرت ابن عباس سے نقل کیا گیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے سماویہ نشانی مغرب سے طلوع شمس ہوگا۔اور عرض نشانیوں میں سےدابہ کا خروج ہو گی جس کا طول ساٹھ گز ہوگا اس کے چار پاؤں ہوں گے اور اس کے جسم پر زرد ان کے بال ہوں گے اور اس کے دو پر ہونگے 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 57 مذکورہ آیت کی تفسیر 

 عین المغانی میں مذکورہ مفسر نے لکھا ہے کہ اس دابہ کی آنکھیں خنزیر کی طرح اور کان ہاتھی کی طرح سینگ پہاڑی گائے کی طرح اور گردن شتر مرغ کی طرح۔اور سینہ شیر کے طرح ہوگا اور اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہوں گے اور اس کے دو قدموں کے درمیان بارہ گز کا فاصلہ ہوگا 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 57 

 حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ وہ دابہ تین روز تک باہر نکلتا رہے گا لیکن اتنا لمبا ہوگا کہ تین روز تک اس کا تیسرا حصہ بھی باہر نہ نکل پائے گا اور مشہور قول یہ ہے کہ تین دن میں پورا باہر آجائے گا 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

 تفسیر نور ثقلین جلد 6 صفحہ نے مذکورہ آیت کی تفسیر 

 رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دابہ تین بار نکلے گا ایک بار مدینہ کے قریب ۔۔۔۔ دوسری بار مکہ مکرمہ کے قریب ۔۔تیسری بار خود مسجدالحرام سے نکلے گا 

 منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

 تفسیر نورالثقلین جلد 6 صفحہ 99 میں مذکور آیت 

 ۔حضرت حسن علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ وہ دابہ دکھا دیں تو تین راتیں وہ دابہ باہر آکر پھر چلا جاتا تھا حضرت موسی علیہ السلام اس کی عجیب خلقت اور ڈراؤنے منظر کو دیکھ کر ایسے خائف ہوئے کہ اللہ تعالی سے عرض کیا کہ اس کو حکم کریں کہ وہ اپنی جگہ واپس چلا جائے ۔

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

 خلاصہ روایات

 دابۃ الارض کے جسم پر بہت سارے بال اور اس کے دو پر اور چار پاؤں ہیں 

 ایک روایت میں اس کا طول ساٹھ گز ہے 

 ایک روایت میں ہے کہ وہ اتنا لمبا ہے کہ وہ تین دن تک نکلتا رہے گا 

 دابہ کی خنزیر جیسی آنکھیں ہاتھی جیسے کان پہاڑی گائے جیسے سینگ شترمرغ جیسی گردن شیر جیسا سینہ اور اونٹ جیسی ٹانگیں اور اس کے کھر ہیں 

 وہ دابۃالارض تین بار نکلے گا 

 موسی علیہ السلام کو ہدایت دکھایا گیا تو اس کی ایسی ڈراونی صورت تھی کہ دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔

 اس دابہ کے دو قدموں کے درمیان 12 گز کا فاصلہ ہوگا

 تبصرہ۔ ۔۔

  کیا شیعہ مفسرین نے جو کیفیت جسامت قدامت اور صورت دابۃ الارض کی ذکر کی ہے اس حقیقت کے کھلنے کے بعد کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت اور عقیدت رکھنے والا حضرت علی کو وہ دابہ تصور کرسکتا ہے ۔ہرگز نہیں 

لیکن باوجود اس کے شیعہ مفسرین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رجعت کو ثابت کرنے کے لئے اس پر انتہائی زور دیا ہے کہ وہ دابہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں مثلا۔ شیعہ مفسر علی بن ابراہیم قمی جو شیعوں کے نزدیک امام حسن عسکری کا شاگرد ہے اس نے لکھا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس اس حالت میں آئے گے مسجد میں سو رہے تھے اور ریت کا ایک ڈھیر کر کے سر مبارک اس پر رکھے ہوئے تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائے مبارک سے حرکت دے کر فرمایااے دابۃالارض اٹھ تو اصحاب میں سے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بھی آپس میں اس نام سے ایک دوسرے کو پکارا کریں فرمایا نہیں واللہ یہ نام خاص طور پر علی ہی کے لیے ہے 

اور علی ہی وہ دابہ ہے جس کا خدا تعالی اپنی کتاب میں یہ ذکر فرماتا ہے 

 وإذا وقع القول۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر فرمایا اے علی جب آخری زمانہ آئے گا تو خدا تعالی تم کو نہایت ہی حسین صورت میں (جوشیعہ مفسرین نے لکھی ہے )ظاہر کرے گا اور تمہارے پاس نشان لگانے کا ایک آلہ ہوگا جس سے تم اپنے دشمنوں کو نشان دار کرو گے 

 ترجمہ مقبول مذکورہ آیت کی تفسیر میں باحوالہ تفسیر قمی اور تفسیر صافی و تفسیر عیاشی 

 تفسیر صافی اور تفسیر عیاشی میں یہی قصہ حضرت ابوذر سے نقل کیا گیا ہے 

 تفسیر المتقین اور  ترجمہ فرمان علی اور  تفسیر نمونہ اور  البرہان فی تفسیر القرآن اور  تفسیر نور ثقلین  میں یہی بات موجود ہے

صفحہ 5 از 17